ہنسنامنع ہے!
دوہزارتک گنتی
مریض: ڈاکٹر صاحب مجھے رات کو نیند نہیں آتی۔
ڈاکٹر: لیٹ کے دو ہزار تک گِنا کرو، نیند آجائے گی۔
اگلے روز وہ مریض ڈاکٹر کے پاس آیا تو ڈاکٹر نے پوچھا کہ مشورے پر عمل کیا۔
مریض: جی کیا تھا۔ بہت مشکل کام ہے، ایک ہزار تک پہنچا تو نیند آنے لگی، پھر کافی پی اور دو ہزار پورے کیے۔
بانس اور فارم
سلیم :میرے دادا کا اتنا بڑا فارم تھا کہ گھوڑی کا بچہ ایک سرے سے چلتا اور دوسرے سرے تک پہنچتے پہنچتے جوان ہو جاتا۔
کلیم :میرے دادا کے پاس اتنا لمبا بانس تھا کہ جب بارش نہیں ہوتی تھی تو لوگ اُن کو آکر کہتے تھے تو وہ بادلوں کو ادھر ادھر بانس سے اکٹھا کر دیتے تو بارش ہونے لگ جاتی۔
سلیم:جھوٹ، بالکل جھوٹ، اتنا لمبا بانس وہ رکھتے کہاں تھے؟
کلیم: تمہارے دادا کے فارم میں۔
چشمہ
دیہاتی مریض: ڈاکٹر صاحب چشمہ لگ جانے کے بعد میں پڑھ تو سکوں گاناں؟
ڈاکٹر : جی جی۔ بالکل آپ چشمہ لگوانے کے بعد بالکل آرام سے پڑھ سکیں گے۔
مریض: چلو شکر ہے ، ورنہ میں ان پڑھ آدمی اِس عمر میں کہاں سکولوں میں داخلے لیتا پھرتا؟
کیریئر یا سٹینڈ
پرانے زمانے میں جب سائیکل کا رواج تھا، ایک نوجوان برطانوی آفیسر نے آرمی سٹور سے قسطوں پر سائیکل خریدا، سائیکل تو خوبصورت تھا، لیکن کیریئر کے بغیر تھا آفیسر نے بیٹ مین(Batman) کو کیریئر لگوانے کےلیے بھیجا، بیٹ مین جب سائیکل واپس لایا تو آفیسر نے دیکھا کیریئر تو لگ گیا ہے مگر سائیکل کا سٹینڈ غائب ہے۔ برطانوی آفیسر آرمی سٹور گیا اور مینیجر سے پوچھا:سائیکل کا سٹینڈ کیوں اتار لیا؟
مینیجر :فوج میں ایک ہی چیز مل سکتی ہے سر! کیریئر یا سٹینڈ۔ اگر آپ نے کسی بات پر سٹینڈ لیا تو کیریئر نہیں رہے گا اور اگر کیر یئر چاہیے تو بھی کسی بات پر سٹینڈ مت لینا۔
سگنل
ایک عورت نے سگنل توڑ دیا تو پولیس والے نے روک لیا۔
عورت: پلیز مجھے جانے دیں۔ میں ایک سکول ٹیچر ہوں۔
پولیس والا: اچھا ! میں نے زندگی بھر اِس دن کا انتظار کیا ہے۔ اب ذرا یہاں 100 بار لکھو میں سگنل نہیں توڑوں گی !
