حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

ڈائری مکرم عابد خان صاحب سے ایک انتخاب (خلافت کے زیرِ سایہ۔برکات و راہنمائی کے لمحات ۲۰۲۴ءتا۲۰۲۵ء۔ قسط سوم)

اے چھاؤں چھاؤں شخص! تری عمر ہو دراز

آنکھیں اور کان ڈھانپنا

جنوری ۲۰۲۵ء کی ایک شدید سردشام، دورانِ ملاقات، مَیں نے ‘This Week with Huzoor’ کی ایک قسط کے بارے میں موصول ہونے والے کچھ تأثرات حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں پیش کیے، جن میں کئی لوگوں نے اس کو دیکھنے سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں لکھا تھا۔

اس قسط میں ایک کامیاب شادی کے بارے میں سوال کے جواب میں حضورِ انور نے فرمایا تھاکہ میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ افہام و تفہیم اور نرمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جیسا کہ حضورِ انور نے پہلے بھی کئی مواقع پر فرمایا تھاکہ ایک کامیاب شادی کی کلید یہ ہے کہ ہر فریق کو اپنے شریکِ حیات میں جو کمزوریاں نظر آئیں، ان پر آنکھیں اور کان بند لے۔

تأثرات پیش کرنے کے بعد مَیں نے حضور ِانور سے اس بارے میں ایک سوال کیا۔

مَیں نے عرض کیا کہ حضور!آپ اکثر نوبیاہتا جوڑوں کو نصیحت فرماتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی کمزوریوں یا خامیوں پر آنکھیں اور کان بندکر لیں، لیکن پھر بھی کوئی حدّ تو ہوگی کہ جہاں شوہر یا بیوی کو اپنے شریکِ حیات میں محسوس ہونے والی کسی خامی کو درست کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟

یہ سماعت فرما کرحضور انور مسکرائے اور مجھے ارشاد فرمایا کہ مَیں اس کی کوئی مثال پیش کروں۔

مَیں نے عرض کیا کہ مثال کے طور پر اگر شوہر دیکھے کہ اس کی بیوی نماز نہیں پڑھتی۔

یہ مثال کسی ذاتی تجربے کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ صرف اس نیّت سے پوئنٹ اُٹھایا گیا کہ حضورِانور کی راہنمائی کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔

اس پر حضورِ انورنے فرمایا کہ اگر شوہر دیکھے کہ اس کی بیوی نماز نہیں پڑھتی تو اسے چاہیے کہ انتہائی محبّت اور اس کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے، نماز کی بنیادی اہمیت سمجھائے۔ مزید برآں اگر ان کے بچے ہیں، تو اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے لیے ایک اچھا نمونہ قائم کریں۔ تاہم اسے سخت رویّہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

حضورِ انور نے مزید فرمایا کہ یاد رکھو! نماز کے سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صرف دس سے بارہ سال کی عمر کے درمیان ہی والدین کے لیےسختی کرنا جائز ہے۔ لہٰذا ایک مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی شریکِ حیات پر نماز کے معاملے میں سخت رویّہ اختیار کرے یا اسے مجبور کرے۔

مَیں نے حضورِ انور کے الفاظ میں چھپی گہری حکمت کے بارے میں غور کیا کہ آنکھیں اور کان بند کرنے کی راہنمائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان ایک منفرد تعلق ہے اور قرآن کریم کے مطابق وہ ایک دوسرے کے لیےلباس کی مانند ہیں۔

حضورِانور کی راہنمائی نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی شادی کی کامیابی کے لیے باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد بنیادی چیز ہے۔ مزید برآں خاندان کو جڑے رکھنا اور بچوں کے لیے ایک صحتمند ماحول فراہم کرنا اپنی ذات میں ایک بہت بڑی نیکی ہے۔

لہٰذا جہاں میاں اور بیوی ایک دوسرے کی خامیاں یا کمزوریاں نکالنا شروع کر دیتے ہیں تو وہ اپنے گھر کے اتحاد اور قوت کو کمزور کر دیتے ہیں۔

گرومنگ گینگز۔حقیقت اور افسانے میں فرق

سال ۲۰۲۴ءکے دوران برطانیہ میں جس مسئلے کو گرومنگ گینگز کے نام سے جانا جانے لگا ہے اس پر میڈیا میں کافی کوریج اور عوامی غصّے کا اظہار ہوا ہے۔

گرومنگ گینگز سے مراد درجنوں مرد ہیں، جو زیادہ تر پاکستانی نژاد ہیں، جنہیں حالیہ برسوں میں نوجوان لڑکیوں کے خلاف سنگین جنسی جرائم کے مرتکب ہونے پر سزا سنائی گئی۔

ان کے نسلی پسِ منظر پر بہت زیادہ توجہ دی گئی اور اکثر طاقتور اور بااثر لوگوں نے، جن کے اپنے ذاتی ایجنڈے ہیں،ان جرائم کو مسلمانوں اور خاص طور پر تارکینِ وطن کے خلاف نفرت بھڑکانے کے لیے استعمال کیا۔

چونکہ برطانیہ میں زیادہ تر احمدی مسلمان پاکستانی نژاد ہیں، اس لیے ایسی خبریں دیکھنا اور پڑھنا بہت تکلیف دہ رہا۔

ایک طرف کیے گئے وحشتناک جرائم پر فطری طور پر نفرت اور کراہت محسوس ہوتی ہے، تو دوسری طرف دکھ اور مایوسی بھی ہوتی ہے کہ اپنے ایجنڈے پر مبنی لوگ اسلام کو ایسے جرائم سے جوڑنے اور پاکستانی نژاد مردوں کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

۲۰۲۵ءکے اوائل میں مَیں نے حضورِ انورکی خدمتِ اقدس میں اس معاملے کو پیش کیا، اس کی تفصیلات جاننے کے بعد حضورِ انور نے فرمایا کہ جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے مخالف ہیں وہ اس مسئلے کا فائدہ اُٹھا کر اسلام کو ایسے سنگین جرائم سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اسلامی تعلیمات کے مطابق، زنابالجبر اور جنسی زیادتی کی سزا بہت سخت ہے اور غیراسلامی معاشروں کی نسبت کہیں زیادہ سختی سے نافذ کی جاتی ہے۔ در حقیقت ایسے جرائم کے لیے اسلام کی طرف سے مقرر کردہ سزائیں ان لوگوں کی نظر میں انتہائی شدید اور سخت ترین شمار ہوں گی جو اسلام کو ان وحشیانہ جرائم سے جوڑنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔

حضورِ انور نے مزید فرمایا کہ اسلام کا فلسفہ اور تعلیم یہ ہے کہ بعض جرائم کے لیے سخت سزائیں ضروری ہیں تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا موجب بنیں اور اس جرم کی سنگینی کو اُجاگر کیا جا سکے۔

اس دن مَیں نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں ایک اَور رپورٹ بھی پیش کی جس میں بتایا گیا تھا کہ فیس بُک اور اِنسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹانے اعلان کیا کہ وہ ‘independent fact-checkers’کے استعمال کو ترک کر رہی ہے تاکہ آزاد ئ ظہارِ رائے کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے فرمایا کہ بس فائدہ کمانے کے لیے وہ زیادہ سے زیادہ فیک نیوز پھیلانے اور انہیں فروغ دینے کو تیار ہیں، جو بالآخر آن لائن نفرت اور تقسیم کو پھیلانے کا مزیدموجب بنے گا۔ یہ خودغرضی کی انتہا ہے۔

دلوں سے حضورِ انور تک۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے وضاحت

‘This Week with Huzoor’کے ناظرین نے غالباً یہ بات مشاہدہ کی ہوگی کہ حضور ِانورکے سامنے میز پر عموماً ایک آئی پیڈ موجود ہوتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات حضور ِانورسے ملاقات کے لیے آنے والے احباب کے لہجے منفرد اور نمایاں طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ گھبراہٹ کے باعث وہ اکثر بہت تیزی سے یا آہستہ آواز میں بات کرتے ہیں، نتیجۃً ان کی باتیں یا سوالات بعض اوقات واضح نہیں ہو پاتے۔

گذشتہ برسوں کے دوران ایسی صورتِ حال میں حضورِانور اکثر مجھ سے سوال یا پیش کیے گئے نکتے کی وضاحت کرنے کے لیے ارشاد فرماتے رہے ہیں۔ اگر سوال مختصر ہوتا تو مَیں اسے مناسب انداز میں پیش کر دیتا، لیکن جب سوال طویل یا پیچیدہ ہوتا تو بعض اوقات اسے جلد اور درست انداز میں پہنچانا میرے لیے مشکل ہو جاتا تھا۔

چنانچہ کووِڈ کے دَور میں جب ورچوئل ملاقاتوں کا آغاز ہواتو مَیں نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں یہ تجویز پیش کی کہ مَیں اپنے لیپ ٹاپ کے ساتھ ایک آئی پیڈ منسلک کرسکتا ہوں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سوال لیپ ٹاپ پر ٹائپ کیے جائیں تاکہ اگر کسی کا لہجہ واضح نہ ہوتو حضورِ انور آئی پیڈ پر وہ سوال ملاحظہ فرما سکیں۔ جب مَیں نے اس انتظام کا عملی مظاہرہ پیش کرتے ہوئے یہ دکھایا کہ ٹائپ کیا گیا متن فوراً لیپ ٹاپ پر دکھائی دیتا ہے تو حضورِ انور نے ازراہِ شفقت اس تجویز کی منظوری عطا فرما دی۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ نظام عمومی طور پر کامیاب طریق پر کام کرتا رہا ہے، سوائے چند ایک مواقع پر جب ملاقات کے دوران آئی پیڈ اور کمپیوٹر کا رابطہ منقطع ہو گیاتھا۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button