نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۳؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم مبارک احمد شاہ صاحب ابن مکرم ڈاکٹر محمد انور شاہ صاحب مرحوم (رینز پارک۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم مبارک احمد شاہ صاحب ابن مکرم ڈاکٹر محمد انور شاہ صاحب مرحوم (رینز پارک۔ یوکے)
۸؍دسمبر۲۰۲۵ء کو ۷۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم ۱۹۵۰ء میں کینیا میں پیدا ہوئے۔ مرحوم کے دادا مکرم ڈاکٹر سید ولایت شاہ صاحب کو ۱۸۹۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ نے ۱۹۱۳ء میں ایسٹ افریقہ ہجرت کی اور وہاں پر نظام جماعت کے ساتھ نہ صرف خود مضبوطی سے وابستہ رہے بلکہ اپنے بچوں اور ان کی اولاد کا بھی جماعت کے ساتھ بہترین تعلق قائم کروایا۔ آپ بہترین داعی الی اللہ اور ایک نیک، مخلص اور پرہیز گار انسان تھے۔مرحوم کے والد آپ کے بچپن میں وفات پاگئے تھے۔ والدہ اور بہنوں نے آپ کی پرورش کی۔ آپ ان تھک محنت کرکے اقوام متحدہ کے تحت ڈپلومیٹک کیریئر تک پہنچے۔آپ صوم وصلوٰۃ کے پابند، خدمت گزار اور خلافت کے وفادار ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ آپ کو کینیا میں مختلف حیثیتوں میں جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔آپ کینیا کے پہلے چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ اور نیشنل آڈیٹر بھی رہے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔ مرحوم مکرم ڈاکٹر سید ولی شاہ صاحب اور مکرم سید منصور شاہ صاحب کے چچازاد بھائی اور مکرم محمد اکرم احمدی صاحب (چیئر مین IAAAE)کے ہم زلف تھے۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم رائے عبد القدیر صاحب ابن مکرم رائے عبدالحق صاحب (ناروے)
۲۱؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۷۵ سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم پیدائشی احمدی تھے اور جماعت کے ساتھ نہایت اخلاص اور وفا کا تعلق تھا۔ آپ ۱۹۸۷ء میں ناروے آئے اور تب سے لے کر آخر دم تک جماعت کی کسی نہ کسی رنگ میں خدمت بجا لاتے رہے۔ ۱۹۸۴ء میں جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے بیرون از پاکستان ذیلی تنظیموں میں صدارت کا نظام قائم فرمایا تو آپ ناروے کے پہلے صدر مجلس خدام الاحمدیہ مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ صدر انصار اللہ، نیشنل سیکرٹری تربیت اور افسر جلسہ سالانہ کے طور پربھی خدمت کی توفیق پائی۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے پابند، بڑے اطاعت گزار، منکسرالمزاج، ملنسار،محنتی اور ہنس مکھ انسان تھے۔ آپ کے ساتھ کام کرنے والے سب احباب آپ کی انتظامی قابلیت اور اعلیٰ اخلاق کے قائل تھے۔ خلافت کے ساتھ والہانہ مضبوط تعلق تھا۔ مرکزی عہدیداروں کا بہت احترام کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
۲۔مکرمہ شریفاں بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم محمد رفیق صاحب مرحوم (رحمان کالونی ربوہ )
۱۴؍نومبر۲۰۲۵ء کو ۸۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، مہمان نواز، غریب پرور، چندوں میں باقاعدہ اور ہر مالی قربانی میں حصہ لینے والی ایک مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے بے پناہ عقیدت کا تعلق تھا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے بیت الفتوح لندن کے شعبہ ضیافت میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۳۔مکرم اکبر احمد نسیم صاحب ابن مکرم بشارت احمد نسیم امروہی صاحب (سمن آباد لاہور)
۲؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۶۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت حافظ عبد السمیع خان صاحب امروہی رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند،تہجد گزار، جماعتی خدمت کے جذبہ سے سرشار ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔ آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا اور سیکرٹری دعوت الی اللہ امار ت سمن آباد کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔اس دوران آپ کو بہت سی بیعتیں کروانے کی بھی توفیق ملی۔ خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں شامل ہیں۔
۴۔مکرم محمود احمد چودھری صاحب ابن مکرم چودھری محمد اسحاق صاحب (ریٹائرڈ واقف زندگی دفتر وصیت ربوہ)
۲۹؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۷۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے ۳۴سال دفتر وصیت میں کام کرنے کے علاوہ اپنے حلقہ میں نائب صدر اور سیکرٹری وصایا کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، بڑے ایماندار، نیک اور مخلص انسان تھے۔ محلہ کے متعدد احباب اپنی قیمتی چیزیں آپ کے پاس امانت رکھواتے تھے۔ ایک دفعہ ایک لفافہ ڈالرز سے بھرا ہوا زمین پر گرا ملا تو فوراً گھر کا پتہ معلوم کر کے بحفاظت انہیں ان کی رقم پہنچادی۔ عین جوانی میں اپنی بزرگ والدہ کی خدمت کے لیے سعودی عرب سے کاروبار چھوڑ کر واپس ربوہ آگئے اور اپنی زندگی وقف کردی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم فاران ربانی صاحب (مربی سلسلہ سیاٹل امریکہ) اور مکرم حارث رضوان صاحب کے خسر تھے۔
۵۔مکرم فیضان وزیر صاحب ابن مکرم بشارت احمد صاحب (کورنگی کریک کراچی)
یکم دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۳۵ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کی والدہ کے پڑدادا حضرت مولوی نور احمد صاحب رضی اللہ عنہ (لودھی ننگل ضلع گورداسپور)کے ذریعہ ہوا۔ مرحوم ان کے چھوٹے بھائی حضرت مولوی حبیب اللہ صاحب رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے تھے۔ آپ بہت خوبیوں کے مالک، ایک نیک، مخلص اور باوفا انسان تھے۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بہن اور چار بھائی شامل ہیں۔ آپ مکرم ذیشان محمود صاحب (مربی سلسلہ و استاد مجلس نصرت جہاں سیر الیون) کے چھوٹے بھائی تھے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




