اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت ہے
خدا تعالیٰ نے مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ (البقرۃ:۴) متّقیوں کی صفت کا ایک جزو قرار دیا ہے۔یہاں مال کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔جو کچھ اللہ تعالیٰ نے کسی کو دیا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔مقصود اس سے یہ ہے کہ انسان اپنے بنی نوع کا ہمدرد اور معاون بنے۔اللہ تعالیٰ کی شریعت کا انحصار دو ہی باتوں پر ہے۔تعظیم لِاَمْراللّٰہ اور شفقت علیٰ خلق اللہ۔پس مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ میں شفقت علیٰ خلق اللہ کی تعلیم ہے۔دینی خدمات کے لئے متموّل لوگوں کو بڑے بڑے موقعے مل جاتے ہیں۔
ایک دفعہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روپیہ کی ضرورت بتلائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر کا کُل اثاث البیت لے کر حاضر ہوگئے۔آپؐ نے پوچھا ابوبکر! گھر میں کیا چھوڑ آئے؟ تو جواب میں کہا کہ اللہ اور رسولؐ کا نام چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نصف لے آئے۔آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا۔عمر! گھر میں کیا چھوڑ آئے؟ تو جواب دیا کہ نصف۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر و عمر کے فعلوں میں جو فرق ہے وہی اُن کے مراتب میں فرق ہے۔
(ملفوظات جلد ۱ صفحہ۴۹۷ تا ۴۹۸، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
مزید پڑھیں: امانتوں اور عہدوں کی رعایت رکھو




