پیغام حضور انور

ہفت روزہ بدر (24۔ 31دسمبر 2015ء)کے خصوصی شمارہ ’’جماعت احمدیہ اور خدمت قرآن‘‘ کی اشاعت کے موقع پر امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کا خصوصی پیغام

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ساری زندگی قرآن شریف کی خدمت پر کمر بستہ رہے اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی راہنمائی اور ہدایات کی روشنی میں آپ کی پیاری جماعت خدمتِ قرآن کی عظیم مہم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

 لا ریب یہ ایسی خدمت ہے کہ سارے عالمِ اسلام کو مل کر بھی اس انداز کی خدمتِ قرآن کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔

 قرآن کریم اور احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اسلام اور قرآن شریف کی تعلیمات کی سب دنیا میں اشاعت حضرت مسیح موعودؑ اور آپ کے بعد خلافت احمدیہ ہی کے ذریعہ مقدر کی گئی ہے۔

ہفت روزہ بد ر(24۔ 31دسمبر 2015ء)کے خصوصی شمارہ ’’جماعت احمدیہ اور خدمت قرآن‘‘ کی اشاعت کے موقع پر امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کا خصوصی پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نَحۡمَدُہ وَنُصَلِّیۡ عَلٰی رَسُوۡلِہِ الۡـکَرِیۡمِ وَعَلٰی عَبۡدِہِ الۡمَسِیۡحِ الۡمَوۡعُوۡد

خداکے فضل اور رحم کے ساتھ

ھو الــنّـــاصــر

 لندن

27-11-15

پیارے قارئین ہفت روزہ بدر قادیان

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ ہفت روزہ بدر کو جلسہ سالانہ کے موقع پر ’’جماعت احمدیہ اور خدمت قرآن‘‘ کے نام سے ایک خصوصی شمارہ شائع کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ مجھ سے اس موقع پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ بدر کے اس نمبر کو ہر لحاظ سے خیروبرکت کا موجب بنائے۔ آمین۔

ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت ثانیہ کے اس دورِ ’’آخرین‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو احیائے دین اور قیام شریعت کے لئے مبعوث فرمایا تھا تاکہ خدا تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کی طرف جو رسول بنا کر بھیجا تھا اس کے سب اغراض و مقاصد آپ کے روحانی فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پورے فرمائے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:

’’اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد حیات میں وہ تمام متفرق ہدایتیں جو حضرت آدم سے حضرت عیسیٰ تک تھیں قرآن شریف میں جمع کی گئیں لیکن مضمون آیت قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہو سکا کیونکہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادیٔ دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اُس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اُس وقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گویا معدوم تھے۔ بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دیئے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو 1257ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے اور اس زمانہ تک امریکہ کُل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا بلکہ دُور دُور ملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے۔ غرض آیت موصوفہ بالا میں جو فرمایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو! مَیں تم سب کی طرف رسول ہوں عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہر گز تبلیغ نہیں ہو سکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے۔ اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی۔ اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کر لیں۔ اور یہ دونوں امر اس وقت غیر ممکن تھے۔ لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ وَ مَنْ بَلَغَ یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو ابھی تبلیغِ قرآنی اُن تک نہیں پہنچی۔ ایسا ہی آیت وَ اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْابِھِمْ اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ابھی اشاعت ناقص ہے‘‘۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17صفحہ 260 تا 261)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس اقتباس کی روشنی میں یہ دَور تبلیغِ قرآنی کا دَور ہے۔ اور یہ خدمت آپ کی جماعت کے سپرد کی گئی ہے۔ خدمتِ قرآن کے بنیادی پہلو تو یہی ہیں کہ قرآن کریم کے محاسن سے سب دنیا کو روشناس کرایا جائے۔ قرآن شریف پر ہونے والے اعتراضات اور حملوں کے جواب دیئے جائیں۔ مسلمانوں میں قرآن کریم کے متعلق پائی جانے والی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم کروا کر شائع کئے جائیں۔ یہ ساری خدمات جماعت احمدیہ خدا کے فضل سے نہایت احسن رنگ میں بجا لا رہی ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ساری زندگی قرآن شریف کی خدمت پر کمر بستہ رہے اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی راہنمائی اور ہدایات کی روشنی میں آپ کی پیاری جماعت خدمتِ قرآن کی عظیم مہم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت کے حالات کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اُس وقت مسلمانوں میں قرآن شریف کے متعلق بہت سے غلط عقیدے پائے جاتے تھے۔ کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ قرآن شریف میں تبدیلی ہو گئی ہے اور اس کے کچھ حصے چھپنے سے رہ گئے ہیں۔ بعض کا یہ عقیدہ تھا کہ قرآن کریم کے کچھ حصے منسوخ ہیں۔ کچھ قرآن کریم کے مضامین کی ترتیب پر اور مضامین کے تکرار پر اعتراض اُٹھاتے تھے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ قرآن شریف ایک مجمل کتاب ہے اور اس میں محض موٹی موٹی باتیں بیان ہوئی ہیں اور اخلاقی اور تمدنی اور معاشرتی باتوں کی تفصیل نہیں ہے۔ کچھ ایسے نا سمجھ بھی تھے جو قرآن کریم کی تعلیمات کو وقتی سمجھتے تھے۔ اسی طرح بہت سے مسلمان قرآن شریف کو محض ایک متبرک کتاب سمجھتے تھے اور انہوں نے اس کی تلاوت اور مطالب پر غور چھوڑ دیا تھا۔ ان حالات میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک بہادر جرنیل کی صورت میں خدمتِ اسلام اور خدمت قرآن کا علَم اُٹھا کر میدان میں اُترے اور آپ نے نہ صرف ان غلط فہمیوں کا ازالہ فرمایا بلکہ قرآن پر کئے جانے والے ہر قسم کے اعتراضات کا ٹھوس دلائل کے ساتھ جواب دیا۔ آپ نے قرآن کریم کی تعلیمات اور اس کے مضامین لوگوں کو سمجھائے اور اپنی کتاب ’’برکات الدعا‘‘ میں قرآن کریم کی تفسیر کے بنیادی اصول بھی بیان فرمائے۔ نیز آپ نے اپنی تحریرات میں قرآن کریم کے محاسن کو ایسی عمدگی سے بیان فرمایا کہ اس وقت کے مشہور ترین مسلمان علماء آپ کی اس خدمت قرآن پر یہ کہتے ہوئے عَش عَش کر اُٹھے کہ گزشتہ تیرہ صدیوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جانشینی میں آپ کے خلفاء نے بھی قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات کی سب دنیا میں تبلیغ کو ہمیشہ مقدم رکھا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کی اشاعت کے کام پر خاص توجہ دی ہے۔ چنانچہ اب تک خدا کے فضل سے دنیا کی 70سے زائد زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم پر کام مکمل ہو چکا ہے اور خلیفۂ وقت کی رہنمائی میں بڑے تواتر کے ساتھ اور منظم طریق پر جماعت یہ کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ لا ریب یہ ایسی خدمت ہے کہ سارے عالمِ اسلام کو مل کر بھی اس انداز کی خدمتِ قرآن کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔

پس ہم تو انشاء اللہ آئندہ بھی قرآن کریم کی نشر و اشاعت کا کام کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کے تراجم دنیا کے چپّے چپّے پر عام کر دیئے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سعید روحیں جلد تر اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے دیگر مسلمان بھائی بھی ذرا غور کریں کہ انہیں ایسی خدمت کی توفیق کیوں نہیں مل رہی۔ اس کی بنیادی وجہ صرف یہی نظر آتی ہے کہ وہ اُس خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے منکر ہیں جس کی خبر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ کیونکہ قرآن کریم اور احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اسلام اور قرآن شریف کی تعلیمات کی سب دنیا میں اشاعت حضرت مسیح موعودؑ اور آپ کے بعد خلافت احمدیہ ہی کے ذریعہ مقدر کی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’ اتمام نعمت کی صورتیں در اصل دو ہیں۔ اوّل تکمیل ہدایت دوم تکمیل اشاعتِ ہدایت۔ اب تم غور کر کے دیکھو تکمیل ہدایت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کامل طور پر ہو چکی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا تھا کہ تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ دوسرا زمانہ ہو جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بروزی رنگ میں ظہور فرماویں اور وہ زمانہ مسیح موعود اور مہدی کا زمانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (الصّف: 10) اس شان میں فرمایا گیا ہے۔ تمام مفسرین نے بالاتفاق اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق ہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد 2صفحہ 134)

پس آج ہم سب دنیا کے مسلمانوں کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ آئیں اور اس زمانہ کے امام سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہو جائیں اور آپ کی جانشینی میں قائم خلافت احمدیہ کی بیعت میں آکر خدمت قرآن کے کاموں میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔

اللہ تعالیٰ عامۃ المسلمین کو ہماری یہ دعوت قبول کرنے کی توفیق دے اور ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم آئندہ بھی خدمت قرآن کا عَلم پہلے سے بڑھ کر بلند سے بلند تر کرتے چلے جائیں۔ اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ غلبہ اسلام کا الٰہی وعدہ جلد تر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

والسلام، خاکسار

(مرزا مسرور احمد)

 خلیفۃ المسیح الخامس

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button