خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…روس اور ناروے نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے اسے ’’منصوبہ بند اور بلا اشتعال مسلح جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری فوجی کارروائی روکنے اور سفارت کاری کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے جوہری پروگرام کو بہانہ بنا کر حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔
٭…ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں العديد ایئر بیس (قطر)، السالم ایئر بیس (کویت)، الظفرہ ایئربیس (متحدہ عرب امارات) اور بحرین میں امریکی بحری بیڑا شامل ہیں۔ قطر میں دھماکوں کی آوازیں سنائی گئیں، لیکن کچھ میزائل حملے انٹرسیپٹر سسٹمز کے ذریعے ناکام بنائے گئے۔ دوحہ میں العديد فوجی اڈے کے قریب بھی دھماکے ہوئے، اور ایرانی فورسز نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
٭…افغان طالبان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعے کی رات پاکستان کے دو فوجی اڈوں — میران شاہ اور سپین وام— پر فضائی حملے کیے، جنہیں اس نے مبینہ پاکستانی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیا۔ طالبان ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ننگرہار میں پاکستانی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا اور پائلٹ گرفتار ہوا، تاہم پاکستان نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔طالبان حکومت نے ایک بار پھر پاکستانی الزامات رد کیے کہ وہ ٹی ٹی پی کی حمایت کرتی ہے، جبکہ افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر، ترکی اور سعودی عرب کی ثالثی میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام لگایا کہ پاکستان نے افغان فضائی حدود کی بارہا خلاف ورزی اور شہری علاقوں پر بمباری کی، جس میں بچے بھی ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے تصدیق کی کہ گذشتہ ہفتے مشرقی افغانستان میں پاکستانی حملوں میں کم از کم ۱۳؍شہری مارے گئے، جبکہ ۲۰۲۵ءکی آخری سہ ماہی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم ۷۰؍افراد ہلاک اور ۴۷۸؍زخمی ہوئے۔
٭…٭…٭




