حضور انور کے ساتھ ملاقات

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے لندن کی مقامی مجالس عاملہ کی تیسری ملاقات

(نسیم احمد باجوہ۔ مبلغ سلسلہ لندن)

لندن کی مقامی مجالس عاملہ کے اراکین اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے امام حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے انتہائی ممنون ہیں کہ آپ اپنی بے شمار مصروفیات کے باوجود ہماری عاجزانہ درخواست کو قبول فرماتے ہوئے ان دنوں ملاقاتوں کا شرف بخش رہے ہیں۔ جزاہ اللہ تعالیٰ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے حضورانور کو ہر لمحہ صحت و عافیت سے رکھے اور آپ کے جملہ مقاصد عالیہ کو کامیاب و بابرکت فرمائے۔ آمین

مؤرخہ 28 جنوری 2018ء بروز اتوار حضورانور نے محمود ہال ملحق مسجد فضل لندن میں اپسم (Epsom)، مالڈن مینر (Malden Manor) اور ووسٹرپارک (Worcester Park)کی جماعتوں کی مجالس عاملہ کے 61 اراکین کو شرف ملاقات بخشا۔ ان جماعتوں کے صدران بالترتیب مکرم مبارک احمد صدیقی صاحب، مکرم میجر (ریٹائرڈ) خلیل احمد ناصر صاحب اور مکرم ظفر منصور ملک صاحب ہیں۔ حضورانور کی اجازت سے مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیرجماعت یُوکے، مکرم نصیر دین صاحب ریجنل امیر لندن بی اور خاکسار نسیم احمد باجوہ ریجنل مشنری لندن B کو بھی شمولیت کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک۔ یہ ملاقات پونے چار بجے سے ساڑھے چار بجے تک جاری رہی۔

کرسیٔ صدارت پر تشریف فرما ہونے کے بعد حضورانور نے دریافت فرمایا کہ آج کون کونسی جماعتوں کی مجالس عاملہ موجود ہیں۔ خاکسار نے عرض کیا: اپسم، مالڈن مینر اور ووسٹر پارک کی جماعتوں کی مجالس عاملہ ہیں۔

دائیں طرف سے آغاز کرتے ہوئے حضورانور نے مالڈن مینر کے اراکین سے دریافت فرمایا کہ سیکرٹری صاحب تربیت کون ہیں؟ پھر حضورانور نے دریافت فرمایا کہ نماز باجماعت کے آپ کے پاس کتنے سنٹر ہیں؟ عرض کیا گیا: مقامی طور پر ایک گھر میں ایک سنٹر ہے۔ اس کے علاوہ بعض لوگ مسجد فضل اور بعض بیت الفتوح جاکر نماز پڑھتے ہیں۔

 پھر فرمایا: عاملہ کے اراکین میں سے فجر اور عشاء کتنے باجماعت پڑھتے ہیں؟ عرض کیا گیا کہ 21 اراکین میں سے 10 باقاعدہ ہیں۔

فرمایا: باقی 11 کو کیا ہے؟ عرض کیا گیا کہ اُن کو بھی باقاعدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرمایا: اگر عاملہ کو باقاعدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو باقی لوگوں کا کیا حال ہوگا۔

امانتوں کے حق ایسے ادا کریں کہ  مسجد میں نمازیں پڑھیں

مالڈن مینر کے ایک رُکن عاملہ سے حضور نے دریافت فرمایا کہ آپ کے پاس کیا کام ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس امین کا عہدہ ہے۔ فرمایا: عہدہ نہیں، خدمت۔ پھر فرمایا: امانتوں کا حق ایسے ادا کریں کہ مسجد میں پانچوں نمازیں پڑھیں۔ انہوں نے عرض کیا: میرا گھر ہی صلوٰۃ سینٹر ہے۔ فرمایا: کام کیا کرتے ہیں؟ عرض کیا: الیکٹریکل انجینئر ہوں۔ فرمایا: ایکسرسائز (ورزش) بھی کیا کریں۔

پھر حضور نے خدام کے قائد سے دریافت فرمایا: فجر اور عشاء میں آپ کی عاملہ کے کتنے افراد آتے ہیں؟ اسی طرح انصاراللہ کے زعیم صاحب سے بھی یہی دریافت فرمایا۔ انہوں نے جو تعداد بیان کی اس پر فرمایا: پچاس فیصد سے کم ہیں۔

عاملہ کی نماز باجماعت کا جائزہ عاملہ کی میٹنگ میں لے لیا کریں

اپسم جماعت کے صدر صاحب نے عرض کیا کہ خدا کے فضل سے حضورانور کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد نماز باجماعت پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ فرمایا: سیکرٹری تربیت کون ہیں؟ پھر سیکرٹری تربیت سے دریافت فرمایا کہ آپ کے پاس صلوٰۃ سینٹر کتنے ہیں؟ عرض کیا: چار صلوٰۃ سینٹر ہیں۔ فرمایا: مجھے عاملہ کی فکر ہے باقی خود ٹھیک ہوجائیں گے۔ پھر فرمایا: عاملہ کے کتنے افراد فجر باجماعت میں باقاعدہ ہیں؟

اسی طرح حضورانور نے قائد صاحب خدام الاحمدیہ اور زعیم صاحب انصاراللہ سے عاملہ کے اراکین کی کُل تعداد اور نماز باجماعت میں آنے والوں کی تعداد دریافت فرمائی اور پھر فرمایا: جماعت اور ذیلی تنظیموں کے عاملہ کے اجلاسات میں عاملہ کی نماز باجماعت کا جائزہ لے لیا کریں۔

اراکین عاملہ کو داڑھی رکھنی چاہئے

ایک جماعت کی عاملہ کے اراکین کو دیکھ کر فرمایا: بہت سے اراکین عاملہ بغیر داڑھی کے ہیں۔ اب عمر بھی بڑی ہوگئی، اب کیا فکر ہے؟

اس کے بعد ووسٹر پارک جماعت کے سیکرٹری تربیت سے دریافت فرمایا کہ آپ کے کتنے صلوٰۃ سینٹر ہیں؟ عرض کیا: ایک ہے۔ اس کے علاوہ بعض افراد مسجد فضل اور بیت الفتوح میں نماز کے لئے جاتے ہیں۔

فرمایا: عاملہ کا کیا حال ہے؟ عرض کیا: سات آٹھ اراکین باقاعدہ ہیں۔ بعض کو صبح کام پر جلدی جانا ہوتا ہے۔ فرمایا: فجر پڑھ کر جاسکتے ہیں۔

پھر قائد صاحب اور زعیم صاحب سے بھی عاملہ کی نماز باجماعت کی حاضری کے متعلق دریافت فرمایا اور فرمایا: 47 فیصد سے کم ہے۔ نیز فرمایا: اگر عاملہ باقاعدہ ہوجائے تو باقی بھی ہوجائیں گے۔ فرمایا: مسجد فضل میں باہر سے بہت مہمان آتے رہتے ہیں اس لئے پردہ پوشی ہو جاتی ہے۔

ہر دو ماہ بعد عشرۂ صلوٰۃ منایا کریں

جو عبادت کی طرف آجائے گا  وہ اِنفاق فی سبیل اللہ بھی کرے گا

ووسٹر پارک کے صدر صاحب نے عرض کیا کہ نیشنل سیکرٹری صاحب تربیت اور مربی صاحب نے مل کر عشرہ تربیت ووسٹرپارک میں منایا ہے اور احباب جماعت کے گھروں میں بھی جاکر نماز باجماعت کی تاکید کرتے رہے ہیں اور نماز کی حاضری بھی بہتر ہوئی ہے۔

حضورانور نے فرمایا کہ مَیں نے پچھلی میٹنگ میں کہا تھا کہ ہر دو ماہ بعد عشرۂ صلوٰۃ منایا کریں تو اس سے حاضری بڑھے گی۔ نیز فرمایا: جو عبادت کی طرف آجائے گا وہ انفاق سبیل اللہ بھی کرے گا۔ اپسم کے صدر صاحب نے عرض کیا کہ گزشتہ دنوں ہمارے ہاں تبلیغ ٹریننگ کلاسیں ہوئیں اس کے نتیجہ میں 50 تک حاضری ہوگئی جبکہ اس سے پہلے بہت کم حاضری تھی۔

حضورانور نے فرمایا: خلیفہ رابعؒ فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کرنے والے پر بیعت کروانے والے کی چھاپ ہوتی ہے اس لئے اگر تبلیغ کرنے والے نمازی ہوں گے تو ان کے ذریعے بیعت کرنے والے بھی نمازی ہوں گے۔

نیز ایک سوال پر فرمایا: ٹیکسی ڈرائیورز کام کے دوران اپنے سٹیشن پر مل کر باجماعت نماز پڑھ لیا کریں۔ اسے بھی نماز باجماعت ہی شمار کریں۔

پھر فرمایا: بعض لوگ سردیوں میں کہتے ہیں فجر کی نماز دیر سے ہوتی ہے اور کام پر جانا ہوتا ہے اس لئے نماز باجماعت پر نہیں آسکتے۔ اور گرمیوں میں کہتے ہیں نماز بہت صبح ہوتی ہے، نیند کا پورا موقع نہیں ملتا اس لئے نماز باجماعت کے لئے نہیں آسکتے۔ اس طرح کے بہانے درست نہیں۔

تبلیغ کے لئے عاملہ کو فعّال کریں

مالڈن مینر کے سیکرٹری تبلیغ سے حضورانور نے کام دریافت فرمایا: انہوں نے عرض کیا: چار بیعتوں کا ٹارگٹ تھا۔ ایک بیعت ہوئی ہے۔ پھر عرض کیا: گزشتہ سال حضورانور نے فرمایا تھا کہ ہر احمدی اپنے 10 ہمسایوں سے رابطہ قائم کرے۔ اس پر عمل کیا ہے خاص طور پر کرسمس اور نئے سال پر ہمسایوں کو تحفے دیئے گئے ۔

 اس پر حضورانور نے فرمایا: عاملہ کو تبلیغ کے کام کے لئے فعّال کریں۔ اپسم کے سیکرٹری تبلیغ نے عرض کیا کہ ایک ریلوے سٹیشن کے ساتھ ایک KIOSK کرائے پر مل رہا ہے، انشاء اللہ عنقریب مل جائے گا اور وہاں ہمارا مستقل تبلیغی سٹال لگا کرے گا۔

اسی طرح یہ بھی عرض کیا کہ کل امپیریل کالج میں ہمارے ایک احمدی ڈاکٹر لیکچر دے رہے ہیں، دعا کی درخواست ہے۔ فرمایا: ڈاکٹر عرفان دے رہے ہیں؟ موصوف نے عرض کیا: جی حضور۔ فرمایا: کچھ احمدیوں کو بھی لے جائیں تاکہ وہ بھی فائدہ اٹھاسکیں۔ نیز حضور نے دریافت فرمایا: میڈیکل کالج میں کتنے احمدی زیرتعلیم ہیں؟ عرض کیا: چھ ہیں۔

قریب کے علاقے میں بھی تبلیغ کریں

اپسم کے سیکرٹری صاحب تبلیغ نے عرض کیا کہ ہمارے داعیین الی اللہ زیادہ تر انفرادی طور پر تبلیغ کرتے ہیں۔ ہمارا چار بیعتوں کا ٹارگٹ تھا جو پورا ہوگیا ہے۔ یہ بھی بتایا کہ یہ بیعتیں دُور کے علاقے میں انٹرنیٹ کے ذریعہ ہوئی ہیں۔

 حضور نے فرمایا کہ اپنے قریبی علاقے میں بھی تبلیغ کریں کیونکہ قریبی علاقے کی بیعتوں کو سنبھالنا آسان ہوتا ہے۔ عرض کیا گیا کہ دو بیعتیں قریب کے علاقے سے ہیں۔ ایک پاکستانی تعلیم یافتہ نوجوان کی بیعت کے متعلق عرض کیا گیا کہ وہ جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے اور اس سے متأثر ہوکر انہوںنے بیعت کرلی۔ اب وہ اپنی بیوی کو بھی تبلیغ کررہے ہیں ان کے لئے دعا کی درخواست ہے۔

تبلیغی رابطوں اور نومبایعین کو اپنے مربیان سے بھی ملائیں

ووسٹر پارک کے سیکرٹری تبلیغ نے عرض کیا کہ ہم Weybridge کے علاقے میں چھ لائبریریوں میں تبلیغی نمائش کرچکے ہیں اور حضرت مسیح موعودؑ کی بڑی تصویر بھی لگائی جو لوگوں کی دلچسپی کا خاص مرکز رہی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب "Jesus in India” اور "A gift to Queen” بھی لوگ بہت دلچسپی سے لیتے رہے۔

حضور نے دریافت فرمایا: کیا مربی صاحب کو بھی ساتھ لے کر گئے ہیں؟ عرض کیا گیا: دو دفعہ لے کر گئے ہیں اور لائبریرین سے ملاقات کرائی اور لائبریری کو قرآن کریم اور دیگر لٹریچر بطور تحفہ دیا گیا۔

صدر صاحب ووسٹر پارک نے عرض کیا کہ لجنہ کے ذریعہ ایک انگریز خاتون نے بھی بیعت کی ہے اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔ حضور نے دریافت فرمایا: مربی صاحب سے ملایا ہے؟ عرض کیا گیا: جی حضور۔

موصیوں کو نماز باجماعت کا پابند ہونا چاہئے

مالڈن مینر جماعت کے سیکرٹری وصایا سے حضورانور نے دریافت فرمایا: کتنے موصی ہیں؟ عرض کیا گیا62۔ پھر حضور نے اپسم جماعت سے دریافت فرمایا: آپ کے کتنے موصی ہیں؟ عرض کیا گیا83۔ پھر ووسٹر پارک کے صدر صاحب سے دریافت فرمایا: آپ کے موصی کتنے ہیں؟ عرض کیا71۔

فرمایا: تینوں جماعتوں کے موصیان کی تعداد 216 بنتی ہے۔ ان سب کو نماز باجماعت کا پابند ہونا چاہئے کیونکہ صرف چندہ دینا کسی کو موصی نہیں بناتا بلکہ نماز بھی ضروری ہے۔ فرمایا: اس سلسلہ میں لجنہ اور خدام سے بھی مدد لیں اور اس غرض کے لئے ان کی ٹیم بنائیں۔

یہاں دورانِ گفتگو حضورانور نے ڈپٹی نذیر احمد صاحب کی کتاب ’توبۃالنصوح‘ کا بھی ذکر فرمایا کہ ایسے لگتا ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو پڑھ کر انہوں نے اسے لکھا ہے۔ صدر صاحب اپسم نے کتاب کا خلاصہ بتانے کی درخواست کی۔ پہلے تو فرمایا کہ خود پڑھیں اور پھر خلاصہ میں بتایا کہ قصّہ کے رنگ میں بتایا ہے کہ ایک گھر کا سربراہ ہیضہ کی وجہ سے قریب المرگ تھا۔ پھر بچ گیا تو اس نے اپنے سب بیوی بچوں کو بلایا اور انہیں نصائح کیں اور ان نصائح کا ایک حصہ یہ ہے کہ بڑوں کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے اس لئے تربیت بچپن میں ہونی چاہئے۔ اور جب بچے بڑے ہوجائیں تو خاص طور پر مردوں کو تربیت کے کام میں حصہ لینا چاہئے۔

ایک جرمن احمدی لڑکی کا واقعہ قبولیت دعا

صدر صاحب اپسم جماعت نے عرض کیا کہ پچھلے دنوں ایک خاتون وکیل احمدی ہوئیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیسے احمدی ہوئیں؟ انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ مَیں پوسٹ آفس گئی۔ لائن میں کھڑی تھی وہیں ایک احمدی خاتون سے تعارف ہوا۔ انہوں نے MTA کا چینل نمبر 787 دیا اور اسے سننے کا کہا۔ اس کے بعد پِیس کانفرنس میں شامل ہوئی۔ چنانچہ حضور کے خطبات MTA پر سُن کر اور پِیس کانفرنس پر حضور کا خطاب سننے کے بعد جماعت میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔

اس پر حضورانور نے ایک جرمن احمدی لڑکی کا قبولیت دعا کا واقعہ سنایا۔ فرمایا: پانچ چھ سال پہلے وہ احمدی ہوئی۔ اس کے بعد ایک دفعہ اپنے والد کے ساتھ کار میں سفر پر جارہی تھی۔ تیز بارش شروع ہوگئی اور اچانک گاڑی بھی خراب ہوگئی۔ اس کا باپ دہریہ تھا۔ کار کی خرابی کی وجہ سے Recovery والوں کو فون کیا۔ انہوں نے کہا: تین گھنٹے کے بعد آئیں گے، اس سے پہلے نہیں آسکتے۔ احمدی لڑکی نے باپ کو کہا نماز کا وقت ہوگیا ہے، کیا مَیں نماز پڑھ سکتی ہوں؟ باپ نے کہا: دعا کرو بارش رُک جائے۔ جرمن احمدی لڑکی کہتی ہیں کہ مَیں نے دعا کی کہ اے اللہ! میرا باپ دہریہ ہے، اسے معجزہ دکھا۔ چنانچہ اسی وقت بارش رُک گئی اور دوسری طرف Recovery Van تین گھنٹے کی بجائے تیس منٹ میں ہی آگئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں قبولیتِ دعا کا معجزہ دکھادیا۔

 فرمایا: اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازوں کی عادت ڈالیں گے تو اللہ تعالیٰ قبولیتِ دعا کے معجزے بھی دکھائے گا۔

یورپین لوگوں کے قبولیت دعا کے واقعات بھجوائیں

حضورانور نے فرمایا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف افریقہ کے ہی قبولیتِ دعا کے واقعات سنائے جاتے ہیں۔ فرمایا: یورپین لوگ واقعات بتاتے نہیں۔ اب مَیں نے سیکرٹری نومبایعین جوناتھنؔ کو کہا ہے کہ واقعات اکٹھے کریں۔

نیز فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خدا کو ماننے والے زیادہ تر غرباء میں ہی ہوتے ہیں۔ سب کچھ میسر ہو تو اکثر لوگوں کو خدا یاد نہیں رہتا۔ حضور نے فرمایا کہ کسی کو بھی یورپین احمدیوں کے قبولیتِ احمدیت کے واقعات معلوم ہوں تو وہ مجھے بھجوادیں۔ اسی طرح ان کے قبولیتِ دعا کے واقعات بھی بھجوادیں۔

صدر صاحب اپسم جماعت نے عرض کیا کہ اب سوشل میڈیا نے دکھا دیا ہے کہ اگر پُرامن اسلام دیکھنا چاہتے ہو تو جماعت احمدیہ کو دیکھو۔ اس پر حضورانور نے فرمایا کہ اس وجہ سے مخالفین نے ختم نبوت کے نام پر جھوٹا پراپیگنڈا جماعت کے خلاف شروع کیا ہے لیکن تعلیم یافتہ طبقے کو حقیقت معلوم ہے اس لئے انہوں نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں کی۔

احمدیوں کا قرآن وہی ہے جو غیراحمدیوں کا ہے

صدر صاحب مالڈن مینر (ریٹائرڈ) میجر خلیل صاحب سے حضور نے دریافت فرمایا: کیا آپ نے کسی جنگ میں حصہ لیا؟ انہوں نے عرض کیا1971ء کی جنگ میں حصہ لیا اور بنگلہ دیش میں اڑھائی سال قید بھی کاٹی۔ نیز انہوں نے بتایا کہ قید کے دوران میرے والد صاحب نے بذریعہ ڈاک مجھے قرآن کریم بھجوایا۔ مَیں نے وہ قرآن کریم اپنے ایک غیراحمدی مسلمان افسر کو دیا۔ وہ اس کو پڑھ کر بڑا حیران ہوا کہ یہ تو وہی قرآن ہے جو باقی مسلمانوں کا ہے اور کہا کہ ہمیں تو مولوی یہی بتاتے ہیں کہ احمدیوں کا قرآن مختلف ہے۔ اس طرح اللہ کے فضل سے اس کی غلط فہمی دُور ہوگئی۔

نماز باجماعت کا جائزہ لینے کا طریق

حضورانور نے آخر میں نماز باجماعت کا جائزہ لینے کا طریق سکھایا۔ چنانچہ حضور نے فرمایا کہ وہ اراکین عاملہ جنہوں نے آج فجر کی نماز مسجد فضل میں پڑھی وہ اپنا ہاتھ کھڑا کریں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

اس کے بعد فرمایا: جن لوگوں نے آج فجر کی نماز بیت الفتوح میں پڑھی وہ ہاتھ کھڑا کریں۔ اس کے بعد فرمایا جن لوگوں نے آج فجر کی نماز اپنے مقامی صلوٰۃ سینٹر میں پڑھی وہ ہاتھ کھڑا کریں۔

اس طرح جائزہ لینے کا طریق حضورانور نے سب کو سکھا دیا۔ ایک دوست نے فجر کی نماز مسجد فضل میں ادا کرنے کے لئے ہاتھ کھڑا کیا تو حضور نے فرمایا کہ ہاں آپ بھی آئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے بھانجے بھی تھے جو دوسری صف میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوںنے عرض کیا: جی حضور۔

ملاقات کے آخر میں حضورانور نے ازراہ شفقت تمام اراکین عاملہ کو ان کی جماعت کے لحاظ سے      باری باری گروپ فوٹو بنوانے کی اجازت عطا فرمائی۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو خلافت احمدیہ سے زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کرنے کی توفیق دے اور ہمیں اور ہماری اولادوں کو ہمیشہ خلافت کے جاں نثار اور وفادار عشّاق میں شامل فرمائے۔ آمین اللّھمّ آمین۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button