مکتوب مشرقِ بعید (دسمبر۲۰۲۵ء)
(مشرقِ بعید کےتازہ حالات و واقعات کا خلاصہ)
آسٹریلیا کے بونڈی بیچ پر دہشتگردی کا واقعہ
آسٹریلیا کے مشہورِ زمانہ بونڈی بیچ (Bondi Beach) پر ۱۴؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو اتوار کی شام اس وقت کہرام مچ گیا جب یہودی تہوار ’ہنوکا‘(Hanukkah) کی مناسبت سے منعقدہ تقریب پر دو مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس بزدلانہ حملے میں ایک ۱۰؍سالہ بچی سمیت ۱۵؍بے گناہ شہری ہلاک اور ۴۰؍سے زائد زخمی ہوگئے۔ جنہیں فوری طور پر مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ متعدد زخمیوں کی حالت سنگین بتائی گئی ہے۔ زخمیوں میں دو پولیس افسران بھی شامل ہیں، جنہیں گولی لگنے کے بعد سرجری کرائی گئی۔آسٹریلوی حکومت نے اسے ملک کی تاریخ کا بدترین ’Antisemitism‘(یہودی مخالف) دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔
مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً ۶:۴۲ بجے، جب بونڈی پیویلین کے قریب Chanukah by the Seaنامی تقریب میں ایک ہزار سے زائد افراد موجود تھے، دو حملہ آوروں نے پارکنگ کے قریب موجود ایک پل سے ہجوم پر پہلے دیسی ساختہ بم (پائپ بم) پھینکے اور پھر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی۔
خوش قسمتی سے حملہ آوروں کے پھینکے گئے چاروں بم پھٹ نہ سکے، ورنہ جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ فائرنگ کا یہ سلسلہ تقریباً ۶منٹ تک جاری رہا، جس سے تقریب میں موجود خاندانوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
اس واقعہ میں دو مسلح افراد، ایک باپ اور اس کے بیٹے، نے سٹیج کے قریب ایک پُل پر کھڑے ہو کر مسلسل گولیاں چلانا شروع کر دیں جس کے باعث شدید خوف اور افراتفری پھیل گئی۔ پولیس کے مطابق ان حملوں میں ۱۰۰ سے زائد گولیاں چلائی گئیں اور صورتحال چند منٹوں میں انتہائی خطرناک ہو گئی۔
حکام نے بتایا کہ حملہ آور باپ ۵۰ سالہ ساجد اکرم تھا جبکہ اس کا ۲۴؍سالہ بیٹا نوید اکرم بھی حملے میں ملوث تھا۔ باپ پولیس مقابلے میں مارا گیا جبکہ بیٹا شدید زخمی حالت میں گرفتار ہوا اور بعد میں مختلف سنگین الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان کے قبضے سے متعدد قانونی طور پر حاصل شدہ اسلحے برآمد ہوئے جن کو انہوں نے استعمال کیا تھا۔
واقعے کے فوراً بعد مقامی پولیس نے ساحل اور آس پاس کے علاقوں کو قابلِ تفتیش زون قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ مشتبہ طور پر دو بنیادی دھماکہ خیز آلات (IEDs) بھی ایک گاڑی میں پائے گئے۔
آسٹریلوی وزیراعظم اینٹونی البنیسی نے واقعے کو ’’خالص ظلم اور دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں ہم آہنگی اور سلامتی بڑھانے کا وعدہ کیا۔ متاثرین کے اہل خانہ، کمیونٹی لیڈرز اور عالمی راہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کی اور اس نوعیت کے تشدد کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ حملے کے بعد بونڈی بیچ کے کئی حصے کچھ دنوں کے لیے بند رہے جبکہ لوگوں نے یادگار اجتماعات اور دعاؤں کا اہتمام کیا۔ متاثرین کے خاندانوں نے وفاقی تحقیقاتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔حکومت نے نسلی اور مذہبی بنیاد پر نفرت (Antisemitism) کے بڑھتے ہوئے رجحان کا جائزہ لینے کے لیے رائل کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو پوری صورتحال پر گہرائی سے تحقیق کرے گا۔
بونڈی بیچ کا ہیرو – احمد الاحمد
احمد الاحمد وہ شخص ہیں جنہوں نے ۱۴؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو بونڈی بیچ پر دہشت گرد حملے کے دوران ایک مسلح حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی۔
احمد کون ہیں؟ احمد الاحمد سڈنی میں پھلوں کی دکان چلاتے ہیں اور ان کا تعلق بنیادی طور پر شام سے ہے۔ ان کی عمر تقریباً ۴۳؍سال ہے۔واقعہ کے دوران جب حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے، احمد اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر گاڑی کے پیچھے سے نکل کر ایک حملہ آور پر جھپٹ پڑے اور اس سے خودکار رائفل چھین لی۔ اس بہادری کی کوشش کے دوران احمد خود بھی گولی لگنے کے باعث شدید زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال میں داخل کروانا پڑا۔
اُن کی اس بہادری نے درجنوں جانیں بچا لیں، جس پر آسٹریلوی عوام اور حکومت نے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے علاج کے لیے لاکھوں ڈالرز کا فنڈ بھی جمع ہوا۔
ان کی قربانی اور بہادری کو آسٹریلین وزیرِاعظم نے سراہا اور انہیں ملک کا ہیرو قرار دیا۔اور وزیر اعظم خود ان کی عیادت کے لیے ہسپتال بھی گئے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان شدید جھڑپیں
دسمبر ۲۰۲۵ء میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان برسوں سے جاری سرحدی تنازع ایک باقاعدہ جنگ کی شکل اختیار کر گیا، جس نے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر دیا۔ ۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو متنازع سرحدی علاقوں میں، خاص طور پر قدیم مندروں کے قریب، دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر پہل کا الزام عائد کیا۔ چند ہی دنوں میں جھڑپیں کئی سرحدی سیکٹرز تک پھیل گئیں، جہاں آرٹلری، راکٹ لانچر اور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے دسمبر کے آخر میں جھڑپیں روکنے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کے بعد کشیدگی میں کمی آئی۔اس تنازع کے نتیجے میں کم از کم ۱۰۰ سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور خطے کے اقتصادی تعلقات میں منفی اثرات پڑے۔
دونوں ممالک صدیوں پرانے Preah Vihear مندر اور اس کے گردونواح کی زمین پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ تنازع درحقیقت ۲۰؍ویں صدی کے ابتدائی دور کے نقشوں، ۱۹۶۲ء کے بین الاقوامی عدالت کے فیصلے اور عقائدی سرحدی دعووں پر مبنی تاریخی دشمنی کا تسلسل ہے جس نے اوائل ۲۰۲۵ء میں بد تر صورت اختیار کی۔اس جنگی صورت حال کے دوران نصف ملین سے زائد لوگ سرحدی شہروں اور گاؤں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔
لڑائی کے پھیلنے پر اقوام متحدہ، چین اور ASEAN ممالک نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ عالمی برادری نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازعہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے۔ شدید سفارتی دباؤ کے بعد ۲۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
معاہدے کے تحت تمام فوجی کارروائیاں روک دی گئیں، سرحدی علاقوں میں افواج کی نقل و حرکت محدود کردی گئی اور متاثرہ شہریوں کی واپسی اور امدادی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی
اگرچہ جنگ بندی طے پاچکی ہے، لیکن چھوٹی موٹی خلاف ورزیاں اور سرحد پر کشیدگی برقرار ہے اور بعض اوقات فائرنگ یا اشتعال انگیز واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
۲۰۲۵ء کے اختتام پر چین کا دہرا معرکہ، خلا میں ۹۳ ریکارڈ لانچنگ اور ایک کھرب ڈالر کا تجارتی منافع
چین نے سال ۲۰۲۵ء کا اختتام ایک ایسے سنگِ میل پر کیا ہے جس نے عالمی طاقتوں کے توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف چین نے ایک ہی سال میں ریکارڈ ۹۳؍ خلائی مشن مکمل کر کے خلا میں اپنی حکمرانی قائم کی، تو دوسری طرف تاریخ میں پہلی بار ایک ٹریلین (ایک کھرب) ڈالر سے زائد کا سالانہ تجارتی منافع (Trade Surplus) حاصل کر کے اپنی معاشی طاقت کا لوہا منوا لیا۔
چینی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (CNSA) کے مطابق، ۲۰۲۵ء چین کے لیے ’’کامیابیوں کا سال‘‘ رہا۔ چین نے سال بھر میں مجموعی طور پر ۹۳ خلائی مشن انجام دیے، جو کہ اس سے قبل کے تمام ریکارڈز سے زیادہ ہے۔ ان مشنوں کے ذریعے ۳۰۰ سے زائد سیٹلائٹس مدار میں بھیجے گئے۔
دسمبر میں چین کے سب سے طویل (۷۰.۴ میٹر) راکٹ ’لانگ مارچ 12A‘نے اپنی پہلی اڑان بھری۔ اگرچہ اس کے پہلے مرحلے کی لینڈنگ میں دشواری پیش آئی، لیکن اس نے مستقبل کے ’ری یوز ایبل‘ راکٹس کے لیے اہم ڈیٹا فراہم کیا۔
نومبرو دسمبر میں چین نے اپنی خلائی تاریخ کا پہلا ’ایمرجنسی لانچ‘ریکارڈ ۱۶ دنوں میں مکمل کیا تاکہ خلائی اسٹیشن Tiangong پر موجود خلا بازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔
معاشی میدان میں چین نے اس سال ۱ ٹریلین ڈالر کا تجارتی منافع حاصل کیا۔ معاشی ماہرین کے لیے سب سے بڑی خبر چین کی تجارت میں ہونے والا بے پناہ اضافہ ہے۔ چین کا سالانہ تجارتی منافع ۱.۰۷۶ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو عالمی تاریخ میں کسی بھی ملک کا سب سے بڑا سرپلس ہے۔امریکہ کی جانب سے لگائے گئے بھاری ٹیرف کے باوجود (جہاں برآمدات میں ۲۹؍فیصد کمی دیکھی گئی)، چین نے اپنی تجارت کا رخ گلوبل ساؤتھ (افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ) کی طرف موڑ دیا۔ افریقہ کے لیے چینی برآمدات میں ۴۲ فیصد کا حیرت انگیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چین کی اس معاشی ترقی کا بنیادی سبب الیکٹرک گاڑیاں ، لیتھیم بیٹریاں اور سولر پینلز کی عالمی مانگ رہی، جن کی پیداوار میں چین کا حصہ اب ۷۰ سے ۸۰ فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
دسمبر میں چین نے اپنے مریخ اور شہاب ثاقب (Asteroid) مشن کے آغاز کی تصدیق کی، جو کہ گہرے خلا میں تحقیق کے نئے باب کھولے گا۔
اسی طرح چینی کارخانوں میں ہائی ٹیک پیداوار اور صنعتی روبوٹس کے استعمال میں گذشتہ سال کے مقابلے میں ۲۹۲؍فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس نے چین کو ’’دنیا کی سب سے جدید فیکٹری‘‘ بنا دیا ہے۔
دسمبر ۲۰۲۵ء کے یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ چین اب محض سستی اشیاء بنانے والا ملک نہیں رہا، بلکہ وہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ اور خلائی تحقیق میں عالمی لیڈر بن چکا ہے۔
شمالی جاپان میں شدید زلزلہ
جاپان کے شمال مشرقی ساحل کے قریب Aomori کے پاس ریکٹر اسکیل پر ۷.۶ شدت کا زلزلہ آیا، جس سے پورا علاقہ شدید لرز گیا۔ زمین کے اندر تقریباً ۴۵؍کلومیٹر گہرائی میں آنے والے اس زلزلے کےدن بھر جھٹکے محسوس کیے گئے ۔ زلزلے کے فوراً بعد سونامی وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے باعث ساحلی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایات دی گئیں۔ حکام کے مطابق واقعے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور سینکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ مزید بعد کے جھٹکے بھی ریکارڈ کیے گئے۔ ہاچینوہے شہر میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے اور ساحلی علاقوں میں ۷۰ سینٹی میٹر تک بلند سونامی کی لہریں دیکھی گئیں۔
۱۲؍دسمبر کو بھی Aomori کے سمندر میں ۶.۷ شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس نے سونامی ایڈوائزری دوبارہ جاری کرائی، حالانکہ بڑے سونامی کا خطرہ ٹل گیا۔
نوسنتارا: انڈونیشیا کا نیا دارالحکومت
انڈونیشیا کے نئے دارالحکومت Nusantara، جسے مختصراً IKN بھی کہا جاتا ہے، کے حوالے سے دسمبر ۲۰۲۵ء ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن مہینہ ثابت ہوا ہے۔ اس مہینے میں شہر کی تعمیر کے دوسرے بڑے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جو اس منصوبے کو محض ایک خواب سے حقیقت کی طرف لے جانے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ صدر پرابوو سوبیانتو کے پہلے سال کے اختتام پر انڈونیشیا کی تمام تر توجہ نئے دارالحکومت پر رہی۔ دسمبر ۲۰۲۵ء میں انڈونیشیا کی تین اہم وزارتوں نے باضابطہ طور پر جکارتہ سے ’’نوسنتارا‘‘ منتقلی مکمل کی۔
نیا دارالحکومت نوسنتارا، جو جکارتہ کی جگہ نیا سیاسی اور انتظامی مرکز بننے جا رہا ہے، دسمبر ۲۰۲۵ء میں بھی ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا موضوع رہا۔ یہ منصوبہ نہ صرف انڈونیشیا کی تاریخ میں ایک سنگ میل تصور کیا جاتا ہے بلکہ وسائل، ترقی، معاشی امکانات اور سیاسی ترجیحات کے حساس توازن کا مظہر بھی ہے۔
نوسنتاراکو مستقبل کا دارالحکومت بنانے کا منصوبہ ابتدائی طور پر سابق صدر Joko Widodo کے دور میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد بے قابو آبادی، آلودگی اور سمندری سطح میں ڈوبنے کے خطرے کے باعث جکارتہ کو بدلنا تھا۔ اس نئے شہر کو پائیدار، جدید اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مضبوط سمجھا جاتا ہے اور اسے ۲۰۲۸ء تک انڈونیشیا کا سیاسی دارالحکومت بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ شہر بورنیو جزیرے کے مشرقی جنگلات East Kalimantan میں واقع ہے۔ ’نوسنتارا‘ ایک قدیم جاوانی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’جزائر کا مجموعہ‘‘۔اسے دنیا کا پہلا ’فارسٹ سٹی‘ (Forest City) کہا جا رہا ہے جہاں ۷۵% علاقہ ہریالی پر مشتمل ہوگا اور تمام ٹرانسپورٹ برقی (Electric) ہوگی۔
مزید پڑھیں: جانوروں کی بقا کے راستے: دنیا بھر میں وائلڈ لائف کراسنگز




