خطاب حضور انور

جامعہ احمدیہ کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ سے 2025ء جبکہ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا اور انڈونیشیاسے 2026ء میں فارغ التحصیل ہونے والے مبلّغینِ سلسلہ کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سےسیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز تاریخی خطاب فرمودہ مورخہ 02؍مئی 2026ء

اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق پیدا کرنے کو ایک خاص امتیاز بنائیں

آپ لوگ اس سوچ کے ساتھ میدان عمل میں آرہے ہیں کہ ہم نے تربیت کے کام بھی کرنے ہیں اور تبلیغ کے کام بھی کرنے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں کہ ہم زندگی وقف ہیں اور چوبیس گھنٹے جماعت کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔اگر یہ سوچ نہیں تو پھر آپ جماعت کی ترقی کے لیے اس طرح مفید وجود نہیں بن سکتے جس کی جماعت آپ سے توقع رکھتی ہے ،جس کی خلیفہ وقت آپ سے توقع رکھتا ہے اور جس کا آپ نے عہد کیا ہوا ہے۔ وہ عہد جو آپ نے خدا تعالیٰ سے کیا ہوا ہے۔پس آج آپ ایک بہت اہم ذمہ داری کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں اور آنا چاہیے۔ اگر یہ سوچ ،یہ ارادہ اور اس کے لیے اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ قربانی کا جذبہ نہیں تو آپ کامیدان عمل میں آنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جماعت میں مربیان اور مبلغین کی ایک اَور کھیپ کا اضافہ ہوگا جو بے معنی ہے

عملی طور پر جو جامعہ میں پڑھ رہے ہیں وہ بھی اور جو فارغ ہو رہے ہیں وہ بھی اور جو میدان عمل میں ہیں وہ بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم نے وہ معیار حاصل کرنے ہیں جو حقیقت میں ہمیں اس تعریف کا حقدار بھی بنائیں اور جو کوششیں ہم پر کی گئی ہیں اس کے نیک نتائج پیدا کرنے والے بھی بنائیں

آج میں آپ کو یہ بھی کہتا ہوں اور اس موقع پر میدان عمل میں جو مربیان ہیں ان سے بھی کہتا ہوں کہ مستقل اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ جس عظیم مقصد کے لیے آپ نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے کیا اس کے حصول کے لیے آپ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ قابل فکر بات ہے۔ اگر کی ہیں تو الحمدللہ۔اس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں

دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد تو ہر احمدی کا عہد ہے۔ ہر ایک احمدی یہ عہد دہراتا ہے اور آپ تو اس عہد کے سب سے اوّل مخاطب ہیں ۔آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے افرادِ جماعت کے سامنے ایک نمونہ بننا ہے ۔آپ وہ لوگ ہیں جن کو تربیتی اور تبلیغی میدان میں ایک ارتعاش پیدا کرنا ہے۔ اپنوں کی تربیت بھی کرنی ہے اور غیروں تک اسلام کی تعلیم کی خوبصورتی کو پہنچانا ہے۔ اس کے لیے اپنے آپ میں ایک جوش پیدا کریں ۔اس کے لیے ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اپنی جماعت کے افراد سے چاہتے ہیں۔ مربی کے معیار تو اس سے بہت اونچے ہونے چاہئیں۔تبھی آپ نمونہ بن سکتے ہیں

یہ بھی یاد رکھیں کہ کبھی اپنی کسی کامیابی یا علمی برتری کو یا کسی بھی ایسے کام کو جو آپ کو ممتاز کرنے والا ہو اپنی عقل، اپنے علم اور کسی صلاحیت پر محمول نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی عطا پر شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو یہ توفیق دی جس کی وجہ سے آپ اس قابل ہوئے کہ آپ جس مسئلے میں بھی ڈالے گئے تھے اسے صحیح طور پر پیش کر سکے اور اس کا حل نکال سکے۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ تکبر سے بچنا ہے ۔چاہے ہلکا سا بھی تکبر ہو، دل میں کبھی تکبر پیدا نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہ سخت مکروہ چیز ہے

یہاں دفترمیں بیٹھنے والوں کو بھی چاہیے کہ بجائے اس کے کہ دفتر میں بیٹھے رہیں مسجد میں جا کر نماز پڑھا کریں

ہر ایک کو نوافل اور نماز تہجد کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ موقع ملے تو نوافل کو خاص طور پر بہت زیادہ کوشش سے ادا کرنے کی کوشش کریں

آپ یہ عہد کریں کہ آپ نے باقاعدگی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے پر خاص توجہ دینی ہے اور اس میں مداومت اختیار کر نی ہے

مَیں نے استغفار کرنے کا کہا تھا ۔اس میں بھی باقاعدگی اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد بھی کرنی چاہیے۔ جب یہ چیزیں آپ میں پیدا ہوں گی تبھی آپ انہیں آگے جماعت کے افراد میں پہنچاسکیں گے اور ان میں پیدا کر سکیں گے۔ ان باتوں کا خاص طور پر خیال رکھیں

اب آپ یہ عہد کریں کہ آپ نے روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنی ہے۔ ایک مربی کے لیے ایک آدھ رکوع پڑھنا کوئی کمال نہیں ہے۔ اور اگر ایک سپارہ نہیں تو ایک سپارے کے قریب قریب پڑھنا چاہیے اور پھر اس کے مطالب پر غور کرنا چاہیے ۔اس کی تفسیر پڑھنی چاہیے

اب فراغت کے بعد ،فیلڈ میں جانے کے بعد اور میدان عمل میں جانے کے بعد آپ نے قرآن کریم کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینی ہے۔ اس پر غور کرنا ہے اور اس کی تفاسیر پڑھنی ہیں تا کہ آپ کے علم میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو اور یہی اضافہ آپ کو پھر میدان عمل میں بھی کامیابیاں عطا کرے گا

یہ بھی جائزہ لیں کہ ہمارے اندر تقویٰ اور طہارت کس حد تک ہے؟ ایک مربی اور مبلغ کو تقویٰ کی باریکیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے

ایک مربی کواس یقین پر ہمیشہ خود بھی قائم رہنا چاہیے اور جماعت کے افراد کو بھی قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے جو بشارتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو دی ہیں اور جو پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں وہ انشاء اللہ ضرور پوری ہونی ہیں اور جماعت کا غلبہ ہونا ہے

تبلیغ کے میدان میں بھی یاد رکھیں کہ ہمیشہ اعلیٰ دلائل کے علاوہ نرمی اور اعلیٰ اخلاق کا ہونا بھی ضروری ہے اور اس کا مظاہرہ ہونا چاہیے اور پھر اس کے ساتھ دلائل کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ اعلیٰ اخلاق کا معیار ہر ایک مربی کی سب سے اعلیٰ صفت ہونی چاہیے

ایک مربی میں سچائی کے بھی اعلیٰ ترین معیار ہونے چاہئیں

ہر مربی کو ایک جوش پیدا کرنا پڑے گا ۔اور وہ جوش اسی وقت ہوگا جب خدا تعالیٰ سے ایک خاص تعلق پیدا ہوگا۔ اس لیے یہ بنیادی چیز پھر وہیں آ کر ختم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کریں ۔دنیاوی چیزوں کو بھول جائیں۔ آپ کے دلوں میں اسلام کی خاطر غیرت ہو۔ جب تک یہ چیز پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک یہ نہ سمجھیں کہ آپ کو اپنی ہلکی پھلکی کوششوں سے کامیابیاں مل سکتی ہیں کیونکہ پھر کامیابیاں نہیں مل سکتیں
خدا تعالیٰ کی عبادت،قرآن کریم کے علم اور اس کی تلاوت میں اضافہ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ، خلفاء کے ساتھ تعلق اور ان کے خطبات سننے کی طرف توجہ اور ان کے پیغام کو آگے پہنچانے کی طرف توجہ بہت ضروری ہے کیونکہ آپ خلیفہ وقت کے نمائندے ہیں اور خلیفہ وقت کی نمائندگی کا حق بھی ادا کرنا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ خطبات بھی سنیں اور اس پیغام کو آگے پہنچائیں

جماعت میں محبت اور اخوت پیدا کرنے کے لیے خاص کوشش کریں

سات سال کی تربیت میں آپ کو بنیادی طور پر یہ عادت ڈال دی گئی ہے کہ آپ قرآن پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ یہ عادت ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے حدیث پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ کلام پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ اور اسی طرح خطبات بھی سنیں اور ان پر غور کریں۔ اس کے علاوہ اپنے دینی اور دنیاوی علم کو بھی بڑھائیں

کسی موقع پر اگر آپ کو دنیا داروں کے سامنے اسلام کی برتری ثابت کرنی ہو تو وہاں آپ کو تاریخ اور موجودہ حالات کا بھی علم ہو تاکہ آپ ثابت کر سکیں کہ اسلام کی تعلیم کی طرف توجہ دینا ہی ان مسائل کا اصل حل ہے جن میں آج تم لوگ گرفتار ہو۔ اس لیے اس سے پھر آپ کے لیے نئے نئے تبلیغ کے راستے کھلیں گے

آپ نے ہر میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔ تربیت کے میدان میں بھی اور تبلیغ کے میدان میں بھی ۔ آپ نے تربیت کے پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ہے اور تبلیغ کے میدان کے مختلف پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ہے

جب آپ یہ باتیں اپنے سامنے رکھیں گے تبھی آپ ایک کامیاب مربی اور مبلغ بن سکتے ہیں اور تبھی یہ کہا جا سکے گا کہ ہاں !آج جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والی کلاس کے مربیان نے حقیقت میں ایک مربی اور مبلغ ہونے کا حق ادا کر دیا ہے

جامعہ احمدیہ کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ سے 2025ء جبکہ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا اور انڈونیشیاسے 2026ء میں فارغ التحصیل ہونے والے مبلّغینِسلسلہ کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز تاریخی خطاب فرمودہ مورخہ 02؍مئی 2026ء بروز ہفتہ بمقام جامعہ احمدیہ Haslemere، ہمپشئر، یوکے

(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

الحمدللہ !آج آپ جامعہ سے، یوکے، جرمنی، کینیڈا، انڈونیشیااور گھانا کے جامعات سےسات سالہ تعلیم مکمل کر کے میدان عمل میں آنے کے لیے تیار ہیں۔ آپ لوگ اس سوچ کے ساتھ میدان عمل میں آرہے ہیں کہ ہم نے تربیت کے کام بھی کرنے ہیں اور تبلیغ کے کام بھی کرنے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں کہ ہم زندگی وقف ہیں اور چوبیس گھنٹے جماعت کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔اگر یہ سوچ نہیں تو پھر آپ جماعت کی ترقی کے لیے اس طرح مفید وجود نہیں بن سکتے جس کی جماعت آپ سے توقع رکھتی ہے ،جس کی خلیفہ وقت آپ سے توقع رکھتا ہے اور جس کا آپ نے عہد کیا ہوا ہے۔ وہ عہد جو آپ نے خدا تعالیٰ سے کیا ہوا ہے۔پس آج آپ ایک بہت اہم ذمہ داری کے ساتھ میدان عمل میں آ رہے ہیں اور آنا چاہیے۔ اگر یہ سوچ ،یہ ارادہ اور اس کے لیے اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ قربانی کا جذبہ نہیں تو آپ کامیدان عمل میں آنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ جماعت میں مربیان اور مبلغین کی ایک اَور کھیپ کا اضافہ ہوگا جو بے معنی ہے۔

مختلف جامعات کے پرنسپل صاحبان نے رپورٹس پیش کیں۔ اور بڑی خوش کن رپورٹس تھیں۔آپ کی علمی اور روحانی اور عملی ترقی کے لیے انہوں نے جامعہ میں جو کوشش کرنی تھی وہ کی۔ لیکن

ہمیشہ یاد رکھیں کہ ترقی کرنے والی قومیں اپنی کمزوریوں پہ بھی نظر رکھتی ہیں۔

اس لیے آپ لوگ یہی نہ سمجھ لیں کہ یہاں پرنسپل صاحبان نے رپورٹ میں آپ کی تعریف کر دی اور بہت کام ہو گیا بلکہ

عملی طور پر جو جامعہ میں پڑھ رہے ہیں وہ بھی اور جو فارغ ہو رہے ہیں وہ بھی اور جو میدان عمل میں ہیں وہ بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم نے وہ معیار حاصل کرنے ہیں جو حقیقت میں ہمیں اس تعریف کا حقدار بھی بنائیں اور جو کوششیں ہم پر کی گئی ہیں اس کے نیک نتائج پیدا کرنے والے بھی بنائیں۔

مختلف اوقات میں، گذشتہ کانووکیشنز میں مَیں نے دیکھا ہے کہ آپ لوگ ڈائریاں نکال کے لکھ رہے ہوتے ہیں ۔آج بھی آپ ڈائری میں نوٹ لے رہے ہوں گے۔ لیکن

اس لکھنے کا کیا فائدہ ہے اگر یہ تحریر ڈائریوں میں ہی بند ہو جانی ہے اور ان پر اس جوش و خروش سے تمام عمر عمل نہیں ہونا جس جوش و خروش کا آج آپ اس وقت لکھتے وقت اظہار کر رہے ہیں اور جو جذبہ اس وقت آپ میں پیدا ہوا ہوگا۔

گذشتہ پندرہ بیس سال سے جب سے مختلف ممالک میں جامعات شروع ہوئے ہیں اگر ایک جذبے اور لگن سے کام کرنے کے نظّارے نظر آتے تو ایک واضح تبدیلی ہمیں ہر جگہ نظر آنی چاہیے تھی ۔لیکن بہت کم ایسے ہیں جن میں یہ جذبہ ہے۔ پس

آج میں آپ کو یہ بھی کہتا ہوں اور اس موقع پر میدان عمل میں جو مربیان ہیں ان سے بھی کہتا ہوں کہ مستقل اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ جس عظیم مقصد کے لیے آپ نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے کیا اس کے حصول کے لیے آپ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ قابل فکر بات ہے۔ اگر کی ہیں تو الحمدللہ۔اس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں۔

دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد تو ہر احمدی کا عہد ہے۔ ہر ایک احمدی یہ عہد دہراتا ہے اور آپ تو اس عہد کے سب سے اوّل مخاطب ہیں ۔آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے افرادِ جماعت کے سامنے ایک نمونہ بننا ہے ۔آپ وہ لوگ ہیں جن کو تربیتی اور تبلیغی میدان میں ایک ارتعاش پیدا کرنا ہے۔ اپنوں کی تربیت بھی کرنی ہے اور غیروں تک اسلام کی تعلیم کی خوبصورتی کو پہنچانا ہے۔ اس کے لیے اپنے آپ میں ایک جوش پیدا کریں ۔اس کے لیے ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اپنی جماعت کے افراد سے چاہتے ہیں۔ مربی کے معیار تو اس سے بہت اونچے ہونے چاہئیں۔تبھی آپ نمونہ بن سکتے ہیں۔

پس

اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ کیا خدا تعالیٰ سے محبت، اس کی توحید کاقیام اور عبادات کی طرف توجہ کے لیے ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں؟

اس بارے میں قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کامطالعہ کرتے رہیں اور انتہائی باریکی سے اپنا جائزہ لیتے رہیں کہ ہماری عبادت کے کیا معیار ہیں؟ ہماری فرض نمازوں کے کیا معیار ہیں؟ نوافل اور ذکر الٰہی کے کیا معیار ہیں؟ تب ہی ہمارے کام میں برکت ہو گی اور دوسروں کو اس کا اثر بھی ہو گا۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ کبھی اپنی کسی کامیابی یا علمی برتری کو یا کسی بھی ایسے کام کو جو آپ کو ممتاز کرنے والا ہو اپنی عقل، اپنے علم اور کسی صلاحیت پر محمول نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی عطا پر شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو یہ توفیق دی جس کی وجہ سے آپ اس قابل ہوئے کہ آپ جس مسئلے میں بھی ڈالے گئے تھے اسے صحیح طور پر پیش کر سکے اور اس کا حل نکال سکے۔

اگر ایسا نہیں تو یہ باتیں پھر تکبر پیدا کریں گی۔اور تکبر جیسا کہ آپ جانتے ہیں سب نے پڑھا ہوا ہے، گہرائی میں جا کے پڑھا ہوگا کہ شرک کی طرح ہے ۔اور چاہے یہ خیالات آپ کے دل میں ہی پیدا ہوں۔ بےشک ان کا اظہار نہ بھی ہو تب بھی یہ شرک خفی جو ہے یہ آہستہ آہستہ سارے دل پر قبضہ کر لیتا ہے۔اور اس کے لیے ایک مربی کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔پس باریکی سے اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ متکبر ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔

(سنن ابن ماجہ کتاب السنۃ باب فی الایمان حدیث نمبر 59)

اور آپ لوگ تو وہ ہیں جو لوگوں کو جنت کے راستے بتانے والے ہیں۔کجا یہ کہ آپ میں خود ایسی بات پیدا ہو جائے جو آپ کو اس سے دور ہٹانے والی ہو۔ تقریروں میں آپ ہمیشہ یہ کہتے ہیں اور آئندہ بھی کہیں گے کہ تکبر اور شیطان کا گہرا تعلق ہے ۔لیکن اس سے پہلے خود اپنا جائزہ لینا ہوگا کہ ہم کہاں تک اس گناہ سے پاک ہیں۔ پس

ہمیشہ یاد رکھیں کہ تکبر سے بچنا ہے چاہے ہلکا سا بھی تکبر ہو۔ دل میں کبھی تکبر پیدا نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہ سخت مکروہ چیز ہے ۔

اسی طرح

نمازوں کی طرف توجہ ہونی چاہیے

جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ ہر مربی کا یہ کام ہے کہ وہ پانچوں وقت کی نماز بروقت ادا کرے اور جس سینٹر میں اسے مقرر کیا گیا ہے یا جس مسجد میں امامت دی گئی ہے وہاں پانچوں وقت نمازوں کے لیے مسجد کے دروازے کھلنے چاہئیں اور اذان دے کر مربی کو وہاں حاضر ہونا چاہیے۔اور جو مربیان دفتروں میں کام کرنے والے ہیں خاص طور پر یہاں مرکزی دفاتر میں اور ہو سکتا ہے وہاں دوسرے ملکوں میں بھی جو دفتروں میں کام کرنے والے ہوں اور دفتر ان کے مسجد سے پیچھے ہوں۔ وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دفتری کام زیادہ اہم ہے اس لیے ہم دفتر میں ہی نماز پڑھ لیں۔ اگر باجماعت نماز بھی ہو رہی ہے تو امام کے پیچھے دفترمیں پڑھ لیں گے لیکن یہ غلط سوچ ہے۔ اس لیے

یہاں دفترمیں بیٹھنے والوں کو بھی چاہیے کہ بجائے اس کے کہ دفتر میں بیٹھے رہیں مسجد میں جا کر نماز پڑھا کریں۔

یہ نہ دیکھیں کہ فلاں فلاں دفتر میں بیٹھ کر خطبہ سن رہا ہے تو ہم بھی دفتر میں بیٹھے رہیں ۔بلکہ جمعہ کے اوقات میں بھی بعض دفعہ شکایتیں ملتی ہیں کہ یہاں مرکزی دفاتر میں جن کی دفتروں میں ڈیوٹی ہوتی ہے وہ جمعہ کے وقت مسجد میں نہیں جاتے۔

جمعہ کے لیے بہرحال مسجد میں جانا ہے اور یہ بہت ضروری چیز ہے۔

اسی طرح جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ

تہجد کی نماز بہت ضروری ہے ۔

ایک مربی جس کا اپنے کام کی کامیابی میں کلی انحصار اللہ تعالیٰ ہی پر ہے اور اس کی اپنی کوئی کوشش نہیں اسے تو نمازوں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسے نوافل کی طرف بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پس

ہر ایک کو نوافل اور نماز تہجد کا خاص اہتمام کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ موقع ملے تو نوافل کو خاص طور پر بہت زیادہ کوشش سے ادا کرنے کی کوشش کریں۔

اسی طرح

مَیں نے درود بھیجنے اور دعائیں کرنے کی تحریک کی تھی

لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اکثر باقاعدگی سے اس پر عمل نہیں کرتے۔ جو اس وقت میدان عمل میں ہیں ان میں بھی باقاعدگی نہیں ہے ۔اور آپ جو جامعہ کے طلبہ ہیں آپ میں بھی باقاعدگی نہیں ہے۔ اب یہاں بیٹھے آپ عہد کریں۔ بیٹھے ہیں تو

آپ یہ عہد کریں کہ آپ نے باقاعدگی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے پر خاص توجہ دینی ہے اور اس میں مداومت اختیار کر نی ہے۔

اسی طرح

مَیں نے استغفار کرنے کا کہا تھا ۔اس میں بھی باقاعدگی اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد بھی کرنی چاہیے۔ جب یہ چیزیں آپ میں پیدا ہوں گی تبھی آپ انہیں آگے جماعت کے افراد میں پہنچاسکیں گے اور ان میں پیدا کر سکیں گے۔ ان باتوں کا خاص طور پر خیال رکھیں۔

پھر

قرآن کریم کامطالعہ ہے جس کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

بےشک اچھی رپورٹیں پیش کی گئی ہیں۔ وہ توجہ جو دینی چاہیے تھی نہ آپ نے زمانہ طالب علمی میں دی ۔ اور نہ ہی بہت سے ایسے مربیان جو اس وقت میدان عمل میں ہیں وہ توجہ دیتے ہیں ۔لیکن

اب آپ یہ عہد کریں کہ آپ نے روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنی ہے۔ ایک مربی کے لیے ایک آدھ رکوع پڑھنا کوئی کمال نہیں ہے۔ کم از کم آدھا پوناسپارہ تو ضرور پڑھنا چاہیے اور اگر ایک سپارہ نہیں تو ایک سپارے کے قریب قریب پڑھنا چاہیے اور پھر اس کے مطالب پر غور کرنا چاہیے ۔اس کی تفسیر پڑھنی چاہیے۔

تبھی آپ کو گہرائی میں جا کر ان احکامات کا پتہ لگے گا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں دیے ہیں ۔اور جب آپ اس راہنما کتاب کو اپنے سامنے رکھیں گے تبھی آپ حقیقی طور پر اسلام کی تعلیم سے آگاہ ہو سکیں گے۔ تبھی لوگوں کی صحیح راہنمائی کر سکیں گے اور تبھی تبلیغ کا حق بھی ادا کر سکیں گے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا تھا اور آپ نے بھی پڑھا ہوگا لیکن پڑھ کے بھول جانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔‘‘

(کشتی نوح،روحانی خزائن جلد19صفحہ13)

اب یقیناً ایک مربی سے یہ امید تو نہیں کی جاتی کہ وہ اسے مہجورکی طرح چھوڑ دے گا لیکن جو توجہ دینی چاہیے وہ اس طرح نہیں دی جاتی جو اس کا حق ہے۔ اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔

پس

اب فراغت کے بعد ،فیلڈ میں جانے کے بعد اور میدان عمل میں جانے کے بعد آپ نے قرآن کریم کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینی ہے۔ اس پر غور کرنا ہے اور اس کی تفاسیر پڑھنی ہیں تا کہ آپ کے علم میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو اور یہی اضافہ آپ کو پھر میدان عمل میں بھی کامیابیاں عطا کرے گا۔

اسی طرح

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ ہے۔ یہ بھی بہت ضروری ہے۔

ایک مجلس میں جہاں لوگ مجھے ملنے آئے تھے۔ کینیڈا سے یاامریکہ سے ایک مربی صاحب تھے۔ ان کی ایک بات سن کے مجھے حیرت ہوئی ۔مجھے پتہ نہیں تھا کہ وہ مربی ہیں۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کتنی کتابیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پڑھی ہیں ؟تو انہوں نے بتایا کہ ساٹھ کتابیں پڑھ لی ہیں۔ میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے۔ میں نے پوچھا کرتے کیا ہیں آپ؟ تو پتہ لگا مربی ہیں۔ بہرحال بڑی اچھی بات ہے اگر ایک مربی صاحب نے بھی ساٹھ کتابیں پڑھ لیں لیکن

ایک مربی کی حیثیت سے تو آپ لوگوں کو تمام کتب پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور پڑھنی چاہئیں۔

بہرحال اس وقت یہاں بہت سارے مربیان ایسے ہیں جنہوں نے اگر پڑھی بھی ہیں تو چند کتابیں ہی پڑھی ہوں گی اور وہ بھی پوری طرح یاد نہیں رہتیں کیونکہ جب ان سے کوئی حوالہ پوچھا جاتا ہے تو ان کے لیے حوالہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ پس

اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہم یہ کریں گے تب ہی ہم مربی ہونے کا حق ادا کر سکیں گے۔

پھر

جماعت میں محبت اور بھائی چارے کی تلقین کرنا یہ بھی بہت ضروری ہے۔

آپ میدان عمل میں جا رہے ہیں ۔ایسی چیزوں سے آپ کو واسطہ پڑے گا۔ ان تربیتی کاموں پر بھی آپ کو بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔لیکن اس محنت کرنے سے پہلے خود اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم میں یہ معیار ہے کہ ہم محبت اور بھائی چارے کو قائم رکھنے کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں یا اپنی ذاتی انا، ذاتی خواہشات اور ذاتی مقاصد کی خاطر ان باتوں کو بھول جائیں۔

پھر

یہ بھی جائزہ لیں کہ ہمارے اندر تقویٰ اور طہارت کس حد تک ہے؟

ایک مربی اور مبلغ کو تقویٰ کی باریکیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اگر ایسا ہوگا تو تب ہی آپ کو کامیابیاں ملیں گی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا ہے کہ

تقویٰ اختیار کر کے ہی تم خدا تعالیٰ کی پناہ کے حصن حصین میں آ سکتے ہو۔

(ماخوذازملفوظات جلد1صفحہ65،ایڈیشن2022ء)

پس اللہ تعالیٰ کی پناہ کے اس محفوظ قلعے میں آنے کے لیے تقویٰ اختیار کرنا ہوگا ۔اور جب آپ اس محفوظ قلعہ میں آ جائیں گے تو پھر آپ کا ہر قول اور فعل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہوگا اور آپ کا ہر عمل وہ بہتر نتائج پیدا کرے گا جو آپ کو تربیت میں بھی کامیابیاں عطا کرے گا اور تبلیغ کے میدان میں بھی آپ کو کامیابیاںعطا ہوں گی۔پس اس طرف خاص طور پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جب تقویٰ ہوگا تو آپ کی اخلاقی حالت بھی بہتر ہو گی۔اور جب اخلاقی حالت بہتر ہوگی تو آپ ان غلط قسم کے پروگراموں سے بچیں گے جو آج کل انٹرنیٹ یا ٹی وی پر آتے ہیں اور جن کی طرف بعض دفعہ توجہ پیدا ہو جاتی ہے ۔

مربیان بھی دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسے ناپسندیدہ پروگرام دیکھتے ہیں اور پھر دیکھتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے پھر ان کی بیوی بچوں کی طرف سے یا لوگوں کی طرف سے شکایات آتی ہیں۔ اگر معلومات کی حد تک ایک دفعہ کوئی پروگرام دیکھ لیا تو اس سے یہ تو پتہ لگ جاتا ہے کہ اس میں کتنی گندگی اور غلاظت ہے ۔لیکن اس میں بالکل ڈوب جانا اور اپنی بیویوں اور رشتہ داروں یا جماعت کے افراد کو شکایت کا موقع دینا کہ مربی صاحب فلاں پروگرام دیکھتے ہیں یہ ایک ایسی چیز ہے جو آپ کے کام میں رکاوٹ پیدا کرے گی اور اس سے برکت بھی اٹھ جائے گی اور آپ کی بدنامی کا باعث بھی بنے گی۔پس اس لحاظ سے بھی بہت ضروری ہے کہ آپ ان چیزوں سے بچیں۔

بعض دفعہ لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن

ایک مربی کواس یقین پر ہمیشہ خود بھی قائم رہنا چاہیے اور جماعت کے افراد کو بھی قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے جو بشارتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو دی ہیں اور جو پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں وہ انشاء اللہ ضرور پوری ہونی ہیں اور جماعت کا غلبہ ہونا ہے۔

پس اس کے لیے جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا اپنے دینی علم کو قرآن کریم کے ذریعہ سے بڑھانا ،حدیث کے ذریعہ سے بڑھانا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے ذریعہ سے بڑھانا اور اس کے علاوہ خود بھی تحقیق کرنا بہت ضروری ہے ۔اور اس ایمان پر قائم ہونا ضروری ہے کہ جماعت احمدیہ نے غالب آنا ہے انشاء اللہ۔

جب آپ کے اندر یہ یقین ہوگا تو پھر آپ جو ٹارگٹ مقرر کریں گے وہ بہت بلند اور اونچے ہوں گے کیونکہ آپ کے سامنے ایک بہت بڑا کام ہے جو آپ کے سپرد کیا گیا ہے۔ آپ کو اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس غلبے کے لیے تمہاری کوششیں بھی شامل ہونی چاہئیں۔

پس

اپنی علمی صلاحیتوں اور عملی کوششوں کے لحاظ سے اپنے آپ کو بہتر کرنے سے آپ کو وہ معیار حاصل ہوگا جس سے آپ اسلام اور احمدیت کاغلبہ بھی دیکھنے والے ہوں گے اور اس کی ترقی میں مددگار و معاون ثابت ہوں گے اور اس کا حصہ بنیں گے۔

پھر

یہ بھی یاد رکھیں کہ قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ انسان تقویٰ پر چلنے والا ہو۔

آپ نے جامعہ میں پرانے بزرگوں کے واقعات بھی پڑھے ہیں ۔پرانے اولیاء اللہ کے واقعات بھی پڑھے ہیں۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبولیت دعا کے واقعات بھی پڑھے ہیں۔حدیثوں میں بھی آپ نے واقعات پڑھے ہیں۔ آج کل جو خطبات مَیں دے رہا ہوں ان میں بھی آپ نے سنے ہوں گے اور قرآن کریم میں بھی پڑھا ہوگا۔ آخر یہ سب کچھ آپ پڑھ کے ہی نکلے ہیں ناںجامعہ سے۔ لیکن

ان واقعات کے پڑھنے اور سننے کا فائدہ تبھی ہے جب آپ خود بھی تقویٰ کے ان معیاروں کو حاصل کریں جہاں آپ کا اللہ تعالیٰ سے ایک براہ راست تعلق پیدا ہواور پھر آپ خود بھی قبولیت دعا کے نظارے دیکھنے والے ہوں۔ اس بارے میں ہر مربی کو کوشش کرنی چاہیے۔

پھر

یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر آپ کے اخلاق اعلیٰ ہیں، آپ کا علمی معیار اونچا ہے تو پھر آپ کو کسی مخالف سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ میں ایک ہمت اور دلیری اس چیز سے پیدا ہوگی۔

ہمارے بہت سے مربیان ہیں جن کا علمی معیار بھی اچھا ہے اور وہ مخالفین سے بحث کر کے ان کے منہ بند کردیتے ہیں لیکن

تبلیغ کے میدان میں بھی یاد رکھیں کہ ہمیشہ ان اعلیٰ دلائل کے علاوہ نرمی اور اعلیٰ اخلاق کا ہونا بھی ضروری ہے اور اس کا مظاہرہ ہونا چاہیے اور پھر اس کے ساتھ دلائل کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔

یہی ہمیں قرآن کریم کا حکم ہے ۔یہی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔یہی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے تعلیم دی ہے کہ ہمارے منہ سے کبھی ایسے الفاظ نہیں نکلنے چاہئیں جو کسی بھی رنگ میں سختی کا اظہار کرنے والے ہوں۔

(ماخوذ از کتاب البریہ ،روحانی خزائن جلد13 صفحہ 13)

کیونکہ یہ بات کم ہمتی اور علم کی کمی پر دلالت کرتی ہے۔پس

اعلیٰ اخلاق کا معیار ہر ایک مربی کی سب سے اعلیٰ صفت ہونی چاہیے ۔

پھر یہ بھی یاد رکھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرف بھی بار بار توجہ دلائی ہے کہ

احمدیوں کو عملی نمونہ دکھانا چاہیے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد1صفحہ167،ایڈیشن2022ء)

جیسا کہ پہلے بھی مَیں کہہ چکا ہوں ۔کیونکہ عملی نمونہ ہی ہے جس سے لوگوں میں توجہ پیدا ہوتی ہے اور ایک مربی کے عملی نمونہ کا معیار بہت بلند ہونا چاہیے ۔

گو یہ باتیں جو میں کر رہا ہوں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور نظر یہی آتا ہے کہ بار بار دہرا رہا ہوں لیکن ان کی بہت ضرورت ہے۔ اس پر خاص توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ عملی نمونہ ایک انقلاب اور لوگوں میں تبدیلیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

آج کل جو میں خطبات دے رہا ہوں ان میں بھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا ایک اقتباس سنایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ کی وجہ سے ہی وہ لوگ آپؐ سے متاثر ہوئے تھے جو آپؐ کے قریب رہنے والے تھے بلکہ یہی وہ عملی نمونہ تھا جس کی وجہ سے ان لوگوں کے دلوں پر ایک خاص اثر ہوا۔ آپؐ کی سچائی ان پر ظاہر ہوئی اور انہوں نے اس سچائی کو دیکھ کر آپ کو قبول کیا۔

(ماخوذ ازملفوظات جلد 4 صفحہ 122-123،ایڈیشن 2022ء)

پس

ایک مربی میں سچائی کے بھی اعلیٰ ترین معیار ہونے چاہئیں

تاکہ کبھی یہ شکوہ نہ ہو کہ اس نے غلط طور پر گواہی دی یا غلط طور پر ہم سے بات کی۔ بعض دفعہ شکایتیں آ جاتی ہیں۔ بعض دفعہ میدان عمل میں آنے والوں کی شکایت ہوتی ہے کہ مربی صاحب نے فلاں کی حمایت کر دی۔ اگر تقویٰ پر چلتے ہوئے حمایت کی ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ۔اور اگر کسی غلط تعلق کی وجہ سے، کسی ذاتی تعلق کی وجہ سے حمایت کی ہے تو وہ غلط ہے اور اس کی اصلاح ہونی چاہیے۔ آپ لوگوں کو بھی اپنی عملی زندگی میں اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔

اسی طرح یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ لوگ تقریروں میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے اقتباسات کا حوالہ دیتے ہیں کہ

اپنے اندر صحابہؓ  کا سا جوش پیدا کرو اور اسلام کے لیے وہ حمیّت اور غیرت پیدا کرو ۔ اور اگر یہ نہیں کرو گے تو اس وقت تک تم اپنے آپ کو ایسا نہ سمجھو کہ ہم دنیا کی اصلاح کر سکتے ہیں یا دنیا کے لیے مفید وجود بن سکتے ہیں۔

(ماخوذازملفوظات جلد1صفحہ201-202،ایڈیشن2022ء)

یہ توقع تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک عام احمدی سے رکھی ہے کہ تم بھی ایسے بنو لیکن

ایک مربی کو تو اس طرف خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اسے ایک جوش پیدا کرنا پڑے گا

جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا۔

اگر یہ جوش ہر ایک میں پیدا ہوتا تو اب تک پندرہ بیس سال سے جتنی بھی کھیپیں نکلی ہیں ایک انقلاب پیدا ہو سکتا تھا لیکن وہ جوش ہمیں نظر نہیں آتا۔

پس

ہر مربی کو ایک جوش پیدا کرنا پڑے گا ۔اور وہ جوش اسی وقت ہوگا جب خدا تعالیٰ سے ایک خاص تعلق پیدا ہوگا۔ اس لیے یہ بنیادی چیز پھر وہیں آ کر ختم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کریں ۔دنیاوی چیزوں کو بھول جائیں۔ آپ کے دلوں میں اسلام کی خاطر غیرت ہو۔ جب تک یہ چیز پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک یہ نہ سمجھیں کہ آپ کو اپنی ہلکی پھلکی کوششوں سے کامیابیاں مل سکتی ہیں کیونکہ پھر کامیابیاں نہیں مل سکتیں۔

پس یہ چند باتیں ہیں جو مَیں آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔ ان کو ہمیشہ یاد رکھیں۔

خدا تعالیٰ کی عبادت۔ قرآن کریم کے علم اور اس کی تلاوت میں اضافہ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ۔ خلفاء کے ساتھ تعلق اور ان کے خطبات سننے کی طرف توجہ اور ان کے پیغام کو آگے پہنچانے کی طرف توجہ بہت ضروری ہے کیونکہ آپ خلیفہ وقت کے نمائندے بھی ہیں اور خلیفہ وقت کی نمائندگی کا حق ادا کرنا ہے ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ خطبات بھی سنیں اور اس پیغام کو آگے پہنچائیں۔

ان خطبات میں بعض دفعہ تاریخی اور بعض دفعہ سیرت کی باتیں جو مَیں آج کل بیان کر رہا ہوں تو

آپ نے ان ہی میں سے نکات نکال کر آگے جماعتوں تک پہنچانے ہیں اور اسی سے مزید تربیتی پہلو بھی نکالنے ہیں۔بعض کامیاب مربیان اور مبلغین ان میں سے نکات نکالتے ہیں اور پھر آگے جماعت تک پہنچاتے ہیں جس کا جماعت کو فائدہ بھی ہوتا ہے۔

پھر

جماعت میں محبت اور اخوت پیدا کرنے کے لیے خاص کوشش کریں۔

کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جماعت کا ہر فرد ایک بھائی اور قریبی عزیز کی حیثیت سے ایک دوسرے کا حق ادا کرنے والا ہو اور جماعت میں کوئی ایسا شخص نہ ہو جو کسی کا حق غصب کرنے والا ہو۔ اگر مربیان یہ باتیں سامنے رکھیں اور وقتاً فوقتاً اس کی تلقین کرتے رہیں اور لوگوں میں یہ احساس دلائیں کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ہم نے ایک ہو کر رہنا ہے جو جماعت کی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے اندر تربیت کا معیار بہت اونچا ہو گا اور بہت سے ایسے جھگڑے جو آج کل بڑھنا شروع ہو گئے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔

میدان عمل میں جا کر آپ کو بہت سی چیزوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے ذہنی طور پر تیار رہیں کہ آپ کو ان مسائل سے گزرنا ہوگا اور ان کے حل کے لیے آپ نے کیا لائحہ عمل بنانا ہے اس کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔

سات سال کی تربیت میں آپ کو بنیادی طور پر یہ عادت ڈال دی گئی ہے کہ آپ قرآن پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ یہ عادت ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حدیث پڑھیں اور اس پر غور کریں، کلام پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ اور اسی طرح خطبات بھی سنیں اور ان پر غور کریں۔ اس کے علاوہ اپنے دینی اور دنیاوی علم کو بھی بڑھائیں۔

یہ صلاحیت بھی آپ میں ہونی چاہیے تاکہ

کسی موقع پر اگر آپ کو دنیا داروں کے سامنے اسلام کی برتری ثابت کرنی ہو تو وہاں آپ کو تاریخ اور موجودہ حالات کا بھی علم ہو، تاکہ آپ ثابت کر سکیں کہ اسلام کی تعلیم کی طرف توجہ دینا ہی ان مسائل کا اصل حل ہے جن میں آج تم لوگ گرفتار ہو۔ اس سے پھر آپ کے لیے نئے نئے تبلیغ کے راستے کھلیں گے۔

اسی طرح

بعض مخالفین اور معاندین جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے خلاف اعتراض کرتے ہیں ان کے جوابات بھی آپ کو تیار رکھنے چاہئیں۔

گویا

آپ نے ہر میدان میں، تربیت کے میدان میں بھی اور تبلیغ کے میدان میں بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔آپ نے تربیت کے پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ہے اور تبلیغ کے میدان کے مختلف پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ہے۔

مسلمانوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے ۔دہریوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے۔ عیسائیوں کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے اور جو انتہائی مخالف ہیں ان کو تبلیغ کس طرح کرنی ہے۔یہودیوں کوتبلیغ کس طرح کرنی ہے۔ دلائل سے ان کے منہ کس طرح بند کرنے ہیں اور انہیں لاجواب کرنا ہے اور دنیا میں اسلام کی برتری کو کیسے ثابت کرنا ہے۔ ان سب باتوں کو آپ نے اپنے سامنے رکھنا ہے۔ پس

جب آپ یہ باتیں اپنے سامنے رکھیں گے تبھی آپ ایک کامیاب مربی اور مبلغ بن سکتے ہیں اور تبھی یہ کہا جا سکے گا کہ ہاں !آج جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والی کلاس کے مربیان نے حقیقت میں ایک مربی اور مبلغ ہونے کا حق ادا کر دیا ہے

اور جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا پھر میں کہتا ہوں کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ

اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق پیدا کرنے کو ایک خاص امتیاز بنائیں

اور اس کے لیے تہجد کی طرف بھی خاص توجہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں بھی سنے اور ان دعاؤں کے نتیجے میں آپ کو کامیابیاں بھی عطا فرمائے۔ جب آپ یہ چیزیں حاصل کر لیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ہم کہہ سکیں گے کہ آج جامعہ سے پاس ہونے والے یہ طلبہ حقیقت میں وہ مربی اور مبلغ بن کر نکل رہے ہیں جو جماعت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں اور کارآمد وجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ دعا کرلیں۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ جرمنی2025ء کے موقع پر مستورات کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز خطاب

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button