آنحضورﷺ کی بے مثال شکرگزاری۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۷؍اگست ۲۰۲۶ء
٭… اللہ اپنے بندے کے اِس فعل پر خوش ہوتا ہے کہ جب وہ کوئی لقمہ کھائے یا کوئی گھونٹ پیے تو اُس پر خدا کی حمد کرے
٭… اگر ہمیں بھی رزق میں برکت کی خواہش ہے تو ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی ہرچھوٹی سے چھوٹی چیز پر اس کا شکر کرنا چاہیے
٭… صحابہؓ کو پھٹا ہوا کپڑا ملتا تو اُن کا سر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتا… وہ کہتے کتنا اچھا کپڑا ہے جو ہمارے خدا نے ہمیں دیا انہیں اگر سوکھی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی چار دن بعد ملتا تو خوشی سے ان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوجاتی اور وہ کہتے الحمدللہ
٭… یہ نسخہ ہے جو عمومی طور پر ہراحمدی کو اور بالخصوص واقفینِ زندگی کو اپنی شکر گزاری کے معیار بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اس کی بہت ضرورت ہے۔ اسی طرح اپنے بیوی بچوں میں بھی اس کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جس مقصد کے لیے واقفین نے اپنےآپ کو وقف کیا ہے وہ بہت عظیم مقصد ہے اور عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عظیم مقصد حاصل کرنے والوںکے نمونے سامنے ہونے چاہئیں
٭… آنحضرتﷺ کی یہ حالت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکرگزار ہوتے ہوئے اپنی شکرگزاری کو انتہا تک پہنچائیں۔ شکر گزاری بیٹھ جانے کا نام نہیں ہے۔ شکرگزاری عمل میں مزید ترقی چاہتی ہے
٭… آپؐ نے عبدِ شکور ہونے کا بھی اعلیٰ ترین معیار حاصل کیا اور ہمیں تلقین فرمائی کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبد ہونے کا حق اداکرنا ہے تو تم بھی عبدِ شکور بنو
٭… خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نتیجے میں سُستی نہیں ہونی چاہیے بلکہ عبادت گزاری کے نتیجے میں آگے سے آگےبڑھنا چاہیے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۷؍اگست ۲۰۲۶ء بمطابق ۷؍ظہور ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۷؍اگست ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
آنحضرتﷺ کے شکرگزاری کے معیار، آپؐ کے عمل اور ارشادات کا ذکر جلسے سے پہلے مَیں نے کیا تھا۔ اسی ضمن میں آج بھی بیان کروں گا۔
اللہ تعالیٰ کے شکر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے چھوٹی سے چھوٹی بات پر شکر کرنے کی آپؐ نے ہدایت فرمائی۔ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ
اللہ اپنے بندے کے اِس فعل پر خوش ہوتا ہے کہ جب وہ کوئی لقمہ کھائے یا کوئی گھونٹ پیے تو اُس پر خدا کی حمد کرے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبیﷺ گھر میں داخل ہوئے اور روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، آپؐ نے روٹی کا ٹکڑا اٹھایا، صاف کیا اور اُسے کھالیا۔ پھر فرمایا کہ اے عائشہ! قابلِ احترام شئے کی عزت کی کیا کرو۔ جب یہ رزق کی نعمت کسی قوم سے چلی جاتی ہے تو پھر یہ انہیں واپس نہیں ملتی۔
پس! یہ آپؐ کا عمل تھا۔
اگر ہمیں بھی رزق میں برکت کی خواہش ہے تو ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی ہرچھوٹی سے چھوٹی چیز پر اس کا شکر کرنا چاہیے۔
حضرت ابنِ عباس بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حضورﷺ حضرت امِ ہانیؓ کے گھر تشریف لے گئے، آپؐ کو بھوک لگی ہوئی تھی۔آپؐ نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے جسے ہم کھائیں؟ انہوں نے بتایا کہ سوکھی ہوئی روٹی کے ٹکڑوں کے سوا میرے پاس اور کچھ نہیں۔ مجھے شرم آتی ہے کہ مَیں یہ آپؐ کی خدمت میں پیش کروں۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہی لے آؤ۔پھر آپؐ نے روٹی کے سوکھے ٹکڑوں کو پانی میں ڈال کر نرم کیا۔ وہ نمک لے آئیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا کوئی سالن ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ سوائے تھوڑے سے سرکے کے اور کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہی لے آؤ۔ آپؐ نے اسے اپنے کھانے پر انڈیلا اور اللہ عزّوجلّ کی حمد کی اور فرمایا کہ سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے۔ وہ گھر غریب نہیں ہوتا جس میں سرکہ ہو۔
حضورِانور نے فرمایا کہ یہ تھے آپؐ کے شکر گزاری کے معیار۔ ہم ان ترقی یافتہ ملکوں میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بےشمار نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں پھر بھی اُس کی شکرگزاری کا حق ادا نہیں کرتے۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ تمہارے جسم پر کبھی پھٹا ہوا کپڑا ہو تو تم رونے لگ جاتے ہو اورکہتے ہو ہماری قسمت کیسی پھوٹ گئی کہ ہمیں پہننے کو پھٹا ہوا کپڑا ملا۔
مگر
صحابہؓ کو پھٹا ہوا کپڑا ملتا تو اُن کا سر اللہ تعالیٰ کے حضور جُھک جاتا… وہ کہتے کتنا اچھا کپڑا ہے جو ہمارے خدا نے ہمیں دیا۔ انہیں اگر سوکھی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی چار دن بعد ملتا تو خوشی سے ان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوجاتی اور وہ کہتے الحمدللہ۔
حضرت مصلح موعودؓ افرادِ جماعت کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ جب تک تمہیں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ خدا نے تمہیں کس غرض کے لیے پیدا کیا ہے …اس وقت تک تم نے کام کیا کرنا ہے۔ تم کو خدا نے اُس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تمہارا دل خوشی کی لہروں سےہروقت پُر رہنا چاہیے اور تمہارے ہر وقت بیداری اور ہوشیاری نظر آنی چاہیے۔ اگر یہ چیز تمہارے اندر پیداہوجائے تو فوری طور پر تم میں وہ قوت پیدا ہوجائے گی کہ قلیل سے قلیل خوراک بھی تمہیں کام کرنے کے قابل بنادے گی۔
حضورِانور نے فرمایا کہ
یہ نسخہ ہے جو عمومی طور پر ہراحمدی کو اور بالخصوص واقفینِ زندگی کو اپنی شکر گزاری کے معیار بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اس کی بہت ضرورت ہے۔ اسی طرح اپنے بیوی بچوں میں بھی اس کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جس مقصد کے لیے واقفین نے اپنےآپ کو وقف کیا ہے وہ بہت عظیم مقصد ہے اور عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عظیم مقصد حاصل کرنے والوں کے نمونے سامنے ہونے چاہئیں۔
جب آنحضرتﷺ پانی نوش فرماتے تو برتن سے ہٹ کر تین سانسوں میں پانی پیتے، ہر سانس پر اللہ کی حمد کرتے اور آخری سانس پر اللہ کا شکر کرتے۔
حضورِانورنے صحیح بخاری سے حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک تفصیلی روایت پیش فرمائی جس میں وہ شدید بھوک کے عالَم میں راہ گزر پر بیٹھے گزرنے والوں سے قرآن کریم کی اُس آیت کے معنی پوچھتے تھے جس میں سوال نہ کرنے والوں کا خیال کرنےکا حکم ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے معنی پوچھے مگر وہ حضرت ابوہریرہؓ کی کیفیت نہ سمجھے۔ مگر جب انہوں نے آنحضورﷺ سے اُس آیتِ کریمہ کے معنی دریافت کیے تو آپؐ مسکرائے اور فرمایا کہ میرے پیچھے آجاؤ۔ پھر آنحضورﷺ نے انہیں ایک دودھ کا پیالہ دیا اور اس دودھ کے پیالے سے اہلِ صُفّہ نے دودھ پیا اور اس دودھ کے چھوٹے سے پیالے میں ایسی برکت پڑی کہ سب نے سیر ہوکر دودھ پیا مگر اس پیالے میں دودھ پھر بھی بچ رہا۔ اس کے بعد آنحضورﷺ نے وہ دودھ کا پیالہ لیا اور سب سے پہلے اللہ کا شکر کیا اور پھر وہ بچا ہوا دودھ پیا۔
آنحضورﷺ ہمیشہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتے اور ان کا عمدہ رنگ میں ذکر کیا کرتے۔ مثلاً حضرت خدیجہؓ کا ہمیشہ ذکر کیا کرتے۔ اسی طرح حضرت ابوبکرؓ کا ذکر بھی ہمیشہ ایسے رنگ میں فرمایا کرتے تھے۔
جب مسلمانوں پر مظالم ڈھائے گئے تو انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور شاہِ حبشہ نجاشی نے انہیں پناہ دی۔ رسول اللہﷺ نے اُس بادشاہ کے اِس احسان کو ہمیشہ یادرکھا اور ہر موقعے پر اس احسان کا ذکر فرمایا۔
غزوۂ خیبر کے بعد راستے میں آنحضرتﷺ کی شادی حضرت صفیہؓ سے ہوئی۔ شادی والی رات حضرت ابوایوب خالد بن زیدؓ نے رات بھر آپؐ کے خیمے کے باہر پہرہ دیا۔ جب آپؐ صبح بیدار ہوئے اور انہیں پہرہ دیتے دیکھا تو ان کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے آپؐ نے انہیں دعا دی کہ اے اللہ! تُو ابوایوب کی اُسی طرح حفاظت فرماجس طرح رات بھر اُس نے میری حفاظت کی۔
حضرت عمرو بن اخطبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضورﷺ نے پانی طلب فرمایا۔ مَیں آپؐ کے لیے پانی لایا، اُس میں ایک بال تھا، مَیں نے وہ بال نکال دیا۔ آپؐ نے مجھے دعا دی کہ اے اللہ! اسے خوبصورت بنادے۔
حضرت انسؓ کے لیے آپؐ نے مال و اولاد میں برکت کی دعا دی، تو حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میرا مال بہت زیادہ ہے اور میری اولاداور اولاد کی اولاد کی تعداد آج سَو تک پہنچتی ہے۔
آپؐ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس شخص پر احسان کیا گیا اور اس نے اُس کا ذکر کیا تو اس نے اس کا حق ادا کردیا اور جس نے اسے چھپایا اس نے اُس کی ناشکری کی۔
آنحضورﷺ تحفہ قبول فرماتے اور اس کا بدلہ بھی دیتے۔ فرمایا جس شخص کو تحفہ دیا جائے تو اگر اس کی طاقت ہو تو تحفے کا بدلہ دے اور اگر طاقت نہ ہو تو تحفہ دینے والے کی تعریف کرے۔
آنحضورﷺ رات کو نماز میں اتنا کھڑا رہتے کہ آپؐ کے پاؤں پھٹ جاتے، یہ دیکھ کر حضرت عائشہؓ نے کہا کہ یارسول اللہﷺ! آپؐ ایسا کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپؐ کو پہلے بھی اور بعد میں بھی گناہوں سے محفوظ رکھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ کیا مجھے پسند نہیں کہ مَیں شکرگزار بن جاؤں۔
آنحضورﷺ نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپؐ کے پاؤں سوجھ جاتے۔ صحابہؓ کہتے کہ آپؐ اس قدرآہ و زاری کیوں کرتے ہیں تو آپؐ فرماتے کیا مَیں اپنے ربّ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔
حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ
آنحضرتﷺ کی یہ حالت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکرگزار ہوتے ہوئے اپنی شکرگزاری کو انتہا تک پہنچائیں۔ شکر گزاری بیٹھ جانے کا نام نہیں ہے۔ شکرگزاری عمل میں مزید ترقی چاہتی ہے۔
آنحضرتﷺ تقویٰ کے اعلیٰ ترین معیار پر تھے۔ اس لیے
آپؐ نے عبدِ شکور ہونے کا بھی اعلیٰ ترین معیار حاصل کیا اور ہمیں تلقین فرمائی کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبد ہونے کا حق اداکرنا ہے تو تم بھی عبدِ شکور بنو۔
جوں جوں اللہ تم پر اپنے فضل فرماتا ہے ویسے ہی تم اپنی عبادت کے معیار اونچے کرو اور شکر گزاری کرو۔
خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نتیجے میں سُستی نہیں ہونی چاہیے بلکہ عبادت گزاری کے نتیجے میں آگے سے آگےبڑھنا چاہیے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ نادان ہے وہ شخص جس نے کہا کہ تیرے کَرم ہی ہیں جنہوں نے مجھے گستاخ بنا دیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کرم ہیں جنہوں نے مجھے شکرگزار کی جگہ گستاخ بنادیا ہے۔ فرمایا خدا تعالیٰ کے فضل انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے، یہ وہ غلط کہتا ہے اور سرکش نہیں بنایا کرتےبلکہ اور زیادہ شکرگزار اور فرمانبردار بنایا کرتے ہیں۔ پس! تم لوگ پہلے سے زیادہ فرمانبردار بن جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو بھی تمہیں دیا گیا ہے اگر تم اس پر شکر کرو گے تو تمہیں مَیں اور زیادہ دوں گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی شکر گزار بنائے،حقیقی عابد بنائے،ہم ہمیشہ اس کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنتےرہیں۔
٭…٭…٭




