نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۳۰؍دسمبر ۲۰۲۵ء بروز منگل بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم ملک لطیف احمد خان صاحب ابن مکرم ملک صدیق احمد خان صاحب (آف دیپال پور اوکاڑہ حال ٹال ور تھ۔لندن) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرم ملک لطیف احمد خان صاحب ابن مکرم ملک صدیق احمد خان صاحب (آف دیپال پور اوکاڑہ حال ٹال ورتھ۔ لندن)

۲۳؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۸۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت حافظ نبی بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑ پوتے تھے۔ آپ نے تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے اس وقت تعلیم حاصل کی جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کالج کے پرنسپل تھے۔ مرحوم پابند صوم و صلوٰۃ ایک نیک اور دعا گو بزرگ تھے۔ تلاوت قرآن کریم میں با قاعدہ تھے اور رمضان کے دوران چار پانچ مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کیا کرتے تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے بیٹے مکرم حارث ملک صاحب بطور صدر جماعت Tolworth اورداماد مکرم محمد محمود خان صاحب نائب صدر مجلس انصاراللہ یوکے کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم مبارک احمد راجوری صاحب ابن مکرم میاں محمد اسماعیل صاحب (کراچی)

۷؍دسمبر ۲۰۲۵ء کو ۹۲سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ چار کوٹ ضلع راجوری (مقبوضہ کشمیر) سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ 1894ء میں آپ کے نانا حضرت قاضی محمد اکبر صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہوا۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے ہجرت کر کے کنری رہائش اختیار کی۔ آپ کو اپنے آبائی علاقہ اور خاندان کے حالات و تاریخ ’’چار کوٹ کے درویش‘‘ کے نام سے جمع کرنے اور شائع کروانے کی توفیق ملی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ذاتی شفقت کے نتیجہ میں آپ نے 1955ء میں تعلیم الاسلام سکول سے میٹرک کیا اور پھر تعلیم الاسلام کالج سے انٹر کرنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے B.Com کیا۔ آپ دوران طالب علمی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بہت سی شفقتوں اور احسانات کے مور د ر ہے جس کا ذکر آپ نے اپنی تصنیف میں بھی کیا ہے۔ آپ کو بطور صدر حلقہ عزیز آباد خدمت کی توفیق ملی۔ خدا تعالیٰ سے قلبی لگاؤ تھا اور نماز تہجد میں بڑے باقاعدہ تھے۔ چندہ جات قبل از وقت ادا کرنا آپ کا خاص وصف تھا۔ خلافت سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ آپ نے بچوں کو اچھی تعلیم دلوائی۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں دو بیٹے اور سات بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم مصباح الدین مبارک محمود صاحب …اور مکرم برہان الدین احمد محمود صاحب …کے چچا اور مکرم شکیل احمد قریشی صاحب…کے ماموں تھے۔

۲۔مكرم مصطفی ابواللیف صاحب (صدر جماعت ضلع سوہاج۔ مصر)

۳۰؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ایک حادثہ میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مکرم اسامہ عبد العظیم صاحب…کہتے ہیں کہ مرحوم مالی قربانی میں با قاعدہ تھے۔ اپنے گھر کا ایک حصہ علاقہ کے احمدیوں کی نماز جمعہ کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا۔ اپنے ضلع کے احمدیوں کا بڑا خیال رکھتے تھے۔ سب سے ہمدردی، مدد اور راہنمائی کی کوشش کرتے تھے۔ خاکسار کے ساتھ بڑا محبت و احترام کا تعلق تھا۔ حالانکہ مجھ سے عمر میں بڑے تھے اور بیعت بھی مجھ سے پہلے کی تھی۔ وفات سے قبل ایک بڑی رقم جماعت کو پیش کی۔مکرم ڈاکٹر حاتم صاحب …کہتے ہیں کہ مرحوم نے ۲۰۰۸ء میں بیعت کی تھی۔ بڑے متعصب اور متشد د قبائلی علاقہ میں رہتے تھے اور بیعت کے بعد انہیں سرکاری سکول میں ٹیچنگ میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔ ۲۰۱۰ء میں جب حکومتی اداروں نے مختلف اضلاع کے بعض احمدیوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا تو مر حوم بھی ان اسیر ان میں شامل تھے۔ آپ نے بڑے حوصلہ سے تین ماہ کی جیل کاٹی اور کوئی شکوہ نہیں کیا۔ بڑے صبر اور سکون سے عہد بیعت کو اطاعت کے ساتھ نبھایا اور اپنی جماعتی ذمہ داریاں حتی الوسع ادا کرتے رہے۔ آپ کی دو شادیاں ہوئی تھیں۔ پہلی بیوی سے تمام اولاد غیر احمدی ہے۔ جبکہ دوسری اہلیہ سے ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں جواہلیہ سمیت سب احمدی ہیں۔ ان کے علاوہ آپ کے ایک بھائی بھی احمدی ہیں۔

۳۔مکرم مبارک احمد عطاء صاحب (ہالینڈ)

۲۴؍ستمبر ۲۰۲۵ء کوبقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم غلام احمد عطاء صاحب مرحوم (سابق وکیل الزراعت ربوہ) کے بیٹے تھے۔ مرحوم پیشے کے لحاظ سے ویٹرنری ڈاکٹر تھے اور گورنمنٹ سروس کے سلسلہ میں لمبا عرصہ سندھ میں مقیم رہے۔ ریٹائر منٹ کے وقت کراچی میں تعینات تھے جہاں احمدی ہونے کی وجہ سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور ڈائر یکٹر کے عہدے پر ترقی کے احکامات جاری ہونے کے باوجود اس سے محروم رکھا گیا۔ لیکن آپ پھر بھی ڈٹ کراپنے فرائض دیانتداری اور فرض شناسی کے ساتھ سرانجام دیتے رہے۔مرحوم نے کراچی میں قاضی سلسلہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ریٹائرمنٹ کے بعداپنی اہلیہ اور بیٹی کے پاس ہالینڈ آگئے تھے۔آپ نہایت مخلص اور نافع الناس انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔آپ مکرم منصور احمد عطاء صاحب (واقف زندگی شعبہ مرکز آئی ٹی اسلام آباد۔ یوکے) کے تایا تھے۔

۴۔مکرمہ بشریٰ سہیل صاحبہ اہلیہ مکرم سہیل احمد صاحب (کلکتہ۔انڈیا)

16؍نومبر 2025ء کو 60سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کی شادی ہندوستان میں ہوئی تھی۔آپ مکرم راحت حسین صاحب مرحوم (لاہور) کی بیٹی اور سابق امیر جماعت کلکتہ مکرم محمد نور عالم صاحب کی بہو تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، ہر ایک کا خیال رکھنے والی،عبادت گزار، غریب پر ور، بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ اپنی تکلیف دہ بیماری کو بہت صبر و حوصلہ کے ساتھ برداشت کیا۔ پسماندگان میں شوہر کے علاوہ ایک بیٹا، چار بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔آپ مکرم عبدا لخالق تعلقدار صاحب (انچارج انصار سیکشن مرکزیہ) کی عزیزہ تھیں۔

۵۔مکرمہ مسرّت بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری ظفر صاحب مرحوم (آف شیخوپورہ حال نیویارک)

13؍ستمبر2025ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق چہور ضلع سیالکوٹ سے تھا۔ آپ کے والد مکرم چودھری محمد حسین صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ مکرم چودھری شاه نواز صاحب اور مکرم چودھری نبی احمد صاحب کی کزن تھیں۔ مرحومہ پنجوقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کی پابند،تہجد گزار،مہمان نواز، بڑی ملنسار، نرم دل اور غریب پرور خاتون تھیں۔ بہت سے غرباء کو اپنے گھر پر رکھ کر ان کا علاج کروایا اور غریب بچیوں کی شادیوں پر کھلے دل سے مدد کیا کرتی تھیں۔ خلافت کے ساتھ گہرااخلاص و وفا کا تعلق تھا۔ 1989ء میں اپنے خاوند کے ساتھ امریکہ منتقل ہوئی تھیں۔ آپ جماعتی پروگراموں میں بڑے شوق اور باقاعدگی سے شامل ہوتیں اور ایم ٹی اے کے پروگرام بھی بڑی باقاعدگی سے دیکھتی تھیں۔ پسماندگان میں 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم چودھری وسیم احمد صاحب (وکالت تبشیر یوکے) کی چچی تھیں۔

۶۔مکرمہ شمیم اختر صاحبہ اہلیہ مکرم ڈاکٹر حاجی عبد الرحمن صاحب (سابق امیر وصدر جماعت ننکانہ صاحب۔ حال برمنگھم ایسٹ۔یوکے)

7؍اکتوبر 2025ء کو 73 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیہ حضرت مائی حکیمنی صاحبہ رضی اللہ عنہا کی پوتی تھیں۔ مرحومہ پنجوقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجد گزار،ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت سے گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔ چندوں میں باقاعدہ اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ مرحومہ نے افریقہ میں پانی کےچار کنویں لگوانے کی توفیق پائی۔ ایک مسجد کا کام بھی اپنی زندگی میں شروع کر وایا جو تکمیل کے مراحل میں ہے۔ پسماندگان میں 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button