میرےوالد۔ مولوی محمدعبداللہ صاحب زیروی ریٹائرڈاستادعربی کا ذکرِخیر
(سمیع اللہ زاہد۔ کینیڈا)
خاکسار کے والد مولوی محمدعبداللہ صاحب تین چار ہفتے کی بیماری کے بعد ۶؍فروری ۱۹۹۹ء کوتقریباً۹۰؍سال کی عمر میں اپنے خالق و مالک کےحضور حاضر ہو گئے۔

وفات کی اطلاع نظارت بہشتی مقبرہ کو دے دی گئی تھی۔ میں اس غرض سے دفتر گیا کہ اگر والد صاحب کے ذمہ چندہ وصیت کا کوئی بقایا وغیرہ ہو تو اس کی ادائیگی کا انتظام کرکے مسجد مبارک میں نمازِ جنازہ اور بہشتی مقبرہ میں تدفین کی اجازت حاصل کروں۔ سیکرٹری صاحب مجلسِ کارپرداز کے دفتر سے مجھے بتایا گیا کہ انہوں نے آمد وغیرہ کا حساب چیک کر لیا ہے، آخری ماہ کی ادائیگی بھی ہو چکی ہے۔ حصہ آمد کا کوئی بقایا نہیں۔ حصہ جائیدادکے حساب کےمتعلق ناظم تشخیص جائیدادموصیاں سے معلوم کر لوں۔ اس کی فائل ان کے پاس ہے بلکہ انہوں نے ہماری فا ئل بھی منگوائی ہے۔ ناظم تشخیص جا ئیداد موصیا ں اس وقت محترم لطیف احمد کا ہلوں صاحب مرحوم تھے۔ وہ کئی سال ہمارے ضلع ساہیوال میں مربی رہے تھے۔ کئی دفعہ دورے پر ہمارے گاؤں آچکے تھے،بلکہ ایک دفعہ جب میں جامعہ کی چھٹیوںمیں گاؤں گیا ہوا تھاجلسہ سیرت النبیﷺ وغیرہ کا کوئی موقع تھاتو جلسے کے لیے تین مربیان بشمول مولوی عبدالمنان شاہد صاحب اور مولوی محمد صدیق ننگلی صاحب کو والد صاحب نے رات گھر ٹھہرایا تھا۔ صبح تینوں بزرگوں کو پانی وغیرہ گرم کر کے وضو کروانے کی سعادت مجھے ملی تھی اور والدہ مرحومہ نے بڑے اہتمام سے اگلی صبح ان کےناشتے کا انتظام کیا تھا۔ ربوہ منتقل ہونے کے بعد والد صاحب پانچوں نمازیں مسجد مبارک میں ادا کیا کرتے تھے اور لطیف کاہلوں صاحب بھی وہیں نمازیں ادا کرتے تھےاس لیے وہ والد صاحب مرحوم کو اچھی طرح جانتے تھے،میں ان کے دفتر گیا۔ انہوں نے والد صاحب کی تعز یت کی۔ ایک فائل جس پر والد صاحب کا نام لکھا ہوا تھامیز پر پڑی تھی اور ان کے دفتر کا ایک کارکن بھی بیٹھا تھا۔ حصہ جائیداد کی ادائیگی کے حساب کے متعلق میرے سوال پر قبل اس کے کہ مولوی صاحب کوئی جواب دیتے وہ بول اٹھا اور کہنے لگا کہ زرعی زمین وغیرہ کے حصہ جائیداد کی ادائیگی تو آپ کے والد صاحب کر چکے ہیں(اس کا مجھے بھی علم تھا)لیکن ہمیں ایک حیرانی ہے کہ آپ کے والد صاحب ٹیچرتھے،۱۹۷۲ءمیں وہ ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد کے تین چار سال میں ہمیں ان کی طرف سے کسی بڑی اور غیر معمولی رقم کی ادائیگی کےشواہد ان کی فائلوں سے نہیں ملے۔ ریٹائر ہونے کے دو تین سال بعد انہیں پینشن ملنا شروع ہوئی ہو گی،اس وقت انہیں ان دو تین سالوں کی اکٹھی پینشن اور پراویڈنٹ فنڈ اورگریجوئٹی وغیرہ کی یکمشت ادائیگی ہوئی ہو گی،اس پر حصہ آمدکی بڑی رقم کی ادائیگی کا ریکارڈ نہیں مل رہا۔ ہم نےان کی حصہ آمد کی ادائیگی کی فائل بھی منگوا کر چیک کر لیا ہے۔ میں نے ا بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ مولوی کاہلوں صاحب کہنے لگے: ’’میں نے آپ کو کہا ہے کہ ان کے والد ان بزرگوں میں سے تھے جو چندہ ادا کیے بغیر اپنی کسی بھی قسم کی آمد گھر لے جانا یاکم از کم اسے اپنی ذاتی ضرورت کے لیے خرچ کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہمارے دفتری ریکارڈ سے ہی کوئی چیز ادھر اُدھر ہوئی ہے جو مل نہیں رہی۔ ‘‘مولوی صاحب کے ان الفاظ سے مجھے کچھ حوصلہ ملا اور میں نے یہ کہتے ہوئے اپنے ہاتھ اُس فائل کی طرف بڑھا دیے جو ان کی میز پر پڑی تھی کہ اگر اجازت ہو تو میں اسے دیکھ لوں۔ مولوی صاحب کے ’’ہاں،ہاں، ضرور‘‘ کہتے ہی میں اُس فائل کو تقریباً درمیان سے کھول چکا تھا اور ابھی فائل کا دوسرا تیسرا کاغذ ہی پلٹا تھا کہ میری نظر والد صاحب کی تحریرکردہ ایک چٹھی پر پڑی جو سیکرٹری مجلس کارپرداز کے نام تھی۔ والد صاحب کا نہایت ہی خوبصورت ہینڈرائیٹنگ،بہت باریک،لیکن ہر لفظ موتیوں کی طرح صاف اور الگ، نیچے ان کے مخصوص خوبصورت دستخط، یہ سب میں اچھی طرح پہچانتا تھا۔ اس میں والد صاحب نے پوری تفصیل سے لکھا تھا کہ وہ کس تاریخ کو ریٹائر ہوئے،کس تا ریخ سے کس قدرپینشن ملنا شروع ہوئی اور اس درمیانی عرصےکی پینشن کی یکمشت ادائیگی اور بطور گریجوئٹی اورپراویڈنٹ فنڈ کل کتنی رقم ملی،نیز یہ بھی کہ اس رقم کا ۱۰؍۱ حصہ انہوں نے مقامی جماعت میں فلاں تاریخ کو ادا کر دیا ہےاورپینشن کے علاوہ زرعی زمین کا حصہ آمد ساتھ ساتھ ادا کرتا رہا ہوں۔ میں نے وہ کھلی فائل مولوی صاحب کے سامنے رکھی اور مولوی صاحب سے عرض کیا کہ اب اگر آپ کو مزید کوئی شواہد چاہئیں تو آپ خود ڈھونڈیں۔ بھیگی آنکھوں کے ساتھ میں خدائے ستّار و وہاب کے اُس احسان کا شکر ادا کرتا ہوا اُن کے دفتر سے باہر نکلا جو مکرم مولوی کاہلوں صاحب کے والد صاحب کے متعلق حسنِ ظن اور پھر اتفاقاً دو اڑھائی سو کاغذات کی فائل میں سے متعلّقہ خط کے سامنے آنے کی صورت میں چند لمحہ پہلے میں نے مشاہدہ کیا تھا۔ بعد میں مولوی لطیف احمد کاہلوں صاحب نے والد صاحب کی بہشتی مقبرہ میں تدفین اورمسجد مبارک میں جنازہ وغیرہ کی اجازت کی کارروائی مکمل کر کےخاکسار کو گھر اطلاع دے دی تھی۔
والد صاحب کے ۱۹۷۲ءمیں ریٹائر ہونے کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ ان دنوں سرکاری ملازمین کو ریٹائر ہونے کے بعد پینشن کے لیے دودو تین تین سال دفتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے،کبھی یہ کاغذ کبھی وہ کاغذ،کبھی حساب میں یہ غلطی کبھی وہ غلطی اورپینشن کی یکمشت ملنےوالی رقم کا چار،پانچ فیصد کلرک بابوؤں کو دیے بغیرپینشن ملنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اور وہ ۴-۵؍فیصد جو بھی بنتا یقیناً اوپر تک حصہ رسدی تقسیم ہوتا ہو گا،ورنہ اگر افسر دیانت دار ہو تو کلرک بابوؤں کی کیا مجال جو ایسی کارروائی ڈالیں۔ اس صورتِ حال میں درمیانی وچولے اور سہولت کار بھی اپنی جگہ بنا لیتے ہیں،ایسے دو تین ٹیچرحضرات نے والد صاحب سے رابطہ کیا جو ریٹائر ہونے کے بعد تجربہ حاصل کر کے اس سہولت کاری کو اپنا ذریعہ آمد بنا چکے تھے۔ ایسے ایک رابطہ کے وقت میں بھی موجود تھا۔ اس نے والد صاحب کو رشوت دے کر پینشن کی منظوری کی کارروائی ۳-۴؍ماہ میں مکمل کروالینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ والد صاحب نے اُسے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں نے ساری عمر کبھی ایک پائی بھی رشوت نہیں دی،پینشن کے لیےاپنے مطلوبہ کاغذات تیار کر کے جمع کروانے کے لیےمیں نے تو صرف ایک دفعہ ڈسٹرکٹ آڈٹ آفس ساہیوال جانا ہے۔ اس کے بعدگھر بیٹھ کر راتوں کےتیر چلانے ہیں،میرا خدا میرا سارا کام گھر بیٹھے ہی کرے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عربی میں دعاؤں کے لیے سہام الیل (راتوں کے تیر) کا محاورہ استعمال فرمایا ہے۔ والد صاحب نے ۱۹۳۴ءمیں جامعہ احمدیہ قادیان سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا تھا اس لیے وہ اس محاورہ سے واقف تھےاور میں اُس وقت جامعہ کے آخری سال میں تھااس لیے مجھے بھی یہ علم تھا لیکن میرا نہیں خیال کہ والد صاحب کے اس جواب سے اُس سہولت کار کے کچھ پلّے پڑا ہو۔ بلکہ وہ سو چتا ہو گا کہ دیکھتا ہوں یہ کون سا تیر مارتے ہیں۔ والد صاحب نے راتوں کے تیر چلانے کے ساتھ تدبیر کے طور پر صرف ایک کام کیا کہ ہر ہفتہ ایک دو خط(ان دنوں خط کے لیے زیادہ تر پوسٹ کارڈ ہی استعمال ہوتے تھے)حوالہ ڈاک کر دیتے تھے۔ کبھی ڈسٹرکٹ ساہیوال کے آڈٹ آفس کے ہیڈ کے نام،کبھی صوبائی وزیرِتعلیم،کبھی وفاقی وزیرِ تعلیم،کبھی وزیرِاعلیٰ اور کبھی وزیر اعظم کے نام۔ والد صاحب کے رات کے تیروں نےوہ کام کردکھایا کہ ۶-۷؍ماہ میں ہی پینشن کی منظوری آ گئی اور ادائیگی کرنے والوں نے ساتھ منّت کر کے درخواست کی کہ بزرگو! اب یہ خطوط کا سلسلہ بند کر دیں۔ ہم پر رحم کریں۔ آپ کے خطوط نے تو ہمارا ناطقہ بند کر دیا ہے۔ دراصل والد صاحب کے لکھے ہوئے تمام خطوط ریمارکس کے ساتھ ریفر ہوکر آڈٹ آفس کے پاس ہی آ جاتے تھے۔ درخواست کرنے والے صرف خطوط کے اس سلسلہ کو جانتے تھے لیکن اسے تیر بہدف نسخہ بنانے والے رات کے تیروں سے نا واقف تھے۔
کاغذات کے مطابق والد صاحب کی پیدائش ۱۹۱۴ءکی ہے لیکن وہ بتایا کرتے تھے کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے وہ اس وقت بھاگنے دوڑنے کی عمر میں تھے جب دادا جان حضرت مولوی علی شیر صاحب زیرویؓ انہیں قادیان لے کر گئے۔ وہاں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی اور دادا جان کی درخواست پرحضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے والد صاحب کو گود میں لےکر دعا دی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی وفات ۱۹۱۴ءمیں ہوئی، اگر حضورؓ کی زندگی کے آخری مہینوں میں بھی کسی وقت قادیان گئے ہوں تو والد صاحب کی پیدائش اندازاً ۱۹۱۰ءکی بنتی ہے۔ ۱۹۲۳ءکے قریب میرےدادا جان اور ان کے چھوٹے بھائی محمد عیسیٰ زیروی نے زیرہ میں اپنے مکان بنائے۔ والد صاحب اس وقت ساتویں کلاس میں پڑھتے تھے۔ مکان کی تعمیر کی گہماگہمی اور بھاگ دوڑ میں والد صاحب اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کاہوم ورک نہ کر سکے۔ چھٹیوں کے بعد کام نہ کرنے کی شرمندگی اور کسی قدر سزا کے خوف کی وجہ سے والد صاحب نے سکول جانے سے انکار کر دیا۔ جب سب کے سمجھانے پر بھی کسی طرح آمادہ نہ ہوئے تو دادا جان والد صاحب کو قادیان مدرسہ احمدیہ میں داخل کروا آئے۔ والد صاحب نے ۱۹۳۴ء میں مولوی فاضل کیا۔ محترم سید احمد علی شاہ صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد کے کلاس فیلو تھے۔ اُس سال مولوی فاضل کرنے والے ۷-۸؍طلبہ نےجن میں والد صاحب اور مولوی سید احمد علی شاہ صاحب بھی شامل تھے۔حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں واقفِ زندگی کے طور پر اپنے آپ کو پیش کیا۔ صدر انجمن احمدیہ کی اس رپورٹ پر کہ بجٹ میں صرف ایک نئے واقفِ زندگی کے قبول کیے جانے کی گنجائش ہے ایک آدمی کا انتخاب کر کے باقی کو معذرت کر دی گئی۔ مکرم سید احمد علی شاہ صاحب اور والد صاحب دونوں معذرت کیے جانے والوں میں شامل تھے۔ منتخب کیے جانے والے دوست جن کا نام والد صاحب بتایا کرتے تھے مجھے اب بھول چکا ہے،وہ جلد فوت ہو گئے۔ ان کی وفات قادیان میں ہونے والے ایک اجتماعی وقارِعمل، جس میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ بنفسِ نفیس شامل ہوئے تھے،کے دوران دماغ کی رگ پھٹنے سے ہوئی تھی۔ محترم سید احمد علی شاہ صاحب اس وقت قادیان میں ہی الفضل میں پروف ریڈر وغیرہ کے طور پر کام کر رہے تھے،اس لیے فوت ہونے والے دوست کی خالی ہونے والی جگہ پر سید احمد علی شاہ صاحب کا وقف منظور کر لیا گیا۔ معذرت کیے جانے کے بعد خاکسار کے والد صاحب نےکچھ عرصہ قا ضی فیملی (محترم پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب)کے بچوں کی جو اس وقت یوپی میں تھے تدریس کے سلسلے میں یوپی میں گزارا۔ ان کی طرف سے الفضل میں بچوں کی تعلیم کے لیےکسی مولوی فاضل کی ضرورت کا اعلان شائع ہوا تھا۔ اس طرح کچھ عرصہ جماعت کی سندھ کی زمینوں پر اکاؤنٹ وغیرہ کا کام کیا۔ اسی زمانے میں محترم میاں عبدالرحیم احمد صاحب داماد حضرت مصلح موعودؓ (والد ڈاکٹر ظہیر احمد منصور صاحب) بھی زمینوں کی نگرانی کے سلسلے میں وہاں قیام پذیر تھے۔ والد صاحب کو اس زمانے سے ان سے تعارف تھا۔ میٹرک کے بعد جب خاکسار نے والدین کی خواہش پر وقف کیا اور انٹر ویو وغیرہ کے لیے ربوہ آیا تو والد صاحب میرے ساتھ ربوہ آئے۔ محترم میاں صاحب، جو ان دنوں وکیل التعلیم تھے،سے والد صاحب کی ملاقات ہوئی تو والد صاحب کو انہوں نے عصر کے بعد چائے پر گھر بلایا۔ خاکسار بھی والد صاحب کے ساتھ گیا۔ یوپی اور سندھ میں قیام کے دوران والد صاحب اپنے گھر زیرہ (تحصیل ہیڈکوارٹر ضلع فیروز پور) اور والدین سے بہت دور تھےلیکن اللہ تعا لیٰ نے فضل فرمایا اور جلد ہی انہیں اپنے علاقے میں ڈسٹرکٹ کونسل کے ہائی سکول میں بطور عربی ٹیچر ملازمت مل گئی۔ مکرم پیر اکبر علی صاحب ایڈووکیٹ فیروز پور جنہیں اللہ تعالیٰ نے جماعتی سطح پر اور سیاسی میدان میں بہت نمایاں رنگ میں خدمت کی توفیق دی،وہ اُس وقت ڈسڑکٹ کونسل فیروز پور کے وائس چیئر مین تھے چیئر مین ڈپٹی کمشنر خود ہوتا تھا۔ ضلع کے تمام پرائمری، مڈل اور ہائی سکول ڈسٹرکٹ کونسل کے ماتحت ہوتے تھے۔ والد صاحب بہت تشکّر اور تکریم کے جذبات سےان کا ذکر کیا کرتے تھے کہ اُن کے احسان سے والد صاحب کو یہ ملازمت ملی۔ دادا جان نے ۱۹۰۶ءمیں بیعت کر کے صحابہؓ کے مقدّس زمرے میں شامل ہونے کی سعادت پائی۔ اُن کے والداُس وقت فوت ہو چکے تھے۔ والدہ، چھوٹے بھائی چودھری محمد عیسیٰ زیروی اور بہت سےدیگر عزیزوں کو احمدیت کے حصارِ عافیت میں لانے کی سعادت پائی۔ دادی جو کٹر اہلِ حدیث فیملی سے تعلق رکھتی تھیں،کسی طور احمدیت قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئیں۔ آخر دادا جان نے دوسری شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اِسی دوران خاکسار کے والد صاحب کی۱۹۱۰ء اور ان کی بڑی بہن رحمت بی بی کی ۱۹۰۸ء کے قریب پیدائش ہوئی۔ ۱۹۲۶ءکے قریب دادا جان نےدوسری شادی کی تو پہلی بیوی (خاکسار کی دادی)نے دادا جان سے عملاً علیحدگی اختیار کر لی۔ باقاعدہ طلاق یا خلع وغیرہ نہیں ہوا تھا۔ دوسری شادی سے دادا جان کے چار بچے تھے۔ والد صاحب نے اپنے والد اور حقیقی والدہ کی کما حقہ خدمت کی توفیق پائی۔ والد صاحب جب مولوی فاضل کرنے کے بعد برسرِ روزگار ہوئے تو اپنی حقیقی والدہ،جو اپنے والدین /بھائیوں کے پاس چلی گئی تھیں،کواپنے والد صاحب کی اجازت سے زیرہ لے آئے اور دادا جان نے اِنہیں اپنے مکان کے ایک طرف الگ رہائش دے دی تھی۔ والد صاحب اپنی شادی کے بعد زیرہ میں ہی الگ مکان میں منتقل ہوئے تو ان کی والدہ بھی ان کے ساتھ وہاں منتقل ہو گئیں۔ دادا جان کی ۱۹۳۸ء کے قریب وفات ہو گئی۔ والد صاحب کی دوسری والدہ اپنے چار بچوں کے ساتھ دادا جان کے مکان میں ہی مقیم رہیں۔ اور والد صاحب نے ان کا نہ صرف خیال رکھا بلکہ باقاعدگی سے انہیں اخراجات کے لیے ہر ماہ معقول رقم بھی دیتے رہے۔ والد صاحب بطور واقفِ زندگی خدمتِ دین سے محروم رہے لیکن خاکسار کی زندگی انہوں نے میری پیدائش سے پہلے ہی وقف کر دی تھی اور خاکسار کو اللہ تعا لیٰ نے ۴۴؍سال خدمتِ دین کی توفیق دی۔ اِن کی زندگی میں ہی خاکسار کے ایک بیٹے نے بھی میٹرک کے بعد زندگی وقف کر کے جامعہ میں داخلہ لے لیا تھا۔ اور اب تقریباً ۲۲؍سال سے خدمتِ دین کی توفیق پا رہا ہے۔ خاکسار کے وقف میں والد صاحب کے ساتھ والدہ مرحومہ کی بھی شدید خوا ہش شامل تھی۔ ۱۹۷۲ء میں والد صاحب ریٹائر ہوئے۔ ۲۰؍نومبر ۱۹۷۲ء کومیری شادی ہوئی اور میری شادی کے دو اڑھائی ہفتے بعد میری والدہ کا انتقال ہوگیا۔ میں چونکہ والدین کااکلوتابیٹا تھا اِس لیے میرے سویڈن جانے کے بعد ۱۹۷۷ء میں جب میری فیملی ربوہ منتقل ہوئی تو والدصاحب بھی ساتھ ہی ربوہ آ گئے۔ اور مجھے اور میری اہلیہ کو والد صاحب کی خدمت کا موقع ملا۔ ۱۹۷۷ء سے ۱۹۹۹ء وفات تک ۲۲؍سال والدصاحب نے ربوہ میں جماعتی خدمت کی توفیق پائی۔ نظارت تعلیم القرآن ووقفِ عار ضی کے ما تحت مسجد مبارک میں تدریسِ قرآن، روزنامہ الفضل میں بطور پروف ریڈر، مجلس انصاراللہ مقامی ربوہ کے دفتر میں مکرم مولوی فضل الٰہی انوری صاحب اور مکرم چودھری اللہ بخش صادق صاحب کے ساتھ دفتری امور سر انجام دینے کے علاوہ ربوہ کے بیسیوں گھروں میں قرآنِ کریم ناظرہ اور ترجمہ پڑھایا۔ بہت سے بڑی عمر کے افراد مردو زن نے والد صاحب سے ترجمہ پڑھا۔ یہاں کینیڈا میں مجھے ایک دوست ملے۔ تعارف پر اُنہوں نے بتایا کہ آپ کے والدصاحب ہم میاں بیوی کو تہجد کے بعد اور نمازِ فجر سے پہلے ہمارے گھر آکرقرآنِ کریم کا ترجمہ پڑھایا کرتے تھے۔ میں نے اور میری بیوی نے قرآنِ کریم کا ترجمہ پڑھنے کا ارادہ کیا تو آپ کے والد صاحب سے رابطہ کیا اُنہوں نے بتایا کہ وہ نمازِ فجر کے بعد سے تقریباً مغرب تک مصروف ہیں،بالکل کوئی وقت نہیں۔ ہم میاں بیوی نے مشورہ کر کےانہیں آمادہ کیا کہ وہ تہجد کے بعد مسجد میں نماز با جماعت شروع ہونے تک ہمیں وقت دے دیں۔ اور وہ بہت باقاعدگی سے وقتِ مقررہ پر آکر ہمیں پڑھاتے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ انہی دنوں فجر کی اذان سے قبل یادگار اماں جان والی سڑک پر ان کے گھردارالصدر جاتے ہوئے دو دفعہ والد صاحب کے ساتھ واردات ہوئی۔ دونوں دفعہ ایک کار ان کے قریب آ کر رکی اور اُنہیں پہلےتو نہایت ادب سے ان کی منزل تک پہنچانے کی پیشکش کی۔ والد صاحب کی پُر اصرار معذرت پر انہیں دھکا دے کر کار میں بٹھا لیا گیااور جیب وغیرہ کی تلاشی لے کر کچھ آگے جاکر اتار دیا گیا۔ والد صاحب اپنی جیب میں نہایت معمولی رقم رکھتے تھےاِس لیے معمولی نقصان کے سوا بچت رہی۔ لیکن والد صاحب نے یہ سلسلہ بلاخوف جاری رکھا اور مجھے بہت بعد میں اس کے متعلق بتایا۔ اُس دوست کو بھی اِس کا کچھ علم نہیں تھا۔
والد صاحب نے بہت سادہ زندگی گزاری۔ طبیعت، عادات واطوار،لباس اور روز مرہ امور میں بھی سادگی نمایاں تھی۔ خوراک میں بھی بہت سادگی،میٹھا بہت پسند تھا۔ کسی بھی قسم کے لذیذ سے لذ یذ سالن یا گوشت وغیرہ کی نسبت اگر میٹھی چیز مل جاتی تو شوق سے کھاتےبلکہ بھنا ہوا گوشت تک چھوڑ کر کھیر سے روٹی کھانا پسند کرتے تھے۔ آم اورخربوزہ سے روٹی شوق سے کھاتے۔ آخری دن تک چائے کے چھوٹے کپ میں کم از کم چار پانچ چمچ چینی ڈالتے اور اسی نسبت سے گرمیوں میں سکنجبین وغیرہ میں میٹھا پسند کرتے۔ اِس لیے اپنے چند گھروں کے سوا جو ان کی اِس عادت سےواقف تھے، کسی بھی گھر سے چائے وغیرہ پینے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ خاکسار نے اپنے بچپن کے سالوں میں انہیں سفید کے علاوہ ہلکے رنگوں کی قمیض پہنے دیکھا ہے لیکن اس کے بعد اُنہوں نے ہمیشہ سفید کپڑے ہی پہنے۔ گھر سے باہر نکلتے تو ہمیشہ پگڑی سر پر ہوتی۔ ٹوپی پہنے میں نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی پا جامہ پہنا۔ سفید قمیض کے ساتھ سفید چادر (تہبند)باندھتےاور شلوار بھی انتہائی مجبوری میں پہنتے۔ سکول ٹیچر تھے۔ تیسری کلاس تک میں اپنے گاؤں ۲۵۵۔ای۔بی کےپرائمری سکول میں پڑھا۔ چوتھی کلاس سے ساتویں کلاس تک والد صاحب کے ساتھ تقریباً اڑھائی کلومیٹر کے فاصلہ پر ڈسٹرکٹ کونسل ہائی سکول چک نمبر ۲۶۹۔ای۔ بی جاتا رہا۔ ابتدائی دو سال والد صاحب کے ساتھ ہی ان کے سائیکل پر جاتا۔ چھٹی کلاس سے والد صاحب نے مجھے الگ سائیکل لے دی تھی۔ ساتویں کلاس کی ابتدا میں ہماری رہائش چک نمبر ۲۵۵۔ای۔بی جہاں ہمارا ایک ہی گھر احمدیوں کاتھا سے ۲۴۵۔ا ی۔ بی جو گگومنڈی کے قریب تھا اور وہاں ۱۵-۲۰؍گھروں پر مشتمل ضلع ساہیوال کی بڑی دیہاتی جماعت تھی منتقل ہو گئی تھی۔ تقریباً دو سال یعنی ساتویں اور آٹھویں کلاس کے دوران خاکسار والد صاحب کے ساتھ اپنے سائیکل پر تقریباً ۵-۶؍کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے سکول جاتاتھا۔ والد صاحب کو ہیڈماسٹر کے آفس کے ملحقہ الگ آفس ملا ہوا تھا۔ ان دنوں ڈسٹرکٹ کونسل کے ہائی سکولوں میں آفس کلرک یا اکاؤنٹ کے کام کے لیے کوئی الگ سٹاف نہیں ہوتا تھا۔ والد صاحب اپنے تدریس کے پیریڈز کےعلاوہ اکاؤنٹ وغیرہ کا کام بھی کرتے تھے۔ والد صاحب گھر سے چادر پہن کر ہی سکول جاتے۔ ان کے آفس میں ان کی شلوار لٹک رہی ہوتی تھی۔ سکول پہنچ کر وہ پہن لیتے اور سکول ٹائم ختم ہونے کے بعد تیزی سے اپنے دفتر پہنچ کر دوبارہ تہبند باندھ لیتے۔ ڈیڑھ دو ہفتوں کے بعد تھیلے میں ڈال کر شلوار گھر لے جاتے۔ والدہ دھو کر اور استری کر کے تھیلے میں ڈال دیتیں اور والد صاحب سکول آ کر پہن لیتے۔ غالباً ۱۹۴۹ءکے شروع میں والد صاحب کو سکول میں بطور عربی ٹیچر ملازمت ملی اور ۱۹۷۲ء میں اسی سکول سے ریٹائر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے سکول میں بہت عزت دی تھی۔ چھٹی سے دسویں تک ہر کلاس کے تین تین چار چار سیکشن تھے۔ ہر سیکشن میں ۳۵-۴۰؍طلبہ ہوتے تھےہر سیکشن کا ایک نگران ٹیچر ہوتا تھا۔ ۳۵-۴۰؍اساتذہ تھے۔ تمام نگران ٹیچرز اپنی اپنی کلاس کے طلبہ سے ہر ماہ مقررہ فیس وصول کر کے والد صاحب کو جمع کرواتے تھے۔ اور والد صاحب ڈسٹرکٹ کونسل کی طرف سے ملنے والی گرانٹ کو شامل کر کے اساتذہ کو تنخواہیں وغیرہ دیتےاور سکول کے تمام دیگر اخراجات کا حساب وغیرہ تیار کرتےحتٰی کہ ڈسٹرکٹ کونسل کی طرف سے ملنے والے کھیلوں کے سامان کی آمد اور تقسیم کا ریکارڈ بھی آپ کے پاس ہی ہوتا تھا۔ سکول ٹائم کے بعد والد صاحب عموماً شام تک سکول میں رکتے اور یہ سب امور سر انجام دیتے تھے۔ ان دفتری امور کی وجہ سےاکیلے بھی اور ہیڈ ماسٹر کے ساتھ بھی آپ کو ہر ماہ ایک آدھ دفعہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ساہیوال جانا پڑتا تھا۔ آخری سات آٹھ سال آپ کا ایک شاگرد جو ابتدائی سالوں میں اسی سکول سے میٹرک کر کے گیا تھا،ہیڈ ماسٹر بن کر آ گیا تھا۔ اس لیےوہ آپ سے انتہائی احترام سے پیش آتا اور آپ پر بہت اعتماد کرتا تھا۔
۴-۵؍کلومیٹر کے ایریا کے اندرچار دیہات میں بسنے والے ۷-۸؍احمدی گھرانوں پر مشتمل ایک جماعت تھی۔ ۲۵۵۔ای-بی گاؤں میں صرف ہمارا گھر احمدیوں کا تھا۔ ۲۵۷۔ای-بی میں تین بھائی اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ رہتے تھے۔ انہیں میں سے ایک بھائی مکرم رانا غلام قادر صاحب جو بعد میں عارف والہ نقل مکانی کر گئے تھے۔ اِن کے بیٹے مکرم رانا محمود احمد صاحب مربی سلسلہ خدمتِ دین کی توفیق پا رہے ہیں۔ ۲۶۹۔ای۔بی، جہاں ہائی سکول تھا اور ارد گرد کے ۳۵-۴۰؍دیہات کے لڑکے اسی سکول میں پڑھتے تھے،میں تین گھر احمدیوں کے تھے۔ وہاں کے ایک بزرگ ریٹائرڈ پٹواری مکرم جلال الدین صاحب جو راجپوت فیملی سے تعلق رکھتے تھے، جماعت کے صدر تھے۔ مکرم رانا نیاز صاحب، جو بعد میں ربوہ منتقل ہو گئے تھے،بھی اسی گاؤں کے رہنے والے تھے۔ ۲۶۷۔ای ۔بی میں خاکسار کے استاد مکرم ماسٹر علی محمد صاحب جو ۲۶۹۔ای۔بی میں ہی پڑھاتے تھے،انہوں نے خود حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی،سادہ مزاج اور دعا گو بزرگ تھے،پہلی اہلیہ فوت ہو گئی تھیں،دوسری اہلیہ احمدی نہیں تھیں۔ جس وجہ سے گھریلو زندگی کسی قدرمتاثرتھی۔ پہلی اہلیہ سے فدا حسین صاحب شادی کے بعد فیصل آباد منتقل ہو گئے تھے۔ والد صاحب سیکر ٹری مال اور امام الصلوٰۃ تھے۔ نمازِظہر عموماً سکول میں پڑھتے تھے۔ والد صاحب، مکرم ماسٹر علی محمد صاحب اور ان کے بیٹے فدا حسین صاحب اور خاکسار شامل ہوتے۔ مکرم جلال الدین صاحب کا ایک نواسہ غالباً اکرم نام تھا اور میرا کلاس فیلو تھا، وہ بھی شامل ہوتا۔ مکرم جلال الدین صاحب کابیٹا کوئی نہیں تھا۔ ایک داماد جن کا نام چراغ ذہن میں آتا ہے وہ محکمہ تعلیم میں غالباً ڈپٹی انسپکٹر آف سکولز تھے، اکرم ان کا بیٹا تھاجو اپنے نانا مکرم جلال الدین صاحب کے گھر رہتا تھا۔ ۲۶۹۔ای –بی اور ۲۶۷۔ای-بی سےتقریباً اڑھائی تین کلومیٹر کے یکساں فاصلے پر ۲۸۵۔ای-بی میں دس پندرہ راجپوت فیملی کے احمدی گھرانوں پر مشتمل ایک الگ جماعت تھی۔ وہاں مسجد بھی تھی اور پانچوں نمازیں اور جمعہ ہوتا تھا۔ اِن تینوں دیہات کے درمیان میں ایک احمدی کی زرعی زمین میں ایک بہت بڑا ونڑھ(پیلو)کا درخت تھا۔ گرمیوں میں اس درخت کے نیچے اور سردیوں میں ساتھ کھیتوں میں دریاں اور کھیس وغیرہ بچھا کر دونوں جماعتوں کے احمدی مرد احباب عید کی نماز ادا کیا کرتے تھے۔ نمازِ عید والدصاحب پڑھایا کرتے تھے۔ ۲۸۵۔ای-بی کی جماعت کے صدر مکرم فتح محمد صاحب نہایت دھیمے مزاج کے دعا گو بزرگ تھے۔ ان کے تین چار بیٹے بھی فیملیز سمیت یہیں رہتے تھے۔ اِن کے ایک بیٹے مکرم رانا ناصر صاحب بعد میں گگو سکونت پذیر ہو گئے تھے۔ وہ ہومیو پیتھی کی پریکٹس کرتے تھے۔ بعد میں لندن چلے گئے تھے۔ ۱۹۵۳ء کے فسادات میں ہمارے گاؤں ۲۵۵۔ای-بی میں چند دنوں کے لیے بائیکاٹ ہوا۔ وہاں ایک با اثر اور معزز غیر احمدی دوست تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی جن کا نام اکرم تھا،۲۶۹۔ای-بی ہائی سکول میں پڑھاتے تھے۔ اس معزز دوست نے بڑی جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سقہ (ماشکی)کو کہا کہ پانی کی مشک بھرے اور اسے ساتھ لے کرہمارے گھر آئے۔ اور پانی گھڑوں وغیرہ میں ڈلوایا۔ اس سے بائیکاٹ ختم ہو گیا۔ اِس کے علاوہ کوئی قابل ذکر تکلیف نہیں ہوئی۔ ۱۹۵۳ءکے فسادات کی ایک اَور قابل ذکر بات یہ کہ حالات نارمل ہو جانے کے بعد گاؤں کے ایک آدمی نے خود والد صاحب کو بتایا کہ وہ فسادات کے دنوں میں تین دن سم چڑھی ہوئی ڈانگ (لمبا سونٹا جس کے ایک سرے پر لوہے کا لمبا سا خول چڑھا لیتے ہیں تا کہ حملہ کی صورت میں کاری ضرب لگائی جا سکے)لے کر صبح کے وقت سکول کے راستے میں ان کےقتل کے ارادہ سے جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھتا رہا لیکن تینوں دن ایسی صورت پیدا ہو جاتی رہی کہ حملےکی جرأت نہ کرسکا۔ والد صاحب ہر اتوار کو سودا سلف لینے کے لیے سائیکل پر بورے والا جاتے تھے۔ ۲۵۵۔ای-بی سے بورے والا چار پانچ کلومیٹر اور ۲۴۵۔ای-بی سے گیارہ بارہ کلو میٹر تھا۔ اس کے علاوہ والد صاحب نے سائیکل پر لمبے لمبے سفر بھی کیے۔ چچا جان چودھری محمد یعقوب صاحب(وارنٹ آفیسر ریٹائرڈ)نے بتایا کہ ۲۶۹۔ای-بی کے ہائی سکول میں ملازمت ملنے کے کچھ عرصہ بعد سائیکل خریدنے کے لیے لاہور گئے۔ وہاں سے ہرکولیس سائیکل خریدا اور تقریباً ۱۲۵؍کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے اُسی سائیکل پر گاؤں آئے۔ اسی طرح سو، ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر رہنے والے عزیزوں کو ملنے کے لیے سائیکل پر ہی چلے جایا کرتے تھے۔ ایک ہی رفتار سے سائیکل چلاتے،علی الصبح روانہ ہو کر مغرب تک منزل پر پہنچ جاتے تھے۔ ان دنوں پاکستان کی سڑکوں پر ٹریفک کے رش اور بے ہنگم پن کا یہ عالم نہ تھا۔ سائیکل چلاتے ہوئے کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ ربّ کل شیءٍ خادمک اور سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم اللّٰھم صل علٰی محمدٍ وآل محمد کے کلمات ذرا اونچی آواز میں وردِ زبان رہتے۔ والد صاحب نمازیں ہمیشہ باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرتے۔ جماعت کی برکات سمیٹنے کی نیت سے ہی رہائش ۲۵۵۔ای-بی سے ۲۴۵۔ای-بی منتقل کی تھی۔۱۹۷۲ءمیں ریٹائرمنٹ کے بعد تو گاؤں کی احمدیہ مسجد میں پانچوں ٹائم اوّل وقت پہنچ کر اذان دینا اور پھر نماز با جماعت ادا کرنااپنا فرض سمجھ لیا تھا۔ دیہات میں ان دنوں نماز کے اوقات تو مقرر نہیں ہوتے تھے۔ جب متوقع حاضری پوری ہو گئی، نماز ادا کر لی۔ والد صاحب امام الصلوٰۃ تھے۔ ظہراور عصر کے وقت تو آدھ آدھ گھنٹہ انتظار کرنا ہوتا۔ والد صاحب نے ساری عمر گھڑی استعمال نہیں کی۔ گھر میں کلاک تھا۔ اہلِ حدیث کی مسجد میں اوّل وقت پر اذان ہوتی اور والد صاحب ان کی اذان شروع ہونے سے قبل مسجد پہنچے ہوتےاور ان کی اذان کے ساتھ ہی ہماری مسجد سے اذان کی آواز بلند ہو جاتی۔ ربوہ نقل مکانی کے بعد پانچوں نمازیں مسجد مبارک میں ادا کرتے۔ اور اذان کے ساتھ ہی مسجد پہنچ کر محراب کے پیچھے تھوڑا سا بائیں طرف پہلی صف میں بیٹھتے۔ فجر کی اذان ہونے سے پہلےاحاطہ مسجد مبارک کے گیٹ کے باہر کھڑے ہوتے اور اذان کے ساتھ جب گیٹ کھلتا تو اکثر و بیشتر سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوتے۔ میں نے اِنہیں اپنے محلہ کوارٹر تحریکِ جدید کی مسجد میں ایک دفعہ بھی نماز ادا کرتے نہیں دیکھا۔ قرآنِ کریم پڑھانے کے لیے مختلف گھروں میں جاتے تھے۔ اِس دوران جہاں ہوتے قریبی مسجد میں نماز ادا کرلیتے لیکن گھر ہونے کی صورت میں ہمیشہ مسجد مبارک جاتے۔ جب سے میں نےہوش سنبھالا اِنہیں فجر کی اذان سے کم از کم دو گھنٹے پہلے اٹھ کرسب سے پہلے مسواک اور پھر وضو کرکے نمازِتہجد ادا کرتے دیکھا۔ ستاروں کو دیکھ کر ٹائم کا اندازہ کرنے کا اس قدر تجربہ تھا کہ ہمیشہ وقت پر اٹھ کر نمازِ تہجدادا کرتے اور پھر وقت پر مسجد پہنچ جاتے۔ گرمیوں میں باہر سوتے اور سردیوں میں بر آمدے میں، باہر کی طرف سر ہوتا اور رضائی سے سر نکال کر تارے دیکھ کر وقت کا اندازہ کر کے اٹھ جاتے،الارم کلاک وغیرہ استعمال کرنے پر آمادہ نہ ہوتے۔ اور اصرار کرکے برآمدے میں ہی سوتے۔ طبیعت میں سادگی تھی۔ دنیا داری کی چالاکیوں سے بالکل پاک بلکہ نا واقف تھے۔ سبزی اور دیگر سودا جو دکاندار ڈال دیتا تھااٹھا کر لے آتے۔ والدہ کو ہمیشہ شکایت رہتی لیکن جواب یہی ہوتاکہ میں نے دکاندار کو تاکید کی تھی کہ صاف ستھری چیز یا تازہ سبزی دینا۔ ربوہ میں رہائش کے دنوں کی بات ہے، خانیوال کے قریب R- ۱۰/۱۷۰میں کچھ زرعی زمین تھی اور وہاں ہمارے کافی سارے عزیز رشتہ دار اور برادری ہے۔ وہاں سے کوئی عزیز آیا تو اس سے سرسری ذکر کر دیا کہ سوچ رہا ہوں زمین بیچ دوں۔ فائنل فیصلہ ابھی نہیں کیا تھا۔ چند دنوں بعد وہاں سے ایک عزیز آیا اور اس نے وہاں کی زمینوں کا کوئی نرخ بتا کر زمین کا سودا کر لیااورگاؤں جاکر بتادیا کہ میں نے یہ زمین خرید لی ہے۔ خاکسار کے خالو اس وقت وہ زمین کاشت کر رہے تھے۔ انہیں پتا چلا تو وہ ربوہ آئے اور والد صاحب کو بتایا کہ آپ نے جس نرخ پر زمین کا سودا کیا ہے اس وقت زمین کا نرخ اس سے دگنا ہو چکا ہے۔ اور دگنے نرخ پر چنددن قبل ہی اس زمین کے قریب کی زمین بکی ہے۔ آپ سودا کرنے سے پہلے نرخ تو معلوم کر لیتے۔ پھر زمین میں کاشت کر رہا تھا میرا حق زیادہ تھا۔ مجھے بتاتے میں بھی خریدنے کا خواہش مند تھا۔ خالو نے سودا فسخ کرنے پر زور دیالیکن والد صاحب نے یہ کہہ کر انکار کر دیاکہ اب میں سودا کر چکا ہوں۔ اس نے غلط بیانی کی اس کا گناہ اس پر۔ وہ خدا کو جوابدہ ہے۔ جب میں نے اس کی بات پر اعتماد کر کے سودا کر دیا تو اب میں چند روپوں کی خاطر اپنی زبان سے پھر نہیں سکتا۔ والد صاحب نے ساری عمر قرض نہیں لیا۔ جب جامعہ میں پڑھتے تھے تو اس وقت شاید اس خیال سے کہ والدین پر بوجھ نہ بنوں صدر انجمن سے قرض لیا تھا۔ جو ملازمت ملتےہی سب سے پہلے ادا کیا،اس کے بعد کبھی قرض نہیں لیا۔ خاکسار کے جامعہ کے استاد محترم محمد احمد ثاقب صاحب نے بتایا کہ ہم تمہارے والد کوسیٹھ عبداللہ کہا کرتے تھے۔ (مکرم سیٹھ عبداللہ الٰہ دین دکن والے جن کا نام ان دنوں الفضل میں بہت چھپتا تھا ان کے نام پر)۔ اور ہمیں جب بھی چھوٹی موٹی ضرورت ہوتی ہم آپ کے والد صاحب جو ہم سے سینئر تھے سے قرض لیا کرتے تھےاور ان کے پاس پیسے ہوتے بھی تھے۔
مکرم محمد یوسف زیروی صاحب درویش قادیان زیرہ کے قریبی گاؤں ملسیاںکے رہنے والے تھے۔ یہ گاؤں ان کے دادا جو مخلص اور صاحبِ اثر و رسوخ اور دینی علم رکھنے والے احمدی بزرگ تھےنے بسایا تھا۔ ۳؍سال کی عمر میں محمد یوسف صاحب کی والدہ،بعد میں دادا،دادی اور ۶؍سال کی عمر میں والد بھی انتقال کر گئے۔ چچا وغیرہ جو غیر احمدی تھے انہوں نے گھر اور زمینوں وغیرہ پر قبضہ کر لیااور یوں یہ بے سہارا،یتیم اورمجبور ہو کرزیرہ آگئے اور ایک غیر احمدی مدرسہ میں داخلہ لے کر وہیں رہنے لگے۔ ۱۹۲۸ءمیں خاکسار کے والد صاحب جامعہ کی چھٹیوں میں جب اپنے گھر زیرہ گئے تو مکرم محمد یوسف صاحب کو واپسی پر قادیان لے گئے۔ انہیں وہیں سکول میں داخل کروا دیا۔تین ماہ اپنے پاس رکھا پھر پہلے حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ کے اور بعد میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ کے گھر رکھوایا۔ اس طرح ان کی رہائش کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ محمد یوسف صاحب قادیان کے بابرکت اور پاکیزہ ماحول میں پروان چڑھےاور تعلیم حاصل کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے درویشی کی زندگی کا انتخاب کیا۔ ۱۹۵۶ء میں جب قادیان کے حالات کسی حد تک نارمل ہوگئے اور درویشوں کے لیے نسبتاً آسانیاں پیدا ہو گئیں توحضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے تحریک فرمائی کہ ہندوستان میں پھیل کر بدھ بھکشوؤں کی طرز پر غیر مسلموں کو حکمت سے اسلام کاپیغام پہنچایا جائے۔ اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے باقی زندگی انہوں نے بطور’’مسلم بھکشودرویش‘‘خدمتِ دین میں گزاری۔ دورِدرویشی اور بھکشوؤں کی طرز پر تبلیغی مہمات کا ایمان افروز تذکرہ انہوں نے اپنی کتاب ’’سوانح عمری مسلم بھکشو‘‘ میں کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے والد صاحب کا ذکر بہت محبت اور احترام اور اپنے محسن کے طور پر کیا ہے۔ والد صاحب کی حقیقی ہمشیرہ رحمت بی بی ملسیاں میں یوسف زیروی صاحب کے ماموں مکرم چودھری عبد الغنی صاحب سے بیاہی ہوئی تھیں۔ اس نسبت سے انہوں نے والد صاحب کو اپنا ماموں لکھا ہے اور تحریر کیا ہے کہ ماموں مجھے روزانہ خرچ کے لیے چار پیسے دیا کرتے تھے۔ والدصاحب اپنے قادیان کے زمانہ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے تین بزرگانِ سلسلہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ، حضرت مولوی عبد الرحمان جٹ صاحب رضی اللہ عنہ اورحضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ کا ذکر بہت محبت اور احترام سے کیا کرتے تھے۔ اوّل الذکردونوں بزرگ جامعہ میں آپ کے استاد بھی تھے۔ والد صاحب تعلیم میں اپنی کلاس میں نمایاں طلبہ میں سے تھے اور جلسوں اور دیگر جماعتی اجتماعات اور پرو گراموں میں ان بزرگوں کی نگرانی میں ڈیوٹیاں دینے میں بھی پیش پیش ہوتے تھے۔ مذ کورہ کتاب سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ والد صاحب ان بزرگوں کی شفقتوں کے مورد تھے۔ خرچ کے معاملے میں والد صاحب کی طبیعت میں جُز رسی ضرور تھی لیکن کنجوسی ہرگز نہیں تھی۔ ہر قسم کی آمد اور خرچ کی ہوئی ہر پائی لکھنے کی عادت تھی۔ اے فورسائز کے پندرہ بیس لکیر دار کاغذ لے کر اس کی چار تہیں کر کے سی کر کاپی بنا لیتے۔ کالموں میں بہت باریک لیکن صاف اور خوشخط، ہر ماہ کا حساب ساتھ کےساتھ لکھتے جاتے۔ ۱۹۵۰ءکے حساب کی کاپی بھی میں نے دیکھی ہے۔
میرا خیال ہے میں اس وقت جامعہ کی ابتدائی کلاسوں میں تھا اور چھٹیوں میں گاؤں آیا ہوا تھا۔ والد صاحب اور والدہ دونوں نے بیٹھ کر فیصلہ کیاکہ آئندہ کوشش کر کے نمازیں وقت پر الگ الگ پڑھنی ہیں۔ تہجد با قاعدہ ادا کرنی ہے۔ اور اسی وقت دونوں نے اکٹھے وصیت کی اور ساتھ فیصلہ کیا کہ ریٹائر ہونے کے بعدپینشن اور گریجویٹی وغیرہ کے اکٹھے پیسے ملنے پروالد صاحب کے چچا، جو والدہ محترمہ کے پھوپھا بھی تھے،مکرم چودھری محمد عیسٰی زیروی آف راجاجنگ تینوں حج پر جائیں گے۔ لیکن تقدیر کے فیصلے مختلف تھے۔ والد صاحب ۱۹۷۲ءمیں ریٹائر ہوئے۔ خاکسار اس وقت جامعہ کے آخری سال میں تھا۔ والدہ صاحبہ شدید بیمار تھیں۔ پرنسپل صاحب کو درخواست کر کے میری شادی کی اجازت لی کہ میں شدید بیمار ہوں اور میرا ایک ہی بیٹا ہے اور میں اس کی شادی کرنا چاہتی ہوں۔ ۲۰؍نومبر ۱۹۷۲ء کو میری شادی ہوئی۔ والدہ اپنی تکلیف کی شدت کی وجہ سے بارات کے ساتھ بھی نہ جا سکیں اور ۸؍دسمبر ۱۹۷۲ء کو اپنے خالق و مالک کے حضور حاضر ہو گئیں۔ والد صاحب کے چچا مکرم چودھری محمد عیسیٰ زیروی صاحب کو بھی اسی سال ۲۹؍دسمبر ۱۹۷۲ءکو بلاوا آگیااور دونوں چند قبروں کے فاصلہ سے بہشتی مقبرہ ربوہ میں آسودۂ خاک ہیں۔ خاکسار کو پچھلے سال عمرہ کی سعادت ملی۔ ارادہ تھا کہ تینوں کے لیے الگ الگ عمرہ کروں گا۔ لیکن پہلے عمرہ نے ہی احساس دلا دیا کہ اگر ایسا کرنا تھا تو کچھ سال پہلے آتے۔ کرایہ کا آدمی اور اس کی وہیل چیئر پر عمرہ کرنے کے لیے دل آمادہ نہ ہوا۔ بہرصورت تینوں کے لیے ایک عمرہ کرنے کی توفیق پائی۔ اللہ تعالیٰ نے تینوں کے لیے دل کھول کر دعا کرنے کی توفیق دی۔ مالی قربانی اور چندہ جات کی ادائیگی میں صفِ اوّل میں تھے۔ اصل آمد پر لازمی چندہ جات اور طوعی تحریکات میں بھی حیثیت سے بڑھ کر وعدہ کرتےاور اوّل وقت میں ادئیگی کا اہتمام کرتے۔ سیکر ٹری مال کو کسی بھی قسم کے چندہ کے لیے توجہ دلانے کا کبھی موقع نہیں دیا۔ مطالعہ کے شوقین تھے۔ آخری عمر تک الفضل اورسیاسی اخبا ر کا مطالعہ کرتے۔ الفضل تو اگر کوئی رہ جاتا تو دس دن بعد بھی یاد ہوتا تلاش کر وا کر پڑھتے۔ قرآنِ کریم کے ترجمہ اور مضامین پر عبورتھا۔ مشکل سےمشکل عربی عبارات، احادیث یا حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی عربی کتب کے مشکل حصے میں نے اُن سے حل کروائے۔ اردو ادب سے لگاؤ تھا۔ ان کی اپنی تحریر میں بھی ربط، روانی اور محاورات کا بر وقت استعمال ادبی چاشنی پیدا کر دیتا تھا۔ انہوں نے کبھی کوئی مضمون تو نہیں لکھا تھا لیکن ان کے بعض مواقع کے چار چار پانچ پانچ صفحات کےلکھے ہوئے خطوط اوربعض آفس آرڈر جو ہیڈماسٹرکےدستخطوں سےجاری ہوتےلیکن لکھتے آپ تھے مجھے یاد ہیں۔ خاکسار کی آمد سے تین گنا سے زیادہ والد صاحب کی ماہوار آمد تھی۔ گھر کے اخراجات کے لیے ہر ماہ مجھے معقول رقم دیتےاور اس کے علاوہ گندم، چاول، چینی،لہسن اور پیاز پانچوں چیزیں ان کے متعلقہ سیزن میں پورے سال کی ضرورت کےمطابق خریدنے کے لیے الگ رقم دیتے تھے۔ اور اس بات کی نگرانی کرتے کہ میں سال بھر کی ضرورت کے لیے یہ چیزیں خرید کر سٹور کرلوں۔ بیٹی نے بتایا کہ ایک دن گرمیوں میں موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ ایسی شدید بارش میں حسب معمول ہمارے کوارٹر کے صحن میں پانی بھرنا شروع ہو گیا۔ ہمارا کوارٹرڈھلوان میں تھا۔ اور اس گلی کےباقی تمام کوارٹروں کا بارش کا پانی اسی طرف کو آتا تھا۔ معمول کی بارش میں تو پانی ساتھ کے ساتھ نکلتا جاتا تھا لیکن شدید موسلا دھار بارش کی صورت میں پانی کے نکاس کا انتظام ناقص ہونے کی وجہ سے ہمارے چار پانچ کوارٹروں کے صحنوں میں اور ارد گردڈیڑھ ڈیڑھ دودو فٹ پانی اکٹھا ہو جاتا تھااور بارش رکنے کے بعد آہستہ آہستہ صحن کو نہایت گند اچھوڑتا ہوا ختم ہوتا تھا۔ اس دن بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اور صحن میں پانی کی سطح بلند ہوتی ہوئی بر آمدے کے برابر تک پہنچ رہی تھی اور اب کسی بھی وقت پانی برآمدے میں داخل ہو سکتا تھا۔ کمروں،کچن اور سٹور کے فرش کی سطح بھی بر آمدے کے برابر ہی تھی۔ بر آمدے میں تو جو چیزیں پڑی تھیں جلدی سے اٹھا کر چار پائیوں وغیرہ پر رکھ دیں لیکن کمروں، کچن اور سٹور میں فرش پرجو بھاری سامان پڑا تھا اس کو اٹھا کر بلندی پر رکھنا نا ممکن تھا۔ بیٹی کہتی ہے کہ دادا ابو برآمدے میں اپنی چارپائی پر بیٹھے تھے اور ساتھ کی چار پائی پر میں بیٹھی تھی۔ داداابو نے مجھے کہا کہ آؤ بیٹی خدا سے اس مشکل کے حل ہونے کے لیے دعا کریں۔ میں اونچی آواز میں دعا کرتا ہوں تم بھی میرے ساتھ دہراؤ۔ دادا ابو نے اللّٰھم حَوالَینا ولاعَلَیناکی دعا پڑھنی شروع کی۔ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور چند منٹ بعد ہی بارش رک گئی اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے پریشانی سے بچا لیا۔ والد صاحب محترم کم گو ضرور تھے لیکن طبیعت میں خشکی ہر گز نہیں تھی۔ آگے بڑھ کر اپنے آپ کو کام کے لیے پیش کرنے یا کام اپنے ذمہ لینے والی طبیعت ہر گز نہیں تھی۔ لیکن اگر کسی نے کوئی کام کہہ دیا تو پوری توجہ اور ذمہ داری سے وہ کام کرتے۔ چچا جان چودھری محمد یعقوب صاحب کویت چلے گئے۔ چچی جان اور ان کے بچے ربوہ میں تھے۔ ان کے سوداسلف یا دیگر کاموں کے سلسلہ میں روزانہ چکر لگاتے اور بعض اوقات تو دو دوتین تین چکر بھی لگانے پڑتے۔ اپنے لیے کسی کو تکلیف دینا قطعاً پسند نہ کرتے۔ اپنے چچا جان چودھری محمد عیسیٰ زیروی صاحب کو ملنے راجا جنگ گئے۔ ٹرین رات ایک بجے کے قریب راجاجنگ پہنچی۔ سخت سردیوں کی رات تھی۔ راجا جنگ قصبہ کے اندر ہی بلکہ درمیان میں ان کا گھر تھا۔ صرف اس خیال سے سٹیشن پر بیٹھے رہے کہ میں تو بے آرام ہوں ہی آدھی رات کو جا کر ان کو بے آرام کیوں کروں۔ اذان کے قریب گھر گئے۔ میں نے انہیں کبھی یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ میں آج تھک گیا ہوں۔ والدہ یا بچوں کو کبھی دبانے وغیرہ کے لیے نہیں کہا۔ تین چار ہفتوں کی آخری بیماری کے سوا کبھی قابلِ ذکربیماری نہیں دیکھی۔ ہرنیا کی تکلیف آخری ۱۰-۱۲؍سال میں ضرور تکلیف دیتی رہی لیکن کسی ڈاکٹر کو دکھانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ آپریشن کروانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ مہینے میں ایک دو بار تین چار گھنٹوں کے لیے ہرنیا کی تکلیف نا قابلِ برداشت ہوجاتی۔ والد صاحب کی فریاد صرف اپنے خالق و مالک سے ہوتی اور تکلیف کم ہوتے ہی اپنے معمولات شروع کردیتے۔ بیٹی نے بتایا کہ وفات سے ڈیڑھ دو سال قبل کی بات ہے کہ اسی طرح ایک دن شدید تکلیف تھی، دعا کرتے ہوئے بار باریہ دہرا رہے تھے ’’ہیگا تے میں گندہ، پر ہیگا تیرا بندہ‘‘ اور بہت الحاح اور درد سے خدا سے رحم اور شفاکی استدعا کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعدخاموش ہوگئےاور میرے پوچھنے پر بتایا کہ میرے خدا نے میری التجا سن لی ہے اور اس کے بعد وفات تک ہرنیا کی اس شدت کی تکلیف نہیں ہوئی۔ اپنے لیے کسی ایلوپیتھک ڈاکٹر کے پاس میں نے جاتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ آخری بیماری میں بھی چچا جان اور میں نے آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی کہ ہسپتال چلے جائیں لیکن کسی طور آمادہ نہ ہوئے۔ چچا جان بغیر بتائے ڈاکٹر ظہیر احمد منصور صاحب کو گھر لے آئے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ بڑھاپے کے سوا کوئی عارضہ نہیں۔ ۹۰؍سال کے قریب عمر ہے دل کمزور ہوچکا ہے اور پورے جسم کو ضرورت کے مطابق خون پمپ نہیں کر پا رہا۔ اس لیے کمزوری اور بے چینی ہے۔ بہر صورت میں پاس بیٹھا سورت یٰسین کی تلاوت کر رہا تھا،والد صاحب نے چند لمبے سانس لیے اور ان کی روح اپنے خالق و مالک کی طرف پرواز کر گئی اور ہم ان کی دعاؤں اور وابستہ برکتوں سے محروم ہو گئے۔ اللہ تعا لیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرماتے ہوئے ان کے درجات بلند سے بلند تر فرماتا چلا جائے۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: محترم ملک منور احمد جاوید صاحب (نائب ناظر ضیافت)



