کلام حضرت مصلح موعود ؓ

قطعات (منظوم کلام حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ)

عبث ہیں باغِ احمد کی تباہی کی یہ تدبیریں
چھپی بیٹھی ہیں تیری راہ میں مولیٰ کی تقدیریں
بھلا مومن کو قاتل ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے
نگاہیں اس کی بجلی ہیں تو آہیں اس کی شمشیریں
تری تقصیریں خود ہی تجھ کو لے ڈوبیں گی اے ظالم
لپٹ جائینگی تیرے پاؤں میں وہ بن کے زنجیریں
(اخبار الفضل ۳۰؍دسمبر ۱۹۳۷ء)

٭…٭…٭


نظر آرہی ہے وہ چمک وہ حسنِ ازل کی شمع حجاز میں
کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیس عشقِ مجاز میں


٭…٭…٭


سمندر سے ہوائیں آرہی ہیں
مرے دل کو بہت گرما رہی ہیں
عرب جو ہے مرے دلبر کا مسکن
بوئے خوش اس کی لے کر آرہی ہیں
بشارت دینے سب خورد و کلاں کو
اچھلتی کودتی وہ آرہی ہیں
(بتقریب جلسہ سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم منعقدہ مورخہ ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۸ء مسجد اقصیٰ میں بعد نمازِ عصر حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی تقریر میں خود یہ اشعار بیان فرمائے)

٭…٭…٭


اے مسیحا! کبھی پوچھو گے بھی بیمار کا حال
کون ہے جس سے کہے جاکے دلِ زار کا حال
آنکھ کا کام نکل سکتا ہے کب کانوں سے
دل کے اندھوں سے کہوں کیا ترے دیدار کا حال
(اندازاً ۱۹۳۸ءیا ۱۹۳۹ء۔ اخبار الفضل ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۸ء)

٭…٭…٭


رہے حسرتوں کا پیارے میری جاں شکار کب تک؟
ترے دیکھنے کو ترسے دل بے قرار کب تک؟
شب ہجر ختم ہوگی کہ نہ ہوگی یا الٰہی؟
مجھے اتنا تو بتا دے کروں انتظار کب تک؟
کبھی پوچھو گے بھی آکر کہ بتا تو حال کیا ہے
یوں ہی خوں بہائے جائے دلِ داغدار کب تک؟
(اندازاً ۱۹۳۸ءیا ۱۹۳۹ء اخبار الفضل ۳۱؍دسمبر ۱۹۶۸ء)
گل ہیں پر ان میں پہلی سی اب بو نہیں رہی
صوفی تو مل ہی جاتے ہیں پر ھو نہیں رہی
مغرب کا ہے بچھونا تو مغرب کا اوڑھنا
اسلام کی تو کوئی بھی اب خو نہیں رہی
(رسالہ ریویو آف ریلجنز اردو ماہ جولائی ۱۹۴۴ء)

٭…٭…٭


اس زمانہ میں اماموں کی بڑی کثرت ہے
مقتدی ملتے نہیں ان کی بڑی قلت ہے
اس پہ یہ اور ہے آفت کہ ہیں باغی پیر
اور لیڈر کو جو دیکھو تو وہ کم ہمت ہے
(ازرسالہ ریویو آف ریلیجنز اردو ماہ جولائی ۱۹۴۴ء)

٭…٭…٭


یہ متاع ہوش دینداری کبھی لٹنا بھی ہے
اس جہاں کی قید و بندش سے کبھی چھٹنا بھی ہے
کر توکل جس قدر چاہے کہ اک نعمت ہے یہ
یہ بتاوے باندھ رکھا اونٹ کا گھٹنا بھی ہے
(۲۰؍جولائی ۱۹۵۰ء نوشہرہ)

٭…٭…٭


اپنا لیا عدو نے ہر ایک غیر قوم کو
تقسیم ہو کے رہ گئے ہو تم شعوب میں
سالک! تجھے نویدِ خوشی دینے کے لئے
پھرتا ہوں شرق و غرب و شمال و جنوب میں
فقہی سے اس سوال کا حل ہو نہیں سکا
ہیں تجھ میں ہی قلوب کہ تو ہے قلوب میں
(۲۰؍جولائی ۱۹۵۱ء)

٭…٭…٭


تیری الفت کا جو شکار ہوا
مر کے پھر زندہ لاکھ بار ہوا
سر کو سینہ پہ رکھ لیا میرے
غم سے جب بھی میں اشکبار ہوا
(۳۱ جنوری ۱۹۵۷ء)

٭…٭…٭


تیری خوشی گیاہ میں میری خوشی نگاہ میں
میرا جہان اور ہے تیرا جہان اور ہے
ہیں اسی بحر کے گہر، ہے اسی حبیب کا یہ نور
ظالمو! بات ہے وہی لیک زبان اور ہے
(رسالہ جامعہ النصرت میگزین جلد۴نمبر۱ بابت ماہ جون ۱۹۶۶ء)

مزید پڑھیں:فضل الٰہی کے غیبی سامان

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button