ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
الفضل انٹرنیشنل میں میر صاحب پر شاہکار مضامین دیکھے تو دل کے کچھ کونوں کھدروں میں محفوظ اس عظیم ہستی کی چند یادیں، شفقتیں جوش مارنے لگیں سوچا کچھ دعا کا موقع ہو جائے گا۔ خاکسار کی کم مائیگی کا یہ عالم ہے کہ دامن بھی چند یادوں کے سوا خالی ہے۔ بہرحال پیش آنے والے کچھ ذاتی واقعات کو لکھنے کی کوشش کروںگا۔
شاعر نے تو پتا نہیں کس لہر میں آکر، ترنگ میں آکر یہ مصرعہ لکھا ؎
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
لیکن اگر میں کہوں کہ محترم میر صاحب پر مکمل طور پر چسپاں ہوتا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ میر صاحب کابزرگی کا اعلیٰ مقام اور عاجزی کی انتہا یہی اسلوب تھا ۔ ان کی شخصیت کے تو اتنے پہلو ہیں کہ احاطہ کرنا ممکن نہیں لیکن جامعہ کے ایک کمزور و نالائق طالب علم کے طور پر خاکسار نے ان کو کیسا پایا اس کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔

میر صاحب کو طلبہ کی تربیت کا بہت زیادہ خیال تھا اور ہر ممکن طریقہ سے وہ چاہتے تھے کہ ان کا علم بڑھے ۔خاکسار سے ان کا تعارف اس وقت ہوا جب وہ غالباًسپین سے نئے نئے جامعہ احمدیہ میں آئے۔ ہم جیسے طلبہ جن کا تعلق ربوہ سے نہ تھا، متجسس تھے کہ یہ جو جیکٹ میں ملبوس نورانی چہرے کے ساتھ انتہائی پھرتی کے ساتھ لیکن خاموشی سے ہر چیز کا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں اور کبھی کلاس کے دوران باہر کھڑکی سے جھانک کر طلبہ اور اساتذہ کے پڑھنے اور پڑھانے کے انداز کو چیک کر رہے ہوتے ہیں کون ہیں ؟ اورپھر پتہ چلا کہ یہ ہمارے نئے پرنسپل سید میر محمود احمد صاحب ہیں۔ چونکہ ہماری کلاس تقریباً آخری ایک دو سال میں تھی اس لیے فیضیاب ہونے کا بہت موقع نہ تھا لیکن میر صاحب کی کوشش تھی کہ ان کلاسز کو سنوار اور نکھار دیں۔ اس کا آغاز انہوں نے تمام سیکشنز (ہماری کلاس کے چار سیکشنز تھے) کو ہال میں بٹھا کر انتہائی اہم تحقیقی ریسرچ پر مشتمل لیکچرز دینے سے کیا تب تو ہماری یہ خوش بختی تھی کہ ہم پر ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو نمایاں ہوئے۔ ان میں سے ایک پہلو اپنے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا شامل تھا۔ میر صاحب عمومی طور پر ہماری کلاس کو جامعہ کے ہال میں لیکچر دیا کرتے تھے ۔خاکسار کو کتابیں پڑھنے کا شوق بھی تھا اور لائبریری سے اپنے کلاس فیلوز میں سے غالبا ًسب سے زیادہ کتابیں ایشو کروانے والوں میں شامل تھا ۔یہ بھی کہہ لیں کہ ہماری انگریزی بھی پوری پوری تھی تو خاکسار نے لائبریری سے کچھ کتابیں ایشو کروائیں ایک کتاب جس کا نام لائنس (شیرنی ) تھا وہ خاکسار کے پاس تھی اور خاکسار ہال میں بیٹھا ہوا تھا ڈیسک کے اوپر وہ کتاب رکھی ہوئی تھی محترم میر صاحب لیکچر کے لیے تشریف لائے تو ان کی نظر اس کتاب پر پڑی۔ اب ظاہر ہے وہ کوئی ایسی علمی کتاب تو تھی نہیں۔ میر صاحب نے اٹھایا تو فرمایا یہ کس کا ہے ،کیا ہے؟ خاکسار نے بتایا کہ میں نے ایشو کروایا ہے ۔آپ نے میری طرف دیکھا پھر فرمایا کہ ہاں ٹھیک ہے ۔اپنے علم کو بڑھاؤ، اپنی انگریزی ٹھیک کرو۔ تو یہ ان کی ایک اعلیٰٰ ظرفی تھی کہ بظاہر یہ نظر آرہا ہے کہ وہ ایک ناول ہے اور جامعہ کی تدریس کے لحاظ سے اس کی کوئی ایسی اہمیت نہیں ہےلیکن اس مثبت پہلو کو پیش نظر رکھ لیا کہ تم اپنی انگریزی بہتر کرنے کے لیے اس طرح کے ناول بھی پڑھ لو۔
اسی طرح خاکسار کو ایک اَور واقعہ بھی یاد آیا جومکرم میر صاحب کی اعلیٰ ظرفی، خاکساری اور علم دوستی پر دلالت کرتا ہے ۔ہوا یوں کہ میر صاحب نے فرعون کی غرقابی کے واقعہ کے متعلق لیکچر دینا شروع کیا اور کہا کہ یہ اچانک کیا ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تواپنی قوم سمیت سمندر سے بخیریت گزر گئے لیکن اسی جگہ سے جب فرعون گزرنے لگا تو غرق ہو گیا؟ اس کی کوئی توجیہ بتاؤ۔ اب ساری کلاس سرجھکائے بیٹھی تھی کہ خاکسار نے ہاتھ بلند کیا۔ میر صاحب نے فرمایا: جی آپ بتائیں۔ خاکسار نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ظاہری سامان پیدا فرمایا اور سائپرس میں زلزلہ یا سائیکلون آیا اور اس کی بلند لہریں اس وقت وہاں پہنچیں جب حضرت موسیٰؑ اسے عبور کر چکے تھے اور فرعون درمیان میں تھا اس لیے وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہو گیا۔ میر صاحب نے جواب سنا تو بڑے متاثر ہوئے ساتھ ہی پوچھا تم نے کہاں سے یہ تحقیق پڑھی؟ خاکسار نے عرض کیا کہ میر صاحب آپ نے ہی ایک دفعہ لیکچر دیتے ہوئے بتایا تھا ۔ہنس کر فرمانے لگے: ’’نہیں نہیں اب میں آپ کی بات کو نہیں مانتا۔ میرا تو خیال تھا کہ آپ نے کہیں سے تحقیق کی ہے۔‘‘ حالانکہ وہ ان کی اپنی تحقیق تھی اور شاذ و نادر افراد کو ہی علم تھا لیکن اپنی علمیت کو انتہائی خاکساری سے ایک طرف کر دیا۔یہ تھا میر محمود احمد صاحب کا انداز کہ ایک طرف حوصلہ افزائی کی اور دوسری طرف جب بات ان کی شخصیت پر آئی تو نہایت خاکساری سے اس بات کا کریڈٹ لینے سے پہلو تہی کی ۔ یہ آپ کی اعلیٰ ظرفی کی مثال تھی جو ہم نے جامعہ میں آپ کی شخصیت میں دیکھی اور یہ وہ چیز تھی جو کبھی بھی ہمارے دلوں سے محو نہیں ہوئی کہ کس طرح اعلیٰ مقام کے باوجود عاجزی اور خاکساری کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

اسی طرح محترم میر صاحب کی اعلیٰ ظرفی پر ایک اور واقعہ بھی خاکسار کو یاد آرہا ہے جو اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ہر بات میں آپ دین کو اور اللہ کی ہستی کو اہمیت دیتے۔
جامعہ کی آخری کلاسز جاری تھیں اس دوران خاکسار کی خواہش تھی کہ دنیا کی تعلیم بھی حاصل ہو جائے۔ جامعہ کے کئی طلبہ اس حوالے سے درخواست دیتے بھی تھے اور بالعموم انتظامیہ کی طرف سے اجازت مل جاتی تھی۔چنانچہ کئی طلبہ نے ایف اے، بی اے بھی کر لیا۔ اسی طرح خاکسار نے بھی اجازت طلب کی۔ خاکسار کے علاوہ درخواست دینے والوں میں کچھ اور طلبہ بھی شامل تھے اس پر ایک جامعہ کے بورڈ میں یہ معاملہ پیش ہوا کچھ دن بعد ہمیں ایک خط ملا جس میں یہ لکھا تھا کہ چونکہ آپ کی آخری کلاسز جاری ہیں اس لیے بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کو امتحان کی اجازت نہ دی جائے تاکہ آپ کی جامعہ کی تعلیم پر بُرا اثر نہ پڑے۔
اب میر صاحب نے بڑے ہی پیار سے خاکسار کے خط پر اپنے ہاتھ سے ایک نوٹ لکھ دیا جو آج بھی ان کی عظمت کو یاد دلاتا رہتا ہے ۔آپ نے لکھا کہ ’’میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘۔
بچوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ تعلیم کے میدان میں آگے آئیں لیکن آپ نے یہ بتایا کہ اگر جماعت کی طرف سے کوئی حکم آتا ہے تو اس کی پابندی کرنی ہے کیونکہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے۔ الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے پھر بعد میںتوفیق عطا فرمائی کہ میدانِ عمل میں رہتے ہوئے خاکسار نے ایف اے، بی اے، فاضل عربی اور ماسٹرز بھی کر لیا اور یہ صرف میر صاحب کی وجہ سے ممکن ہوا۔آپ نے سکھایا کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے۔
محترم میر صاحب کے سزا دینے کے انداز بھی نہایت پُرشفقت ہوتے تھے۔ خاکسار گرمیوں کی چھٹیوں میں گھر گیا ہوا تھا اور کسی وجہ سے کچھ لیٹ ہو گیا۔ اس زمانے میں فوری طور پر یا انتہائی اہم امر کی اطلاع کے لیے محکمہ ڈاک کی طرف سے تار دینے کا طریق کار تھا۔ محترم میر صاحب نے خاکسار کو تار بھجوائی جس کا متن یوں تھا کہ Reach Immediately یعنی فوری پہنچو۔ تو اگلے دن خاکسار فوراً گھر سے نکلا اور ربوہ جامعہ پہنچ گیا۔ محترم میر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ آپ لیٹ کیوں آئے ہو ؟خاکسار نے کچھ عذر بتایا تو محترم میر صاحب نے فرمایا کہ اب آپ کی سزا یہ ہے کہ آپ نے سارا دن مسجد میں گزارنا ہے۔ یہ جامعہ کی مسجد حسن اقبال تھی ۔فرمایا کہ اس میں ذکر الٰہی کرنا ہے۔
یہ وہ پیارا انداز تھا کہ بجائے اس کے کہ آپ ڈانٹتے اور دنیا داروں کی طرح کچھ سزا سناتے انتہائی پیاری سزا دی جو آج بھی دل کی گہرائیوں میں آپ کی یادوں کو تازہ کرتی رہتی ہے۔
پھر اسی طرح کا ایک اَور واقعہ بھی خاکسار کو یاد ہے۔ جامعہ کی آخری کلاس میں بعض دوسری کارآمد چیزوں کے ساتھ ڈرائیونگ بھی سکھائی جاتی تھی۔ ہماری کلاس بڑی تھی تو باری باری سب جا تے تھے ۔ محترم میر صاحب نے یہ شرط لگا دی کہ کلاس میں جانے کے لیے کہ قرآن کریم کا ٹیسٹ ہوگا۔ اگر کوئی اس ٹیسٹ میں پاس ہوگا تو وہ اس کلاس میں یعنی ڈرائیونگ کلاس میں جا سکے گا اور ڈرائیونگ سیکھ سکے گا ۔ یہ وہ پُرحکمت انداز تھا جس کے ذریعے سے آپ نے بتایا کہ اصل چیز اللہ کے کلام کو اہمیت دینا ہے میر صاحب کو قرآن کریم سے جوعشق تھا وہ بڑا ہی واضح تھا اور وہ چاہتے تھے ہر طالب علم کے اندر قرآن کی محبت جوش مارے۔
محترم میر صاحب کے انداز میں انتہائی عاجزی اور کسرِنفسی شامل تھی۔ میر صاحب عمومی طور پر تحفے نہیں لیا کرتے تھے۔ خاکسار کے والد سید حمید الحسن شاہ صاحب (اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے ) ایک دفعہ محترم میر صاحب کو ملنے کے لیے آئے جبکہ خاکسار جامعہ میں پڑھتا تھا اور ان کے لیے ایک بڑا خوبصورت عصا لے کر آئے جو آپ کی خدمت میں پیش کیا کہ یہ میں آپ کے لیے سیالکوٹ سے لے کر آیا ہوں آپ قبول فرمائیں۔محترم میر صاحب نے ابا جی کو کہا کہ میں تحفے نہیں لیتا اور آپ سے یہ نہیں لوں گا۔
اب یہاں پہ ایک بڑی عجیب بات ہوئی ۔ابا جی نے کہا کہ میر صاحب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تحفے لیا کرتے تھے اس لیے آپ کو اس سنت کی اتباع کرنی چاہیے۔ جب ابا جی نے یہ حوالہ دیا تو محترم میر صاحب نے اُن سے وہ عصا لے لیا۔
بظاہر آپ کو تحفے لینے میں قباحت تھی لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیا تو آپﷺ کی محبت اور اطاعت میں آپ نے وہ تحفہ قبول کر لیا۔
خاکسار کو محترم میر صاحب کے بہت قریب ہونے کا شرف تو حاصل نہ ہوا کیونکہ ہماری کلاس تقریباً آخر میں تھی جب آپ بطور پرنسپل تشریف لائے لیکن ہمیں کچھ نہ کچھ فیضیاب ہونے کا موقع مل گیا۔یہ وہ یادیں ہیں جو زندگی کا سرمایہ ہیں۔
خاکسار کو یاد ہے کہ جب خاکسار راولپنڈی کا مربی تھاتو محترم میر صاحب کسی کام کے سلسلے میں راولپنڈی تشریف لائے۔ مربیان کی میٹنگ ہو رہی تھی آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو ہم مربیان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے سب سے ہاتھ ملایا اور مجھے کہا کہ آپ کا کیا نام ہے؟ میں نے کہا خاکسار سید سعید الحسن شاہ ہے اور آپ کا شاگرد بھی۔ اس خاص عنایت اور میر صاحب کی توجہ ملنے پر، اپنی اس خوش بختی پر اب بھی خاکسار حیران ہوتا ہے۔
آپ کی اعلیٰ ظرفی، خاکساری اور علم دوستی کی ایک اور مثال مجھے یاد آئی۔اُن دنوں خاکسار اسلام آباد کا مربی تھا۔ اس دوران کینیڈا کے ایک نوجوان انگریز یا کینیڈین جو اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد دیکھنے یا تحقیق کے لیے آئے مسلمان ہو گیا۔ اتفاقاً خاکسار ان سے ملا اور بتایا کہ اگر آپ مسلمان ہوئے ہیں تو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق تحقیق کرنی چاہیے کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ آپ ہی مسیح موعود ہیں اور اسلام کی نشأۃ ثانیہ آپ کے ذریعے سے ہوگی ۔اس پر وہ کہنے لگے ان کو اس بات کا علم نہیں ہے ۔تو میں نے انہیں کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو ہم ربوہ چلتے ہیں جو جماعت احمدیہ کا مرکز ہے۔آپ کچھ دن وہاں پہ رہیں اور تحقیق کریں۔پھر آپ واپس جائیں۔ وہ اس کے لیے تیار ہو گئے تو خاکسار ان کو لے کر ربوہ آیا ۔اب وہاں پر خاکسار نے بطور خاص محترم میر صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ انہیں آپ احمدیت کے متعلق بتائیں ۔محترم میر صاحب کی عاجزی اور کسر نفسی تھی کہ سخت مصروفیت کے باوجود بجائے اس کے کہ ہمیں جامعہ بلائیں آپ ان کے لیے دار الضیافت تشریف لائے اور ان سے علمی گفتگو فرمائی اور گویا خاکسار کو بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے تمام مصروفیات کو پس پشت ڈال دو ۔
یہ بھی ذکر کر دوں کہ یہ صاحب جب واپس گئے تو اسلامک یونیورسٹی والوں نے کہا کہ تم تو قادیانیوں کے پاس گئے ہو جو اسلام کے منکر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے۔ اس شخص نے کہا کہ میں تو جس سے بھی ملا ہوں مجھے اس سے اسلام کی خوشبو محسوس ہوئی ہے حتیٰ کہ بزرگوں سے لے کر چھوٹے بچوں تک جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتا تھا تو وہ سارے کے سارے صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے اس لیے میں آپ کی اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ احمدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے۔
محترم میر صاحب کو زبانیں سیکھنے کا بھی بہت شوق تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے شاگرد بھی مختلف زبانیں سیکھیں۔ اس سلسلے میں خاکسار کو یاد ہے کہ محترم میر صاحب عبرانی زبان میں اناجیل کی بعض پیش گوئیاں وائٹ بورڈ پر لکھتے تھے اور پھر ایک ایک لفظ کی تشریح کرتے ۔ یہ آپ کا ایک انداز تھا کہ اسلام کی تبلیغ کے لیے ہر وہ کام کرو جس کے ذریعے سے اسلام کی خوبیاں ظاہر ہوں اور تحقیق کا وہ سمندر سامنے آئے جس میں غوطہ لگا کر انسان اسلام کی حقانیت کے معارف، موتی حاصل کر سکے۔
میر صاحب کا درس الحدیث دینے کا ایک خاص انداز تھا۔ خاکسار نے مسجد مبارک میں محترم میر صاحب کے بہت سے درس سنے۔وہ درس ایسے ہوتے کہ انسان محسوس کرتا کہ گویا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس پیار ے انداز سے وہ درس ہوتا تھا کہ انسان محبت رسولﷺ میں ڈوب جاتا ہے اور نظر آرہا ہوتا تھا کہ مدرس اس دنیا میں نہیں بلکہ وہ اس عالم میں پہنچ گیا ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم موجود ہیں۔
جامعہ کے بعد بیرون ملک ہوتے ہوئے خاکسار کو محترم میر صاحب کے ساتھ ملاقات کا شرف لندن میں بھی حاصل ہوا۔ خاکسار مسجد فضل میں نماز پڑھ کر فارغ ہوا ہی تھا تو میری خوش قسمتی کہ وہاں میر صاحب کو بھی دیکھا تو جلدی سے جا کر انہیں سلام عرض کیا اور دعا کےلیے کہا کہ میرے لیے دعا کریں میں آپ کا ایک شاگرد ہوں اور آج کل گیمبیا کے مبلغ انچارج کے طور پر خدمات بجا لا رہا ہوں۔ میر صاحب نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا اور پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور خلفاء کی گیمبیا کے متعلق پیش گوئیاں اور خواہشات بیان فرمائیں اور بہت سی باتیں بتائیں جو خاکسار کے لیے کم و بیش نئی تھیں ۔جب ملاقات ہو گئی اور میر صاحب وہاں سے جانے لگے تو خاکسار نے پھر عرض کیا کہ میر صاحب میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ تصویر ہو جائے۔آپ بڑے ہی پیار کے ساتھ میرے ساتھ کھڑے ہوئے میرے کندھوں پہ شفقت کے ساتھ ہاتھ رکھا اور وہ یوں تصویر بنوائی۔
آخری دفعہ جب خاکسار کو مکرم میر صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا وہ اس وقت تھا جب خاکسار چھٹی پہ پاکستان گیا ہوا تھا۔ ہمارا پرانا ناصر ہوسٹل،جس کا زیادہ تر حصہ اب ریسرچ سیل بن گیا ہے ، اس میں مکرم میر صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔خاکسار حاضر ہوا اور سلام کیا اور بتایا کہ خاکسار افریقہ سے آیا ہے ۔ آپ نے حال احوال پوچھا۔ خوشی کا اظہار فرمایا پھر فرمانے لگے کہ آپ کے ابا میرے پاس آئے تھے ۔(یہ اس وقت کی بات ہے جب میرے والد صاحب کو فوت ہوئے تین چار سال ہو چکے تھے) اور چاہتے تھے کہ میرے کلام کو ترنم کے ساتھ پڑھیں لیکن میں نے انہیں منع کردیا۔گویا یہ بھی میر صاحب کی عاجزی کا ایک اظہار تھا۔
خاکسار نے میر صاحب سے دعا کی درخواست کی جس پر آپ نے خاکسار کو بہت دعائیں دیں ۔ اس کے بعد گو جلسہ سالانہ برطانیہ میں ایک دو دفعہ نظر آئے لیکن اب آپ ویل چیئر پہ تھے جس سے دل کو دھچکا سا لگا۔
میر صاحب کی طلبہ کے ساتھ غیر معمولی ہمدردیاں تھیں۔ ہمارے ایک دوست کلاس فیلو مربی سلسلہ نے خاکسار کو اپنا جامعہ کا ایک واقعہ سنایا کہ شدید گرمی کا موسم تھا ۔مجھےشدید پیٹ درد تھی ۔فضل عمر ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے اپینڈکس کا کہا اور فوراً آپریشن کردیا۔ کہتے ہیں کہ وہاں وہ داخل تھے اور ان دنوںمیر صاحب چھٹی پر تھے کیونکہ انہیں لُو لگی تھی اور آپ جامعہ میں نہیں آرہے تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ دوپہر کا وقت تھا اور مکرم میر صاحب سر پر گیلا تولیہ رکھ کے ہسپتال میں تشریف لائےاور آپ کے ہاتھ میں کچھ پھل بھی تھے ۔میرا حال پوچھا اور پھل دے کر تیمارداری کر کے چلے گئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حیران اور آبدیدہ ہو گیا کہ بیماری کے باوجود اتنی شدید گرمی میں صرف ایک طالبعلم کی دلجوئی اور تیمارداری کے لیے سر پہ گیلا تولیہ رکھ کر آئے۔
مکرم میر صاحب جب پرنسپل بنے تو بجائے اپنے دفتر بیٹھنے کے دفتر کو برآمدہ میں سیڑھیوں کے نیچے منتقل کر لیا۔ جن احباب نے پرانا جامعہ دیکھا ہے وہ اس بات کو بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ اس طرح مکرم میر صاحب نے تمام طلبہ کی تربیت اور نگرانی کا باحسن انتظام فرما لیا کیونکہ کچھ کلاسز پہلی منزل پر تھیں اور بعض کلاسز نیچے گرؤانڈ فلور پر تھیں اور جامعہ سے باہر جانے کے لیے ہر صورت میں اس راستہ کو اختیار کرنا پڑتا جہاں پر مکرم میر صاحب کا دفتر تھا۔ اس نگرانی اور تربیت کی قیمت یہ تھی کہ کمزور صحت کے باوجود بے آرامی کے ساتھ پورادن سخت گرمی، سردی میں گزرتا۔
خاکسار جب فیلڈ میں گیا تو کئی دفعہ خاکسار نے خواب میں محترم میر صاحب کو دیکھا جس سے اپنی کمزوریاں دور کرنے کا اشارہ ملتا لیکن کبھی مکرم میر صاحب کو بتانے کی جسارت نہ ہوئی۔ محترم میر صاحب بلاشبہ ایک فرشتہ صفت وجود اور بزرگ انسان تھے جن کی دعائیں اپنے شاگردوں کے حق میں قبول ہوتیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے۔ آمین
مزید پڑھیں: نماز تہجد قرب الٰہی پانےکاحسین طریق




