متفرق مضامین

تر بیتِ اولا داور انصار اللہ کی ذمہ داریاں (قسط  8)

(قرآن و حدیث اورحضرت اقدس مسیح موعود ؑ اورآپ کے خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں)

خدا سے محبت کرنا سیکھیں اور تعلق جوڑیں:

 سات سال سے کم عمر کے دور میں یہ ذکر آ چکا ہے کہ بچوںکو جب کوئی چیز دیں تو یہ کہہ کر دیں کہ یہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور اس طرح بچپن سے بچوں کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔سات سال کے بعدکی عمر میں بچے کو اللہ تعالیٰ کی صفات بتا کر ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنے کی نصیحت کرتے رہنا چاہیئے۔محبتِ الٰہی پیدا کرنے کا طریق بھی یہی ہے کہ روزانہ صفاتِ الٰہیہ پرغور کیا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ خداتعالیٰ کے کس قدر انعامات اور افضال ہمیں پہنچ رہے ہیں۔ اس طرح محبتِ الٰہی کا دریا دل میں موجزن ہو جائے گا اور پھر ان صفات کو اپنے وجود میں پیدا کرنے کی کوشش ہو گی تو اس طرح یہ مزید نیکیاں پیدا کرنے کا موجب ہو گا۔

دعا ؤں کی تحریک کر تے رہنا :

 چھوٹی عمر میں بچوں کو دعاؤں کی تحریک کرنے کے بارے میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ  ؓ فرماتی ہیں:  ’’جب میں چھوٹی سی لڑکی تھی تو حضرت مسیح موعود ؑ نے کئی بار فرمایا کہ میرے ایک کام کے لئے دعا کرو یا دعا کرنا۔ ذرا غور کرو !کہاں وہ ہستی برگزیدہ عالی شان اور کہاں میں ۔مگر آپ مجھے دعا کو کہتے ہیں!یہ اس لئے ہوتا تھا کہ بچوں کے ذہن نشین ہو جائے کہ ہم نے بھی دعا ئیں کرنی ہیںاور تا دعاؤں کی عادت پڑے اور بچے جان لیں کہ اللہ کا درِ رحمت کھلا ہے ۔مانگو گے تو پاؤ گے۔یہ آپ کی تربیت تھی دعا کے متعلق۔ اسی طرح حضرت خلیفہ اوّل اللہ تعالیٰ کی ہزاروں رحمتیںآپ کی رُوحِ اقدس پر ہوں بڑے پیار سے فرماتے کہ ’میرے لئے دعا کرتی ہو؟ میرے لئے بھی دعا ضرور کیا کرو‘۔ غرض یہ سب باتیں اس لئے تھیں کہ دعا کی اہمیت دل میں جاگزیں ہو جائے۔‘‘ (ملاطفات صفحہ 32,31 )

 دینی تعلیم کے ساتھ تعلیم کا فلسفہ بھی سمجھا نا:

  دینی تعلیم یا جس بات پر بھی بچے کو عمل کرنے کی تلقین کی جائے اگر اس کی غرض و غایت بھی سمجھا دی جائے تو بچہ نہ صرف بشاشت سے اس پر عمل کرنے لگے گا بلکہ آئندہ یاد بھی رکھے گا اور دوسروں کو بھی اس کی مؤثر ترغیب دلا سکے گا۔اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ کی نصیحت کے مطابق بعث بعدالموت کے دلائل بھی بچوں کے ذہن نشین کروانے چاہئیں اس کے بغیر کبھی صحیح اور عمدہ تربیت نہیں ہو سکتی۔(بحوالہ تفسیر کبیر جلد 4صفحہ 393)  ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص حیاتِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ نہ خدا کو بھول سکتا ہے اور نہ نیکی سے غافل ہو سکتا ہے۔

اخلا قی تعلیم کی ضرو رت :

   بچپن میں ہی اخلاق کی داغ بیل پڑتی ہے، اس لئے بچوں میں اخلاقِ حسنہ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے بیان فرمودہ پانچ بنیادی اخلاق بچوں کے ذہن نشین کروائیں اور اُن سب پر عمل کرنے کی تلقینخصوصاً سچائی کو اپنا شعار بنانے کی نصیحت کرتے رہیں۔اس بات کی خصوصیت سے نگرانی کی بھی ضرورت ہے کہ وہ ہر حالت میں سچ بولیں اور جھوٹ سے نفرت کرنے والے ہوں اور کسی قیمت پراُن کے جھوٹے مذاق کو بھی برداشت نہ کیا جائے۔

بچوں کو شکر گزاری کی بھی تعلیم دی جائے کہ وہ اللہ کا بھی اور اس کے بندوں کا بھی شکر ادا کیا کریں ۔اسی    شکر گزاری کے نتیجہ میں ہی انسان صبر،قناعت اور غنا کے اوصاف سے نوازا جاتا ہے۔

 بچے میں یہ عادت بھی پیدا کی جائے کہ وہ گھر سے باہر والدین کی اجازت کے بغیر نہ جائے۔پھر بچوں کا کردار سنوارنے میں ٹوپی پہننے کی عادت کا بھی بہت دخل ہے۔یہ نہ صرف قومی شعار ہے بلکہ اس سے ذمہّ داری کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔اس لئے بچوں کو سکھائیں کہ گھر سے باہر ننگے سر نہ پھرا کریں ۔خصوصاًمساجد میں اور اطفال الاحمدیہ کی مجالس میں تو ہمیشہ ٹوپی پہن کرحاضر ہونے کی عادت ڈالیں۔اسی طرح بچیوں کو سر پر دوپٹہ لینے کی عادت ڈالنی بہت ضروری ہے۔

خلافت سے وابستگی:

بچوں کے دل میں خلیفہ وقت کی محبت پیدا کر نا اور ان سے ذاتی تعلق قا ئم کر وانا اور انہیں دعا کی غرض سے خطوط لکھنا اور بچوں سے لکھوانا ،اسی طرح ان کے خطبات سے استفا دہ کر نا ہماری نہایت اہم ذمّہ داری ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

 ’’بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ ہمیشہ جماعت اور خلافت سے وابستہ رہیں۔ اب خلافت سے وابستگی میں ہی آپ کی زندگی اور بقا ہے۔‘‘ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 14 ستمبر 2003ء بمقام بیت الفتوح ،لنڈن)

 اس غرض کے لئے ہمارا فرض ہے کہ گھر میں خطبہ جمعہ پوری توجہ کے ساتھ سنا جائے۔حضورانورکے بچوں کے ساتھ پروگرامز بھی بچے اہتمام کے ساتھ سنیں۔ اسی طرح حضورانور کو دعا کے لئے ضرور لکھیں۔نیزہر اہم موقع پررہنمائی اور دعا کے لئے حضورانور کی خدمت میں ضرور لکھا جائے۔

 بچو ںکے دلوں میں نظامِ سلسلہ کا احترام پیدا کرنا اور خودجما عتی عہدیداروں پر تنقید نہ کرنا:

 والدین کو چاہئے کہ بچپن ہی سے اپنی اولاد کے دلوں میں نظامِ سلسلہ کا احترام اور اس سے محبت اور وفا داری کے جذبات پیدا کرنے کی کوشش کریں اور  اپنے عملی نمونے سے انہیں عہدیداران کی اطاعت سکھانے کی سعی کریں۔جو والدین ایسا نہیں کرتے وہ یقیناً اپنی اولاد کو ایک بڑی سعادت اور خوش بختی سے محروم رکھنے والے ہو تے ہیں۔ 

 اور پھر یہ بات بھی از حد ضروری ہے کہ بچوں کے سامنے کبھی عہدیداران کا ذکر منفی رنگ میں نہ کیا جائے۔ اس سے بچوں میں عہدیداران اور نظام سے محبت کم ہوتی ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:  ’’ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض ایسے احمدی جو اپنی ذات میں ہمیشہ ذاتی طور پر جماعت سے منسلک رہے اور کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ بے وفائی کر کے الگ ہو جائیں گے لیکن انہوں نے اپنے گھروں میں اپنی کسی محرومی کے احساس کے نتیجے میں ہمیشہ جماعت کے عہدیداروں پر تنقید کی، نتیجہ یہ نکلا ان کی اولادیں ضائع ہو گئیں یا جماعت کو چھوڑ گئیں یا وہ زبانیں جو گھر میں چھپ کر دراز کرتے تھے ان کو باہر گلیوں میں دراز کرنے کا موقع ملنا شروع ہوا،جر أت ہونی شروع ہوئی اور کھلم کھلے جماعت کے باغی بن کر انہوں نے زندگیاں بسر کرنی شروع کیں یہاں تک کہ رفتہ رفتہ ان کو خدا کی تقدیر نے جماعت سے منقطع کر کے الگ پھینک دیا۔ تو ایسے دانشوروں کو مَیں سمجھاتا ہوں، ان کو مَیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہوش کرو۔ قرآن کریم جب فرماتا ہے  لَاتَقْتُلُوْا  اَوْلَادَکُمْ  (الانعام:152)  اس کا یہی مطلب ہے۔ تو یہ نہ سمجھو کہ قتل اولاد سے مراد یہ ہے کہ چھریاں چاقو لے کر اُن کو قتل کرو گے۔ تم اپنے ہاتھوں سے اپنی اولادوں کو قتل کر رہے ہوتے ہو اور تمہیں کوئی احساس نہیں ہوتا کہ تم نے کتنا بڑا ظلم کیا ہے۔ وہ لوگ جو خدمت دین میں مصروف ہیں ،جن کو تم اپنی ظالمانہ تنقید کا نشانہ بناتے ہو اُن پر تو خدا فضل فرمائے گا اُن کی بدیاں دن بدن جھڑتی چلی جائیں گی، اُن کی کمزوریاں دُور ہوتی چلی جائیں گی ،وہ ابرار کی حالت میں جان دیں گے مگر تمہارے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ تم کس حالت میں جان دو گے اور تمہا ری اولادوں کے متعلق تو غالب احتمال ہے کہ وہ ایسی حالت میں جان دیں گی کہ خدا کے حضور مجرم ٹھہر چکی ہوں گی۔‘‘  (بحوالہ خطبات طا ہر جلد7صفحہ770 )

اچھا ئی اور برا ئی کا شعور پیدا کر نا اور برا ئیوں کو اچھا ئیوں میں تبدیل کر نا :

بچوں کے ساتھ بیٹھ کر اُنہیں اچھائیوں اور برائیوں کے فلسفہ سے آگاہ کریں ،اُن سے تبادلہ خیال کریں او ر ان کے حسن و قبح سے آگاہ کریں۔ یہ بتائیں کہ اچھائیاں برائیوں کو کھا جاتی ہیں ۔ یعنی نیکیاں بڑھانے سے برائیاں جگہ چھوڑتی چلی جاتی ہیں۔ جیسے ایک کمرہ میں زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش نہ ہو تو جو لوگ پہلے بیٹھے ہوتے ہیں وہ نئے آنے والوں کے لئے جگہ خالی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جو لوگ اس نفسیاتی نکتہ کو نہیں سمجھتے وہ ہمیشہ بدیاں دور کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیونکہ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ جب کسی کو یہ کہا جائے کہ یہ نہ کرو تو سوال یہ ہے کہ کیوں نہ کرے، اس سے بہتر کوئی چیز ملے گی تو نہیں کرے گاورنہ وہ اپنی ضد پرقائم رہے گا۔ فطرت چاہتی ہے کہ کوئی اس کا متبادل ہو۔ اسی لئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع     رحمہ اللہفرماتے تھے کہ آپ جب اپنے گھروں کی، اپنے بچوں کی، اپنی عورتوں کی تربیت کرتے ہیں تو اس بات کو پیش نظر رکھا کریں کہ اگر ان کو میوزک سے ہٹانا ہے یا گندی قسم کے گیتوں سے اور گندے فلمی گانوں سے ہٹانا ہے تو پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظمیں اچھی آواز میں تیار کریں جو دل پر گہرا اثر کرنے والی ہیں۔ جب آپ وہ نظمیں ان کو سنانا شروع کریں گے تو آہستہ آہستہ ان کی لذتوں کے معیار بدلنے شروع ہوں گے۔ ایک چیز داخل ہو گی دوسری کو دھکیل باہر کر رہی ہو گی۔

یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ صرف سمجھانے سے نہیں بلکہ نیکی کروانے سے نیک اثر ہوتا ہے۔    

اچھی تعلیم دلوانا:

سکول جانے کی عمر ہو جائے تو ضروری تیاری کروا کے بچوں کو سکول داخل کروایا جائے اور تعلیم کے لئے ہر ممکن سہولت مہیا کرنے کی کوشش کی جائے۔ تعلیم دلوانے کی بجائے وقتی فائدہ کے لئے  بچوں کو کسی اور کام میں لگا کر اُن کے مستقبل کو اپنے ادنیٰ کاموں کی خاطر تاریک نہیں کرنا چاہیے۔ بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ان پر بہت بڑا ظلم ہے بلکہ اپنے ہاتھ سے قتل کرنے کے مترادف ہے ۔ پھربچے کون سی نئی باتیں تعلیمی اداروں میں سیکھ رہے ہیں ان سے جس حد تک ممکن ہو آگاہی حاصل کرنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے۔ سکول کے ہوم ورک اور دیگر پڑھائی میں والدین بچے کی رہنمائی اور مدد کرنے والے ہوں، لیکن یہ اس انداز سے نہ ہو کہ بچہ انحصار کرنے لگے اوراس کے بغیر دو قدم بھی نہ چل سکے۔پڑھائی میں جو مضامین بچے کو نسبتاً مشکل یا خشک اور boringمحسوس ہوںاُن میں دلچسپی اور بہتری لانے کے لئے کوئی بہتر اور مختلف طریق کاراختیار کرنے کی کوشش بھی مفید سکتی ہے۔ اس طرف نسبتاً زیادہ وقت مختص ہو اور بچے کو اُن مضامین کی اہمیت اور فوائد سے آگاہ کیا جائے۔ دوسری طرف بچے کیلئے جو مضامین آسان ہوں اُن میں بچہ پوری دلچسپی لیتا رہے تااُن میں کمزوری نہ آئے۔ آسان مضامین بچے کے گریڈز کو بہتر بنانے میںمددکرتے ہیں۔والدین کو گاہے بگاہے پڑھائی میں ٹیسٹ بھی لیتے رہنا چاہئے۔ بچے میں اس بات کی عادت اور صلاحیت پیدا کرنی چاہئے کہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی پڑھائی میں مدد کرسکے اس سے بچے کی اپنی تعلیمی قابلیت بڑھنے کے علاوہ اُس میں خود اعتمادی بھی بڑھتی ہے۔ اسی طرح بچوں کے اساتذہ سے بھی وقتاً فوقتاً رابطہ رکھناکافی فائدہ مند اور  بچوں کی تعلیمی پراگریس میں بہتری کا موجب بنتا ہے۔

 سکول کی نصابی تعلیم کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں مثلاً تقاریر،نظم خوانی اور مضمون نویسی،سکاؤٹنگ وغیرہ میں حصّہ بھی بچے کی تعلیم کا حصّہ ہی سمجھنا چاہئے اور ان میں شرکت کے لئے بچے کی حوصلہ افزائی کرتے رہنا چاہئے۔

روزانہ کسی کھیل میں شمولیت:

بچوں کو کسی نہ کسی کھیل میں روزانہ شریک کروانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اگر یہ کھیل ایسی ہو جس سے ایک تو جسم کو فائدہ پہنچے ،دوسرے ذہن کو فائدہ پہنچے اور تیسرے وہ آئندہ زندگی میں کام آئے توسب سے بہتر ہے۔ مثلاً تیراکی، دوڑنا، نشانہ بازی ،غلیل چلانا اور نگرانی میں ائیر گن یا بندوق  چلانا، جوڈو، کراٹے وغیرہ۔

کھیل کے اوقات بھی مقرر ہونے چاہئیں اور کھیل کے میدان میں بھی اس امر کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ بچے اپنے ہم عمر وں کے ساتھ ہی کھیل میں شامل ہوں۔

جدید ایجادات کا درست استعمال:

چھوٹی عمر میں بچوں کو خاص عمر سے پہلے فون نہ دیئے جائیں ۔کمپیوٹر اور انٹر نیٹ آج کی ضرورت ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ انٹر نیٹ گھر میں ہو تا کہ بچے باہر جاکر انٹر نیٹ کیفے یا دوستوں کے گھروں میں جا کر غلط باتوں میں نہ پڑیں۔ انٹر نیٹ کا غلط استعمال بھی ایک قسم کا ایک نشہ ہے اور نشہ بھی لغویات میں ہے۔کیونکہ جو اس پر بیٹھتے ہیں بعض دفعہ جب عادت پڑ جاتی ہے تو فضولیات کی تلاش میں گھنٹوں بلاوجہ ،بے مقصد وقت ضائع کررہے ہوتے ہیں ۔یہ باتیں بچوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ان تمام برائیوں اور لغویات سے اپنے آپ کو بچائیں۔ چھوٹے بچوں کا کمپیوٹر پر ٹائم مقرر کیا جائے۔والدین خود بھی کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کا استعمال سیکھیں اور بچوں کے ساتھ بیٹھ کر اچھی چیزیں دیکھیں تاکہ ان کا اچھی چیزوں کی طرف رجحان پیدا ہو۔

اردو زبان کا اچھا علم دلوانا :

  ایک مرتبہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے پاکستانی والدین کے گھر  پیدا  ہونے والے بعض بچوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بد قسمتی سے وہ اپنی مادری زبان سے اس قدر بھی واقف نہیں کہ کم ا زکم عمومی قسم کے خطابات کی اردو ہی سمجھ سکیں۔ اور زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ بعض اوقات اس بات پر فخر کرتے ہیں جبکہ یہ شرم کا مقام ہے۔ اردو یا کسی اور زبان سے واقفیت نہ ہونا کوئی فخر کی بات نہیں۔لیکن اپنی مادری زبان سے ناواقفیت تو بہت ہی شرم کی بات ہے ۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جسے احساسِ کمتری کہا جاتا ہے۔ اور احمدیوں کو اس سے بلند ہونا چاہئے۔ چنانچہ مجھے امید ہے کہ آئندہ جماعت اس بات کی ذمہ داری اٹھائے گی کہ جو لڑکے اور لڑکیاں پاکستانی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اردو زبان کا نہ صرف اچھی طرح علم رکھتے ہوں بلکہ انہیں اردوادب سے بھی واقفیت ہو اور اسی طرح وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریرات سے بھی بخوبی واقف ہوجائیں۔ چنانچہ اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔ (  بحوالہ خطبات طاہر جلد اوّل صفحہ 150)

………………

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button