ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر۲۰۹)
معجزات مسیح کی حقیقت
’’معجزات مسیح کے متعلق کہا گیا کہ ازالۂ اوہام میں جو تصریح کی گئی ہے۔ اس سے انکار پایا جاتا ہے۔فرمایا:تعجب کی بات ہے کہ وہ انکار ہے یا اقرار؟معجزاتِ مسیح کا تو اقرار کیا گیا ہے اور ہم اب بھی اقرار کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے خوارق کا ظہور ہوا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ ان معجزات کی حقیقت جو خدا تعالیٰ نے ہم پر کھولی اسے ہم نے بحیثیت حکم ظاہر کر دیا ہے۔ ا س کی ہم کو کچھ پروا نہیں کہ یہ لوگ اس پر گالیاں دیتے ہیں یا کیا کہتے ہیں۔ یہ لوگ اگر میری بات سے انکار کرتے ہیں تو پھر مجھ سے نہیں بلکہ قرآن شریف سے انکار کرتے ہیں۔ کیونکہ میں نے جو کچھ لکھاہے اپنی طرف سے تو لکھاہی نہیں۔ قرآن شریف ہی سے لکھاہے۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن شریف نے صاف طور پر فرمادیا ہے کہ حقیقی مردے واپس نہیں آتے۔ (الزمر: ۴۳) کے کیا معنے ہیں۔ پھر اگر میں نے یہ کہا کہ وہ مردے جو حضرت مسیح نے زندہ کئے وہ حقیقی مردے نہ تھے جو آیت فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ کے موافق واپس نہیں آتے تو کیا بُرا کیا؟ اس سے معجزات کا انکار کیونکر ثابت ہوا؟
میرا معجزات سے انکار تو ثابت نہیں ہوتا۔البتہ ایسا اعتراض کرنے والے کا قرآن شریف سے انکار ثابت ہوتاہے کیونکہ نہ ایک جگہ نہ دو جگہ بلکہ قرآن شریف کے متعدد مقامات سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے۔ ایک اَور جگہ فرمایا وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَاۤ اَنَّہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ (الانبیاء : ۹۶) اب بتاؤ کہ جب اﷲ تعالیٰ کھول کھول کر ایک امر کو بیان کر دے کہ مردہ حقیقی واپس نہیں آیا کرتا تو پھر قرآن شریف کی تعلیم سے یہ کیسا انحراف ہے کہ خواہ نخواہ یہ تجویز کیا جاوے کہ فلاں شخص ایسا کرتا تھا۔ خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ ایسی باتوں کو منہ سے نکالتے وقت اﷲ تعالیٰ کا ادب کرو۔
ہاں یہ سچ ہے کہ بعض لوگ جو مردہ ہی کی طرح ہو جاتے ہیں اور کوئی امید زندگی کی باقی نہیں ہوتی۔صرف دم باقی ہوتا ہے۔ ہرقسم کی تدابیر کی راہ بندہوتی ہے۔ اس وقت اﷲ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اپنے کسی بندہ کی دعاؤں سے اس مردہ کو زندہ کر دیتا ہے۔ یہ بھی احیاء موتیٰ ہی ہوتا ہے۔ اور یہاں بھی اس قسم کی مثالیں موجود ہیں۔
نواب صاحب کے لڑکے عبدالرحیم کو جن لوگوں نے دیکھا ہے وہ اس کی شہادت دے سکتے ہیں کہ اس کی کیا حالت تھی۔ اس کی زندگی کی کوئی بھی امید باقی نہ تھی۔ایسا ہی خود میرا لڑکا مبارک احمد ایسی حالت تک پہنچ گیا تھا کہ گھروالوں نے انا لِلّٰہِ وانا الیہ راجعون بھی پڑھ دیا۔ مگر اﷲ تعالیٰ نے پھر اُسے زندہ کر دیا۔ یہ احیاء موتیٰ ہوتا ہے۔
اور علاوہ اس کے روحانی احیاء بھی ہوتا ہے جو لوگ اﷲ تعالیٰ کی ہدایتوں سے بے خبر ہوتے ہیں اور ان کی زندگی ایک گمراہی کی زندگی ہوتی ہے وہ بھی مردہ ہی ہوتے ہیں کیونکہ روحانی طور پر مرچکے ہوتے ہیں۔ پس ایسے لوگوں کا ہدایت یاب ہو جانا یہ ان کا زندہ ہونا ہے۔ یہ حقیقت احیاء موتیٰ کی ہے جو قرآن شریف نے بیان کی ہے۔اور اسی کے موافق خدا تعالیٰ سے علم پا کر میں نے اس کی تصریح کی۔ اب اگر یہ انکار معجزات ہے تو ایسا الزام لگانے والا خود سوچ لے کہ وہ مجھے منکر نہیں ٹھہراتا۔ بلکہ قرآن شریف سے انحراف اور انکار کرتا ہے۔
یہ کس قدر ناسمجھی اور ناواقفی کی بات ہے کہ انسان اس طرز اور کلام کو اختیار کرے جس میں قرآن شریف پر حملہ ہو اور آنحضرت ﷺ پر حملہ ہو۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ کیا ان کو معجزاتِ مسیح پیارے ہیں یا خداتعالیٰ کا کلام اور آنحضرت ﷺ ؟ یہ اگر معجزات مسیح کے لیے خدا تعالیٰ کے کلام اورآنحضرت کو چھوڑ سکتے ہیں تو چھوڑدیں۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو چھوڑدیں اور آنحضرت ﷺ کی ہتک کریں۔ اس عقیدہ پر اگر ساری دنیامجھ کو چھوڑتی ہے تو چھوڑدے مجھے اس کی پروا نہیں اس لیے کہ خدا میرے ساتھ ہے۔
ان کو اعتراض کا حق تو اس وقت ہوتا جب ہم خدا تعالیٰ کے کلام کے خلاف کرتے۔ لیکن جب ہم خدا تعالیٰ کے کلام کے بالکل موافق کہتے ہیں تو اس پر اعتراض کرنا خدا تعالیٰ کے کلام پر اعتراض ہے نہ مجھ پر۔ اگر مسیح واقعی مردوں کو زندہ کرتے تھے یعنی ایسے مردوں کو جو قضی علیھا الموت کے نیچے آچکے تھے تو پھر کیوں انہوں نے ایلیا ء کو زندہ کرکے نہ دکھا دیا۔ تا کہ یہودی ٹھوکر نہ کھاتے اور خود بھی صلیبی ابتلا سے بچ جاتے۔
سعدی بھی یہی مذہب رکھتا تھا اور یہی سچا مذہب ہے۔ کوئی اکابر اس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ سعدی کہتا ہے؎
وہ کہ گر مردہ باز گردیدے
رد میراث سخت تر بودے
بسرائے قبیلۂ پیوند
وارثاں را ز مرگ خویشاوند‘‘
(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۱۲۶-۱۲۸ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی قطعہ شیخ سعدی کاہے، جس کا ذکر گلستان سعدی کے تیسرے باب میں موجود ایک حکایت میں اس طرح ملتا ہے۔
حکایت :ایک مالدار کے متعلق میں نے سنا ہے کہ وہ بخل میں ایسا ہی مشہو رتھا جیسا کہ حاتم طائی سخاوت میں۔وہ اس حالت کو پہنچ گیا تھا کہ جان کے بدلے ایک روٹی ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔اور حضرت ابوہریرہؓ کی بلی کو ایک لقمہ سے نہ نوازتا۔اور اصحاب کہف کے کتے کو ایک ہڈی نہ ڈالتا۔خلاصہ یہ کہ اُس کے گھر کے دروازہ اور دسترخوان کو کوئی نہ دیکھتا۔فقیرصرف اس کے کھانے کی بو سونگھتا۔پرند اس کے کھاناکھانےکے بعد ذرہ نہ چُگتا۔میں نے سنا کہ ایک مرتبہ خلیج مصر کے راستہ سے مصر جانا اس کے پیش نظر تھا اور فرعونی خیال (یعنی وہی غرور اور بخل اور کمینگی) دماغ میں۔یہاں تک کہ ڈوبنے نے اسے آدبوچا۔ ایک مخالف ہوا کشتی پر چلی۔اُس نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے اور بے فائدہ چیخنا شروع کردیا۔محتاج بندہ کو عاجزی کا ہاتھ اُٹھانے سے کیا فائدہ جبکہ مانگنےکے وقت ہاتھ خدا کی طرف اور دینےکے وقت بغل میں ہوں۔
بیان کیا ہے کہ اس کے غریب رشتہ دار مصر میں تھے جو اس کے مرنے کے بعد اس کےچھوڑے ہوئے مال سے مالدار ہوگئے۔اُسی ہفتہ میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا کہ ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار جارہا ہےاور ایک پری جیسے جسم کا غلام اس کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔
وَاہْ کِہْ گَرْمُرْدے بَازْگَرْدِیْدِے
بِہْ سَرَائے قَبِیْلِہْ وپَیْوَنْد
ترجمہ: غضب ہوجاتا اگر مردہ اپنے خاندان اور برادری کے گھر واپس آجاتا۔
رَدِّ مِیْرَاثْ سَخْت تَرْبُوْدِے
وَارِثَاںْ رَا زِمَرْگِ خِویْشَاوَنْد
ترجمہ: میراث کا واپس کرنا زیادہ سخت ہوتا وارثوں کےلیے اپنوں کی موت سے۔(یعنی عزیزوں کو اپنے عزیز کے مرنے کا اتنا رنج نہ ہوتا جتنا کہ میراث اور ترکہ کا واپس کرنا گراں گزرتا)
پہلی جان پہچان کی وجہ سے میں نے اس کی آستین پکڑ لی اور کہا۔اے نیک طبیعت ،کھرے آدمی، خوب کھا کیونکہ اس کمینہ نے تو جمع کیا اور کھایا نہیں۔
لغوی بحث: وَاہْ (کلمہ تحسین وتعجب بمعنی افسوس یا غضب ہوجاتا) کِہْ(کہ)گَرْ(اگر) مُرْدے(مردہ) بَازْگَرْدِیْدِے(واپس آجاتا) بِہْ(کو) سَرَائے(گھر) قَبِیْلِہْ وپَیْوَنْد(خاندان اور برادری)
رَدِّ(لوٹانا)مِیْرَاثْ(میراث؍ترکہ)سَخْت تَرْبُوْدِے(سخت ہوتا/مشکل ہوتا) وَارِثَاںْ(وارثوں) رَا(کو) زِ(سے)مَرْگِ خِویْشَاوَنْد(اپنوں کی موت)
مزید پڑھیں: ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر۲۰۸)




