مکتوب

مکتوب افریقہ (نومبر۲۰۲۵ء)

(شہود آصف۔ استاذ جامعہ احمدیہ گھانا)

براعظم افریقہ کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ

مراکش میں کمرشل طیاروں کے انجن بنانے کے لیےصنعتی کمپلیکس

مراکش اور فرانس کے Safran گروپ نے مشترکہ طور پر مراکش میں کمرشل طیاروں کے انجن بنانے کے لیے کاسابلانکا کے قریب ایک وسیع صنعتی کمپلیکس کا افتتاح کیا ہے۔یہ منصوبہ ملکی ہوابازی کے شعبے میں ایک بڑے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہےجس کے ذریعے مراکش کی ایرو اسپیس برآمدات آنے والے برسوں میں دوگنی ہونے کی توقع ہے اور ملک کی تکنیکی صلاحیتوں اور صنعتی مہارت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کمپلیکس میں انجن اسمبلی و ٹیسٹنگ فیکٹری اور MRO(Maintenance, Repair and Overhaul) ورکشاپ شامل ہیں ۔پلانٹ کی صلاحیت ایک سال میں ۳۵۰انجن اسمبل کرنے کی ہے ۔MRO ورکشاپ سالانہ تقریباً ۱۵۰ انجن کی مرمت اور دیکھ بھال کر سکے گی۔ اس منصوبے کی مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ۳۲۰سے ۳۸۲ ملین یورو ہے۔ Safran گروپ گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے مراکش کا ایک اہم صنعتی شراکت دار رہا ہے اور اس نے ایرو اسپیس سیکٹر کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ Safran اور مراکش کے نئے منصوبے سے مراکش عالمی ہوابازی کی صنعت میں ایک مضبوط اور بااثر کھلاڑی بن سکتاہے۔

مشرقی افریقہ میں تنزانیہ، زیمبیا ریلوے کی مکمل بحالی اور اپ گریڈیشن کا منصوبہ

چین، زیمبیا اور تنزانیہ نے ۱.۴ ارب ڈالر مالیت کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد ۱۸۶۰ کلومیٹر طویل تنزانیہ زیمبیا ریلوے اتھارٹی (TAZARA) لائن کو جدید خطوط پر مکمل طور پر بحال اور اپ گریڈ کرنا ہے۔ یہ ریلوے لائن ۱۹۷۰ء کی دہائی میں چین نے تعمیر کی تھی تاکہ زیمبیا کی تانبے کی برآمدات اور ایندھن کی درآمدات کو براعظم کے جنوب مشرقی ساحل تک ایک محفوظ اور مؤثر راستہ فراہم کیا جا سکے۔ نئی سرمایہ کاری کے تحت اسٹیشنوں کی مرمت، نئی پٹڑیوں کی بچھائی، سرنگوں، پلوں کی تعمیر اور متعلقہ تکنیکی اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا۔

نئے منصوبے میں TAZARA کی سالانہ فریٹ گنجائش کو ایک لاکھ ٹن سے بڑھا کر ۲.۴ ملین ٹن تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ زیمبیا کے صدر نے کہا کہ یہ کوریڈور نہ صرف ملک کی تانبے کی صنعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ زیمبیا کو پورے خطے کا ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس مرکز بنانے میں بنیادی کردار ادا کرے گا، جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔

مصر کے ساڑھے تین ہزار سال قدیم نادر مجسمہ کی واپسی

۲۰۱۱ء میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں برپا ہونے والی عوامی باغیانہ تحریک عرب سپرنگ کے دوران مصر سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پرانا فرعون تحتمس سوم کے دور سے منسوب پتھر کا مجسمہ چوری ہو کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کیا گیا۔ ۲۰۲۲ء میں اس مجسمہ کو نیدرلینڈز کے شہر ماستریخت میں ہونے والے ایک بین الاقوامی آرٹ فئیر میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔خفیہ اطلاع ملنے پر ڈچ حکام نے مجسمہ کی چوری کی تفتیش شروع کی۔ تحقیقات کے دوران واضح ہوا کہ یہ نادر تاریخی مجسمہ مصر سے غیر قانونی طریقے سے نکالا گیا تھا، جس کے بعد بیچنے والے نے اسے رضاکارانہ طور پر حکام کے حوالے کر دیا۔ نیدرلینڈز کی حکومت نے اعلان کیا کہ یہ تاریخی ورثہ جلد مصر واپس بھیج دیا جائے گا۔یہ اقدام آثارِ قدیمہ کی غیر قانونی تجارت کے خلاف بین الاقوامی تعاون کی ایک اہم مثال ہے۔

گنی بِساؤ میں فوج نے حکومت پر قبضہ کر لیا

۲۶؍نومبر کو گنی بِساؤ میں فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر مکمل قبضے کا اعلان کر دیا۔ فوجی افسران نے اعلان کیا کہ ملک کی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں، کرفیو نافذ ہے۔نیز صدر عمرو سیسوکو ایمبالو کو معزول کرکے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بعد ازاں انہوں نےملک چھوڑ دیا۔

اس صورتحال کے پس منظر میں ۲۳ نومبر کو ملک میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہوئے ۔ دھاندلی کے الزامات اور نتائج میں شدید بے یقینی نے ملک کو انتشار کی طرف دھکیل دیا تھا۔ دونوں بڑی پارٹیوں نے اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا۔ الیکشن کمیشن کے نتائج جاری کرنے سے پہلے ہی فوجی مداخلت ہوگئی۔ فوج نے ایک نیا ادارہ ’’ہائی ملٹری کمانڈ برائے بحالی قومی سلامتی‘‘ قائم کرتے ہوئے اگلے حکم تک ملک چلانے کا اعلان کیا اور جنرل Horta Inta-A Na Man کو ایک سال کے لیےعبوری صدر مقرر کر دیا۔ بغاوت کے فوراً بعد افریقی یونین نے گنی بِساؤ کی رکنیت معطل کرکے فوری جمہوری بحالی کا مطالبہ کیا، اور خطے کے کئی ممالک نے فوجی قبضے کی سخت مذمت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اقدام مغربی افریقہ میں پہلے سے موجود سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

نائیجیریا میں شدت پسندوں نے اسکول کے طلبہ اور عملے کو اغوا کر لیا

۲۱؍نومبر کو نائیجیریا کے مغربی علاقے میں واقع St Mary’s Catholic School پر مسلح افراد نےحملہ کرکے ۳۱۵ طلبہ اور اساتذہ کو اغوا کر لیا۔ زیادہ تر طلبہ ۱۲ سے ۱۷ سال کی عمر کے تھے۔ حملہ آور تقریباً ۶۰ موٹرسائیکلوں اور ایک وین پر سوار تھے۔ انہوں نے اسکول کے گیٹ پر موجود سیکیورٹی گارڈ کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا اور طلبہ و عملے کو یرغمال بنا کر ساتھ لے گئے۔ والدین اور مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور حکومت سے اغوا شدگان کی فوری رہائی اور اسکولوں میں حفاظتی اقدامات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ حکام نے علاقے میں فوج اور سیکیورٹی فورسز تعینات کرکے جنگلی علاقوں میں طلبہ اور اساتذہ کی بازیابی کے لیے تلاش و چھاپے شروع کر دیے ہیں۔ تقریباً ۵۰ طلبہ کے اغوا کے بعد فرار ہونے اور اپنے اہلِ خانہ سے مل جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم باقی اغوا شدگان ابھی تک بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے گروپ بھی واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

مالی میں اغوا شدہ اماراتی شہزادہ پانچ کروڑ ڈالر تاوان کے عوض رہا

۲۶؍ستمبر کو مالی کے دارالحکومت بماکو کے قریب سونے کے کاروبار سے وابستہ ایک اماراتی شہزادے اور اس کے پاکستانی اور ایرانی ساتھی کو اغوا کرلیا گیا تھا جنہیں اکتوبر کے آخر میں یرغمالیوں سے پانچ کروڑ ڈالر کے عوض رہائی ملی۔ تاوان کی یہ رقم القاعدہ سے منسلک جہادی گروہ ’’جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین‘‘ کو ادا کی گئی۔ یہ گروہ مالی کی فوجی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے ’’اقتصادی جہاد‘‘ کو اپنی بنیادی حکمت عملی بنا رکھا ہے۔ تاوان اور ایندھن دونوں اس کے اہم ہتھیار ہیں۔تنازعات کی نگرانی کرنے والی ایک عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ مئی سے اکتوبر ۲۰۲۵ء کے درمیان کم ازکم ۲۲ غیر ملکی شہری اغوا ہوئے اور یہ تعداد ۲۰۲۲ء کے پچھلے ریکارڈ سے تقریباً دگنی بنتی ہے۔ مغویوں میں چینی، بھارتی، مصری، اماراتی، ایرانی، سربیائی، کروشیائی اور بوسنیائی شہری شامل ہیں۔

ایتھوپیا میں آتش فشاں

ایتھوپیا کے علاقے افار میں واقع Hayli Gubbi نامی آتش فشاں تقریباً بارہ ہزار سال کی خاموشی کے بعد ۲۳؍نومبر کو اچانک پھٹ پڑا، جس نے فضا میں راکھ اور گیسوں کا ایک بلند بادل چھوڑا جو تقریباً پندرہ کلومیٹر تک اوپر اٹھ گیا۔ دھماکے کے بعد قریبی دیہات راکھ کی تہ سے ڈھک گئےاور فضائی آلودگی میں اضافہ ہوا۔ مقامی آبادی، چرواہوں اور کسانوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ لاوے اور راکھ نے چراگاہوں اور پانی کے ذرائع کو آلودہ کر دیا، جبکہ ہواؤں کے رخ سے راکھ کے بادل بحیرۂ احمر کے پار یمن اور عمان حتیٰ کہ بھارت، شمالی پاکستان اور چین تک بھی گئے۔ جس سے بین الاقوامی فضائی سفر بھی متاثر ہوئے۔ Hayli Gubbi رِفٹ ویلی (Rift Valley) کے علاقے میں واقع ہے جہاں زمین کی پرتیں ٹوٹ رہی ہیں ۔

Smart Africa Alliance کا متحد ڈیجیٹل مارکیٹ قائم کرنے کا اعلان

گنی کناکری میں اسمارٹ افریقہ الائنس کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ جس میں افریقہ کو ۲۰۳۰ء تک ایک متحد ’’ڈیجیٹل سنگل مارکیٹ‘‘ میں تبدیل کرنے کےمنصوبے کا اعلان کیا گیا۔اس اعلان کوافریقہ کی معاشی و تکنیکی ترقی کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں ۳۰ سے زائد افریقی ممالک کے نمائندے، آئی سی ٹی ماہر اور بین الاقوامی شراکت دار شامل ہوئے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ پورے افریقہ میں یکساں ڈیجیٹل قوانین، مشترکہ ڈیٹا پلیٹ فارم، ڈیجیٹل شناختی نظام، سرحد پار آن لائن کاروبار، سائبرسیکیورٹی کے مشترکہ معیارات، اورٹیکنالوجی تعاون کو مضبوط بنایا جائے۔ افریقہ کی متحد ڈیجیٹل مارکیٹ سے نہ صرف براعظم کے نوجوانوں کے لیے لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی بلکہ ای کامرس، ای گورننس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں بھی انقلاب آئے گا۔

Grand Egyptian Museum کا افتتاح

نومبر ۲۰۲۵ء میں مصر نے Grand Egyptian Museum کا باضابطہ افتتاح کیا ہے۔ یہ میوزیم نہ صرف ملکی تاریخ بلکہ عالمی ثقافتی ورثے کا سب سے بڑا اور جدیدترین میوزیم قرار دیا جا رہا ہے۔ قاہرہ کے قریب Giza Pyramids کے سامنے واقع یہ عظیم الشان میوزیم تقریباً دو دہائیوں کی منصوبہ بندی اورتحقیق کے بعد تعمیر ہوا۔ اس میں ایک لاکھ سے زیادہ قدیم مصری نوادرات محفوظ کیے گئے ہیں، جن میں سے بیشتر پہلی بار عوام کے سامنے پیش کیے گئے ہیں۔ GEM کی سب سے نمایاں خصوصیات میں مکمل طور پر محفوظ کیا گیا توت عنخ آمون (Tutankhamun)کا خزانہ شامل ہے، جسے پہلی مرتبہ ایک ہی جگہ پر مکمل طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ میوزیم کی تعمیر کا مقصد مصر کے ثقافتی ورثے کو جدید طرز پر محفوظ کرنا، سیاحت کو نئی سمت دینا، اور عالمی سطح پر قدیم مصری تہذیب کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ اس کے افتتاح کے بعد مصر نے توقع ظاہر کی ہے کہ سیاحتی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور GEM آنے والی دہائیوں میں مصر کی ثقافت، تعلیم اور تحقیق کا مرکزی مرکز بن جائے گا۔

سوڈان میں خانہ جنگی،صلح کی کوششیں

سوڈان کی خانہ جنگی سنگین انسانی بحران کو شدید تر کر رہی ہے۔ گذشتہ ماہ دافور کے مرکزی شہر پر RSF کے قبضے کے بعد اب دونوں طاقتیں سوڈان کے جنوب وسطی علاقے میں اپنا دائرہ کار وسیع کر رہی ہیں۔ یہ علاقہ تیل کی دولت سے مالامال ہے ۔ دارفور، خرطوم اور کردفان میں RSF کی پیش قدمی اور مختلف شہروں پر قبضے کے بعدمزید افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہورہے ہیں۔ ملک میں پناہ گزینوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ خوراک، ادویات اور طبی سہولتوں کی شدید قلت کے باعث انسانی امدادی اداروں نے صورتِ حال کو ’’بے مثال بحران‘‘ قرار دیا۔شدید جھڑپوں اور مسلسل خراب سیکیورٹی کی وجہ سے امدادی قافلے اکثر متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔نومبر کے وسط میں RSF نے بین الاقوامی دباؤ پر محدود جنگ بندی قبول کرنے کا عندیہ دیا۔تاہم ملکی فوج نے RSFکے مکمل ہتھیار ڈالنے تک جنگ کرنے کا اعلان برقرار رکھاہے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مکتوب مشرقِ بعید (دسمبر۲۰۲۵ء)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button