کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

شہادت کی حقیقت

یہ بھی یا درکھو کہ یہی شہادت نہیں کہ ایک شخص جنگ میں مارا جاوے بلکہ یہ امر ثابت شدہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ثابت قدم رہتا ہے اور اس کے لیے ہر دکھ درد اور مصیبت کو اٹھانے کے لیے مستعد رہتا ہے اور اٹھاتا ہے وہ بھی شہید ہے۔ شہید کا مقام وہ مقام ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کو گویا دیکھتا اور مشاہدہ کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ہستی اس کی قدرتوں اور تصرفات پر وہ اس طرح ایمان لاتا ہے جیسے کسی چیز کو انسان مشاہدہ کر لیتا ہے۔ جب اس حالت پر انسان پہنچ جاوے پھر اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینا کچھ بھی مشکل معلوم نہیں ہوتا بلکہ وہ اس میں راحت اور لذت محسوس کرتا ہے۔ شہادت کا ابتدائی درجہ خدا کی راہ میں استقلال اور ثباتِ قدم ہے ۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص نہ مرا اللہ کی راہ میں اور نہ تمنا کی مر گیا وہ نفاق کے شعبہ میں ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص مومن کامل نہیں ہوتا جب تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں مرنا دنیا کی زندگی سے وہ مقدم نہ کرلے ۔ پھر یہ کیسا گراں مرحلہ ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے دنیا کی حیات کو عزیز سمجھا۔ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے کے یہ معنے نہیں کہ انسان خواہ نخواہ لڑائیاں کرتا پھرے بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام اور اوامر کو اس کی رضا کو اپنی تمام خواہشوں اور آرزوؤں پر مقدم کرلے اور پھر اپنے دل میں غور کرے کہ کیا وہ دنیا کی زندگی کو پسند کرتا ہے یا آخرت کو اور خدا کی راہ میں اگر اس پر مصائب اور شدائد بھی پڑیں تو وہ ایک لذت اور خوشی کے ساتھ انہیں برداشت کرے اور اگر جان بھی دینی پڑے تو تردّ دنہ ہو۔

(ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۲۹۵، ایڈیشن۲۰۲۲ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button