ارشادِ نبوی

صحابہؓ میں مسابقت الی الخیر کی ایک اعلیٰ مثال

حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے (دل میں) کہا: اگر میں ابوبکر (رضی الله عنہ) سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ مَیں نے عرض کیا: اتنا ہی (ان کے لیے بھی چھوڑا ہے) اور ابوبکر (رضی الله عنہ) وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپؐ نے پوچھا: ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے (اپنے جی میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔

(ترمذی، كتاب المناقب عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم باب في مناقب أبي بكر وعمر رضى اللّٰه عنهما كليهما)

مزید پڑھیں: ذکر الٰہی کی فضیلت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button