خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍اپریل 2026ء
انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی علامت کافی ہے
کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے(حدیث نبویﷺ)
’’اس سے بڑھ کر اَور کیا بدقسمتی ہوگی جھوٹ پر اپنی زندگی کا مدار سمجھتے ہیں۔مگر مَیں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
یہ عادت عموماً لوگوں میں ہوتی ہے۔ جماعت میں بھی یہ برائی بعض لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔مجھے بھی بعض لوگ کسی کے بارے میں لکھ دیتے ہیں کہ اس نے یہ کیا اور وہ کیا ۔اور جب تحقیق کرو تو بات غلط نکلتی ہے۔اور جب لکھنے والے سے پوچھا جائے کہ تمہیں کس نے کہا؟ یہ بات تو غلط ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا اور اس سننے پر ہی وہ دنیا میں شور مچا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے
بعض لوگ بعض باتیں صرف اپنے زبان کے مزے کے لیے یا لطف اٹھانے کے لیے کرتے ہیں اور بعض دفعہ کسی کو معاشرے میں بدنام کرنے کے لیے بھی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں ،کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانے کے لیے بات کر رہے ہوتے ہیں۔ پس ایسے لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ قابل مؤاخذہ ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کی پکڑ کرتا ہے۔اس کی سزا دیتا ہے۔ پس بہت خوف کا مقام ہے اور بہت استغفار کی ضرورت ہے
بہت سے کاروباری جھگڑے جھوٹ پر مبنی باتوں کی وجہ سے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگوں کی باتوں اور کاروباروں میں برکت نہیں ڈالتا ۔ دنیا میں تو جو نقصان انہوں نے اٹھانا ہوتا ہے اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی گنہگار ٹھہرتے ہیں اور سزا پاتے ہیں
جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے اس کی بدبو کی وجہ سے جس کا اس نے ارتکاب کیا ہے(حدیث نبویﷺ)
آج ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مان کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حقیقی ایمان لانے کا اعلان کرتے ہیں تو ہمارے ہر قول اور فعل میں سچائی کا اعلیٰ معیار ہونا چاہیے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ نہیں تو تم مجھ میں سے نہیں ہو۔ پھر میرا تمہارے سے کوئی تعلق نہیں۔ بےشمار نصائح اور ہدایات سچائی کو باریکی سے دیکھتے ہوئے اختیار کرنے کی آپؐ نے تلقین فرمائی ۔اور کوئی شخص حقیقی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ سچائی پر مکمل طور پر کار بند نہ ہو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سچ بولنے اور امانت و دیانت میں سب سے نمایاں ہونے کی وجہ سے لوگوں میں صادق اور امین مشہور تھے
’’عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں صرف ایک ہی مثال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملتی ہے کہ آپؐ کو اہل عرب نے امین اور صدیق کا خطاب دیا۔ پس عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں قوم کا ایک ہی شخص کو امین اور صدیق کا خطاب دینا بتاتا ہے کہ اس کی امانت اور اس کا صدق دونوں اتنے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ ان کی مثال عربوں کے علم میں کسی اَور شخص میں نہیں پائی جاتی تھی ۔عرب اپنی باریک بینی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز تھے۔ پس جس چیز کو وہ نادر قرار دیں وہ یقینا ًدنیا میں نادر ہی سمجھے جانے کے قابل تھی ‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)
’’ میرا نفس خود مجھ پر گواہ ہے اور میری زندگی مجھ پر شاہد ہے۔اگر تم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے تو اس کا دل اور اس کا دماغ بھی اس امر کی شہادت دے گا کہ صداقت اس میں قائم ہے اور یہ صداقت سے قائم ہے۔ راستی کو اس پر فخر ہے اور اس کو راستی پر فخر ہے ۔یہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے دوسری چیزوں کا محتاج نہیں۔ اس کی مثال آفتاب آمد دلیل آفتاب کی سی ہے‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)
’’ غرض نبی کی صداقت کی پہلی اندرونی دلیل اس کا نفس ہوتا ہے جو بزبان حال اس کی سچائی پر گواہ ہوتا ہے اور اس کی گواہی ایسی زبردست ہوتی ہے کہ اس کی موجودگی میں کسی اَور معجزہ یا آیت کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)
’’ ہمارے سیّد و مولا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی صدق و وفا دیکھئے! آپؐ نے ہر ایک قسم کی بدتحریک کا مقابلہ کیا۔ طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پروا نہ کی۔ یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
آنحضرتﷺ کے خُلق صداقت ،سچائی اورراستبازی کے حوالے سے سیرت النبی ﷺ کا ایمان افروز تذکرہ
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍اپریل 2026ء بمطابق 24؍شہادت1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچائی کے اعلیٰ معیار کے حوالے سے آپؐ کے اسوۂ حسنہ اور مومنوں کو نصیحت اور ہدایت
کا ذکر گذشتہ خطبہ میں ہوا تھا ۔اس حوالے سے آج بھی مزیدکچھ کہوں گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سچائی کے کن اعلیٰ معیاروں پر پہنچانا چاہتے ہیں
اس بارے میں ایک روایت میں یہ آتا ہے۔ حفص بن عاصم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔
(صحیح مسلم مقدمہ باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع حدیث 05)
اب دیکھیں !یہ عادت عموماً لوگوں میں ہوتی ہے۔ جماعت میں بھی یہ برائی بعض لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔مجھے بھی بعض لوگ کسی کے بارے میں لکھ دیتے ہیں کہ اس نے یہ کیا اور وہ کیا ۔اور جب تحقیق کرو تو بات غلط نکلتی ہے۔اور جب لکھنے والے سے پوچھا جائے کہ تمہیں کس نے کہا؟ یہ بات تو غلط ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا اور اس سننے پر ہی وہ دنیا میں شور مچا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓکو جھوٹ سے بڑھ کر کوئی خصلت زیادہ ناپسند نہ تھی۔ اگر کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بول دیتا تو وہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں رہتی۔ آپؐ کو پتہ ہوتاکہ جھوٹ بولا ہے اور آپ کو اس کا بڑا درد ہوتا اور اس کو محسوس کرتے اور دل میں بھی رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو جاتا کہ اس نے اس سے توبہ کر لی ہے ،اصلاح کر لی ہے اور جھوٹ بولنے سے اس نے مکمل طور پر اجتناب شروع کر دیا ہے ۔
(مسند الامام احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 280 حدیث25698 مکتبہ عالم الکتب)
ایک روایت میں آتا ہے ۔حضرت اسماءؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: میری ایک سَوت ہے۔ یعنی دوسری بیوی ہے میرے خاوند کی تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے کہ میں اپنے خاوند کے مال سے خوب سیر ہونے کا اظہار کروں ۔مَیں اس کے سامنے یہ اظہار کروں کہ مجھے تو خاوند بڑا دیتا ہے ۔یہ دیتا ہے وہ دیتا ہے جو اس نے مجھے نہیں دیا ہوتا۔ صرف اس کو چڑانا چاہتی ہوں ،اس کو تنگ کرنا چاہتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص اس چیز سے جو اس کو نہیں دی گئی سیر ہونے کا اظہار کرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا کیونکہ اس کو جذباتی تکلیف پہنچانے اور چڑانےکے لیے اس نے بات کی تھی۔بہرحال آپؐ نے فرمایا یہ بالکل غلط بات ہے۔
(صحیح مسلم کتاب اللباس و الزینۃ باب النھی عن التزویر…مترجم جلد 11 صفحہ 233 حدیث3959 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
اس کی شرح میں لکھا ہے کہ کپڑے کا لفظ یہاں بطور مثال استعمال ہوا ہے ۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ شخص جھوٹ اور فریب سے کام لینے والا ہے۔ اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہیں ۔ایک کو اوڑھا ہوا ہے اور دوسرے کو تہ بند بنایا ہوا ہے ۔یعنی نیچے باندھا ہوا ہے۔یعنی سر سے پاؤں تک وہ جھوٹا ہے۔
(عمدۃ القاری جلد20 صفحہ289۔290مکتبہ دار الکتب العلمیۃ بیروت ،فتح الباری جلد 9 صفحہ 228-229 مکتبہ \2دارالریان للتراث)
پس
بڑی باریکی سے آپؐ نے جھوٹ سے بچنے کی اپنے ماننے والوں کو تلقین فرمائی۔
ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار خصلتیں جس میں ہوں وہ پورا منافق ہوتا ہے اور جس میں ان خصلتوں میں سے ایک ہی خصلت ہو اس میں نفاق کی بھی ایک خصلت ہوگی جب تک وہ اسے نہ چھوڑ دے۔ اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے۔اور جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ۔اور جب عہد کرتا ہے تو عہدشکنی کرتا ہے ۔اور جب جھگڑتا ہے تو گالی بکتا ہے۔
(صحیح البخاری کتاب الایمان باب علامۃ المنافق مترجم جلد 1 صفحہ80-81 حدیث34 شائع کردہ نظارت اشاعت)
یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو کسی نہ کسی طرح براہ راست یا بالواسطہ جھوٹ کی طرف لے کے جانے والی باتیں ہیں یا ان سے جھوٹ کا اظہار ہوتا ہے۔ پس
یہ اخلاقی کمزوریاں نفاق کی علامت ہیں۔اب اس کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کس حدتک ہم میں یہ کمزوریاں ہیں کیونکہ یہ چیزیں تو پھر نفاق کی طرف لے جانے والی ہیں اور منافق کہلانے کو انسان کبھی پسند نہیں کرتا۔
پھر
غلط باتیں پھیلانے والوں کے بارے میں آپؐ نے بہت انذار فرمایا۔
ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت سمرہ بن جندبؓ نے کہا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ سے اکثر یہ بھی پوچھا کرتے تھے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا؟ حضرت سمرہؓ کہتے تھے یہ بات پوچھتے تھے پھر وہ آگے بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے جب پوچھتے تھے تو لوگ جن کے متعلق اللہ چاہتا ہے کہ بیان کریں آپؐ سے بیان کرتے تھے۔یعنی جنہوں نے کوئی خواب دیکھی ہوتی تھی وہ بیان کر دیتے تھے۔ ایک دن صبح کے وقت آپؐ نے فرمایا :آج رات مَیں نے اپنے بارے میں یہ نظارہ دیکھا ہے کہ دو آنے والے میرے پاس آئے انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہنے لگے چلو ۔مَیں ان کے ساتھ چل پڑا اور ایک شخص کے پاس آئے جو اپنی گُدِّی کے بل چِت لیٹا ہوا تھا اور ایک اَور شخص ہے جو اس کے پاس لوہے کا کانٹا لیے کھڑا تھا۔ ایک آنکڑا سا تھا پلائر کی طرح کا وہ لیے کھڑا تھا اور وہ اس کے منہ کے ایک طرف جا کر اس کی باچھیں اس کی گُدِّی تک چیر ڈالتا تھا۔ اس کا نتھنا بھی گُدِّی تک اور اس کی آنکھ بھی گُدِّی تک چیر ڈالتا تھا ۔یعنی پورا دہانہ ایک طرف سے چیر ڈالتا تھا۔ اس کے بعد وہاں سے ہٹ کر دوسرے رخسار کی طرف جاتا تھا ۔پہلے دائیں طرف کیا۔ پھر بائیں طرف وہی کرتا جو اس نے اس کے منہ کے پہلے رخسار سے کیا تھا ۔اس طرف سے ابھی فارغ نہ ہوتا کہ وہ پہلی طرف ویسے ہی اچھی بھلی ہو جاتی جس کو پہلے اس نے چیرا تھا جیسے پہلی تھی ۔پھر اس کے پاس آتا اور ویسے ہی کرتا۔ پھر دوبارہ اس کو اسی طرح چیرتا۔ کیونکہ وہ پہلی طرح ٹھیک ہو گئی۔ فرماتے تھے میں نے کہا سبحان اللہ ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ یہ کون لوگ ہیں ؟تو ان دونوں نے مجھ سے کہا :سنو !ہم تمہیں اصل حقیقت بتلاتے ہیں ۔وہ شخص جس کے پاس تم آئے تھے جس کی باچھ اس کی گُدِّی تک اور اس کا نتھنا بھی گُدِّی تک اور اس کی آنکھ بھی گُدِّی تک چیری جا رہی تھی تو وہ شخص وہ ہے جو اپنے گھر سے صبح نکلتا ہے اور ایک جھوٹی بات بناتا ہے جو چاروں طرف پہنچ جاتی ہے۔
(صحیح البخاری کتاب التعبیر بَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مترجم جلد 16 صفحہ 246 تا252حدیث:7047 شائع کردہ نظارت اشاعت)
افواہیں پھیلانے والا اور لوگوں کے متعلق غلط باتیں کرنے والا۔
بعض لوگ بعض باتیں صرف اپنے زبان کے مزے کے لیے یا لطف اٹھانے کے لیے کرتے ہیں اور بعض دفعہ کسی کو معاشرے میں بدنام کرنے کے لیے بھی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں ،کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانے کے لیے بات کر رہے ہوتے ہیں۔ پس ایسے لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ قابل مؤاخذہ ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کی پکڑ کرتا ہے۔اس کی سزا دیتا ہے۔ پس بہت خوف کا مقام ہے اور بہت استغفار کی ضرورت ہے۔
عبداللہ بن حارث سے ایک روایت ہے ۔انہوں نے یہ روایت حضرت حکیم بن حزامؓ سے پہنچائی۔ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں بیع فسخ کر دینے کا اختیار رکھتے ہیں ۔یعنی جو بھی سودا کیا ہے اس کو ختم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جب تک کہ وہ جدا ہو جائیں ۔جب اکٹھے ہیں اس وقت تک ہو سکتا ہے لیکن جب علیحدہ ہو گئے اس وقت نہیں ۔یا فرمایا اس وقت تک کہ وہ جدا ہو جائیں۔ اگر ان دونوں نے سچائی سے کام لیا اور صاف صاف بات کی تو دونوں کی خرید و فروخت میں ان دونوں کے لیے برکت دی جائے گی ۔اور اگر ان دونوں نے چھپایا اور جھوٹ بولا تو ان کی خرید و فروخت کی برکت مٹ جائے گی۔
(صحیح البخاری کتاب البیوع بَابٌ إِذَا بَيَّنَ البَيِّعَانِ وَلَمْ يَكْتُمَا وَنَصَحَا مترجم جلد4 صفحہ38-39حدیث:2079 شائع کردہ نظارت اشاعت)
بہت سے کاروباری جھگڑے جھوٹ پر مبنی باتوں کی وجہ سے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگوں کی باتوں اور کاروباروں میں برکت نہیں ڈالتا ۔دنیا میں تو جو نقصان انہوں نے اٹھانا ہوتا ہے اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی گنہگار ٹھہرتے ہیں اور سزا پاتے ہیں۔
پھر حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے اس کی بدبو کی وجہ سے جس کا اس نے ارتکاب کیا ہے۔
(جامع الترمذی کتاب البِرِّ وَالصِّلَةِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالكَذِبِ حدیث:1972)
ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے ۔آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو آپؐ کی انگلیوں کو نمی لگی۔ گیلا گیلا لگا۔ احساس ہوا ۔آپؐ نے فرمایا: اے اناج والے !یہ جو تم اناج بیچ رہے ہو، گندم تھا یا مکئی تھی یا جو بھی تھا۔ یہ کیا معاملہ ہے ؟یہ اندر سے گیلی ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہؐ! اس پر بارش ہو گئی تھی ۔آپؐ نے فرمایا :تو تُو نے اسے پھر اناج کے اوپر کیوں نہ کر دیا بجائے اس کے کہ تم چھپا کے نیچے کر دیتے ۔اگر اس پر بارش ہو گئی تھی تو اس کواوپر رکھتے تاکہ لوگ اس کو دیکھ سکتے ۔ آپؐ نے فرمایا:
جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب الایمان بَابُ قوْلِ النَّبِيِّ ﷺ:’’مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا‘‘… مترجم جلد 01 صفحہ 93 حدیث 139 شائع کردہ نور فاؤنڈیشن)
پس اتنی باریکی سے کاروباری لوگوں کو بھی دیکھنا چاہیے ۔یہ وہ معیار ہے جو آپؐ ایک مسلمان میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔لیکن بدقسمتی سے آج مسلمان ہی دھوکے کے کاروبار اور جھوٹ کی وجہ سے دنیا میں بدنام ہیں۔
پس
آج ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مان کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حقیقی ایمان لانے کا اعلان کرتے ہیں تو ہمارے ہر قول اور فعل میں سچائی کا اعلیٰ معیار ہونا چاہیے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ نہیں تو تم مجھ میں سے نہیں ہو۔ پھر میرا تمہارے سے کوئی تعلق نہیں۔ بےشمار نصائح اور ہدایات سچائی کو باریکی سے دیکھتے ہوئے اختیار کرنے کی آپؐ نے تلقین فرمائی ۔اور کوئی شخص حقیقی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ سچائی پر مکمل طور پر کار بند نہ ہو۔
آپؐ کی سیرت کے حوالے سے اب میں بعض باتیں پیش کرتا ہوں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سچ بولنے اور امانت و دیانت میں سب سے نمایاں ہونے کی وجہ سے لوگوں میں صادق اور امین مشہور تھے۔
چنانچہ ایک مصنف نے لکھا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جاہلیت کے زمانے میں مبعوث ہوئے۔ان کے پاس ان سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔یعنی ان کی قوم میں کوئی نبی نہیں آیا تھا۔لوگ بتوں، مورتیوں اور طاغوتوں کی عبادت کرتے تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہی کے درمیان بچپن ہی میں فہم و حکمت عطا کی گئی حالانکہ آپؐ شیطان کے گروہ اور بت پرستوں کے درمیان تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی بت کی طرف رغبت نہیں کی، نہ کبھی ان لوگوں کے ساتھ کسی تہوار میں شریک ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی جھوٹ نہیں سنا گیا۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدوق یعنی بہت زیادہ سچ بولنے والا ۔امین بردبار اور نہایت مہربان سمجھتے تھے
(امتاع الاسماع جلد 4 صفحہ 212 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
بلکہ روایت میں آتا ہے کہ اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلے کروائے جاتے تھے۔
(سبل الھدیٰ والرشاد جلد2 صفحہ147مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اس بات کو ایک جگہ حضرت مصلح موعود ؓنے اس طرح بیان کیا ہے کہ
’’آپؐ کے اخلاق حسنہ کے متعلق مجموعی شہادت وہ ہے جو آپؐ کی قوم نے دی کہ آپؐ کی نبوت کے دعویٰ سے پہلے آپؐ کی قوم نے آپؐ کا نام امین اور صدیق رکھا۔ دنیا میں ایسے لوگ بہت ہوتے ہیں جن کی نسبت بد دیانتی کا ثبوت نہیں ملتا ۔ایسے لوگ بھی بہت ہوتے ہیں جن کو کسی کڑی آزمائش میں سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا ۔ہاں وہ معمولی آزمائشوں سے گزرتے ہیں اور ان کی امانت قائم رہتی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی قوم ان کو کوئی خاص نام نہیں دیتی ۔اس لیے کہ خاص نام اسی وقت دیے جاتے ہیں جب کوئی شخص کسی خاص صفت میں دوسرے تمام لوگوں پر فوقیت لے جاتا ہے۔ لڑائی میں شامل ہونے والا ہر سپاہی اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتا ہے لیکن نہ انگریزی قوم ہر سپاہی کو وکٹوریا کراس دیتی ہے نہ جرمن قوم ہر سپاہی کو آئرن کراس دیتی ہے۔ فرانس میں علمی مشغلہ رکھنے والے لوگ لاکھوں ہیں لیکن ہر شخص کو لیجن آف آنر(LEGION OF HONOUR) کا فیتہ نہیں ملتا۔ پس محض کسی شخص کا امانت دار اور صادق ہونا اس کی عظمت پر خاص روشنی نہیں ڈالتا لیکن کسی شخص کو ساری قوم کا امین اور صدیق کا خطاب دے دینا یہ ایک غیر معمولی بات ہے ۔اگر مکہ کے لوگ ہر نسل کے لوگوں میں سے کسی کو امین اور صدیق کا خطاب دیا کرتے تب بھی امین اور صدیق کا خطاب پانے والا بہت بڑا آدمی سمجھا جاتا۔ لیکن عرب کی تاریخ بتاتی ہے کہ عرب لوگ ہر نسل میں کبھی کسی آدمی کو یہ خطاب نہیں دیا کرتے تھے بلکہ
عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں صرف ایک ہی مثال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملتی ہے کہ آپؐ کو اہل عرب نے امین اور صدیق کا خطاب دیا۔ پس عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں قوم کا ایک ہی شخص کو امین اور صدیق کا خطاب دینا بتاتا ہے کہ اس کی امانت اور اس کا صدق دونوں اتنے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ ان کی مثال عربوں کے علم میں کسی اَور شخص میں نہیں پائی جاتی تھی ۔عرب اپنی باریک بینی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز تھے۔ پس جس چیز کو وہ نادر قرار دیں وہ یقینا ًدنیا میں نادر ہی سمجھے جانے کے قابل تھی ۔‘‘
(دیباچہ تفسیر القرآن ، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 374، 375)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ آج دنیا کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے جس پہلو اور رنگ سے دیکھو جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں جھوٹے مقدمہ کرنا تو بات ہی کچھ نہیں۔ جھوٹے اسناد بنا لیے جاتے ہیں۔ ‘‘ کاغذ بھی جھوٹے بنا لیے جاتے ہیں ’’کوئی امر بیان کریں گے تو سچ کا پہلو بچا کر بولیں گے ‘‘جس سے فائدہ ہوتا ہو اگر تو سچ کو چھوڑ دیں گے اور جھوٹی باتیں ہوں گی۔’’ اب کوئی ان لوگوں سے جو اس سلسلہ کی ضرورت نہیں سمجھتے پوچھے کہ کیا یہی وہ دین تھا‘‘ یعنی آپؑ فرما رہے ہیں کہ جماعت میں نے شروع کی ہے تو سچائی پہ قائم رہنے کے لیے شروع کی ہے۔ فرمایا کہ کوئی ان سے پوچھے کیا یہی وہ دین تھا ’’جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تو جھوٹ کو نجاست کہا تھا کہ اس سے پرہیز کرو۔ اِجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ۔(الحج:31)بت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے‘‘مطلب یہی ہے کہ ناپاکی سے تم اجتناب اس لیے کرو جس طرح یہ بہت بڑی برائی ہے کیونکہ جھوٹ بولنا بھی اسی طرح ہے جس طرح تم ناپاکی میں پڑ گئے ہو، غلط کام میں پڑ گئے ہو۔ پس فرمایا کہ بت پرستی بھی غلط کام ہے۔ گندا کام ہے۔ فرمایا کہ بت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف جھکتا ہے’’ویسے ہی صدق و راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لیے جھوٹ کو بت بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی۔‘‘ بت پرستی سے اجتناب کرو کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور جھوٹ بولنا بھی اس کے برابر ہے۔ فرمایا :’’جیسے ایک بت پرست بت سے نجات چاہتا ہے۔ جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔ کیسی خرابی آ کر پڑی ہے اگر کہا جاوے کہ کیوں بت پرست ہوتے ہو۔ اس نجاست کو چھوڑ دو تو کہتے ہیں کہ کیونکر چھوڑ دیں اس کے بغیر گزارا نہیں ہو سکتا۔‘‘ یہ گند اور نجاست جو ہے بت کی اس کو چھوڑ دو۔ کہا جائے تو چھوڑتے کیوں نہیں تو کہتے ہیں اس کے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ جھوٹ بولنا پڑتا ہے ہمیں اپنے فائدے اٹھانے کے لیے۔ آپؑ نے فرمایا کہ
’’اس سے بڑھ کر اَور کیا بدقسمتی ہوگی جھوٹ پر اپنی زندگی کا مدار سمجھتے ہیں۔مگر مَیں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 8 صفحہ 181 ایڈیشن 2022ء)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓنے ایک جگہ لکھا ہے کہ
’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی کو اطلاع دیتے ہیں کہ مجھ پر یوں وحی ہوئی ہے تو بیوی یہ نہیں کہتی کہ یہ کیا پاکھنڈ بنانے لگے ہو بلکہ وہ کہتی ہے …آپؐ گھبرائیں نہیں ۔آپؐ نے جو کچھ دیکھا ٹھیک دیکھا۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو ضائع نہ کر سکتا تھا کیونکہ آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں ۔نادار کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔گمشدہ نیکیوں کو قائم کرتے ہیں ۔مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی مدد کرتے ہیں۔ ‘‘سچائی اور حق کی مدد کرتے ہیں ’’پھر بیوی آپؐ کو اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے جاتی ہے جو اسرائیلی علوم کے عالم تھے تو وہ سنتے ہی فرماتے ہیں کہ یہ ویسی ہی وحی ہے جیسے موسیٰؑ پر نازل ہوئی تھی اور ویسے ہی احکام اور فرامین اس وحی میں پائے جاتے ہیں جیسے موسیٰ ؑکی وحی میں پائے جاتے تھے۔‘‘ گواہیاں بتا رہے ہیں اس وقت۔ مَیں پہلے بھی ایک دفعہ گذشتہ خطبے میں اس کا تھوڑا مختصر بیان کر چکا ہوں۔ پھر اگلی گواہی آپ دیتے ہیں ۔ایک تو یہ ورقہ بن نوفل کی تھی ۔پھر آپؓ نے لکھا :’’ گھر میں ایک چچیرا بھائی جو جوانی کی عمر کو پہنچنے والا ہے اور نوجوانوں میں تبلیغ کا اچھا ذریعہ بن سکتا ہے جب وہ اپنے بھائی اور بھاوج کو‘‘ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ ؓکو’’ نہایت سنجیدگی سے ایک اہم تغیر کی نسبت باتیں کرتے ہوئے سنتا ہے تو بڑی متانت سے آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ مَیں بھی یقین رکھتا ہوں کہ آپؐ سچے ہیں اور ضرور خدا تعالیٰ نے آپؐ سے یہ باتیں کی ہیں اور آپؐ کو دنیا کی اصلاح کے لیے مامور کیا ہے ۔ایک آزاد کردہ غلام ’’کی گواہی دیتے ہیں‘‘ جو آپؐ کے اخلاق کا شکار ہو کر ماں باپ کو چھوڑ کر آپؐ کے دروازہ پر بیٹھ گیا تھا۔ جب ان آہستہ آہستہ ہونے والی باتوں کو سنتا ہے اور اپنے آقا کے چہرہ پر فکر و اندیشہ کے آثار دیکھتا ہے تو آگے بڑھ کر اپنے آقا کے دامن کو تھام لیتا ہے اور کہتا ہے میرے آقا! وہی ہوگا جو آپؐ نے دیکھا ‘‘۔ یہ جو آپؐ نے کہا ہے سچ ہے اور جو دیکھا وہ سچ ہے۔’’ آپؐ جیسے انسان سے قدرت دھوکا بازی نہیں کر سکتی۔‘‘ آپؐ تو مکمل طور سرتاپا حق اور سچ ہیں ۔آپؐ سے قدرت کس طرح دھوکاکر سکتی ہے‘‘ اب وہ وقت آگیا ہے کہ آپؐ کے ہاتھوں دنیا کی اصلاح ہو۔ مجھے بھی اپنے ساتھ رہنے اور خدمت کرنے کی اجازت دیجئے۔
ایک ہی گہرا دوست جو ’’ پھر ایک اَور گواہی ہے گہرے دوست کی‘‘ گویا ایک ہی صدف میں پلنے والا دوسرا موتی تھا ۔جب سنتا ہے کہ اس کے دوست نے بے پرکی اڑانی شروع کر دی ہے اور شاید اس کے دماغ میں خلل آ گیا ہے’’ لوگ کہتے ہیں‘‘ تو بھاگا ہوا جاتا ہے اور دروازہ کھلوا کر پوچھتا ہے کہ کیا جو کچھ سنتا ہوں سچ ہے؟جب آپؐ اس کے سامنے تشریح کرنے لگتے ہیں تو کہتا ہے خدا کی قسم !دلیلیں نہ دیجئے۔ صرف یہ بتائیے کیا یہ باتیں سچ ہیں اور آپؐ کی تصدیق کرنے پر کہتا ہے میرے سچے دوست! مَیں آپؐ کی رسالت پر ایمان لایا۔ آپؐ تو غضب ہی کرنے لگے تھے کہ دلیلیں دے کرمیرے ایمان کو مشتبہ کرنے لگے تھے۔’’ آپؐ کی سچائی میں نے اس قدر دیکھ لی ہے کہ دلیلوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ پھر اس نے کہا یعنی حضرت ابوبکرؓ نے کہ ‘‘میرے دوست !جس نے تیرے چہرہ کو دیکھا وہ کب تیری بات میں شبہ کر سکتا ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مخالفت ہونی ہی چاہیے تھی کیونکہ بقول ورقہ بن نوفل کےلَمْ یَاْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِہِ اِلَّا عُوْدِیَ۔ یعنی جو شخص بھی ایسا پیغام لایا لوگوں کی مخالفت سے نہیں بچا۔ مگر خدا تعالیٰ کی تدبیر دیکھوکہ اس مخالفت کاطوفان آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کس طرح آپؐ کے ساتھی پیدا کر دیے۔ ساکنین مکہ میں سے ایک ہی اسرائیلیات کا عالم ورقہ پہلے حملہ میں ہی آپؐ کے آگے گھٹنے ٹیک گیا۔ رفیقہ حیات خدیجہ ؓنےوحی سنتے ہی آپؐ کی بلائیں لیں ۔ نوعمر بھائی علیؓ جو ہروقت آپؐ کے عائلی اخلاق کو دیکھتا تھا اپنی خدمات پیش کرنے لگا ۔وہ آزاد غلام زیدؓ جس نے آپؐ کے لین دین اور غرباء سے سلوک کاگہرا اور لمبا مطالعہ کیا تھا آپؐ کی صداقت کی قسمیں کھانے لگا ۔بچپن کا دوست ،مکہ کا محسن، شرافت کا پتلا ابوبکرؓ صرف اتنا سن کر کہ آپؐ نے وحی کا دعویٰ کیا ہے اپنے گلے میں غلامی کا پٹکہ ڈال کر دروازہ پر آ بیٹھا۔ اس عقیدت و اخلاص کے بے نظیر مظاہرہ نے آپؐ کے دل میں کس قدر خوشی نہ پیدا کر دی ہوگی ۔ مکہ والوں کی ہاو ہو، ان کے طعنہ سن کر آپؐ کس طرح مسکرا دیتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے یہ تمہارا فتویٰ ہے جو مجھے نہیں جانتے۔’’ جومجھے کہتے ہو کہ ساحر ہے ،جادوگر ہے ،فلاں ہے ،فلاں ہے‘‘ اب ذرا اس فتویٰ کو بھی تو سنو جو مجھے جاننے والوں نے دیا ہے ۔کس طرح جانیں دے کر وہ میرے دائیں بائیں کھڑے ہیں۔ موسیٰ ؑنے دعا مانگ کر ایک وزیر بوجھ اٹھانے کے لیے مانگا تھا’’اب یہاں آیت کی تفسیر میں موازنہ کر رہے ہیں حضرت موسیٰ ؑکے ساتھیوں کا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا۔ اس لیے آپؓ نے موسیٰ ؑکی مثال دی ہے کہ
موسیٰ ؑنے دعا مانگ کر ایک وزیر بوجھ اٹھانے کے لیے مانگا تھا ’’مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے پانچ وزیر بِن مانگے ہی دے دیے اور ایسے وزیر جنہوں نے آپؐ کا بوجھ بٹانے میں کمال کر دکھایا ۔
ورقہ بے شک جلدی فوت ہو گئے مگر ایک نہ مٹنے والی شہادت آپؐ کی صداقت پر دے گئے۔ حضرت خدیجہؓ نے بارہ سال تک اس کے بعد عورت ہو کر وہ کام کر دکھایا کہ بہادر سے بہادر مرد کی بھی آنکھیں نیچی ہوتی ہیں۔ زید ؓنے بیس سال تک اس کے بعد قربانی کا بے مثال نمونہ دکھایا اور آخر تلواروں کی دھاروں کے سامنے اپنا خون بہا کر ثابت کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وزیر کیسے ہونے چاہئیں ۔ ابوبکرؓ اور علیؓ تو آپ کی وفات کے بعد بھی رہے اور خلیفہ بن کر وزارت کا ایک نئے رنگ میں ثبوت دے گئے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 13 صفحہ 201 – 202، ایڈیشن 2023ء)
پھر آپؐ کا اسوہ بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’صادق اور راستباز کی صداقت کے دلائل میں سے ایک زبردست دلیل اس کا اپنا نفس ہے جوپکار پکار کر کہتا ہے، مخالفوں اور موافقوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے، ناواقفوں اور واقفوں سے کہتا ہے، اجنبیوں اور رازداروں سے کہتا ہے کہ مجھے دیکھو اور مجھے جھوٹا کہنے سے پہلے سوچ لو کہ کیا تم مجھے جھوٹا کہہ سکتے ہو؟ کیا مجھے جھوٹا کہہ کر تمہارے ہاتھ سے وہ تمام ذرائع نہیں نکل جائیں گے جن کے ساتھ تم کسی چیز کی حقیقت معلوم کیا کرتے ہو؟ اور کیا مفتری قرار دے کر تم پر وہ سب دروازے بند نہیں ہوجائیں گے جن میں سے گزر کر تم شاہد مقصود کو پایا کرتے ہو۔ دنیا کی ہر چیز تسلسل چاہتی ہے اور ہر شئے مدارج رکھتی ہے ۔نہ نیکی درمیانی مدارج کو ترک کر کے اپنے کمال تک پہنچ سکتی ہے اور نہ بدی درمیانی منازل کو چھوڑ کر اپنی انتہا کو پا سکتی ہے ۔پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ مغرب کی طرف دوڑنے والا اچانک اپنے آپ کو مشرق کے دور کنارے پر دیکھے؟‘‘ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ دوڑ کسی طرف رہا ہے اور پہنچ کسی طرف جائے’’اور جنوب کی طرف جانے والا افق شمال میں اپنے آپ کو کھڑا پائے ؟‘‘فرمایا کہ ’’مَیں نے اپنی سب زندگی تم میں گزاری ہے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو فرمایا ‘‘مَیں چھوٹا تھا اور تمہارے ہاتھوں میں بڑا ہوا۔ میں جوان تھا اور تمہارے ہاتھوں میں ادھیڑ ہوا۔ میری خلوت و جلوت کے واقف بھی تم میں موجود ہیں۔ میرا کوئی کام تم سے پوشیدہ نہیں اور کوئی قول تم سے مخفی نہیں پھر کوئی تم میں سے ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہو۔’’ یہ اعلان فرما رہے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔کوئی ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے ‘‘یا ظلم کیا ہو یا فریب کیا ہو یا دھوکا دیا ہو یا کسی کا حق مارا ہو یا اپنی بڑائی چاہی ہو یا حکومت حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔ ہر میدان میں تم نے مجھے آزمایا اور ہر حالت میں تم نے مجھے پرکھا مگر ہمیشہ میرے قدم کو جادۂ اعتدال پر دیکھا‘‘ ہمیشہ اعتدال پر چلتے دیکھا ’’اور ہر کھوٹ سے مجھے پاک پایا حتّٰی کہ دوست اور دشمن سے میں نے امین و صادق کا خطاب پایا۔ پھر یہ کیا بات ہے کہ کل شام تک تو مَیں امین تھا۔صادق تھا ۔راستباز تھا۔جھوٹ سے کوسوں دور تھا۔راستی پر فدا تھا بلکہ راستی مجھ پر فخر کرتی تھی ۔ہر بات اور ہر معاملہ میں تم مجھ پر اعتبار کرتے تھے اور میرے ہر قول کو تم قبول کرتے تھے مگر آج ایک دن میں ایسا تغیر ہو گیا کہ میں بدتر سے بدتر اور گندے سے گندا ہو گیا ‘‘صرف ایک دعوے سے کہ ’’یا تو کبھی آدمیوں پرجھوٹ نہ باندھا تھا ‘‘میں نے’’ یا اب اللہ پر جھوٹ باندھنے لگا ۔ اس قدر تغیر اور اس قدر تبدیلی کی کیا قانون قدرت میں کہیں بھی مثال ملتی ہے؟ ایک دو دن کی بات ہوتی تو تم کہہ دیتے کہ تکلّف سے ایسا بن گیا۔ سال دو سال کا معاملہ ہوتا تو تم کہتے ہمیں دھوکا دینے کو اس نے یہ طریق اختیار کر رکھا تھا مگر ساری کی ساری عمر تم میں گزار چکا ہوں۔ بچپن کو تم نے دیکھ لیا۔ جوانی کو تم نے مشاہدہ کیا۔ کہولت کا زمانہ‘‘ یعنی بڑھاپاجب شروع ہوتا ہے اس کا زمانہ‘‘تمہاری نظروں کے سامنے گزرا ۔اس قدر تکلّف اور اس قدر بناوٹ کس طرح ممکن تھی۔ بچپن کے زمانے میں جب اپنے بھلے برے کی بھی خبر نہیں ہوتی میں نے بناوٹ کس طرح کی۔ جوانی جو دیوانی کہلاتی ہے اس میں مَیں نے فریب سے اپنی حالت کو کس طرح چھپایا۔ آخر کچھ تو سوچو کہ یہ فریب کب ہوا اور کس نے کیا اور اگر غور و فکر کر کے میری زندگی کو بے عیب اور بےلوث ہی نہ پاؤ بلکہ تم اسے نیکی کا مجسمہ اور صداقت کی تمثال دیکھو’’ یعنی سچائی کی شکل میں دیکھو‘‘ تو پھر سورج کو دیکھتے ہوئے رات کا اعلان نہ کرو۔’’ دن چڑھا ہوا ہے تو پھر یہ نہ کہو کہ رات ہوئی ہے۔ اس طرح میری باتیں روز روشن کی طرح واضح ہیں ‘‘اور نور کی موجودگی میں ظلمت کے شاکی نہ بنو۔ تم کو میرے نفس کے سوا اور کس دلیل کی ضرورت ہے؟ ’’میرا نفس ہی ہے جو سب سے بڑی دلیل ہے ‘‘اور میرے پچھلے چال چلن کو چھوڑ کر اور کس حجت کی حاجت ہے؟‘‘ میرا سارا ماضی تمہارے سامنے ہے۔پھر بھی تم کہتے ہو کوئی حجّت پیش کرو۔
’’ میرا نفس خود مجھ پر گواہ ہے اور میری زندگی مجھ پر شاہد ہے۔اگر تم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے تو اس کا دل اور اس کا دماغ بھی اس امر کی شہادت دے گا کہ صداقت اس میں قائم ہے اور یہ صداقت سے قائم ہے۔ راستی کو اس پر فخر ہے اور اس کو راستی پر فخر ہے ۔یہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے دوسری چیزوں کا محتاج نہیں۔ اس کی مثال آفتاب آمد دلیل آفتاب کی سی ہے‘‘
یعنی سورج کا چڑھنا سورج کے ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ ’’یہی وہ زبردست دلیل ہے جس نے ابوبکرؓکے دل میں گھر کر لیا اور یہی وہ طاقتور دلیل ہے جو ہمیشہ صداقت پسند لوگوں کے دلوں میں گھر کرتی چلی جائے گی۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا تھا اس وقت حضرت ابو بکرؓ اپنے ایک دوست کے گھر پر تشریف رکھتے تھے۔وہیں آپؓ کی ایک آزاد لونڈی نے اطلاع دی کہ آپ کے دوست کی بیوی کہتی ہے کہ اس کا خاوند اس قسم کا نبی ہو گیا ہے جس قسم کا نبی موسیٰ ؑکو بیان کرتے ہیں۔ آپؓ اسی وقت اٹھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پر تشریف لے گئے اور آپؐ سے دریافت کیا۔ آپؐ نے فرمایا مَیں خدا کا رسول ہوں۔‘‘ حضرت ابوبکرؓ کی اس بات پر آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو فرمایا کہ ہاں!مَیں خدا کا رسول ہوں۔ ’’حضرت ابوبکر ؓنے اس بات کو سنتے ہی آپؐ کے دعویٰ کو تسلیم کر لیا۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آپؓ کے ایمان کے متعلق فرماتے ہیں … مَیں نے کسی کو اسلام کی طرف نہیں بلایا مگر اس کی طرف سے کچھ روک اور فکر اور تردّد ظاہر ہوا لیکن ابوبکرؓ کے سامنے جب اسلام پیش کیا تو وہ بالکل متردّد نہیں ہوا بلکہ اس نے خود اسلام کو قبول کر لیا ۔
یہ کیا چیز تھی جس نے حضرت ابوبکرؓ کوبغیر کسی نشان کے دیکھے رسول کریم ؐپر ایمان لانے کے لیے مجبور کر دیا۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نفس ناطقہ تھا جو اپنی سچائی کا آپ شاہد ہے…‘‘
اسی طرح حضرت خدیجہؓ، حضرت علیؓ اورحضرت زید بن حارثؓ کے بارے میں گواہی بتا چکا ہوں سب آپؐ کی سچائی کو دیکھ کر آپؐ کی اس بات کے گواہ تھے۔
’’ غرض نبی کی صداقت کی پہلی اندرونی دلیل اس کا نفس ہوتا ہے جو بزبان حال اس کی سچائی پر گواہ ہوتا ہے اور اس کی گواہی ایسی زبردست ہوتی ہے کہ اس کی موجودگی میں کسی اَور معجزہ یا آیت کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔‘‘
(دعوۃ الامیر ، انوار العلوم جلد07صفحہ 425تا 428)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’ خدا کے کلام سے پایا جاتا ہے کہ متقی وہ ہوتے ہیں جو حلیمی اور مسکینی سے چلتے ہیں۔ وہ مغرورانہ گفتگو نہیں کرتے ۔ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے جیسے چھوٹا بڑے سے گفتگو کرے۔ ہم کو ہر حال میں وہ کرنا چاہیے جس سے ہماری فلاح ہو۔اللہ تعالیٰ کسی کا اجارہ دار نہیں۔ وہ خالص تقویٰ کو چاہتا ہے۔ جو تقویٰ کرے گا وہ مقام اعلیٰ کو پہنچے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کسی وراثت سے تو عزّت نہیں پائی۔ گوہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد عبداللہ مشرک نہ تھے ‘‘یہ بھی لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔ اس کا بھی آپؑ نے یہاں جواب دیاکہ ہمارا ایمان ہے کہ والد ماجد عبداللہ مشرک نہ تھے’’ لیکن اس نے نبوت تو نہیں دی۔ یہ تو فضل الٰہی تھا ان صدقوں کے باعث جو ان کی فطرت میں تھے۔ یہی فضل کے محرک تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ابو الانبیاء تھے انہوں نے اپنے صدق و تقویٰ سے ہی بیٹے کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا۔ خود آگ میں ڈالے گئے۔‘‘ آگ میں بھی اسی بات پہ پڑے۔ فرماتے ہیں کہ
’’ ہمارے سیّد و مولا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی صدق و وفا دیکھئے! آپؐ نے ہر ایک قسم کی بدتحریک کا مقابلہ کیا۔ طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پروا نہ کی۔ یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔
اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (الاحزاب:57)…اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں ۔اے ایمان والو! تم درود و سلام بھیجو نبیؐ پر ۔اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم ؐ کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لیے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا ‘‘ان کو محدود نہیں کیا کسی خاص لفظ میں۔ ’’لفظ تو مل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہ کیے ۔یعنی آپؐ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے بیرون تھی۔ ‘‘اعمال صالحہ ایسے تھے جن کو ہم محدود کر ہی نہیں سکتے۔ ’’اس قسم کی آیت کسی اَور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔ آپؐ کی روح میں وہ صدق و صفا تھا اور آپؐ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔ان کی ہمت و صدق وہ تھا کہ اگر ہم اوپر یا نیچے نگاہ کریں تو اس کی نظیر نہیں ملتی۔ خود مسیح کے وقت کو دیکھ لیا جاوے کہ ان کی ہمّت یا روحانی صدق و صفا کا کہاں تک اثر ان کے پیروؤں پر ہوا۔ ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ایک بد روش کو درست کرنا کس قدر مشکل ہے۔ عادات راسخہ کا گنوانا کیسا محالات سے ہے۔ ‘‘جب عادتیں پکی ہو جائیں تو ان کو ٹھیک کرنا بہت مشکل کام ہے’’لیکن ہمارے مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہزاروں انسانوں کو درست کیا جو حیوانوں سے بدتر تھے ۔بعض ماؤں اور بہنوں میں حیوانات کی طرح فرق نہ کرتے تھے۔ یتیموں کا مال کھاتے ، مُردوں کا مال کھاتے ۔ بعض ستارہ پرست، بعض دھریہ ، بعض عناصر پرست تھے ۔ جزیرہ ٔعرب کیا تھا ایک مجموعہ مذاہب اپنے اندر رکھتا تھا۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قرآن کریم ہر ایک قسم کی تعلیم اپنے اندر رکھتا ہے۔ ہر ایک غلط عقیدہ یا بُری تعلیم جو دنیا میں ممکن ہے اس کے استیصال کے لیے کافی تعلیم اس میں موجود ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عمیق حکمت وتصرف ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 31تا 33 ایڈیشن 2022ء)
جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور ایسےزمانے میں بھیجا جب جاہلیت کی انتہا ہوئی ہوئی تھی اور پھر ان جانوروں کو انسان بنایا۔
اللّٰھم صل علٰی محمد وعلٰی اٰل محمد وبارک وسلم انک حمید مجید۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپؐ کے اسوۂ حسنہ پر چلتے ہوئے قرآن کریم اور آپؐ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے سچائی کے معیاروں کو بلند تر کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍اپریل 2026ء




