تعارف کتاب

آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس دہلی ۱۹۳۱ء میں خطبہ صدارت(قسط ۷۹)

(اواب سعد حیات)

(از چودھری سر ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ )

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کے ایک صحابی حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے مختلف منصبوں اور حیثیتوں سے دین، انسانیت اور امت مسلمہ کی غیر معمولی خدمت کی توفیق بخشی۔مذہبی و دینی لحاظ سے قابل قدرخدمات کے ساتھ ساتھ آپ نے بطور سیاست دان اورقانون دان بھی قابل رشک زندگی گزاری۔

آپ اپنی خود نوشت ’’تحدیث نعمت ‘‘میں لکھتے ہیں کہ ’’دسمبر ۱۹۳۱ء میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس تھا۔ لیگ کونسل کی طرف سے مجھے صدارت کی دعوت دی گئی اور میں نے قبول کرلی… مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس نئی دہلی میں ہوا۔خطبہ صدارت پڑھا گیا۔… ‘‘(صفحہ ۲۹۰)

تاریخ احمدیت جلد ۵ میں مؤلف نے ’’ چوہدری ظفراللہ خان صاحب کا ایک اہم مکتوب (مورخہ ۱۰ دسمبر ۱۹۳۱ء) بحضور سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز (بسلسلہ اجلاس مسلم لیگ دہلی) ‘‘کا عنوان بناتے ہوئے صفحہ ۳۰۱ سے ۳۰۶ پر اس قلمی خط کا عکس درج ہے۔ جس میں حضرت چودھری صاحبؓ مقیم Swiss Hotel Delhi نے حضرت مصلح موعودؓ کے نام لکھا کہ ’’مجھے ابھی اطلاع ملی ہے کہ خاکسار کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کا جو دہلی میں ۲۶-۲۷کو ہونے والا ہے صدر منتخب کیا گیاہے۔… اس موقع پر ذمہ داری بھی بہت ہے ۔ غالباً ایسا اہم سیاسی موقع پہلے نہ ہوا ہوگا۔اس لیے خاکسار نے حضور کی منظوری کی امید میں اور اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرتے ہوئے اسے قبول کرلیا ہے۔اور زیادہ تر اس رنگ میں ایسے خیالات کے لحاظ سے اسے قبول کیا ہے کہ اس موقع پر مسلمانان ہند کو حضور کی زبان بن کر سیاسی مشورہ دوں اور کسی حد ان کی سیاسی رہنمائی کرسکوں۔ اس لیے معروض ہوں کہ حضور کمال ذرّہ نوازی اور شفقت سے اپنا قیمتی وقت نکال کر ایڈریس کا مسودہ لکھوا دیں اور خاکسار کو بھجوادیں۔ خاکسار اوسے ترجمہ کرلے گا۔ ایڈریس دونوں زبانوں میں چھپےگااردو میں بھی اور انگریزی میں بھی۔ گو پڑھا غالباً انگریزی میں جائیگا۔ حضور اندازہ فرماسکتے ہیں کہ وقت بہت ہی مختصر بلکہ ناکافی ہے۔ … ‘‘

لکھا ہے کہ مسلم لیگ کا اجلاس دہلی۲۶؍دسمبر۱۹۳۱ء کو مسجد فتح پوری کے جیون بخش ہال میں زیر صدارت جناب چودھری ظفر اللہ خان صاحب منعقدہونا قرار پایا تھا۔ لیکن کئی روز سے احراریوں اور دوسرے کانگریسی علماء نے جلسہ میں رکاوٹ ڈالنے اور چودھری صاحب کو محض احمدی ہونے کی وجہ سے بدنام کرنے میں اپنی تمام تر کوششیں صرف کر دیں۔ آپ کا سیاہ جھنڈیوں سے استقبال کیا اور بالآخر ہال پر بھی قبضہ کر لیا۔ جس پر مسلم لیگ کے ایک سو مندوبین خان صاحب نواب علی صاحب کی کوٹھی واقعہ کیلنگ روڈ نئی دہلی میں جمع ہوئے۔ خان صاحب ایس۔ ایم عبداللہ صدر مجلس استقبالیہ کے خطبہ کے بعد سر مولوی محمد یعقوب صاحب سیکرٹری مسلم لیگ نے لیگ کونسل کے انتخاب کے مطابق چودھری ظفر اللہ خان صاحب سے فرائض صدارت ادا کرنے کی درخواست کی اور چودھری صاحب کرسی صدارت پر رونق افروز ہوئے اور ایک مبسوط فاضلانہ خطبہ صدارت پڑھ کر سنایا۔

اس خطبہ صدارت میں آپ نے مسلم نقطہ نگاہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ملک کے تمام پیچیدہ اور لاینحل مسائل مثلاً وفاق،وفاقی مجالس قانون، مالیات وفاق، حق رائے دہندگی، عدالت وفاق، صوبجاتی خودمختاری، مسلمانوں کے اساسی حقوق وغیرہ پر سیر حاصل روشنی ڈالی اور نہایت صاف اور واضح لفظوں میں مسلمانوں کے موقف کی معقولیت مہر نیم روز کی طرح روشن کر دکھائی۔ سیکرٹری مسلم لیگ کے الفاظ میں یہ اجلاس عدیم النظیر تھا۔ اور اس میں کونسل کے ارکان نے غیر معمولی تعداد میں شرکت کی۔

یہ خطبہ صدارت مسلم لیگ کی تاریخ میں نہایت درجہ اہمیت رکھتا ہے جسے اسلامی پریس نے بے حد سراہا۔ روزنامہ اخبار’’انقلاب‘‘لاہور نے یکم جنوری ۱۹۳۲ء کے پرچہ میں خطبہ صدارت درج کرتے ہوئے لکھا:’’چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس دہلی کے صدر کی حیثیت سے جو خطبہ پڑھا۔ اس میں سیاسیات ہند اور سیاسیات اسلامی کے تمام مسائل پر نہایت سلاست سادگی اور سنجیدگی سے اظہار خیالات فرمایا۔‘‘

اخبار’’الامان‘‘ دہلی نے ۳۰دسمبر ۱۹۳۱ء میں لکھا: ’’جہاں تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی تجاویز اور اس کے خطبہ صدارت کا تعلق ہے اس میں پوری پوری مسلمانان ہند کی ترجمانی کی گئی ہے۔ اور اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ بروقت مسلمانان ہند کی صحیح ترجمانی کرنے میں یہ اجلاس گزشتہ جلسوں سے زیادہ کامیاب رہا۔‘‘

جیسا کہ ذکرہوچکا حضرت چودھری صاحب نے مسلمانان ہند کی آزادی، فلاح اور بہبودکے لیے مختلف نوعیت کے غیر معمولی کام کیے۔ ان میں سے ایک یہ خطبہ صدارت بھی تھا۔ مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ دہلی ۱۹۳۱ء میں آپ کا خطبہ صدارت کتابی شکل میں ’’جامع پریس دہلی‘‘ نے شائع کیا ۔ آپ تب پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ممبر تھے۔ یہ خطبہ پہلے جماعت کے آرگن ’’ الفضل ‘‘ قادیان میں بالاقساط شائع ہوا، بعد میں اسے کتابی شکل دی گئی۔

کاتب کی خوبصورت لکھائی میں تیار شدہ اس کتاب کے ۴۵ صفحات ہیں ۔ اس کے بعض حصے بطور تعارف ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔

آغاز کرتے ہوئے حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرات !آپ نے ایک ایسے موقع پر جب ہمارے ملک کے سیاسی حالات غیر معمولی طورپر نازک صورت اختیار کرچکے ہیں صدارت لیگ کی دعوت دے کر مجھے ایک ایسا اعزاز بخشا ہے جس کےلیے میں بے حد ممنون ہوں۔

یہ ایک ایسا منصب ہے کہ آپ جس مسلمان کو بھی عطا کردیجئے گا وہ بجا طورپر اپنی ذات پر فخر کرسکتا ہے۔

اس لیے کہ اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اس کی ذات قوم کی نگاہوں میں کہاں تک اعتماد کے قابل ہے ۔ میرے دل میں اس اعتماد کی غیر معمولی قدر ہے۔ اور یقین کیجئے کہ میں ان ذمہ داریوں سے بے خبر نہیں جو اس منصب کی قبولیت سے مجھ پر عائد ہوتی ہیں۔ جب میں ان ممتاز ہستیوں کا خیال کرتا ہوں جنہوں نے وقتاً فوقتاً لیگ کی کرسی صدارت کو اپنے وجود سے زینت بخشی ہے تو اس وقت میں اپنی کوتاہیوں کو اور بھی زیادہ محسوس کرنے لگتا ہوں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ جس وسعت قلبی سے کام لےکر آپ نے مجھے یہ عہدہ عطا کیا ہے میں ہرگز اس کا اہل نہیں تھا۔…

اس کے بعد مصنف نے ان دو وجوہات کا ذکر کیا ہے جن کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اس اہم منصب پر کام کرنا قبول کیا ہے۔ اور کہا کہ اب ہم غور کریں گے کہ کسی اطمینان بخش حل پر پہنچ جائیں جو صرف ہماری ہی نہیں بلکہ مسلمانان ہند کی آئندہ نسلوں کی سلامتی ، سود و بہبود اور عزت و وقعت کا انحصار ہے۔

تمہیدصفحہ ۳ پر درج ہے۔ کسی دستور کے لوازم صفحہ ۴ اور ۵ پر بتاتے ہوئے گول میز کانفرنس کے اجلاسات پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ صفحہ ۷ پر وفاق یعنی آل انڈیا فیڈریشن اور صفحہ ۸ پر فاضل مصنف نے صیغہ ہائے حکومت کی ترتیب پر روشنی ڈالی ہے۔ صفحہ دس پر مصنف نے لکھا کہ ’’اگر ہم تمام صیغہ ہائے حکومت کو مخصوص وفاقی، مرکزی اور صوبجاتی عنوانات میں ترتیب دینے کے لیے نہایت احتیاط کے ساتھ جامع اور مکمل فہرستیں اور جدولیں طیار کرلیں تب بھی اس امر کی ضرورت ہوگی کہ ان معاملات کےلیے جو دفعۃً پیش آجائیں اور جن کو اوپر کے کسی عنوان کے ماتحت ترتیب نہ دیا گیا ہو دستور میں کوئی نہ کوئی قاعدہ موجود ہو۔ ایسے معاملات کے لیے فاضل کی اصطلاح اختیار کی جاتی ہے ۔… ‘‘ یہاں ’’فاضل اختیارات‘‘ پر بحث کی گئی ہے۔ اگلے صفحہ پر وفاقی مجلس قوانین یعنی فیڈرل لیجسلیچر کا ذکر ہے۔ پھر مالیات وفاق یعنی فیڈرل فنانس پر بات کی گئی ہے۔ صفحہ ۱۴ پر حق رائے دہندگی اور پھر ملازمتہائے ہند یعنی آل انڈیا سروسز کے موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ عدالت وفاق یعنی فیڈرل کورٹ اور مسئلہ دفاع کاذکر صفحہ ۱۶ پر ہے۔

فاضل مصنف اپنے مطبوعہ خطبہ صدارت میں صوبجاتی خودمختاری کے بعد مسلمانوں کی حیثیت اور پھر تحفظات مفاد اسلامی کو سامنے لائےہیں۔ صفحہ ۲۱ پر اساسی حقوق اور صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان پر بات کی گئی ہے۔ اس کے بعد ملازمتوں اور مسئلہ نیابت کو اٹھایا گیا ہے۔ وفاقی مجلس قانون ساز، صوبہ ہائے اقلیت، صفحہ ۲۴پر ’’پنجاب اور بنگال ‘‘کے حوالہ سے سیرحاصل بات کی گئی ہے۔

صفحہ ۲۸ پر پاسنگ یعنی ویٹیج اور جداگانہ انتخابات پر اعتراضات اور مشکلات کا حل بتایا گیا ہے۔

صفحہ ۳۲ پر ’’حکومت کا فرض‘‘ عنوان بناکر ملک کے بہترین مصالح اور مقتضیات اور کوششوں کاذکر کیا گیا ہے۔

مطبوعہ خطبہ صدارت کے صفحہ ۳۴ پر ’’ کشمیر‘‘ کے ذیلی عنوان کے ماتحت لکھا کہ ’’ حضرات ! اب میں آپ کی جازت سے مختصراً ان مسائل کا تذکرہ کرونگا جنکا اگرچہ مسئلہ دستور کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں مگر جن کو اس بارے میں کلیۃً نظر انداز کردینا ناممکن ہے ۔ ان میں پہلا مسئلہ کشمیر کا ہے جو نہ صرف حدود ریاست بلکہ برطانوی علاقے میں بھی مسلمانوں کے پیش نظر ہے…‘‘

کشمیر کے مسئلہ کو مختلف پہلوؤں سے نمایاں کرکے اس کا حل بتانے کے بعد مصنف نے انارکی یعنی ملک میں جاری انقلابی جرائم پر بات کی ہے۔

صفحہ ۳۹ پر لیگ کے آئین کی بات شروع ہوتی ہے۔ اور آخر پر وقت کی رعایت سے اتحاد لیگ و کانفرنس پر بھی قدم اٹھانے کی راہ دکھائی ہے۔

صفحہ ۴۵ پر دعا کرتے ہوئے خطبہ صدارت کو یوں ختم کیا کہ ’’ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے مشوروں اور آپ کی بحثوں میں آپ کی ہدائیت اور رہنمائی فرمائے تاکہ آپ کی جدوجہد نہ صرف آپ کی ملت بلکہ ان تمام قوموں کےسود و بہبود اور فلاح و کامرانی کا موجب ہو جو اس ملک میں آباد ہیں۔ آمین‘‘

مزید پڑھیں: اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ…کیا تم عقل نہیں کروگے؟

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button