شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
دوسری شرط بیعت
’’یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے‘‘۔
اس ایک شرط میں نو قسم کی برائیاں بیان کی گئی ہیں کہ ہر بیعت کرنے والے کو، ہراس شخص کو جو اپنے آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتاہے ان برائیوں سے بچناہے۔
سب سے بڑی برائی ۔ جھوٹ
اصل میں توسب سے بڑی برائی جھوٹ ہے ۔ اس لئے جب کسی شخص نے آنحضرت ﷺ سے یہ کہاکہ مجھے کوئی ایسی نصیحت کریں جس پر مَیں عمل کرسکوں کیونکہ میرے اندر بہت ساری برائیاں ہیں اورتمام برائیوں کومَیں چھوڑ نہیں سکتا۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ عہد کرو کہ ہمیشہ سچ بولو گے اور کبھی جھوٹ نہیں بولو گے ۔اس وجہ سے ایک ایک کرکے اس کی ساری برائیاں چھوٹ گئیں کیونکہ جب بھی اسے کسی برائی کا خیال آیا اور ساتھ ہی یہ خیال آتاکہ جب پکڑاگیا تو آنحضرت ﷺکے سامنے پیش ہوں گا۔جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیاہے۔ سچ بولا تو یاتو شرمندگی ہوگی یا سزا ملے گی۔ اس طرح آہستہ آہستہ کرکے اس کی تمام برائیاں ختم ہوگئیں۔ اصل میں تو جھوٹ ہی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
اب اس کی مَیں مزید وضاحت کرتاہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذٰلِکَ وَمَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَاُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْاقَوْلَ الزُّوْرِ (الحج: آیت۳۱)
اس کاترجمہ یہ ہے : اور جو بھی اُن چیزوں کی تعظیم کرے گا جنہیں اللہ نے حرمت بخشی ہے تو یہ اس کے لئے اس کے ربّ کے نزدیک بہتر ہے۔ اور تمہارے لئے چوپائے حلال کر دئیے گئے سوائے ان کے جن کا ذکر تم سے کیا جاتا ہے۔ پس بتوں کی پلیدی سے احتراز کرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔
یہاںشرک کے ساتھ جھوٹ بھی رکھاگیاہے ۔پھر فرمایا: اَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآءَ مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی اِنَّ اللّٰہَ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ فِیْ مَا ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ (الزمرآیت۴) ترجمہ :خبردار! خالص دین ہی اللہ کے شایانِ شان ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوست اپنا لئے ہیں (کہتے ہیںکہ) ہم اس مقصد کے سوا اُن کی عبادت نہیں کرتے کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہوئے قرب کے اونچے مقام تک پہنچادیں۔ یقیناً اللہ اُن کے درمیان اُس کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ اللہ ہرگز اُسے ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا (اور) سخت ناشکرا ہو۔
صحیح مسلم میں ایک حدیث ہے۔عبداللہؓ بن عمرو ابن العاصؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار باتیں ایسی ہیں جو جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے۔ اورجس میں ان میں سے ایک بات پائی جائے اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے۔
(۱)جب وہ گفتگوکرتاہے توکذب بیانی سے کام لیتا ہے۔ (جب وہ باتیں کررہاہوتاہے تواس میں جھوٹ کی ملاوٹ ہوتی ہے اور جھوٹی باتیں کررہاہوتاہے)۔
(۲) اورجب معاہدہ کرتاہے توغداری کامرتکب ہوتا ہے۔
(۳) اور جب وعدہ کرتاہے تو وعدہ خلافی کرتاہے۔ (یہ بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے)۔
(۴) اورجب جھگڑتاہے تو گالی گلوچ سے کام لیتاہے ۔
یہ ساری باتیں جھوٹ سے تعلق رکھنے والی ہیں۔
پھر ایک حدیث ہے۔ حضرت امام مالکؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ کہا کرتے تھے۔ تمہیں سچائی اختیار کرنی چاہئے کیونکہ سچائی نیکی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے اور نافرمانی جہنم تک پہنچا دیتی ہے ۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ بولا اور فرمانبردار ہو گیا اور جھوٹ بولا تو مبتلاء فجور ہو گیا۔ (مؤطا امام مالک۔ کتاب الجامع۔ باب ماجاء فی الصدق و الکذب)
پھر مسند احمد بن حنبل کی ایک حدیث ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے کسی چھوٹے بچے کوکہا آئو مَیں تمہیں کچھ دیتاہوںپھر وہ اس کو دیتاکچھ نہیں تو یہ جھوٹ میں شمار ہوگا۔(مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۲۔ صفحہ ۴۵۲۔ مطبوعہ بیروت)
یہ تربیت کے لئے بہت ضروری ہے۔ بچوں کی تربیت کے لئے دیکھیں مذاق مذاق میں بھی ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ ورنہ اسی طرح مذاق مذاق میں ہی بچوں کو بھی غلط بیانی کی عادت پڑ جاتی ہے جو آگے چل کر جب پکی عادت ہوجائے تو جھوٹ بولنے میں بھی عار نہیں سمجھتے اوراس کااحساس ہی ختم ہوجاتا ہے ۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اورنیکی جنت کی طرف۔ اور جو انسان ہمیشہ سچ بولے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ صدیق لکھا جاتاہے اورجھوٹ گناہ اورفسق وفجور کی طرف لے جاتاہے اور فسق وفجور جہنم کی طرف ۔ اور جو آدمی ہمیشہ جھوٹ بولے و ہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذّاب لکھا جاتاہے۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الادب۔ باب قول اللہ اتّقوا اللہ وکونوا مع الصّادقین)
حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو بن العاصؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ جنت کاعمل کیاہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا: سچ بولنا۔ اور جب کوئی بندہ سچ بولتا ہے تو وہ فرمانبردار بن جاتاہے۔ او ر جب وہ فرمانبردار بن جاتاہے تو حقیقی مومن بن جاتاہے۔ اور جب کوئی حقیقی مومن ہوجاتاہے تو انجامکار وہ جنت میں د اخل ہو جاتاہے۔ اس شخص نے دوبارہ دریافت کیا کہ یارسول اللہ دوزخ میں لے جانے والا عمل کون سا ہے۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا : جھوٹ ۔ ایک شخص جھوٹ بولتاہے تو نافرمانی کرتاہے اور جب کوئی نافرمانی کرتاہے توکفر کرتاہے اورجب کوئی کفر پر قائم ہو جاتاہے تو انجامکار وہ دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۲۔ صفحہ ۱۷۶۔ مطبوعہ بیروت)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۱۷ تا ۲۳)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں




