ہیلووین ۔ Halloween

ہیلووین ایک مشہور تہوار ہے جو ہر سال ۳۱ ؍اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ لفظ ہیلووین قدیم انگریزی اصطلاح “ All Hallows Eve” سے نکلا ہے۔ اس موقع پر بچے اور بڑے عموماً خوفناک لباس پہنتے ہیں۔ چہروں پرعجیب وغریب میک اَپ کرتے ہیں۔ گھروں کو بھوتوں، ڈھانچوں ، مکڑیوں اوردوسری خوفناک چیزوں سے سجاتے ہیں۔ بچے گھرگھر جاکر Trick or Treat کہتے ہوئے مٹھائیاں اور تحائف جمع کرتے ہیں۔ آج کے دور میں ہیلووین بہت سے معاشروں میں مذہبی تہوار کی بجائے ایک ثقافتی اورتفریحی موقع کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ جس میں کاسٹیوم، پارٹیاں، کدّو تراشنا، سجاوٹ، مٹھائیاں اورٹافیاں تقسیم کرنا شامل ہے۔ ہیلووین کی بعض سرگرمیاں بچوں کےلیےمحض تفریح معلوم ہوتی ہیں، لیکن خوفناک مناظر، بھوتوں، شیطانوں، خون، موت اور ڈراؤنی کہانیوں کا باربار سامنا بچوں پرنفسیاتی اورتربیتی لحاظ سے انتہائی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر کم عمر بچے خوف، ڈراؤنے خواب، بے چینی یا رات کے وقت اکیلے رہنے سے گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں۔ Trick or Treat کے دوران اجنبی لوگوں کے گھروں تک جانا، سڑکوں پر رات کے وقت گھومنا، مختلف گھروں سے کھانے کی اشیاء لینا اور بعض اوقات غیر محسوس ملبوسات یا نقاب پہننا بھی والدین کی نگرانی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ میٹھا کھانے سے دانتوں اور صحت کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسلام مسلمانوں کو اپنی مذہبی شناخت، عبادات اور تہذیبی اقدار کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتاہے:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً۪ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ۔( البقرۃ: ۲۰۹ ) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم سب کے سب اطاعت میں داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو۔ رسول کریم ﷺ فرماتےہیں کہ جو شخص کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ اسی قوم میں سے سمجھا جائے۔( سنن ابی داؤد ، كتاب اللباس باب فی لبس الشھرۃ ، حدیث ۴۰۳۱)
اس لطیف حدیث کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہوشیار فرمایا ہے کہ وہ کبھی کسی دوسری قوم کے طریق و تمدّن کے نقّال نہ بنیں۔ بلکہ اسلام کے تمدّن کو دوسرے سارے تمدنوں سے ارفع خیال کرکے اسلامی شعاراختیارکریں ۔
اپنے بچوں کو اس تہوار کے دینی اور دنیادی نقصانات سے بچانے کے لیے ہمیں بیک وقت دونوں محاذوں پرحکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔
مذہبی طور پر سب سے پہلے بچوں کو محبت اوردوستانہ اندازمیں ہیلووین کی حقیقت اوراس کے پیچھے چُھپے شرک اورتوہم پرست پسں منظر سے آگاہ کریں اورانہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوعیدالفطراورعید الاضحیٰ جیسے پاکیزہ اورخوشیوں سے بھر پور تہوار دیے ہیں، جو امن اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔
دینی اعتبار سے والدین بچوں کے دلوں میں قرآن وسنّت کی محبت ، اسلامی تہذیب سے وابستگی اوراپنی مذہبی شناخت کا شعورپیدا کریں۔ تاکہ انہیں غیراسلامی تہذیب سے وابستگی اورغیراسلامی تہواروں کی نقّالی کی بجائے اپنی خوب صورت اسلامی روایات پر فخر محسوس ہو۔ دنیاوی لحاظ سے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی ذہنی اورجسمانی صحت کا بھی خیال رکھیں۔ کیونکہ خوفناک ماسک، بھوتوں کے لباس، ڈراؤنی کہانیاں اور خوف پیدا کرنے والی سرگرمیاں بعض حساس بچوں میں بے چینی، ڈر، نیند کے مسائل اورغیرضروری خوف پیدا کرسکتی ہیں۔ بچوں کی خواہشات کو رد کرنے کی بجائے والدین کو ان سے دوستانہ گفتگو کرنی چاہیے اورانھیں سمجھانا چاہیے کہ ہرمقبول رسم یا تفریحی سرگرمی ہمارے لیے مناسب یا فائدہ مند نہیں ہوتی۔ بلکہ ہمیں اپنی عقل، اقداراور دینی تعلیمات کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ والدین ہیلووین کے موقع پر بچوں کو گھرمیں ایسی مثبت اورخوشگوارسرگرمیوں میں مصروف رکھ سکتے ہیں، جن میں گھرمیں” فیملی نائٹ “کا اہتمام ، اسلامی کہانیاں، تعلیمی کھیل، تخلیقی فنون، بچوں کے پسند کے پکوان، کوئز یا گیمز شامل ہوں۔ اور انھیں کوئی اچھا سا تحفہ دیں تاکہ بچے محرومی کی بجائے ایک خوبصورت متبادل محسوس کریں۔ اُن میں یہ اعتماد پیدا کیا جائے کہ وہ سکول اورمعاشرے میں اپنی دینی ترجیحات بیان کرنے کے ساتھ ایسی سرگرمیوں سے دُوررہیں، جوان کے مذہبی اصولوں اورذاتی اطمینان کے خلاف ہوں۔ ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ہمیں بارہا تاکید فرما چکے ہیں کہ
” یہ ایک شرک ہے ۔ بے شک آپ یہی کہیں کہ فن ہے، ایک تفریح ہے۔ لیکن جو پیچھے نظریات ہیں وہ مشرکا نہ ہیں۔ اور پھر یہ کہ ویسے بھی یہ ایک احمدی بچے کے وقار کے خلاف بات ہے کہ عجیب وغریب قسم کا حلیہ بنایا جائے اور پھر گھروں میں فقیروں کی طرح مانگتے پھریں۔ “(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹؍اکتوبر۲۰۱۰ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۹ ؍نومبر ۲۰۱۰ء )
اسلامی تربیت کا تقاضا بھی یہ ہے کہ والدین خود اپنے عمل سے بچوں کے سامنے اچھی مثال پیدا کریں۔ کیونکہ بچے صرف نصیحتیں سن کر نہیں بلکہ اپنے والدین کے رویّوں، فیصلوں اورترجیحات کو دیکھ کر زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بچوں کو اس طرح کےبےسودپروگراموں سے دور رکھنے کےساتھ ساتھ انھیں عمر کے مطابق میڈیا کی سمجھ بوجھ، تنقیدی سوچ اورجذبات کو سنبھالنے کی تربیت بھی دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ پرتوکّل، اچھی اخلاقی اقدار، خود اعتمادی، مضبوط دینی شعوراورمتوازن ذہنی تربیت ہی انہیں ایسے تہواروں اور معاشرتی دباؤ کے سامنے ثابت قدم رہنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پرچلائے۔آمین
مزید پڑھیں: ہیلووین Halloween کا تہوار اور جماعت احمدیہ کی تعلیم



