الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
تاریخ مذاہب میں ہجرتوں کی کہانی
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی خاطر ہجرت کی اس کے بعد کہ اُن پر ظلم کیا گیا ہم ضرور انہیں دنیا میں بہترین مقام عطا کریں گے اور آخرت کا اجر تو سب (اجروں) سے بڑا ہے۔ کاش وہ علم رکھتے!‘‘ (سورۃالنحل:۴۲)
ہجرت کے مضمون کا بیان قرآن کریم میں دیگر مقامات کے علاوہ سورۃالنحل:۱۱۱، سورۃالنساء:۹۸ اور سورۃالنساء:۱۰۱ میں بھی موجود ہے۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۴؍مارچ ۲۰۱۴ء میں مکرم میر غلام احمد نسیم صاحب کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں مذاہبِ عالم کی تاریخ کے حوالے سے کی جانے والی چند ہجرتوں کے بیان اور اس کے نتیجے میں ملنے والی کامیابیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ ہجرتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ کوئی انسان بیوی کی خاطر ہجرت کرتا ہے، کوئی مال کی خاطر، کوئی خدا کی خاطر۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جدھر بھی مسلمانوں نے ہجرت کی وہ جگہ اُن کے لیے بہتر ہوگئی۔ اگر ہجرت کے آخری انجام کو دیکھا جائے تو اس کے نتیجے میں معمولی تاجر اور اونٹ پالنے والے دنیا کے بادشاہ بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھاکر ہجرت کرنا ایک بڑی نیکی ہے۔ مگر اس حالت میں جبکہ سب سامان لُٹ جائے اور وطن تک چھوڑنا پڑے دل کو اس یقین سے پُر رکھنا کہ ہم تباہ نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد کرے گا اس سے بھی بڑی نیکی ہے۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ۱۷۰۔۱۷۱)
وحدانیت کے علمبردار مذاہب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہجرتیں ہی ان مذاہب کی کامیابیوں کا باعث بنیں۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب اُن کی قوم نے جھٹلایا اور اذیتیں دیں تو اللہ تعالیٰ نے طوفان کا عذاب بھیج کر حضرت نوحؑ اور مومنوں کو کشتی کے ذریعے بچالیا جو چالیس دن کے بعد کوہ ارارات پر آکر رُک گئی۔ سورہ ہود میں اس مقام کا الجودی کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ گویا یہ بھی ایک قسم کی ہجرت ہی تھی۔ توریت کے مطابق اس کے بعد حضرت نوحؑ کے تین بیٹے اور اُن کی اولاد دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور مختلف اقوام اور زبانوں کو جنم دیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام قریباً ۲۰۰۰قبل مسیح عراق کے شہر اُور (UR) میں پیدا ہوئے۔ نبوت کے دعویٰ کے بعد مخالفت کی بِنا پر وہاں سے حاران (بالائی عراق) کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں سے اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے ساتھ کنعان کی طرف خداتعالیٰ کے حکم سے آپؑ نے ہجرت کی۔ پھر وہاں سے بیت المقدس میں آکر آباد ہوئے اور یہ زمین آپؑ کی اولاد کے لیے آئندہ مقدّر کردی گئی۔ آپؑ کی قوم آگے مصر کو نکل گئی مگر آپؑ کنعان میں ہی مقیم رہے۔ بعدازاں آپؑ کے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو الٰہی حکم کے تحت مکّہ پہنچا دیا گیا جہاں دونوں نے مل کر خانہ کعبہ تعمیر کیا۔ حضرت اسماعیلؑ کی اولاد عرب میں آباد ہوئی جبکہ دوسرے بیٹے حضرت اسحٰقؑ جو اُن کے ساتھ رہے، اُن سے بنی اسرائیل اور دوسرے قبائل ہوئے جو شام میں آباد رہے۔ روایات کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کی وفات شام میں ہوئی اور وہیں آپؑ کی قبر بھی ہے۔
روایات کے مطابق حضرت یعقوبؑ کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے۔ قریباً ۱۲۵۰قبل مسیح میں بنی اسرائیل نے فلسطین سے مصر ہجرت کی اور حضرت یوسفؑ کے ذریعے وہاں ترقیات حاصل کیں تو فرعون کی قوم کو خوف پیدا ہوا کہ کہیں یہ حکومت پر قابض نہ ہوجائیں لہٰذا ان پر مظالم کا طویل دَور شروع ہوا جس کا ذکر قرآن کریم اور دیگر کتب میں موجود ہے۔ حضرت موسیٰؑ بھی مصر میں پیدا ہوئے۔ وہاں سے مدین گئے اور وہاں شادی کرکے دس سال وہاں رہے۔ پھر مصر لَوٹے اور بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کی۔ بنی اسرائیل کا مصر میں قیام قریباً پانچ سو سال رہا لیکن انہوں نے اپنی انفرادیت قائم رکھی اور مصری معاشرے میں پوری طرح جذب نہ ہوسکے۔ مصر سے نکل کر بنی اسرائیل کافی عرصہ بیابانوں میں محو سفر رہے اور بالآخر فلسطین میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ گویا یہ کامیابی بھی انہیں ہجرت کے نتیجے میں ملی۔
آنحضورﷺ نے جب دعویٰ فرمایا تو آپؐ پر اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ پھر پانچ سال بعد آنحضورﷺ نے بعض افراد کو حبشہ ہجرت کرنے کا ارشاد فرمایا۔ چنانچہ رجب ۵نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتیں حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے۔ بعد میں یہ سلسلہ جاری رہا اور مہاجرین کی تعداد ایک سو تک پہنچ گئی۔ آخر تیرہ سال کی تکالیف برداشت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اذن سے آنحضورﷺ کی مکہ سے ہجرت ۱۲؍ستمبر۶۲۲ء کو ہوئی اور آٹھ روز کے سفر کے بعد ۲۰؍ستمبر۶۲۲ء کو آپؐ مدینہ پہنچے۔ تاہم کفّار اور مشرکین نے یہاں بھی چین نہیں لینے دیا اور دس سال تک آپؐ کے خلاف کم و بیش ۳۵ لڑائیاں لڑیں۔ تاہم ہجرت کے بعد اسلام کی ترویج تیزی سے ہوئی اور یہ پیغام جزیرۂ عرب سے باہر بھی پہنچ گیا۔
جماعت احمدیہ بھی ایک الٰہی جماعت ہے اور یہ بھی اس قدرتی نظام سے باہر نہیں رہی۔ ترقی کی منازل سرعت سے طے کرنے کے لیے اس کے افراد کو بھی ہجرت کرنی پڑی جس کے نتائج ہمیشہ ہی نہایت بابرکت رہے۔ چنانچہ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کے نتیجے میں قادیان سے ہجرت ہوئی تو نئے مرکز ربوہ کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں حاسدین کی مخالفت بڑھتے بڑھتے جب ہر پہلو سے انتہا کو پہنچ گئی حتٰی کہ اذان دینا بھی جرم قرار پایا تو آخرحضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو ۱۹۸۴ء میں پاکستان سے ہجرت کرکے لندن آنا پڑا جہاں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف جماعت کو نیا مرکز عطا فرمایا بلکہ قانون قدرت کے مطابق اس ہجرت کے نتیجےمیں عظیم الشان کامیابیاں عطا ہوئیں جن میں سے ایک ایم ٹی اے کا قیام بھی ہے۔ نیز دنیابھر میں جماعتوں کا قیام عمل میں آیا، مساجد تعمیر ہوئیں اور دعوت الی اللہ کے نئے زاویے آشکار ہوئے۔
………٭………٭………٭………
محترم وسیم احمد قمر صاحب
روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ ۱۲؍مارچ ۲۰۱۴ء میں مکرمہ ط۔وسیم صاحبہ نے اپنے شوہر محترم وسیم احمد قمر صاحب ابن مکرم چودھری خورشید محمد صاحب کا ذکرخیر کیا ہے جو چار روز برین ہیمرج کے نتیجے میں بیمار رہنے کے بعد ۲۱؍نومبر۲۰۱۱ء کو پچاس سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ وہ پاکستان ریلوے کے I.Tسینٹر میں اسسٹنٹ پروگرامر تھے اور والٹن میں ریلوے آفیسرز فلیٹ میں مقیم تھے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میرے میاں ۲۵؍اگست ۱۹۶۱ء کو دھرمپورہ لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے لیکن وہ خود اور اُن کے بیوی بچے سب مخلص احمدی تھے۔ میرے میاں بھی ایک نیک، ایماندار اور پانچ وقت نماز کے پابند تھے۔ قرآن کریم کی تلاوت بہت خوبصورت آواز میں کیا کرتے تھے اور ترجمہ بھی بلند آواز میں پڑھتے۔ آپ کو تلاوت کرتے دیکھ کر میں دعا کرتی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے بچوں کو بھی ان کی طرح تلاوت کرنے کی توفیق دے۔ آپ درودشریف کا ورد اور ذکرالٰہی کثرت سے کیا کرتے تھے۔ رمضان آتا تو گھر میں نماز فجر اور نماز مغرب باجماعت کرواتے۔ اکثر جماعتی پروگراموں میں بھی تلاوت کرتے یا نظم پڑھتے۔ اپنے چاروں بچوں کو قرآن کریم کا دَور مکمل کروانے کی سعادت بھی پائی۔
آپ ایک سچے اور سادہ انسان تھے۔ ہمیشہ رزق حلال کی دعا کرتے تھے اور صبروشکر کرتے تھے۔ حسدسے کوسوں دُور تھے اور کہتے تھےکہ ہر بندے کو اپنا نصیب ملتا ہے۔
تین سال قبل انہوں نے خواب میں حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ تم اور تمہارے بیوی بچے سورت الم نشرح اور ربّ کُلُّ شَیءٍ خَادِمُکَ … پڑھا کرو۔ تب سے ہم سب یہ پڑھتے ہیں۔ مرحوم کو رمضان المبارک میں لیلۃالقدر بھی نصیب ہوئی۔
مرحوم ہمیشہ نماز جمعہ اور عیدین دارالذکر میں ادا کرتے تھے۔ ۲۸؍مئی ۲۰۱۰ء کو بھی وہاں موجود تھے۔ شرپسندوں نے حملہ کیا تو آپ نے قریبی لوگوں کو رَبِّ کُلُّ شَیءٍ خَادِمُکَ … پڑھنے کو کہا اور خود بھی پڑھنے لگے۔ کہتے تھے دوسری یا تیسری بار جب گرنیڈ پھٹا تو پوری مسجد ہل گئی اور اُس وقت میرے اوپر کانچ ہی کانچ تھا لیکن خراش بھی نہیں آئی تھی۔ اسی اثنا میں کسی نے مجھے ایک چابی دی کہ جاکر تہ خانہ کھول لو۔ مَیں نے جاکر basement کا دروازہ کھولا تو اَور لوگ بھی وہاں آگئے۔ اُس دن دارالذکر میں آپ کے بڑے بھائی چودھری مظفر احمد صاحب اور آپ کے بھانجے کامران ارشد (رضاکار ایم ٹی اے) کی بھی شہادت ہوئی۔
آپ ایم ٹی اے پر خطبات جمعہ اور راہ ہدیٰ کا پروگرام باقاعدہ سنتے۔ خلیفۂ وقت کو دعائیہ خط لکھ کر فیکس کرتے رہتے اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے۔ کسی مخالفت سے نہیں ڈرتے تھے۔ اپنے دفتر میں مختلف دعائیں اور دعائیہ اشعار اپنے ہاتھ سے لکھ کر آویزاں کیے ہوئے تھے۔ آپ کی وفات کے بعد دفتر والوں نے ان کے بیٹے سے کہا کہ یہ تحریریں یہیں آویزاں رہنے دیں کیونکہ یہ ایک نیک اور ایماندار آدمی کی یادگار ہیں جو دوسروں کی مدد کرکے خوش ہوتا تھا۔ ان تحریروں میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا یہ شعر بھی تھا ؎
مَیں تجھ سے نہ مانگوں تو نہ مانگوں گا کسی سے
مَیں تیرا ہوں تُو میرا خدا میرا خدا ہے
دفتر میں آپ بہت قابل اعتماد تھے۔ ان کے کولیگ کہتے تھے کہ ان کا تیار کیا ہوا خط ہم آنکھیں بند کرکے دستخط کردیتے تھے۔ ان کے کئی سینئر افسروں نے بھی تعزیتی فون کیے اور وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ ایک فرشتہ چلاگیا ہے اور ہمارے سینٹر کا یہ نقصان کبھی پورا نہیں ہوگا۔
مرحوم بچوں کے ساتھ بہت پیار کرتے، اُن کے ساتھ بچے ہی بن جاتے۔ غرباء کا بھی خاص خیال رکھتے بلکہ ہر دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے اور مدد کرتے۔ چوبیس سال کی ازدواجی زندگی میں مَیں نے اُن سے صرف محبت، چاہت اور اعتماد دیکھا۔ کبھی مجھے ’تم‘ نہیں کہا۔ ہمیشہ ’آپ‘ کہتے تھے۔ میری والدہ کی بھی بہت خدمت کی اور میرے بھائی بہنوں سے بھی پیار اور عزت سے پیش آتے۔
وفات سے کچھ عرصہ قبل بہت خاموش ہوگئے۔ کچھ خواب بھی ایسے دیکھے۔ ایک خواب میں سورۃ العصر دیکھی۔ پھر ایک خواب میں اپنے مرحوم والد کو دیکھا جو بہت خوش تھے۔ بہرحال دعاؤں کا انمول خزانہ چھوڑ کر وہ اچانک چلے گئے۔
………٭………٭………٭………
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۵؍نومبر۲۰۱۴ء میں مکرم پروفیسر محمد اکرام احسان صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
جہاں عجز کی انتہا ہو گئی
وہاں رحم کی ابتدا ہو گئی
کسی بھی عمل پر نہ اِتراؤ تم
جو نیکی ہے سمجھو بجا ہو گئی
کبھی خود کو وہ پاک کہتے نہیں
یہی عادتِ اصفیا ہو گئی
وہ مخفی رہے حُسن کی تھی طلب
نظر اُس سے پر آشنا ہو گئی
خدا کے مقرّب کے سایہ تلے
محبت مری دیکھ کیا ہو گئی
تہی ہاتھ احسان آیا یہاں
عقیدت اُسے بے بہا ہو گئی




