یورپ (رپورٹس)

مسجد نور، فرانکفورٹ جرمنی میں بین المذاہب مذاکرہ بعنوان ’کیا مذہب امن کا سرچشمہ یا تفرقہ و نفرت کا سبب ہے؟‘

مکرم مبین جاوید صاحب لوکل سیکرٹری تبلیغ فرانکفورٹ اطلاع کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مورخہ۸؍جنوری ۲۰۲۶ء کو مسجد بیت النور، فرانکفورٹ میں ایک مذاکراتی پروگرام منعقد ہوا جس کا موضوع ’’کیا مذہب امن کا سرچشمہ یا تفرقہ و نفرت کا سبب ہے؟‘‘ تھا۔ قبل ازیں مورخہ ۱۱؍دسمبر۲۰۲۵ءکو اسی مسجد میں بعنوان ’’سوشل میڈیا کے باوجود تنہائی‘‘ مذاکرہ جب اختتام پذیر ہوا تو اُسی شام آئندہ کی نشست کے ليے مندرجہ بالا موضوع مقرر کیا گیا اور ایک ٹیم بناکر اس کی تیاری شروع کر دی گئی۔ نیز مقررین سے درخواست کی گئی کہ اگلے پروگرام کی تشہیر کے ليے آپ اپنا مختصر ویڈیو بیان ریکارڈ کروادیں جس پر مندرجہ ذیل تین مہمانوں نے اپنے اپنے ویڈیو پیغامات ریکارڈ کروائے تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے مہمانوں کوآئندہ ہونے والے پروگرام کی طرف متوجہ کیا جا سکے: مسزJulia Piretzisصاحبہ جو کہ پروٹیسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھنے والی مذہبی سکالرہونے کے ساتھ ساتھ تنہائی کا شکاراور ڈپریشن میں مبتلا نوجوانوں کی اصلاح کرتی ہیں۔ محترمہ سارہ نگر (Sara Nagar) صاحبہ جو سوشل میڈیا پر ایک اثر انداز شخصیت ہیں جن کی کثیر تعداد میں فین فالوونگ بھی ہے اورجناب جارج رُسل (Georg Rössel) جو پیشے کے اعتبار سے ذہنی مریضوں کی تھراپی کرتے ہیں اور متعدد کتب کے مصنف بھی ہیں۔

مختلف مذاہب اور مکتبۂ فکر کی نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل شخصیات کو موضوع کے مطابق لیکچرز پیش کرنے کی دعوت دی گئی: جناب ڈاکٹر Splittstößer صاحب جوکہ Das Lebendige Testament (زندہ وصیت نامی کتاب) کے مصنف ہیں۔ ہمارے اس پروگرام میں دہریوں کی ایک تنظیم کے ۱۰؍افراد اپنی نمائندہ محترمہ Johanna Steinbach کے ہمراہ تشریف لائے۔ دوسرے مقرر جناب طارق ہبش صاحب تھے۔ موصوف ایک جرمن ثقافتی مورخ، جامعہ احمدیہ جرمنی کے لیکچرار اور سماجی و سیاسی امور کے تجزیہ نگار ہیں۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے مکرم عدیل احمد خالد صاحب مبلغ سلسلہ شعبہ تبلیغ شریک گفتگو ہوئے۔

پروگرام کے موضوع کے تحت قرآن وحدیث کی روشنی میں اسلامی تعلیمات پر مشتمل کچھ پوسٹرز اور بینرز لگائے گئے نیز ڈیجیٹل سکرینز پر بھی مختلف اسلامی تعلیمات نشر کی جاتی رہیں۔

اس پروگرام کی تشہیر فرانکفورٹ میں لگنے والے تبلیغ سٹالز اور ڈائیلاگ پروگرامز میں بھی کی جاتی رہی۔ بعض مہمان اس ذریعے سے بھی تشریف لائے اور انہوں نے بڑی خوشی سے بتایا کہ فلاں دن آپ نے ہمیں دعوت دی تھی۔ اس پروگرام میں کل ۲۴؍مہمان شریک ہوئے۔ الحمدللہ

پروگرام کی نظامت کے فرائض مکرم فہیم احمد صاحب نے ادا کيے۔ پروگرام کے اختتام پر آئندہ ماہ منعقد ہونے والی نشست ’’مدد کا جذبہ۔سماجی خدمت یا سرکاری دباؤ؟‘‘ کا فلائر پیش کیا گیا۔ آخر پر مہمانوں کو تحائف بھی پیش کيے گئے۔

مہمانوں کےتاثرات: محترمہ Johanna Steinbach جو پہلی مرتبہ مسجد آئی تھی نے کہا کہ انہیں اندازہ نہ تھا کہ مسجد کا ماحول اتنا خوبصورت اور پُرسکون ہوگا۔ ایک اور خاتون نے کہا کہ وہ مدت سے مذہب کی تلاش میں تھیں اور آج انہیں اپنا راستہ مل گیا ہے۔ بعض مہمانوں نے انٹرویوز بھی ریکارڈ کروائے جو بعدازاں انسٹاگرام پر نشر کيے گئے جس کی وجہ سے ہزاروں افراد تک پیغام پہنچا۔

اس پروگرام کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ اور ساؤنڈ سسٹم کے ليے نیشنل شعبہ سمعی وبصری نے بھر پور تعاون کیا۔

اللہ تعالیٰ اس پروگرام کے نیک نتائج ظاہر فرمائے اور جملہ احباب جنہوں نے اس پرگرام کی تیاری میں حصہ لیا اپنی جناب سے انہیں بہترین جزا عطافرمائے۔ آمین

(مرسلہ: صفوان احمد ملک۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: مجلس انصار اللہ ناروے کے زیر اہتمام جلسہ سیرت النبیؐ اور صحت سیمینار کا انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button