سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تربیت اولاد اور خانگی زندگی کا نمونہ

(عائشہ شیراز-کینیڈا)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ، وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ۔ (ترمذی حدیث:۳۸۹۵) تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہترین ہو اور میں اپنے اہل و عیال کے حق میں تم میں سے بہترین ہوں۔
آنحضورﷺ کے غلام صادق اور حقیقی عاشق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے آقاﷺ کی غلامی میں آج کے دور میں تربیت اولاد اور خانگی زندگی کے وہ نمونے دکھائے جو ہر احمدی کے لیے مشعل راہ ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے درمیان محبت و پیار، اطاعت و خدمت اور حسن ِسلوک کا جو شاندار اور مثالی تعلق تھا وہ ہم سب کے لیے آئینہ ہدایت ہے۔ اس سلسلے میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”میں نے اپنے ہوش میں نہ کبھی حضورؑ کو حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا سے ناراض دیکھا نہ سنا، بلکہ ہمیشہ وہ حالت دیکھی جو ایک مثالی جوڑے کی ہونی چاہیے۔ “(سیرت و سوانح حضرت اماں جان از پروفیسر سیدہ نسیم سعید صفحہ۱۱۲)
آپس کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک روز حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”میں ہمیشہ دعا کرتی ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے آپ کا غم نہ دکھائے اور مجھے آپ سے پہلے اٹھا لے۔ یہ سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اور مَیں ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہو اور میں تم کو سلامت چھوڑ جاؤں۔“ ( سیرت حضرت اماں جان شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ پاکستان، صفحہ نمبر۹)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت اماں جان رضی اللہ تعالی ٰعنہا کی چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھا کرتے تھے اور ہر تکلیف کو فوری دور کرنے کی کوشش کرتے۔ اسی طرح بیماری میں آپ کی تیمارداری کرتے۔ حضرت اماں جان کی بات کو بڑی عزت دیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جو خادمائیں آپ کے گھر کام کرنے آیا کرتی تھی وہ کہا کرتی تھیں کہ: ”مرجا بیوی دی گل بڑی مندا ہے۔“ (سیرت و سوانح حضرت اماں جان از پروفیسر سیدہ نسیم سعید صفحہ۱۰۹)
حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہؓ نے ایک واقعہ بیان فرمایا ہے جس سے اس باہمی تعلق محبت پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ آپؓ فرماتی ہیں:”حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار تھیں اور حضرت اقدسؑ تیمارداری فرماتے۔ کھڑے دوائی پلا رہے تھے۔ اور حالت اضطراب میں اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہہ رہی تھیں ہائے میں تو مر جاؤں گی۔ آپ کا کیا ہے بس اب میں مر چلی ہوں۔ تو حضرت نے آہستہ سے فرمایا تو تمہارے بعد ہم زندہ رہ کر کیا کریں گے۔“حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہؓ مزید فرماتی ہیں: ” ایسی دل نوازی کی ہزاروں باتیں ہیں۔“ (سیرت و سوانح حضرت اماں جان از پروفیسر سیدہ نسیم سعید صفحہ۱۱۷)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کے دوست احباب کے متعلق ناپسند فرماتے تھے کہ وہ عورتوں سے سختی سے پیش آئیں۔حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو طبیعت کے ذرا سخت تھے ایک بار اپنی بیوی کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام ہوا:”یہ طریق اچھا نہیں۔ اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو۔ “اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : ”اس الہام میں تمام جماعت کے لیے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔ وہ ان کی کنیزکیں نہیں ہیں۔ درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغاباز نہ ٹھہرو۔…سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کے لیے دعا کرتے رہو۔“(اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷۔صفحہ۴۲۸ حاشیہ)
اسی طرح تربیت اولاد اور بچوں پر شفقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت کا ایک نمایاں وصف تھا۔ اور اس وصف کے اظہار میں بھی اطاعت رسول ﷺاور خوشنودیٔ خدا ہی مقصود تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کو سزا دینے کے سخت مخالف تھے۔ مدرسہ تعلیم الاسلام میں جب کبھی کسی استاد کے خلاف شکایت آتی کہ اس نے کسی بچے کو مارا ہے تو سخت ناپسند فرماتے۔ آپؑ فرماتے ہیں: ” ہدایت اور تربیت حقیقی خدا کا فعل ہے۔ سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرنا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔ یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے اس سے ہماری جماعت کو پرہیز کرنا چاہیے۔“ ( سیرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی رضی اللہ تعالی ٰعنہ صفحہ۳۵۳-۳۵۴)
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ نے اپنی تالیف’سیرت المہدی ‘میں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ کی روایت سے ایک واقعہ لکھا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو تعلیم رحم دینا مقصود ہے۔ وہ لکھتے ہیں:” ایک دفعہ میاں یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت صاحب نے جمعہ کی نماز کے لیے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا میاں گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں۔“( سیرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ۳۵۵)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک ذاتی واقعہ سیرت المہدی میں لکھا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپؑ بچوں کو بڑوں کا ادب کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ فرماتے ہیں:” ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس حجرہ میں کھڑے تھے جو عزیزم میاں شریف احمد صاحب کے مکان کے ساتھ ملحق ہے۔ والدہ صاحبہ بھی غالباً پاس تھیں۔ میں نے کوئی بات کرتے ہوئے مرزا نظام الدین صاحب کا نام لیا تو صرف نظام الدین کہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”میاں آخر وہ تمہارا چچا ہے اس طرح نام نہیں لیا کرتے۔ “ ( سیرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ۳۵۴)
ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جہاں بچوں کے ساتھ بے انتہا شفقت اور نرمی کا سلوک فرماتے تھے وہیں کوئی موقع ان کی تربیت کا ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔آپؑ کا اسوۂ تربیت اولاد کے حوالے سے آپؑ کی نصائح اور خانگی زندگی میں آپؑ کا مثالی نمونہ ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔ خدا تعالیٰ ہمیں آپؑ کی کامل اطاعت کرنے اورآپؑ کے کامل نمونے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مزید پڑھیں:سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیکرِ رحمت و شفقت

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button