کلام حضرت مصلح موعود ؓ

نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں

نشان ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں

نِشانِ ساتھ ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں
ہمارے دین کا قصوں پہ ہی مدار نہیں

وہ ہم کہ عشق میں پاتے ہیں لطفِ یکتائی
ہمارا دوست نہیں کوئی غمگسار نہیں

وہ دل نہیں جو جدائی میں بےقرار نہیں
نہیں وہ آنکھ جو فرقت میں اشکبار نہیں

چڑھے ہیں سینکڑوں ہی سولیوں پہ ہم منصورؔ
ہمارے عشق کا اک دار پر مدار نہیں

وہ ہم کہ فکر میں دیں کے ہمیں قرار نہیں
وہ تم کہ دینِ محمدؐ سے کچھ بھی پیار نہیں

یونہی کہو نہ ہمیں لوگو! کافر و مرتد
ہمارے دل کی خبر تم پہ آشکار نہیں

وہ لوگ درگہِ عالی میں جن کو بار نہیں
انہیں فریب و دغا، مکر سے بھی عار نہیں

امامِ وقت کا لوگو کرو نہ تم انکار
جو جھوٹے ہوتے ہیں وہ پاتے اقتدار نہیں

ہے خوف مجھ کو بہت اس کی طبعِ نازک سے
نہیں ہے یہ کہ مجھے آرزوئے یار نہیں

دل و جگر کے پرخچے اڑے ہوئے ہیں یاں
اگرچہ دیکھنے میں اپنا حال زار نہی

تڑپ رہی ہے مری روح جسم خاکی میں
ترے سوا مجھے اک دم بھی اب قرار نہیں

جگا رہے ہیں مسیؑحا کبھی سے دنیا کو
مگر غضب ہے کہ ہوتی وہ ہوشیار نہیں

نہ طعنہ زن ہو مری بےخودی پہ اے ناصح
میں کیا کہوں کہ مرا اس میں اختیار نہیں

مقابلہ میں مسیؑحِ زماں کے جو آئے
وہ لوگ وہ ہیں جنہیں حق سے کچھ بھی پیار نہیں

مثالِ آئینہ ہے دل کہ یار کا گھر ہے
مجھے کسی سے بھی اس دہر میں غبار نہیں

کلامِ پاک بھی موجود ہے اسے پڑھ لے
ہمارا تجھ کو جو اے قوم اعتبار نہیں

جو دل میں آئے سو کہہ لو کہ اس میں بھی ہے لطف
خدا کے علم میں گر ہم ذلیل و خوار نہیں

کبھی تو دل پہ بھی جاکر اثر کرے گی بات
سنائے جائیں گے ہم، تم کہو ہزار ’’نہیں‘‘

ہوا وہ پاک جو قدوس کا ہوا شیدا
پلید ہے جسے حاصل یہ افتخار نہیں

کروڑ جاں ہو تو کردوں فدا محمدؐ پر
کہ اس کے لطف و عنایات کا شمار نہیں

(اخبار بدر جلد ۶۔ ۷؍اکتوبر ۱۹۰۷ء بحوالہ کلام محمود صفحہ۴۲-۴۳)

مزید پڑھیں: اے مولویو! کچھ تو کرو خوف خدا کا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button