عوامی جمہوریہ کونگو کے ریجن باندوندو (Bandundu) کا سترھواں جلسہ سالانہ
مکرم فرید احمد بھٹی صاحب مبلغ سلسلہ باندوندو ریجن، کونگو تحریر کرتے ہیں کہ الحمدللہ جماعت احمدیہ باندوندو ریجن کو اپنا سترھواں جلسہ سالانہ مورخہ۲۴و۲۵؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کو منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ یہ ریجن صوبہ کوویلو (Kwilu) اور مائی دومبے(Mai-Ndombe)کے بعض حصوں پر مشتمل ہے۔ یہ جلسہ جماعتی اراضی واقع باندوندو شہر میں منعقد کیا گیا جو کہ دارالحکومت کنشاسا سے ۴۰۰؍کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ راستہ حالات کی خرابی کی وجہ کافی عرصہ سے بند ہے جس کی وجہ سے شدید سفری مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سال شاملین جلسہ کی کُل تعداد ۶۰۵؍رہی۔ الحمدللہ

اس وجہ سے جلسہ میں شمولیت کے لیے لوگ دُوردُور سے کئی روز پہلے سے آنا شروع ہو جاتےہیں۔ اس لیے لنگر خانے کا انتظام جلسہ سے چند دن پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ اس سال بھی لوگ ۲۰۰؍کلومیٹر سے زائد فاصلے کا پیدل سفر طے کر کے جلسہ میں شریک ہوئے۔ مکرم محمد انس محمد موسو صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ کونگوکنشاسا نے بطور نمائندہ امیر جماعت جلسہ سالانہ میں شرکت کی اور تمام اجلاسات کی صدارت بھی کی۔
مورخہ ۲۴؍اکتوبر بروز جمعۃ المبارک اجتماعی نماز تہجد ادا کی گئی۔ اس کے بعد درس القرآن، درس حدیث اور درس ملفوظات پیش کیے گئے جن کے بعد ناشتہ کیا گیا۔
نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ براہ راست سنا یاگیا۔ بعض نومبائعین نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا مبارک چہرہ پہلی دفعہ دیکھاتھا۔

دوپہر سوا دو بجے جلسہ کا آغاز تقریب پرچم کشائی سے ہوا۔ مکرم فرید احمد بھٹی صاحب مبلغ سلسلہ نے لوائے احمدیت جبکہ مکرم محمد انس موسو صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ نے قومی پرچم لہرایا۔ جلسہ کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا جو مکرم محمد بولیمے صاحب نے پیش کی۔ نظم عزیزم دانیال فرید صاحب نے پیش کی، مکرم انس محمد موسو صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر میں جلسہ کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ افتتاحی دعا کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’نظام جماعت کی اطاعت‘‘ از مکرم عمر مانوور صاحب معلم سلسلہ اور ’’جماعت کی خلیفہ سے محبت‘‘ از عبداللہ وابی صاحب معلم سلسلہ۔ بعد ازاں نو مبائعین نے جماعت احمدیہ کے متعلق اپنے تاثرات پیش کیے اور اس اجلاس کا اختتام مجلس سوال وجواب سے ہوا۔
دوسرے دن ۲۵؍اکتوبر بروز ہفتہ جلسہ کا آغاز بھی نماز تہجد سے کیا گیا۔ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد درس القرآن، درس حدیث اور درس ملفوظات دیے گئے۔
جلسہ کے دوسرے اجلاس کا آغاز بھی تلاوت قرآن کریم اور قصیدہ سے ہوا۔ بعدازاں ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں:’’تحریک جدید، تبلیغ اسلام کا ایک عظیم الشان منصوبہ‘‘ از مکرم احمد ایوینی صاحب معلم سلسلہ، ’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی‘‘ از مکرم ظفر سالانگا صاحب معلم سلسلہ اور ’’بد رسومات و بدعات سے اجتناب‘‘ از فرید احمد بھٹی صاحب مبلغ سلسلہ باندوندو۔ اس اجلاس کے اختتام پر نماز ظہرو عصر ادا کی گئیں۔
جلسہ کا آخری اجلاس تلاوت قرآن کریم اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ایک قصیدہ سے ہوا۔ اس کے بعد مکرم سلیمان صاحب فانی معلم سلسلہ نے ’’جماعت احمدیہ کا تعارف‘‘ اور مکرم محمد بولیمے صاحب نے ’’بین المذاہب ہم آہنگی کے قیام میں نبی کریم ﷺ کا مبارک اسوہ‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ صدر اجلاس نے اپنی اختتامی تقریر ’’شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر کی۔ بعدہٗ بعض مہمانوں نے اپنے تاثرات بیان کیے۔ آخر پر صدر صاحب نے شاملین جلسہ کے سوالات کے جواب دیے۔ اختتامی دعا کے بعد شاملین کی کھانے سے تواضع کی گئی۔
میڈیا کوریج: جلسہ سالانہ کو بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج ملی۔ مقامی ٹیلی وژن چینلز RTBD, RTNC-BDD اور RTK کے علاوہ چار مقامی ریڈیو RTNC, Bandundu FM, RTK اورVenusنے بھی جلسہ سالانہ کو بھرپور کوریج دی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تین لاکھ افراد تک جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچا۔ الحمدللہ علیٰ ذالک
اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ کے نیک نتائج پیدا فرمائے اور اس سے مزید بہتر اور اعلیٰ رنگ میں ہمیں اسلام احمدیت کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ:شاهد محمود خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ گوادیلوپ کے زیر اہتمام ایک بین المذاہب عشائیہ




