حضرت حافظ احمد دین صاحب ؓ
(ْز۔احمد۔الیاسینٗ)
گوجرانوالہ کے ابتدائی صحابی
(گَجُّو چک، ضلع گوجرانوالہ)
حضرت حافظ احمد دین صاحبؓ، حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے پرانے صحابہ میں سے تھے۔ موضع ْگَجُّو چک، ضلع گوجرانوالہ میں جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھنے والے وجود تھے۔ آپؓ حضرت اقدس مسیح موعودؑ سے دعویٰ سے قبل ہی فیض یاب ہونے والوں میں سے تھے۔
آپؓ کے کچھ حالاتِ زندگی، قریبی جماعت ترِگڑی سے آپؓ کے ایک محبّ، صحابی مسیح موعودؑ، حضرت مرزا محمد حسین صاحب(ابن حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب چٹھی مسیح)نے آپ سےزبانی سُن کر قلم بند کیے تھے، جو آپ کی وفات کے بعد الفضل قادیان میں شائع ہوئے۔
’’حافظ صاحب مرحوم موضع کھنانہ ضلع گجرات میں ۱۸۵۶ء میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں اُن کی بینائی چیچک کی وجہ سے جاتی رہی۔ قرآنِ کریم پڑھنے کا چونکہ انہیں بہت شوق تھا، اِس لئے بھیرہ ضلع شاہ پور(حال سرگودھا)میں میراں سید محمد صاحب کی خانقاہ، محلہ پراچہ میں اپنے استاد خدا بخش صاحب و غلام محمد صاحب سے حفظ کیا۔‘‘ (اخبار الفضل قادیان۔ جلد ۱۸، نمبر ۱۴۶۔ ۱۸؍جون ۱۹۳۱ء۔ صفحہ۹)

’’کھنانہ‘‘ سابقہ ضلع گجرات، جبکہ موجودہ ضلع منڈی بہاؤالدین میں واقع ہے۔ منڈی بہاؤالدین سے ملکوال کو جاتے ہوئے بڑی نہر کراس کر کے کچھ آگے ’’ھریا‘‘ کے سامنے ملکوال روڈ سےبائیں جانب قریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر یہ گاؤں ہے۔ کھنانہ سے بھیرہ کا فاصلہ ۵۰؍کلومیٹر ہے۔ بھیرہ میں جس خانقاہ میراں سید محمد کا ذکر ہوا ہے، یہ محلہ پراچگان میں واقع ہے اور عرف عام میں ’’دربار میراں شاہ‘‘ کہلاتا ہے۔ بھیرہ میں جماعت کی بڑی مسجد ’’بیت الفضل‘‘ سرکلر روڈ پہ واقع ہے۔ اس کے جنوبی جانب سے ایک گلی مشرق کو جاتی ہے۔ یہی گلی آگے جاکر جانبِ شمال دربار میراں شاہ کی جانب مڑ جاتی ہے۔ بھیرہ کےایک صحابی حضرت میاں محمد عبداللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بھیرہ کی تاریخ احمدیت، مصنفہ فضل الرحمٰن بسمل، صفحہ ۱۵۰)کے بیٹے حکیم محمد اکبر صاحب مرحوم اکثر سنایا کرتے تھے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دورۂ بھیرہ ۲۶؍نومبر۱۹۵۰ء کو میراں شاہ صاحب کے مزار پر دعا کرنے بھی تشریف لے گئے تھے۔
’’گجو چک‘‘ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو ’’ترگڑی‘‘سے قریباً اڑھائی کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں سے قریباً ایک کلومیٹر کی مسافت پر’’تلونڈی کھجور والی‘‘ ہے۔ یہ سب گاؤں گوجرانوالہ سے وزیر آباد جاتے ہوئے، ’’راہوالی‘‘ کے قریب، جی ٹی روڈ سے دائیں جانب قریباً ۴؍کلومیٹر دوری پہ ہیں۔
حضرت مرزا محمد حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے بارے میں مزید لکھتے ہیں: ’’قرآنِ کریم کے پڑھنے کی قراءت بہت عمدہ طور سے اور بہت طریق سے ادا کرتے تھے۔ اور کچھ فارسی اور عربی کی کتابیں سُن کر بھی علم حاصل کیا تھا۔ آخر موضع گجو چک آ گئے۔ اور وہاں لوگوں کو قرآنِ کریم پڑھانا شروع کر دیا۔ اِس گاؤں میں تعلیم اور جماعت احمدیہ اِنہی کے مبارک وجود سےقائم ہوئی۔
جب ترِگڑی میں عیسائی مشن قائم ہوا تو فرماتے، میرے پاس بہت سے عیسائی پادری آ کر سلسلہ پر اعتراض کرنے لگے اور آہستہ آہستہ اُن کا اثر مجھ پر غالب ہونے لگا۔ اور اسلام سے نفرت ہونے لگی۔ اِن اعتراضات کو گوجرانوالہ کے چند مولویوں کے سامنے پیش کیا، مگر اُن سے تسلی نہ ہوئی۔ دل میں بہت تشویش پیدا ہو گئی کہ اب کیا ہو۔ کسی نے بٹالہ میں جانے کی صلاح دی۔ وہاں گیا تو مولوی محمد حسین صاحب سے کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ اُس نے قادیان جانے کی صلاح دی۔ اُس وقت وہ مخالف نہ تھا۔ بٹالہ سے قادیان پہنچا۔ حافظ حامد علی صاحب سے ملا۔ اُن سے محبت ہو گئی۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی ملاقات ہوئی۔ آٹھ روز رہا۔ حضرت صاحب سے مل کر نمازیں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ بہت سی باتیں اور آیات حل کرائیں۔ حضرت اقدس کی صحبت میں رہنے سے عیسائیت کا اثر کافور ہو گیا۔ بیعت کیلئے عرض کیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا، ابھی بیعت کا کوئی حکم نہیں ملا۔‘‘ (اخبار الفضل قادیان۔ جلد ۱۸، نمبر ۱۴۶۔ ۱۸؍جون ۱۹۳۱ء۔ صفحہ۹)

وہی حافظ احمد دین صاحب جو پہلے عیسائی پادریوں کے زیرِ اثر آ کراسلام سے دُور ہونے لگے تھے، حضرت اقدسؑ سے ایسا فیض پایا کہ بعد ازاں آپ عیسائی منادوں سے مناظرے بھی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت مرزا محمدالدین صاحب آف گجو چک کی روایت کے مطابق ۱۹۰۲ء میں آپ عیسائی پادریوں سے گجو چک میں ایک مناظرہ میں شریک تھے۔
آپ سے مروی ایک روایت حضرت منشی غلام حیدر صاحب سب انسپکٹر اشتمال اراضی نے بیان کی:’’حافظ احمد دین صاحب ساکن گجو چک ضلع گوجرانوالہ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ حضرت صاحب کی خدمت شروع ایام میں حاضرہوا۔ حضور کی مجلس میں مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرے بدن میں کیڑیاں چل رہی ہیں۔ میں نے حضورؑ کی خدمت میں عرض کی کہ حضور میں بہت گناہگار ہوں۔ حضورؑ نے ایک دعا کرنے کی تاکید فرمائی۔ جو اب مجھے یاد نہیں۔ حافظ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں نے پھر عرض کی کہ حضور میں بہت گنہگار ہوں۔ مگر حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ معاف کر دے گا۔ ‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ (غیر مطبوعہ)، رجسٹر نمبر۱۰، روایات حضرت مُنشی غلام حیدر صاحب۔ صفحہ نمبر۱۲۵، ۱۲۶)
’’حافظ صاحب قادیان سے (دعوی سے قبل حضور ؑسے پہلی ملاقات کے بعد۔ ناقل)گجو چک آ گئے اور یہاں کے لوگوں کو حضرت اقدس کی ملاقات کی باتیں سنائیں، جس سے لوگ بہت خوش ہوئے۔ بعد ازاں جب حضرت مسیح موعود ؑنے بیعت لینے کا اعلان کیا تو حافظ صاحب نے قادیان پہنچ کر بیعت کی اور پھر واپس آگئے اور پہلے کی طرح لوگوں کو حالات سُنائے اور بیعت کرنے کا ذکر کیا۔ اس پر بہت سے لوگ مخالف ہو گئے اور سخت تکلیف دی۔ بائیکاٹ کر دیا۔ حافظ صاحب کی رہائش تنگ ہو گئی۔ بعد ازاں طاعون سے سخت معاند ہلاک ہو گئے۔ ایک شخص نے تین غلیظ فحش گالیاں دیں، وہ شخص تین روز میں طاعون سے چل بسا۔ غلام حیدر صاحب نمبردار نے نہ تو اُس وقت مخالفت کی اور نہ ہی برا بھلا کہا۔ کچھ عرصہ بعد وہ خود احمدی ہو گیا۔ پھر ساری اولاد مرد عورتیں احمدی ہو گئے۔ حافظ صاحب کا کھانا پینا اِن کے گھر میں رہا۔ اِن کے گھر سے ہی ان کا جنازہ نکلا۔‘‘ (اخبار الفضل قادیان۔ جلد ۱۸، نمبر ۱۴۶۔ ۱۸؍جون ۱۹۳۱ء۔ صفحہ ۹)
حضرت مرزا محمد حسین صاحب اپنے والد حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب چٹھی مسیح کے سوانح میں لکھتے ہیں: ’’جب حافظ احمد الدین صاحب ساکن گجو چک نے والد صاحب کے احمدی ہو جانے کا حال سنا تو وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ اُس وقت حافظ صاحب کے ساتھ مخالفت بہت ہورہی تھی۔ ایک دن مخالفوں نے حافظ صاحب کو حجرے میں بند کر دیا۔ جب والد صاحب ان کو ملنے کے گئے تو باہرسے کنڈ ا لگا دیکھا۔ اور حافظ صاحب اندر تھے۔ حافظ صاحب سے بہت دیر تک محبت کی باتیں ہوتی رہیں۔ اور ان مخالفوں کو مسجد میں بُلا کر خوب تبلیغ کی اور مناظرہ بھی کیا۔‘‘ (ہفت روزہ اخبار الحکم قادیان، ۱۴؍اکتوبر ۱۹۳۴ء۔ صفحہ ۸۔ کالم۲ شروع)
ترِگڑی، ضلع گوجرانوالہ کےیہی معروف صحابی حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب اپنی منظوم پنجابی تصنیف میں آپ کے متعلق لکھتے ہیں۔
اک حافظ احمد الدین اساں نیڑے وچہ موضع چک گجو دے
اساں سنبھاں تھیں رب پہلے اُسنوں کیتی راہنمائی اے
اُس حق قبولن کارن پایاں لوکاں تھیں تکلیفاں بی
پر ہمت مول نہ ہاری دل تھیں خوب رکھی تگڑائی اے
رب دے توفیق عمل اُس روز جزا دے نیک جزائیں بی
جس کوشش کر اتھ احمدیاں دی جماعت بنائی اے
ترجمہ: حافظ احمد دین صاحب جو ہمارے قریبی موضع گجو چک کے رہنے والےہیں۔ ہم سب سے پہلے خداتعالیٰ نے اُن کی راہنمائی کی۔ انہوں نے حق قبول کرنے کے باعث لوگوں سے بہت تکلیفیں بھی اٹھائیں، لیکن ہمت نہ ہاری اور دل کو مضبوط کیے رکھا۔ خدائے تعالیٰ انہیں نیک اعمال کی توفیق عطا کر تا چلا جائے اور روزِ قیامت بہترین جزا عطا فرمائے کہ جنہوں نے کوشش کر کے یہاں احمدیوں کی جماعت بنائی ہے۔ (منظوم پنجابی تصنیف ’’چٹھی مسیح/ جھوک مہدی والی ‘‘ از مولوی محمد اسماعیل، صفحہ۴۸)
’’حافظ صاحب کو جناب چوہدری نصراللہ خاں صاحب مرحوم سے بہت محبت تھی۔ حافظ صاحب کو چوہدری صاحب خاص طور پر ڈسکہ بلا لیتے اور اِن سے قرآنِ کریم کا دَور کرتے۔ حافظ صاحب نے چوہدری صاحب کے فوت ہو جانے کا بہت صدمہ محسوس کیا۔ حافظ صاحب بہت صالح اور تہجد گزار تھے، اور قرآنِ کریم کی تلاوت ان کی غذا تھی۔
حافظ صاحب مرحوم کو اخبار الفضل سُننے کا بھی بڑا شوق تھا۔ میں اُن کو اخبار سنانے کے لئے (ترِگڑی سے گجو چک قریبااڑھائی کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ناقل) اُن کے ہاں چلا جایا کرتا تھا۔ ‘‘ (اخبار الفضل قادیان۔ جلد ۱۸، نمبر ۱۴۶۔ ۱۸؍جون ۱۹۳۱ء۔ صفحہ ۹)
ایک دفعہ حضورؑ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضور مجھے مکمل قرآنِ کریم حفظ تھا مگر اب بھول رہا ہے۔ حضور نے فرمایا کہ بچیوں کو اور بچوں کو کثرت سے پڑھایا کرو، پھر حفظ ہو جائے گا۔ لہذا آپ نے بچوں کو قرآنِ کریم پڑھانا شروع کر دیا۔ اِس طرح آپ کو دوبارہ قرآنِ کریم مکمل طور پر حفظ ہو گیا۔
آپ کی وفات کا علم جب حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی کو ہوا تو کہنے لگے کہ حافظ احمد دین صاحب کی طرح صحیح قرآن پڑھنے والا کوئی نہ ملے گا۔ حافظ احمد دین صاحب نے زندگی بھر شادی نہیں کی۔ لہذا آپ کی اولاد بھی نہ تھی۔ (مقالہ جامعہ احمدیہ سیرت ِصحابہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام ضلع گوجرانوالہ۔ صفحہ۱۲۰ تا ۱۲۱، مقالہ نگار: طاہر محمود چوہدری۔ تحریر کردہ دسمبر۱۹۸۱ء)
حضرت حافظ صاحب جلسہ سالانہ ۱۹۳۰ء سے قبل بہت بیمار ہو گئے تھے۔ اِنہی ایام میں حضرت مرزا محمد حسین صاحب نے، جو آپ کی تیمارداری کیلئے گجو چک جایا کرتے تھے، آپ کے حالات ضبطِ تحریرمیں لائے۔ آپ کی وفات ۱۴؍مئی ۱۹۳۱ء بروز جمعرات کی رات کو ہوئی۔ وفات کے وقت آپ کی عمر ۷۵؍برس تھی۔ آپ نے دین کی خاطر ایسے طریق سے زندگی بسر کی کہ بلا وصیت آپ کے یادگاری کتبہ کے بہشتی مقبرہ قادیان میں لگائے جانے کی منظوری دی گئی۔(فہرست وفات یافتہ موصیان ۱۹۰۵ء تا ۲۰۰۷ء۔ شائع کردہ نظارت بہشتی مقبرہ ربوہ۔ صفحہ ۶۷)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکرم بشارت احمد صابر صاحب




