الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

پروفیسر عبدالسلام کی مہکتی یادیں

Dr John Moffat نے ۲۰۱۰ء میں ٹورانٹو سے شائع ہونے والی اپنی کتاب Einstein Wrote Back – My Life in Physics میں بعض عظیم سائنسدانوں کے ساتھ اپنے ذاتی مراسم کا تفصیلی بیان کیا ہے۔ اسی سلسلے میں محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے حوالے سے بھی چند ابواب شامل ہیں جن کا اردو ترجمہ مکرم زکریا ورک صاحب کے قلم سے روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۲۸؍فروری اور یکم مارچ ۲۰۱۴ء کے شماروں میں شامل اشاعت ہے۔

پروفیسر جان موفات بیان کرتے ہیں کہ فزکس کا علم مَیںنے ڈنمارک میں خود ہی کتابیں اور جریدے پڑھ کر حاصل کیا۔ ایامِ شباب میں آئن سٹائن کے ساتھ نظریہ اضافت پر خط و کتابت کی۔ مَیں نے اُن کی تھیوری میں حسابی غلطی نکالی تھی مگر سائنسی جریدوں نے میرا مضمون شائع کرنے سے انکار کردیا۔ بہرحال بغیر انڈرگریجوایٹ ڈگری کے کیمبرج میں مجھے داخلہ مل گیا۔وہاں میرے سپروائزر ۱۹۵۵ء میں امریکہ چلے گئے تو قواعد کے مطابق مجھے سپروائزر رکھنا چونکہ لازمی تھا اس لیے ڈاکٹر عبدالسلام کو میرا نیا سپروائزر مقرر کیا گیا جو سینٹ جانز کالج میں نوجوان فیلو تھا اور یونیورسٹی میں نیا لیکچرر متعین ہوا تھا۔ یہ تقرر محض خانہ پُری اور رسمی تھی کیونکہ مَیں آزادانہ طور پر تحقیق کررہا تھا۔ چنانچہ ہمارا علمی سیشن آرٹس سکول میں سلام سے ملاقات پر مشتمل ہوتا جہاں سے ہم تیزرفتاری سے چلتے ہوئے سینٹ جانز کالج کے گیٹ پر پہنچتے جہاں سلام نے اپنی کلاسیں لینی ہوتی تھیں۔ اس چلنے کے دوران مَیں سانس لیے بغیر اپنی پیش رفت خاموش سلام کو سنارہا ہوتا۔

سلام کے والد احمدی تھے، ایک ایسا فرقہ جو اسلامی دنیا میں بہت زیادہ تشدّد کا نشانہ بنا تھا۔ اُس کی شادی اُس کی فرسٹ کزن سے ہوئی تھی اور وہ اکثر کیمبرج میں دونوں گھومتے پھرتے نظر آتے تھے۔ اُس کی اہلیہ اُس کے کئی گز پیچھے سیاہ چادر میں ملبوس چل رہی ہوتی تھی۔ سلام کے طبیعات دان بننے کی وجہ یہ تھی کہ ایک گہرے مذہبی انسان ہونے کے ناطے اُس کا یقین تھا کہ تھیوریٹیکل فزکس میں کسی بھی کامیابی سے اُسے اللہ کے راز جاننے میں مدد ملے گی۔

پچاس کی دہائی میں سلام سرایت کرتی بھوری آنکھوں والا اور خوب بنائی ہوئی مونچھوں والا تیس سالہ نوجوان تھا۔ اکثر نفیس لباس میں ملبوس ہوتا۔ وہ کیمبرج میں ایک کامیاب گریجوایٹ رہ چکا تھا۔ ٹرائی پوز امتحان میں رینگلر کا مرتبہ حاصل کرچکا تھا۔ ان امتحانات کی تیاری کے لیے چار سال درکار ہوتے تھے۔ ان کا آغاز ۱۶۴۱ء میں ہوا تھا جب طالبعلم تین ٹانگوں والے سٹول پر بیٹھتے تھے (اس لیے ٹرائی پوز کی اصطلاح نے جنم لیا) اور ممتحن کے سوالات کی بوچھاڑ کا جواب دیتے۔ ممتحن اُن سے بحث کرتا اور دونوں کی باہمی علمی کُشتی wrangled کی وجہ سے زیادہ نمبر لینے والے کو رینگلر کا خطاب دیا جاتا تھا۔ ۱۷۹۴ء میں یہ زبانی امتحان تحریری شکل میں بدل دیا گیا۔

میرے کیمبرج کے ایام میں سلام نے پارٹیکل فزکس میں متعدد لیکچرز دیے۔ مَیں اُن دنوں دو روسی سائنسدانوں کی ہی ایک تھیوری کے مطالعے پر کافی وقت صرف کررہا تھا اس لیے ایک لیکچر کے دوران جب مَیں نے دیکھا کہ سلام بعض حسابی فیکٹرز کو نظرانداز کررہا ہے جس کی وجہ سے اُس کے حساب کتاب کو سمجھنا مشکل ہورہا ہے تو مَیں نے کھڑے ہوکر اُسے اس طرف توجہ دلائی اور احتجاجاً باہر چلا گیا۔ اس گستاخانہ حرکت پر سلام مجھ سے ناراض نہیں ہوا بلکہ ایک طبیعات دان کی حیثیت سے میری عزت اُس کی نگاہوں میں زیادہ ہوگئی۔

جب ایک بار مَیں نے سلام کو بتایا کہ کیمبرج آنے سے قبل مَیں نے آئن سٹائن سے خط و کتابت کی تھی تو اُس کی آنکھوں میں چمک آگئی اور اس نے کہا کہ اُن خطوط کی کاپیاں تیار کرکے اہم طبیعات دانوں اور بڑی یونیورسٹیوں کو بھجواؤں کیونکہ فزکس کی دنیا مسابقت چاہتی ہے۔ یہ فقرہ سلام کی زندگی کا آئینہ دار تھا۔ وہ ریسرچ گروپس میں اپنے آئیڈیاز کی تشہیر کرتے تھے۔ بہرحال مَیں نے اُن کی ہدایت پر عمل نہ کیا جس پر وہ بعد میں مجھ پر چیں بجبیں بھی ہوئے۔

سلام کیمبرج میں ایک منفرد اور ہندوستان سے واحد ممتاز نظری طبیعات دان تھے۔ برٹش یونیورسٹی سسٹم میں وہ پہلے پاکستانی تھے جو پروفیسر متعین ہوئے۔ بعض دفعہ وہ انگلش اکیڈیمک اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے امتیازی سلوک محسوس کرتے تھے۔ ۱۹۵۷ء میں سلام کو امپیریل کالج لندن میں پروفیسر متعین کیا گیا تو مَیں ایک بار پھر بغیر کسی سپروائزر کے رہ گیا۔

امپیریل کالج میں پروفیسر سلام کا دفتر نسبتاً بڑا اور پُرتکلّف تھا جو شاندار فرنیچر اور ایرانی قالین سے آراستہ کیا گیا تھا۔ باقی دفاتر گتے کی پارٹیشنز لگاکر چھوٹے کردیے گئے تھے جن میں بیٹھے عمررسیدہ ریسرچر ابھی پرانا فرنیچر ہی استعمال کررہے تھے۔ میرا دفتر اُن میں سے ایک تھا جو سلام کے دفتر سے ملحق تھا جس کو نئے فرنیچر سے سجایا گیا تھا۔ ایک روز مَیں بلڈنگ میں داخل ہوا تو نصف درجن پرانے پرانے پروفیسروں کو اپنے دفتر کے دروازے پر کھڑے میرے فرنیچر کو دیکھ کر بڑبڑاتے ہوئے دیکھا۔ اگلے روز مَیں دفتر پہنچا تو دیکھا کہ نیا فرنیچر غائب تھا اور پرانا ڈیسک اور خستہ حال کرسی پڑی تھی۔ مَیں نے سلام کو یہ دکھایا تو وہ آپے سے باہر ہوگئے اور اس کو ذاتی ہتک تصوّر کیا۔ چند روز میں ہی میرا سمارٹ فرنیچر واپس لَوٹا دیا گیا۔ یہ دبدبہ تھا نئے پروفیسر کا۔

بلاشبہ سلامؔ نظام شمسی کے سیارچوں کے درمیان ایک سورج کی مانند تھا۔ ہم اُس کے رعب دار دفتر کے گرد اس کوشش میں منڈلاتے رہتے تھے کہ اُس سے ملاقات کرکے مستقبل کی ریسرچ کی منصوبہ بندی کرسکیں۔

سلام لندن کی احمدیہ مسجد میں تواتر کے ساتھ جاتے تھے۔ اُن کی رہائش پٹنی میں تھی۔ یورپ اور امریکہ میں لیکچرز کا اُن کا شیڈیول مصروف ترین ہوتا تھا۔ مَیں تعجب کرتا تھا کہ وہ کب تک اس طرح کی مصروفیت میں زندگی گزار سکیں گے۔ اگرچہ وہ جسم میں بھاری نہ تھے لیکن جسمانی ورزش میں اُن کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

پروفیسر پال میتھیوز کی پیدائش مشنری والدین کے ہاں ہندوستان میں ہوئی تھی۔ برصغیر کے پس منظر نے اُس کے سلام کی طرف کھچے چلے آنے میں مدد کی تھی جو زندگی بھر کی دوستی پر منتج ہوئی۔ روزانہ لنچ کے وقت میتھیوز، جان ٹیلر اور مَیں ریستوران میں اکٹھے ہوتے۔ لنچ کے دوران سلام بھی چلے آتے اور ہر روز اپنا کوئی نیا آئیڈیا گرمجوشی سے ہمیں سناتے۔ ہم اُن کے آئیڈیاز کو تباہ کرنے میں کوشاں رہتے اور اکثر کامیاب ہوجاتے۔ جو آئیڈیا زندہ بچ جاتا، سلام پورے شدومد کے ساتھ اُس کی تحقیق میں جُت جاتے۔ میتھیوز اُس کی تکنیکی تفصیلات پر کام کرتا اور آخرکار یہ آئیڈیا کسی جریدے میں بطور جوائنٹ پیپر کے طبع ہوجاتا۔

سلام اس بات پر خفا رہتے تھے کہ پارٹیکلز کے ویک انٹرایکشنز کے حوالے سے کی گئی اُن کی تحقیق پر اُنہیں نوبیل انعام نہیں دیا گیا تھا جبکہ اسی تحقیقی کام پر ۱۹۵۷ء کا نوبیل انعام دو دیگر سائنسدانوں کو دے دیا گیا تھا۔ تاہم سلام کے ساتھ نظرانداز کیے جانے والے تین چار دیگر سائنسدان بھی تھے۔ بہرحال نوبیل انعام سے محرومی نے اُن کے ذہن میں مستقبل کے لیے ایک اصول جمادیا کہ جو آئیڈیا بھی اُن کے ذہن میں آیا کرے گا وہ اُسے فوراً شائع کردیں گے۔ اسی کی تلقین وہ ہمیں بھی کیا کرتے تھے۔

۱۹۷۸ء میں جب مَیں ٹورانٹو یونیورسٹی میں تھا تو میری دعوت پر ڈاکٹر سلام ایک ہفتے کے لیے وہاں تشریف لائے اور اپنی اُس تھیوری کے متعلق لیکچرز دیے جس پر بعد میں اُن کو نوبیل انعام دیا گیا۔ اس سے قبل ۱۹۷۶ء میں ڈاکٹر سلام سے میری ملاقات شکاگو یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں ہوئی جس میں اُن کے بازو میں مَیں بیٹھا ہوا تھا۔ گرم کمرے کے باوجود بھی وہ بھاری اوورکوٹ پہنے اور سر پر ہیٹ زیب تن کیے ہوئے تھے۔ بنجمن لی اپنے لیکچر میں اُسی تھیوری کی وضاحت کررہا تھا جس پر ڈاکٹر سلام دو دیگر سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کررہے تھے اور تینوں کو بعد میں اسی پر نوبیل انعام بھی دیا گیا۔ تاہم بنجمن لی نے سارے لیکچر میں صرف دوسرے سائنسدانوں کے نام لیے حالانکہ الیکٹروویک ماڈل کے خالق کے طور پر سلام کا نام لینا ضروری تھا۔ اُس کے طرز عمل کے نتیجے میں سلام کے اندر پیدا ہونے والی خفگی کو مَیں محسوس کرتا رہا۔ بعد میں ڈاکٹر سلام نے مجھے بنجمن لی کے نام لکھا ہوا اپنا مختصر خط دکھایا جس میں تحریر تھا کہ ’’ڈیئر بنجمن! اگر تم کھلے عام میرے تحقیقی کام کو یوں نظرانداز کرکے الیکٹروویک ماڈل تخلیق کرنے کا کریڈٹ مجھے نہیں دو گے تو مَیں ذاتی طور پر تمہارا کیریئر ملیامیٹ کردوں گا۔‘‘ مَیں نے مبہوت ہوکر کہا کہ یہ خط آپ نہیں بھجواسکتے، یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے خط مجھ سے واپس لے لیا اور کہا کہ مَیں اگر چاہوں تو ضرور بھیجوں گا، مَیں اپنے تحقیقی کام کے لیے کریڈٹ کا مکمل حق دار ہوں۔

مجھے علم نہیں کہ انہوں نے یہ خط بنجمن کو ارسال کیا تھا یا نہیں لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ بنجمن اپنی بیوی اور ایک بچے سمیت سڑک کے ایک حادثے میں لقمۂ اجل بن گیا۔

بہرحال ڈاکٹر سلام نے ٹرینٹی کالج سے ڈاکٹریٹ حاصل کرنے میں میری مدد کی اور میری قابلیت پر اعتماد کرتے ہوئے امپیریل کالج لندن میں پوسٹ ڈاکٹرل فیلو کی ملازمت دی۔ فزکس کے بیسویں صدی کے جلیل القدر طبیعات دانوں کی ملاقاتوں میں سے عبدالسلام کے ساتھ میری آخری ملاقات خاص طور پر ترس دلانے والی ہے۔ ۱۹۹۰ء کی نصف دہائی میں یورپ کے سفر میں مَیں اُن سے ملاقات کے لیے اٹلی میں قائم اُن کے تھیوریٹیکل فزکس کے سینٹر پہنچا۔ یہ سینٹر فزکس کے لیے سلام کے جنون اور نوجوان ریسرچرز کے لیے اُن کی فکر کا عکاس تھا۔ یہ انسٹیٹیوٹ ۱۹۶۸ء میں Miramare Park میں تعمیر ہوا تھا اور جاذب نظر عمارتوں کا مجموعہ تھا جہاں ریسرچرز کے لیے دفاتر، لائبریری اور انتظامیہ کے دفاتر تھے۔ سلام کی پرائیویٹ رہائش گاہ گراؤنڈز میں تھی جہاں ان کی دوسری بیگم جو انگلش بائیالوجسٹ تھیں ان کو اکثر وزٹ کیا کرتی تھیں جبکہ پہلی بیگم پاکستان اور لندن کے درمیان سفروں پر ہوتی تھیں۔ انسٹیٹیوٹ کے مین فلور پر سلام کا وسیع دفتر تھا۔ دروازے پر لگی تختی سے پتہ چلتا تھا کہ یہاں سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالسلام موجود ہیں۔

مجھے معلوم تھا کہ اُن کی پارکنسن بیماری کی ایک غیرمعمولی قسم سے تشخیص ہوچکی ہے۔ ملاقات کے مقررہ وقت پر مَیں نے اُن کے دروازے پر دستک دی۔ نحیف آواز آئی: اندر آجائیں۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی فرش پر پینٹ کیے ہوئے سیاہ گہرے پاؤں کے نشان دیکھ کر مَیں حیران ہوگیا جو سلام کی میز سے دروازے کی طرف جاتے تھے۔ وہ ضعیف العمر ہوچکے تھے۔ اُن کے چمکدار سیاہ بال اور مونچھیں سفید ہوچکی تھیں اور وہ کمزور اور لاغر دکھائی دے رہے تھے۔ کمزور ہاتھوں کے اشارے سے انہوں نے مجھے اندر آنے کو کہا اور مَیں اُن کے قریب ہی ایک کرسی کی طرف بڑھا۔ اُن کے بازو اور ہاتھ تھرتھرا رہے تھے اور وہ گفتگو کرنے میں دقّت محسوس کررہے تھے لیکن انہوں نے مجھے ملنے کے لیے خود کو کھڑا کرہی لیا۔ اب مجھے فرش پر اُن پاؤں کے نشانوں کا مقصد سمجھ آگیا۔ ان نشانوں کا مقصد اُن کو ڈیسک سے دروازے تک گائیڈ کرنا تھا۔ یہ نشان مجھے کسی گھمبیر بدشگونی کی علامت لگ رہے تھے۔

انہوں نے میرا حال پوچھا۔ مَیں نے کہا: ٹھیک ہوں۔ وہ کہنے لگے: ’’تم خوش قسمت ہو جو اچھی صحت سے ہو، تم دیکھ رہے ہو مَیں ٹھیک نہیں ہوں۔‘‘ مَیں سینٹر کے مستقبل کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا کہ جب وہ اس کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے کے اہل نہیں رہیں گے۔ لیکن مجھے احساس ہوا کہ یہ مسئلہ اٹھانا بےحسی کی علامت ہوگا۔ پھر ہم سینٹر کی روزمرہ سرگرمیوں اور اس میں ہونے والی ریسرچ پر تبادلۂ خیال کرتے رہے۔ سلام نے نوبیل انعام کے حوالے سے اپنی تھیوری پر ریسرچ کی گفتگو کی اور کسی قدر ناراضی کا اظہار کیا کہ کچھ لوگ ابھی تک میری تھیوری پر یقین نہیں رکھتے۔ مجھے احساس ہوا کہ شاید انہوں نے میرا تازہ مقالہ پڑھا تھا جس میں مَیں نے الیکٹروویک تھیوری کو Higgs پارٹیکل کے بغیر دوبارہ ڈیزائن کیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کیا تم میرے ماڈل پر یقین رکھتے ہو؟ مَیں نے شک کا اظہار کیا اور کہا کہ تجربات سے ہی ثابت ہوسکے گا کہ Higgs پارٹیکل موجود ہے یا نہیںاور ان تجربات کے لیے چونکہ حد سے زیادہ اخراجات کی ضرورت ہے چنانچہ اس سربستہ راز کے حل کرنے سے شاید ہم بیس تیس سال دُور ہیں۔ میری بات سے ماحول افسردہ ہوگیا تھا کیونکہ سلام اپنی زندگی میں وہ نتیجہ نہیں دیکھ سکتے تھے جو اُن کی زندگی اور سائنسی کام کا محور تھا۔ مجھے اُس وقت تک اپنے زندہ رہنے کا بھی یقین نہیں تھا۔ مَیں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج کے حالات پچاس اور ساٹھ کی دہائی کی طرح نہیں ہیں جب ہم ایک قیاسی نظریہ وضع کرکے پیشگوئی کرتے اور چند ہی ماہ میں اس پر تجرباتی ٹیسٹ کرسکتے تھے۔ پھر مَیں نے انہیں ایک دوسرے سائنسدان کا واقعہ سنایا جو دہائیوں سے اپنا ایک نظریہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ وہ کہنے لگے ’’تم ٹھیک کہتے ہو، پارٹیکل فزکس کی دنیا اتنی تبدیل ہوچکی ہے کہ بعض بنیادی سوالات کے جواب ہم کبھی بھی معلوم نہیں کرسکیں گے۔‘‘

گفتگو کے اختتام پر مَیں اُٹھ کھڑا ہوا، اُن کے کانپتے ہاتھوں کو تھاما، الوداع کہا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے سر کو جنبش دی لیکن کچھ کہا نہیں۔ مَیں نے فرش پر لگے پاؤں کے نشانات پر چلنا شروع کردیا، دروازے کے پاس جاکر مُڑا اور دکھی دل کے ساتھ انہیں خداحافظ کہا۔

ہماری اس ملاقات کے دو سال بعد سلام رحلت کرگئے۔ اُن کا قائم کردہ سینٹر آج بطور ’’عبدالسلام انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس‘‘ اُس مقصد کے حصول میں لگا ہوا ہے جس کے لیے وہ قائم کیا گیا تھا۔ تاہم ابھی ڈاکٹر سلام کی تھیوری کی تجرباتی تصدیق ہونا باقی ہے۔

(نوٹ: یہ امر قابل ذکر ہے کہ محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی پیش کردہ الیکٹروویک تھیوری کی بنیاد میں موجود Higgs پارٹیکلز کی دریافت کی تصدیق آپ کی وفات کے کئی سال بعد لارج ہیڈران کولائیڈر کے ذریعے کیے جانے والے تجربات سے کی جاچکی ہے۔)

………٭………٭………٭………

آگ ۔ ہمارے غلاموں کی غلام

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۸؍مارچ ۲۰۱۴ء میں مکرم عمران احمد صاحب اپنے مضمون میں تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار کے والد مکرم محمد جمیل صاحب (ولد حبیب احمد صاحب) معلّم سلسلہ ہیں۔ درودشریف کا ورد کرنا اُن کی عادت ہے۔ خداتعالیٰ بھی اپنے فضل سے اُن کو بارہا معجزات دکھاتا رہا ہے۔ مثلاً ہمارا گھر جو ہماری زرعی زمین کے درمیان میں واقع ہے۔ والد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۹۴ء میں ایک بار جب مَیں رخصت پر گھر آیا ہوا تھا اور اپنی بہن کے ہمراہ گھر کی طرف جارہا تھا تو ہماری زمین سے کچھ فاصلے پر مسلح پولیس کی بڑی تعداد کھڑی دیکھی۔ پہلے تو مَیں نے سمجھا کہ شاید مخالفین نے ہمارے گھر پر حملہ کردیا ہے۔ لیکن قریب پہنچ کر علم ہوا کہ ہماری زمین کے ساتھ والی زمین میں ایک مسلح شخص چھپا ہوا ہے جو کسی کو قتل کرکے بھاگا ہے۔ کچھ دیر میں ایک مولوی بھی چند افراد کے ہمراہ وہاں پہنچا اور پولیس آفیسر کے قریب جاکر اُسے کوئی بات کہی جس پر پولیس آفیسر نے ہمسائے کی فصلوں کے ساتھ ہماری گنے کی فصل کو بھی آگ لگانے کی ہدایت دی۔ مَیں نے احتجاج کیا کہ ہماری فصل کو کیوں جلانے لگے ہو اس فصل کے درمیان تو ہمارا گھر ہے جس میں اس وقت پندرہ افراد موجود ہیں۔ لیکن وہ نہ مانا۔ اس پر مَیں نے کہا کہ پھر مجھے اتنی مہلت دو کہ مَیں اپنے گھر والوں کو اور مویشیوں کو باہر نکال لاؤں۔ اُس نے مجھے اجازت دے دی۔ لیکن ابھی مَیں تھوڑا ہی گھر کی طرف چلا تھا کہ اُس نے ہماری فصلوں کو آگ لگادی اور مسلح پولیس نے شدید فائرنگ بھی شروع کردی۔ مَیں بھاگ کر گھر پہنچا اور سب کو جلدی سے نکلنے کا کہا اور مویشیوں کو کھول دیا۔ لوگ کھڑے ہوکر ہمارا تماشا دیکھ رہے تھے اور خوش ہورہے تھے کہ آج مرزائی اپنے گھر سمیت جل جائیں گے۔ بہرحال مَیں گھر والوں کو لے کر جلدی جلدی زمین کے دوسری طرف نکل گیا۔ اُدھر جنگل تھا۔ ہم وہاں انتظار کرتے رہے۔ جب فائرنگ ختم ہوئی تو ہم واپس گھر کی طرف چلے۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ اگرچہ ہماری گنے کی فصل اور باغ تو جل چکا تھا لیکن گھر مکمل طور پر محفوظ رہا تھا حالانکہ گھر میں مویشیوں کے لیے گھاس پھونس کا چھپر تھا، ٹریکٹر بھی کھڑا تھا اور ڈیزل کا ڈرم بھی پڑا ہوا تھا۔ مخالفین بھی یہ دیکھ کر حیران تھے۔

والد صاحب نے یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ ۲۰۰۰ء میں مَیں ضلع لاہور کے ایک نواحی علاقے کی احمدیہ مسجد میں متعین تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا کہ مخالفین نے منصوبے کے تحت ایک لڑکے کو احمدیہ مسجد میں بھجوایا جو مجھ سے احمدیت کے بارے میں سوال و جواب کرتا رہا۔ اُس نے روزہ بھی ہمارے ساتھ افطار کیا اور مغرب کی نماز پڑھ کر چلاگیا۔ رات ہوئی تو اچانک لاٹھیوں اور پتھروں سے مسلّح قریباً ایک سو افراد مسجد میں زبردستی داخل ہوکر مجھے میرے کمرے میں لے آئے اور مجھے غصہ دلانے کے لیے گالیاں دیں لیکن مَیں درودشریف کا ورد ہی کرتا رہا۔ وہ گستاخانہ سوال کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ کی شان میں بدزبانی کرتے تومَیں بار بار کہتا کہ مجھے جو مرضی کہہ لو لیکن حضرت اقدسؑ کے بارے میں کچھ نہ کہو لیکن اُن پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ اسی دوران جب مَیں کوئی حوالہ ڈھونڈنے کے لیے سٹول پر کھڑا ہوکر کتاب تلاش کررہا تھا تو ایک مولوی کے زور سے کھینچنے پر مَیں گر گیا اور میز کا ایک کونہ میری کمر میں ایسا لگا کہ جیسے ہڈی ٹوٹ گئی ہو، تب سے وہاں مستقل درد رہنے لگ گیا۔ آخر چار گھنٹے بحث کرنے کے بعد اُن مخالفین میں سے ہی بعض نے محسوس کیا کہ میری طرف سے جو بھی جواب دیا جاتا ہے اُن کے مُلّاؤں کے پاس دلیل کی بجائے صرف گالی گلوچ ہی ہے۔ اس پر انہوں نے کہنا شروع کیا کہ اب ہمیں چلنا چاہیے کیونکہ صبح روزہ بھی رکھنا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُس روز میری جان و مال کی حفاظت بھی کی اور علمی لحاظ سے بھی احمدیت کی صداقت غیروں پر واضح کردی۔

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں: چار روحانی درجات و کمالات عالیہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button