خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۱؍مارچ ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ۲۳؍مارچ کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کو جماعت احمدیہ میں حضرت مسیح موعودؑ نے بیعت کے آغاز سے جماعت کی بنیاد ڈالی تھی۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی بعثت کےوقت مسلمان علماءکی حالت کی بابت کیابیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا: آپؑ کی بعثت عین اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق تھی۔ اس وقت اسلام کی کشتی بڑی ڈانواں ڈول تھی …بہرحال اس وقت جب حضرت مسیح موعودؑ نے بیعت لی اس وقت اسلام کی جو حالت تھی اس پر آپ کا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ بڑا درد تھا آپ کے دل میں۔ اسلام پر تابڑ توڑ حملے غیر مذاہب کی طرف سے ہو رہے تھے خاص طور پر عیسائیت کی طرف سے لیکن ان کا کوئی جواب دینے والا نہیں تھا۔ مسلمان علماء بھی اس وقت سہمے رہتے تھے بلکہ یہ حالت ہو گئی تھی کہ بہت سے مسلمان اسلام چھوڑ کر لاکھوں کی تعداد میں عیسائیت کی گود میں گر رہے تھے۔ اس وقت جب مسلمانوں کی یہ حالت تھی اور اسلام پر اس طرح حملے ہو رہے تھے تو حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ ہی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کھڑے ہوئے اور اسلام کے دفاع کے لیے ایک جری اللہ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کیا۔ آپؑ نے تمام مذاہب جو اس وقت ہندوستان میں موجود تھے آریہ سماج، برہمو سماج، عیسائیت یا دوسرے مذاہب یا لامذہب لوگ جو بھی اس وقت اسلام اور بانیٔ اسلام ﷺ پر تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ سے خوفناک حملے کر رہے تھے تو اس درد کی وجہ سے ان کے جواب میں آپ نے بیعت لینے سے پہلے ہی ایک معرکہ آرا کتاب لکھی، بلکہ کتب لکھیں جو براہین احمدیہ کے نام سے معروف ہیں اور بڑی مشہور ہیں۔ شروع میں آپ نے اس کی چار جلد یں لکھی تھیں۔ اس میں آپ نے دشمنوں کے، مخالفین اسلام کے دندان شکن جواب دیے۔ یہ کتابیں جو آپ نے لکھیں اس کا پہلا حصہ ۱۸۸۰ء میں، پھر ۱۸۸۲ء میں، پھر ۱۸۸۴ء میں لکھا اور آپؑ نے اس میں قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے اور بے نظیر کتاب ہونے اور آنحضرت ﷺ کے سچے اور صادق اور آخری نبی ہونے کے ناقابل تردید دلائل بیان فرمائے اور آپؑ نے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ میں جو دلائل دے رہا ہوں ان دلائل کو جو ردّ کرے گا اس کے لیے چیلنج ہے بلکہ آپ نے یہاں تک فرمایا کہ اگر اس کا تیسرا حصہ یا چوتھا حصہ یا پانچواں حصہ بھی کوئی ان کو ردّ کرنے کے لیے دلیل دے دے جو میں دلائل دے رہا ہوں تو میں دس ہزار روپے انعام دوں گا۔

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کےبیعت لینےاورکسوف وخسوف کےنشان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: حضرت مسیح موعودؑ کی اسلام کی اس خدمت کی وجہ سے بعض لوگوں نے آپ سے یہ بھی کہا کہ آپ ہم سے بیعت لیں لیکن آپ کو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں تھا اس لیے آپ نے اس وقت بیعت نہیں لی اور جب اللہ کا حکم ہوا تو پھر آپؑ نے بیعت لی اور یوں مخلصین کی جماعت کا آغاز ہوا اور پھر بعد میں آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ بھی اعلان کر دو کہ تم مسیح موعود اور مہدی معہود ہو۔ بہرحال بیعت سے پہلے آپؑ نے ایک اعلان شائع فرمایا تھا دسمبر ۱۸۸۸ء میں تبلیغ کے نام سے۔ اس میں آپ نے فرمایا کہ ’’میں اس جگہ ایک اَور پیغام بھی خلق اللہ کو عموماً اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصاً پہنچاتا ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راز سیکھنے کے لیے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لیے مجھ سے بیعت کریں۔ پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لازم ہے کہ میری طرف آویں کہ میں ان کا غم خوار ہوں گا اور ان کا بار ہلکا کرنے کے لیے کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں ان کے لیے برکت دے گا بشرطیکہ وہ ربانی شرائط پر چلنے کے لیے بدل و جان تیار ہوں گے۔ یہ ربانی حکم ہے جو آج میں نے پہنچا دیا ہے۔ اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے۔ اِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَاصْنَعِ الْفُلْکَ باَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا۔ اَلَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ۔ یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ۔‘‘ یعنی جب تُو نے اس خدمت کے لیے قصد کرلیا تو خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر اور یہ کشتی ہماری آنکھوں کے روبرو اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کریں گے وہ تجھ سے نہیں بلکہ خدا سے بیعت کریں گے۔ خدا کا ہاتھ ہو گا جو ان کے ہاتھ پر ہو گا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے نشانات بھی دکھائے۔ ارضی بھی سماوی بھی جن میں آسمانی نشانوں میں ایک نشان کسوف و خسوف کا آسمانی نشان تھا جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ میرے مہدی کی آمد کا خاص نشان ہے جو رمضان کے مہینے میں مقررہ تاریخوں پر لگنا تھا۔ اور جو ۱۸۹۴ء میں مشرق میں اور ۱۸۹۵ء میں مغرب میں لگا۔ اور بہت سارے سعید فطرت لوگوں نے اس نشان کو دیکھ کر آپؑ کو قبول کیا۔ ضمناً یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ اس رمضان میں بھی چاند گرہن اور سورج گرہن لگا ہے۔ چاند گرہن لگ چکا ہے اور سورج گرہن لگنا ہے اور انہی تاریخوں کو لگنا ہے اور آئندہ بھی ہو سکتا ہے کہ لگتا رہے لیکن جو چاند سورج گرہن حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں لگا اور آپؑ کے دعوے کے بعد لگا اس کی اپنی اہمیت ہے۔ آپؑ نے خدا تعالیٰ سے ایک فرقان اور نشان مانگا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے نشان دکھلایا۔ بعض احمدی ان دنوں میں جو چاند اور سورج گرہن لگ رہا ہے اسے بھی نشان بتاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ بہرحال اگر نشان سمجھنا بھی ہے تو یہ اسی کا ایک تسلسل ہے جو اَب جاری ہے جس کا دعویٰ ایک سو پینتیس چھتیس سال پہلے ہو چکا ہے۔ لیکن یہ واضح کر دوں کہ آپ کے زمانے کا گرہن مشرق و مغرب میں لگا تھا اور اس سال لگنے والا گرہن زیادہ تر مغرب میں لگ رہا ہے اس لیے ہم اس زمانے کے گرہن کو اس وقت کے گرہن کے برابر اہمیت بہرحال نہیں دے سکتے اور یہ لگ بھی تھوڑے حصہ میں رہا ہے یعنی کہ سورج کا پچیس تیس فیصد حصہ coverہوگا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں تو پچہتر سے سو فیصد حصہ تک یہ گرہن لگا تھا بلکہ جب شروع ہوا اور حضرت مسیح موعودؑ کو جب دکھایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ہم نے تو دیکھ لیا ہے لیکن مخالفین اس کو دیکھ کر کوئی اثر نہیں لیں گے لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ بڑھنا شروع ہوا اور سورج گرہن لگ گیا۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے شرائط بیعت کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: آپؑ نے ۱۲؍جنوری ۱۸۸۹ء کو پھر تکمیل تبلیغ کے نام سے ایک اعلان شائع فرمایا اور اس میں دس شرائط بیعت رکھیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ میں دس شرائط بیعت ہیں۔ ایک احمدی ہونے کے لیے ان پر عمل کرنا اور ان کو بدل و جان قبول کرنا ضروری ہے۔ جس میں آپؑ نے یہ ہدایت فرمائی اور بیعت کرنے والے کو یہ کہا کہ وہ یہ عہد کرے کہ شرک سے تازندگی اجتناب کروں گا۔ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے ذریعوں سے بچتا رہوں گا۔ نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہوں گا جیسا بھی جذبہ پیش آئے۔ پھر یہ بھی آپؑ نے فرمایا کہ نمازوں کی طرف پوری توجہ دوں گا اور اللہ اور رسول کے حکموں کے مطابق حتّی الوسع ان کو سنوار کر پڑھنے کی کوشش کروں گا۔ تہجد پڑھنے کی کوشش کروں گا۔ گناہوں کی معافی مانگوں گا۔ استغفار کروں گا۔ کوئی ایسا جوش نہیں دکھاؤں گا جس سے بنی نوع انسان کو ناجائز تکلیف پہنچے نہ زبان سے نہ ہاتھ سے اور ہر حالت میں مَیں خدا تعالیٰ کی وفاداری رکھوں گا اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا ہو گی اس پر راضی رہوں گا۔ پھر یہ بھی کہ قرآن کریم کی حکومت اپنے اوپر وارد کروں گا یعنی قرآن کریم کے ہر حکم پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا اور ان کو تلاش کر کے ان پر عمل کروں گا اور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے ان سے رکوں گا اور یہ میرا دستور العمل ہو گا کہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں پر عمل کروں۔ پھر عاجزی ہے۔ فروتنی ہے۔ مسکینی ہے۔ حلیمی ہے اس کو اختیار کروں گا اور تکبر اور نخوت سے بچوں گا اور دین کی عزت اور ہمدردی اپنے مال جان سے زیادہ عزیز رکھوں گا۔ بنی نوع انسان کو ہمیشہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کروں گا جتنی میری صلاحیتیں ہیں، میری طاقت ہے۔ پھر یہ بھی کہ حضرت مسیح موعودؑ سے جو بیعت کا اقرار کیا ہے اس کو مرتے دم تک قائم رکھوں گا اور آپؑ کی ہر معروف بات کی پیروی کروں گا یعنی جو بھی شریعت کے مطابق آپ حکم دے رہے ہیں اور شریعت کے بغیر تو آپؑ حکم دے بھی نہیں سکتے ان کی ہمیشہ پابندی کروں گا کیونکہ آپؑ تو آئے ہی آنحضرت ﷺ کے دین کو پھیلانے کے لیے تھے اور حضرت مسیح موعودؑ سے ایسا تعلق رکھوں گا جو کسی دنیاوی رشتے میں نہیں پایا جاتا۔ پس یہ خلاصہ ہے ان شرائط بیعت کا جو میں نے ابھی بیان کیا ہے۔ اور اس پر بہت سارے مخلصین نے بیعت کی اور آج تک ہم انہی شرائط پر بیعت کر رہے ہیں اور جو میں نے بیان کیا اس کو ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم ان سب باتوں پر عمل کر رہے ہیں؟یہ یاددہانی ہے۔

سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کےعشق رسولﷺکی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: آپؑ فرماتے ہیں:’’میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے۔ ‘‘ﷺ۔ ’’(ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا۔ اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔ اس لیے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔ ‘‘یعنی آنحضرت ﷺ کے افاضے کے بغیر کسی قسم کا، کسی نیکی کا دعویٰ کرتا ہے ’’وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے۔ … اسی طرح ایک جگہ آپؑ نے فرمایا’’وہ انسان جس نے اپنی ذات سے، اپنی صفات سے، اپنے افعال سے، اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ علماً و عملاً و صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا…وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخر النبیین جناب محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدائے دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ ‘‘

مزید پڑھیں: رسول کریمؐ کا حضرت مسیح موعودؑ کو خواب میں دیکھنا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button