الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
حضرت چودھری سرمحمد ظفراللہ خانصاحبؓ
(گذشتہ سے پیوستہ)
محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب رقمطراز ہیں کہ ایک بار جب خاکسار حضرت چودھری سرمحمدظفراللہ خان صاحبؓ کے ساتھ ایک سفر پر روانہ ہوا تو فرمانے لگے کہ مَیں نے رات کو ایک منذر خواب دیکھا ہے۔ آپ ڈرائیونگ بھی کریں اور ساتھ ساتھ دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ اس خواب کے منذر حصہ سے ہمیں محفوظ رکھے۔
آپؓ ہمیشہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر تشریف فرما ہوتے۔ سفر کا ابتدائی قریباً پون گھنٹہ آپؓ خاموشی سے دعائوں اور ذکر الٰہی میں گزارتے اور اس دوران کسی قسم کی بات چیت پسند نہ فرماتے تھے۔ اس کے بعد یا تو سو جاتے یا سلسلۂ گفتگو جاری فرماتے۔ کبھی ڈرائیور کو ڈرائیونگ کے سلسلہ میں نہ ٹوکتے۔ آپ کو انگلستان کی اکثر بڑی سڑکوں بلکہ دیہاتی سڑکوں کا بھی علم تھا اور بغیر کسی نقشہ کے منزل مقصود تک راہنمائی فرمایا کرتے تھے۔ اُس سفر کے دوران ہم نے ایک رات ہوٹل میں ٹھہرنا تھا۔ شام کے کھانے کے بعد آپؓ نے فرمایا کہ ناشتہ صبح ساڑھے سات بجے ڈائیننگ ہال میں کریں گے۔
صبح مَیں ڈائیننگ ہال میں پہنچ گیا لیکن آپؓ کو وہاں نہ پایا۔ آپ وقت کی پابندی کا جس قدر خیال رکھتے تھے اس نے مجھے پریشان کر دیا۔ مزید پندرہ بیس منٹ بھی جب آپؓ تشریف نہ لائے تو میں پریشانی میں آپؓ کے کمرہ میں حاضر ہوا۔ آپ چارپائی پر دراز تھے اور بہت کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ فرمایا کہ رات کو مَیں نماز تہجد کی ادائیگی کے لیے اُٹھ کر غسل خانہ میں وضو کے لیے گیا تھا۔ پائوں دھونے کے لیے Sink میں رکھا تو توازن قائم نہ رہ سکا اور گر گیا۔ سر نہانے کے ٹب سے ٹکرایا اور میں بیہوش ہوگیا۔ نہ جانے کتنی دیر بیہوش رہا۔ جب ہوش آیا تو چند منٹ تک یہ احساس نہ رہا کہ میں کہاں ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد اتنا یاد آیا کہ تم میرے ہمسفر ہو۔ پھر میں نے دس تک گنتی کی تو ٹھیک گنتی ہوگئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ میرا حافظہ درست ہے۔ اس کے بعد میں نے بستر پر ہی نماز تہجد اور نماز فجر ادا کی۔ میں نے شکوہ کے رنگ میں عرض کیا کہ مجھے کیوں نہ بلایا، میرا آپ کے ساتھ ہونے کا کیا فائدہ؟ فرمانے لگے خیال تو دوتین دفعہ آیا تھا لیکن پھر یہ خیال آتا رہا کہ تم نے ڈرائیونگ کی ہے اور تھکے ہوئے ہو۔ مَیں نے آپ کی کیفیت دیکھ کر عرض کیا کہ میں ڈاکٹر کو بلا لیتا ہوں اور آگے کا سفر ایک دِن کے لیے ملتوی کر دیتے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے گلاسگو کی جماعت کو شام کا وقت دیا ہے، اس لیے ہمیں ضرور وہاں پہنچنا چاہیے۔ مجھے کار کی سیٹ پر بٹھا دو، گلاسگو پہنچ کر ڈاکٹر کو دکھا دیں گے۔ میری باربار کی درخواستوں کے باوجود مُصر رہے چنانچہ ہم گلاسگو کے لیے روانہ ہوئے۔ گلاسگو پہنچ کر ہمارے اصرار سے روکنے کے باوجود آپ نے میٹنگ کو خطاب فرمایا۔
٭…اگر کبھی موت آپ کے در پر دستک دے تو آپ کا رویہ کیا ہوگا؟ یہ سوال حضرت چودھری صاحبؓ نے بھی خود سے کئی بار کیا تھااور اس کا جواب بھی ان کو ملا۔ مشن ہائوس کے جس فلیٹ میں آپؓ مقیم تھے وہاں میں نے بااصرار ٹیلیفون لگوا دیا تھا تا کسی ہنگامی صورت میں ہم کو اطلاع کر سکیں۔ ایک دن صبح کے ناشتے پر تشریف نہ لائے تو مجھے فکر ہوئی۔ آپؓ کے فلیٹ میں حاضر ہوا تو آپؓ بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ بڑی نحیف اور کمزور آواز میں فرمانے لگے جب رات میں تہجد کے لیے اُٹھا تو مجھے شدید ضعف کا دورہ پڑا اور سارا جسم پسینے سے تربتر ہو گیا۔ سینے میں بھی شدید درد محسوس ہوتا رہا۔ پھر کمزوری اتنی بڑھ گئی کہ دو تین مرتبہ مجھ پر غشی طاری ہوتی رہی۔ میں نے عرض کیا آپ کا فون لگوایا اسی لیے تھا تاکہ آپ کسی فوری ضرورت کے وقت مجھے بلواسکیں۔ فرمایادو تین دفعہ مجھے خیال آیا لیکن ہر بار یہ خیال تم کو بلانے سے مانع رہا کہ تم تھکے ہوئے ہوگے۔ رات کو نیند سے اُٹھانا مناسب نہ ہوگا۔ پھر فرمایا مجھے خوشی ہے کہ اس بیماری میں میری ایک خواہش پوری ہو گئی۔ میری ہمیشہ سے یہ دعا رہی ہے کہ جب میری موت کا وقت قریب آئے تو میری زبان پر جزع فزع کی بجائے حمدالٰہی اور درود کا ورد ہو۔ رات کو جب بھی مجھ پر غشی طاری ہوتی اور میں غشی کی کیفیت سے باہر آتا تو میری زبان پر حمد اور درود ہوتا۔ اس لیے مجھے اب یہ اطمینان ہوگیا ہے کہ جب بھی موت آئی تو ان شاء اللہ میری زبان حمد اور درود سے تر ہوگی۔ فرمایا کرتے تھے مجھے موت سے ہرگز کوئی خوف نہیں ہے اور میں کبھی اس بارہ میں سوچتا بھی نہیں کہ موت کوئی ڈرنے والی چیز ہے۔
آپؓ کو لمحہ بہ لمحہ اپنی طرف بڑھتی ہوئی موت کا نہ صرف احساس تھا بلکہ آپ اس سے ایک گونہ خوشی و مسرت محسوس کرتے تھے اور سفر آخرت کا یوں ذکر فرماتے جیسے کوئی معمول کے سفر پر روانہ ہو رہا ہو۔ لاہور میں ایک بار آپؓ کی بیماری کے دوران ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو فرمایا: دعا کریں سفر بخیریت گزر جائے۔ مَیں حیران ہوا کہ آپ تو مستقلاً پاکستان تشریف لے آئے ہیں اَب کونسا سفر درپیش ہے۔ میری حیرانی دیکھ کر آپؓ خفیف سے مسکرائے اور فرمایا میں اُس سفر کا ذکر کررہا ہوں۔ مَیں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ آپ کو صحت دے۔ آپ کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ فرمایا: اب اللہ تعالیٰ نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ اب سفر جلد درپیش ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ ایک چار منزلہ مکان ہے جس کے نیچے بیٹھ کر میں الفضل پڑھ رہا ہوں۔ اوپر چوتھی منزل سے میری والدہ محترمہ مجھے آواز دیتی ہیں: اب آجائو۔ مَیں عرض کرتاہوں کہ بس یہ الفضل تھوڑا سا رہ گیا ہے اسے ختم کرکے حاضر ہوتا ہوں۔
اسی طرح دو اَور خوابیں بھی سنائیں جنہیں بیان کرتے وقت چہرے پر موت کے خوف یا ڈر کا توخیر ذکر ہی کیا، اس کے بالکل اُلٹ نہایت درجہ شادمانی اور اطمینان کا تأثر تھا۔
٭…حضرت چودھری صاحبؓ کو اپنے والدین سے بے حد محبت تھی۔ خصوصاً اپنی والدہ صاحبہ مرحومہ سے تو عشق کی کیفیت تھی۔ ۱۹۷۶ء میں خاکسار کو آپؓ کی معیت میں قادیان جانے کا موقع ملا۔ ایک دن آپؓ اپنی کوٹھی ’’بیت الظفر‘‘ دکھانے مجھے لے گئے۔ وہاں حکومت کے دو وزیر بھی موجود تھے۔ آپؓ ہر کمرے کے بارہ میں تفصیل سے بتاتے۔ ایک جگہ ٹھہرگئے اور آپؓ پر رقت کی کیفیت طاری ہو گئی، آواز بھی بھرا گئی۔ چند منٹ بعد رقّت آمیز لہجے میں فرمایا: ’’اس جگہ میری والدہ صاحبہ کو آخری غسل دیا گیا تھا۔‘‘ پھر اپنی والدہ صاحبہ مرحومہ کی یادوں میں کھوگئے اور اُن کے چند ایمان افروز واقعات سنائے۔ پھر جب آپؓ بہشتی مقبرہ قادیان میں اپنی والدہ صاحبہ کی قبر پر دعا کے لیے کھڑے ہوئے اُس وقت آپ کی حالت اس قدر غیر تھی کہ یوں لگتا تھا گویا آپ کسی اَور جہان میں ہیں۔ آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی اور سینہ یو ں شدّت غم سے اُبل رہا تھا جیسے ہانڈی چولہے پر اُبل رہی ہو۔ دیر تک آپؓ کی یہ کیفیت رہی۔ پھر فرمایا:میں اپنی والدہ صاحبہ کی قبر پر ایسے وقت میں جانا چاہتا ہوں جب مَیں اکیلا ہوں۔ چنانچہ اگلے روز بہت ہی منہ اندھیرے آپؓ ان کی قبر پر دعا کے لیے تشریف لے گئے۔
آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کبھی اپنے والد صاحب کے حکم کی سرتابی نہیں کی۔ ایک دن والد صاحب نے مجھے ڈانٹا کہ تم سکول کیوں نہیں گئے اور حکم دیا کہ ابھی بستہ اٹھائو اور سکول جائو۔ میں فوراً تعمیلِ حکم میں سکول چل دیا حالانکہ سکول بند تھا۔ پھر واپس آکر عرض کیا کہ آج سکول میں تعطیل ہے۔
٭…ریٹائرمنٹ کے بعد آپؓ کھانے پر میرے ہاں تشریف لاتے تو اگرچہ آپؓ کو بلڈنگ سے باہر نہیں جانا پڑتا تھا لیکن آپؓ پورا لباس زیب تن کیے بغیر کھانے کی میز پر تشریف نہیں لاتے تھے۔ مَیں عرض کرتا کہ آپ کیوں پورے لباس کا تکلّف کرتے ہیں۔ تو فرماتے کہ مَیںنے زندگی کا ایک اصول مقرر کر رکھا ہے کہ صبح اٹھ کر پورا لباس پہن کر ہی کام کرنا ہے۔ خواہ کہیں باہر جانا ہو یا نہ جانا ہو۔ اس سے طبیعت میں کام کی رغبت بھی پیدا ہوتی ہے اور چستی بھی آجاتی ہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ لباس ایسا ہونا چاہیے جو سترپوشی کے علاوہ ملک کے شرفاء کا لباس ہو۔ ایک مرتبہ میرے داماد کی قمیص کے بٹن کھلے دیکھ کر حضرت چودھری صاحب ؓنے فرمایا: قمیص کے بٹن بند کرلو۔ علاوہ اس کے کہ بٹن کھلے رکھنا مناسب نہیں،بٹن ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ بند رکھے جائیں۔
ایک بار ایک نوجوان نے آپؓ کی تصاویر بنانے کی اجازت چاہی اور ساتھ ہی اپنے کیمرہ کی تعریفیں کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے وہ کیمرہ دو صد پونڈ میں خریدا ہے۔ یہ سن کر حضرت چودھری صاحبؓ کو بہت صدمہ ہوا اور اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں! اتنی بڑی رقم سے تم کئی ایسے کام کر سکتے تھے جن سے خدا تعالیٰ بھی راضی ہوتا اور تمہیں بھی دلی تسکین ملتی۔ تم چندہ دیتے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اموال میں برکت ڈالتا۔ کسی غریب کی مدد کرتے تو اللہ تعالیٰ کی رضا تمہیں نصیب ہوتی۔ کیمرہ خرید کر تم نے یہ رقم ضائع کردی۔ تمہاری حیثیت کے مطابق اتنی بڑی رقم فضول خرچی کے دائرہ میں آتی ہے۔ ہاں چندہ ادا کرنے اور غرباء کی خدمت کرنے کے بعد کچھ رقم بچ جاتی اور تم سستا سا کیمرہ خرید لیتے اور یہ بھی شوق پورا کرلیتے تو ہم خرما وہم ثواب والی بات ہو جاتی۔
اسی طرح ایک نوجوان کو اس کی ہیئت کذائی پر نصیحت فرمائی کہ اپنے بالوں کو سنوار کر رکھا کرو، مغرب کی تقلیدمیں لمبے بال رکھنا احمدی نوجوان کے شایان شان نہیں۔ اُس نے جواب دیا کہ یورپ میں رہ کر یورپین معاشرے کی تقلید نہ کرنا ممکن نہیں۔ آپؓ فرمانے لگے: میاں! تمہارے باپ کی پیدائش سے بھی قبل مَیں یورپ آیا تھا اور تقریباً آدھی صدی اِن ممالک میں رہنے کا موقع ملا ہے۔ مَیں نے تو کبھی یورپین معاشرہ کے بدصورت حصہ کو نہیں اپنایا۔
٭…حضرت چودھری صاحبؓ کا دل غریبوں، مسکینوں، بیوائوں اور نادار طلباء کی امداد کے لیے ہر وقت بےچین رہتاتھا۔ ایک دفعہ ایک احمدی کی وفات ہو گئی۔ ہم دونوں گئے اور مرحوم کی بیوہ اور بچوں سے ملے۔ انہیں تسلی دی اور مرحوم کی تجہیز و تکفین کے مناسب انتظامات کروائے۔ واپس آتے وقت آپؓ نے فرمایا کہ کیا آپ نے بیوہ سے اس کے مالی حالات کے بارہ میں دریافت کیا ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ اس کی ضرورت نہ تھی کیونکہ یہاں بیوگان کو گورنمنٹ کی طرف سے بیوگی الائونس اور بچوں کی نگہداشت کے لیے مناسب پنشن ملتی ہے۔ آپؓ نے فرمایا : ’’گورنمنٹ تو قواعد کے مطابق جو امداد کرسکے گی وہ ضرور کرے گی۔ لیکن مرحوم جماعت احمدیہ کے فرد تھے۔ بحیثیت مبلغ سلسلہ تمہارا یہ فرض بنتا ہے کہ تم بیوہ سے ان کے حالات دریافت کرواور اگر گورنمنٹ کی امداد کے بعد بھی انہیں کسی مدد کی ضرورت ہو تو اس کا انتظام کرو۔‘‘مَیں نے اس خاتون سے فون پر بات کی تو وہ رونے لگیں اور اپنے مالی حالات بتائے۔ مَیں نے یہ سارا ماجرا حضرت چودھری صاحبؓ کی خدمت میں عرض کر دیا تو آپؓ نے فوراً اپنے قائم کردہ ٹرسٹ سے بیوہ کے لیے مناسب امداد کا انتظام کردیا۔
٭…حضرت چودھری صاحبؓ اپنے محسنوں کو تو یاد رکھتے ہی تھے، اُن کے بچوں سے بھی محبت کا سلوک فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ہم Brookwood قبرستان میں گئے۔ یہاں حضرت میر عبدالسلام صاحبؓ بھی دفن ہیں جو سیالکوٹ کے پہلے امیر جماعت مقرر ہوئے تھے۔ یہ انگلستان میں دفن ہونے والے واحد صحابی ہیں۔ احمدیوں کی قبروںپر دعا سے فارغ ہونے کے بعد حضرت چودھری صاحبؓ نے فرمایا کہ اسی قبرستان میں سر فضل حسین کے بیٹے کی بھی قبر ہے جو دورانِ تعلیم انگلستان میں فوت ہوئے تھے۔ چنانچہ ہم نے اُن کی قبر تلاش کی۔ دیکھا تو قبر کا کتبہ نہایت خستہ حالت میں تھا اور قبر کی حالت بھی خراب تھی۔ آپؓ نے فرمایا: سر فضل حسین صاحب میرے محسن تھے۔ وہ مجھ سے بے حد پیار اور محبت کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔ پھر آپؓ نے قبرستان کی انتظامیہ سے کہا کہ اس قبر کو درست کرنے اور اس پر نیا کتبہ لگانے پر جو خرچ آئے گا وہ مَیں دوں گا۔
(باقی آئندہ سوموار کے شمارے میں۔ان شاءاللہ)
………٭………٭………٭………
مزید پڑھیں: لیف کٹر شہد کی مکھیاں: قدرت کی ماہر معمار



