سچائی کے حوالے سے آنحضورﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۷؍اپریل ۲۰۲۶ء
٭… آپؐ کی سیرت کے واقعات میں آپؐ کی صداقت کی اعلیٰ ترین مثالیں ملتی ہیں۔دشمن بھی آپؐ کی راستبازی کے اعلیٰ ترین معیار کا اقرارکیے بنا نہیں رہ سکتا
٭… آج اس حوالے سے ہم سب کو اپنے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ یہ سچائی کے اعلیٰ ترین معیار ہی ہیں جو ہماری زندگی کے ہر لمحے میں کامیابی کی ضمانت ہیں اور اسی طرح ہمارے لیے تبلیغ کے راستے بھی کھولنے والے ہیں
٭… تم پر سچ فرض ہے کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہےاور نیکی جنّت کی طرف لے جاتی ہے۔ کوئی شخص مسلسل سچ بولتا ہے اور سچ کی جستجو میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں صدیق لکھا جاتا ہے۔ تم لوگ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور بدکاری آگ کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں کذاب لکھا جاتا ہے(حدیث نبویﷺ)
٭…آج ہر احمدی کا کام ہے کہ ہم اپنے جائزے لیں کہ ہمارے سچائی کے معیار کیا ہیں اور جو کمزوریاں ہیں انہیں ہم نے دور کرنا ہے
٭… حضرت مسیح موعودؑ کی نواسی ، حضرت نواب عبد اللہ خان صاحبؓ اور حضرت نواب امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ ؓکی صاحبزادی محترمہ شاہدہ احمد صاحبہ اہلیہ مرزا نسیم احمد صاحب کی وفات پر مرحومہ کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۷؍اپریل ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۷؍شہادت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۱۷؍اپریل ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سورت یونس کی آیات ۱۷ اور ۱۸ کی تلاوت فرمائی جس کے بعد فرمایا:
ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ اور تُو انہیں کہہ کہ اللہ کی یہی مشیت ہوتی کہ اس کی جگہ کوئی اور تعلیم دی جاتی تو مَیں اسے تمہارے سامنے پڑھ کر نہ سناتا اور نہ وہ تمہیں اس تعلیم سے آگاہ کرتا۔ چنانچہ اس سے پہلے مَیں تم میں ایک عرصہ درازگزار چکا ہوںکیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ پھر تم ہی بتاؤکہ جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کے نشانات کو جھٹلائےاس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا۔غرض یہ یقینی بات ہے کہ مجرم لوگ کامیاب نہیں ہوتے۔
آنحضرتﷺ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کا ذکر ہورہا ہے۔
آج آپؐ کے خُلق صداقت،سچائی، راستبازی کے بارے میں ذکر ہوگا۔
آپؐ کی سیرت کے واقعات میں آپؐ کی صداقت کی اعلیٰ ترین مثالیں ملتی ہیں۔ دشمن بھی آپؐ کی راستبازی کے اعلیٰ ترین معیار کا اقرارکیے بنا نہیں رہ سکتا۔
آنحضورﷺ نے اپنے ماننے والوں کو بھی یہی نصیحت فرمائی ہے کہ سچائی کے اعلیٰ ترین معیار قائم کرو۔ پس
آج اس حوالے سے ہم سب کو اپنے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ یہ سچائی کے اعلیٰ ترین معیار ہی ہیں جو ہماری زندگی کے ہر لمحے میں کامیابی کی ضمانت ہیں اور اسی طرح ہمارے لیے تبلیغ کے راستے بھی کھولنے والے ہیں۔
رسول اللہﷺ کی پاک زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ہم رسول کریمﷺ کے متعلق دیکھتے ہیں کہ آپؐ کے دشمنوں نے بھی اقرار کیا کہ آپؐ صادق و امین تھے اور انہوں نے کوئی الزام نہ لگایا۔ دشمن نے بھی آپؐ کی صداقت اور پاکیزگی کی شہادت دی۔
فرمایا کہ آنحضورﷺ کی وہ کون سی چیز تھی جو مخالفین پر اثر کرتی تھی۔ وہ قرآن کریم سے ابتداءً متاثر نہیں ہوئے بلکہ وہ محمدﷺ کی پہلی زندگی تھی آپؐ ان میں رہے آپؐ کی دیانت، راستبازی اور ہمدردی خلائق اور ایثار تھاجو اُن پر اثر کرتا تھا۔ دعویٰ سے پہلے آپؐ انہیں شرک سے منع نہیں کرتے تھے کیونکہ حکمِ خداوندی نہ تھا مگر آپؐ خود مشرک نہ تھے۔ پس آپؐ کے طور طریقے کی خوبی ہی تھی جس کا اثر تھا اور یہ اثر اندر ہی اندر کھاتا جاتا تھا۔
حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں خدا تعالیٰ نے ہمارے سیدو مولیٰ، نبی آخرالزمان جو سید المتقین تھے کو انواع و اقسام کی تائیدات سے مظفر اورمنصور کیا۔ گو اوائل میں حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰ ؑکی طرح داغِ ہجرت آپؐ کے بھی نصیب ہوا مگر وہی ہجرت فتح و نصرت کے مبادی اپنے اندر رکھتی تھی۔ سواے دوستو! یقیناً سمجھو کہ متقی کبھی برباد نہیں کیا جاتا۔ جب دو فریق آپس میں دشمنی کرتے ہیں اور خصومت کو انتہا تک پہنچاتے ہیں تو وہ فریق جو خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور پرہیزگار ہوتا ہے آسمان سے اُس کے لیے مدد نازل ہوتی ہے۔اس طرح آسمانی فیصلے سے مذہبی جھگڑے انفصال پاجاتے ہیں۔
فرمایا: اللہ جلّ شانہٗ ہمارے نبیﷺ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ وانک لعلیٰ خلق عظیم یعنی تُو ایک بزرگ خُلق پر قائم ہے۔یعنی تمام قسمیں اخلاق کی … تجھ میں جمع ہیں۔ غرض جس قدر انسان کے دل میں قوتیں پائی جاتی ہیں … تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورے سےاپنے اپنے محل پر ظاہر کی جائیں گی تو ان سب کا نام اخلاق ہوگا۔
آنحضرتﷺ سچائی کو دنیا میں پھیلانے کے لیے آئے تھے اس لیے مختلف مواقع پر آپؐ نے اپنے ماننے والوں کو بھی سچائی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔
ایک موقع پر رسول اللہﷺ نے فرمایا :
تم پر سچ فرض ہے کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہےاور نیکی جنّت کی طرف لے جاتی ہے۔ کوئی شخص مسلسل سچ بولتا ہے اور سچ کی جستجو میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں صدیق لکھا جاتا ہے۔ تم لوگ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے اور بدکاری آگ کی طرف لے جاتی ہے۔ آدمی جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں کذاب لکھا جاتا ہے۔
ایک اَور موقع پر آپؐ نے فرمایا کہ
بے شک جھوٹ کسی حال میں درست نہیں، نہ سنجیدگی میں اور نہ مذاق میں۔ نہ یہ کہ کوئی شخص اپنے بچّے سے وعدہ کرے اور اسے پورا نہ کرے ۔
علامہ رازیؒ سورة التوبہ آیت ۱۱۹ کی تفسیر میں فرماتے ہیں ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ مَیں ایسا شخص ہوں جو چاہتا ہے کہ وہ اپنی برائیوں سے بچے لیکن مجھ میں شراب، چوری، زنا اور جھوٹ کی عادتیں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپؐ ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ مجھ میں پوری طاقت نہیں کہ مَیں ان سب کو چھوڑ سکوں۔ اگر آپؐ ایک پر قناعت کریں تو مَیں آپؐ پر ایمان لے آؤں گا۔ آنحضورﷺ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے تم جھوٹ کو چھوڑ دو۔ اس نے جھوٹ چھوڑنے کا قول کرلیا اور مسلمان ہوگیا۔ پھر جب وہ نبیﷺ کے پاس سے نکلا تو اسے ان تمام برائیوں کے مواقع پیش آئے اور اس خیال سے کہ اگر وہ ان برائیوں میں آلودہ ہوا اور نبیﷺ نے اس سے پوچھا تو اسے سچ بولنا ہوگا اور اس طرح وہ ان سب برائیوں سے بچتا چلا گیا۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓکو جب آنحضورﷺ کا دعویٰ نبوت پہنچا تو آپؓ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور عرض کی کہ مجھے آپؐ کے متعلق ایک بات پہنچی ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اے ابوبکر!تمہیں میرے متعلق کیا بات پہنچی ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یہی کہ آپؐ لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلاتے ہیں اور آپؐ کہتے ہیں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہاں! میرے خدا نے مجھے بشیر اور نذیر بنایا ہے اور مجھے ابراہیم کی دعا بنایا ہے اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم! مَیں نے کبھی آپؐ کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔ آپؐ اپنی امانت کی عظمت، صلہ رحمی اور اچھے اعمال کی وجہ سے نبوّت کے زیادہ حق دار ہیں۔ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ مَیں آپؐ کی بیعت کروں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے اپنا دستِ مبارک آگے کیا اور حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کی بیعت کی۔
حضرت خدیجہؓ نے آغازِ نزولِ وحی کے موقعے پر آنحضرتﷺ کی امانت وصداقت پر جو عظیم الشان کلمات فرمائے ان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں غور کرو کہ پچپن سالہ بی بی، آپؐ کی ہم شہر، ہم قوم جو پندرہ سال سے آپؐ کے بیاہ میں ہے، کیا گواہی دیتی ہے۔ خدیجہ کی گواہی ایسے وقت میں جب آپؐ غمگین اور مضطرب تھے، غور کے قابل ہے۔ اگر آپؐ میں یہ صفات نہ ہوتیں تو خدیجہ کا بیان اُس وقت ہرگز تسلی بخش نہ ہوتا۔
شعبِ ابی طالب میں جب محصوری کا تیسرا سال ہونے کو آیا تو آنحضورﷺ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر اپنے چچا ابو طالب کو اطلاع دی کہ بنو ہاشم کے بائیکاٹ کا جو معاہدہ خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا اس کی ساری عبارت کو اللہ کے ذکر کے سِوا دیمک کھا گئی ہے۔ حضرت ابو طالب کو آنحضورﷺ کے قول پر ایسا یقین تھا کہ انہوں نے اپنے بھائیوں سے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محمد(ﷺ) نے آج تک مجھ سے جھوٹ نہیں بولا۔چنانچہ وہ اِن کے ساتھ سردارانِ قریش کے پاس گئے ان سے کہا کہ میرے بھتیجے نے مجھے یہ بتایا ہے اور اس نے مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ پس اگر میرا بھتیجا سچا نکلا تو تمہیں اپنے بائیکاٹ کے فیصلے سے پیچھے ہٹنا ہوگا اور اگر وہ جھوٹا نکلا تو مَیں اسے تمہارے حوالے کردوں گا۔ چاہو تو اسے قتل کرو چاہو تو زندہ رکھو۔ جب معاہدے کو دیکھا گیا تو وہ ایسے ہی تھا جیسے رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا۔چنانچہ قریش اپنی قوم کے سامنے شرمندہ ہوگئے۔
ایک موقع پر آنحضورﷺ نے فرمایا کہ
مَیں مزاح ضرور کرتا ہوں مگر اس میں بھی صرف سچی بات کرتا ہوں۔
اسی طرح فرمایا کہ
ہلاکت ہے اُس شخص پر جو بات کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کی وجہ سے لوگ ہنس پڑیں۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریمﷺ کا ذاتی مقام تو سچ کے متعلق اتنا بالا تھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا نام ہی صدیق رکھ دیا تھا۔ آپؐ اپنی جماعت کو بھی سچائی پر قائم رہنے کی ہمیشہ تلقین فرماتے تھے۔ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ سچ ہی نیکی کی طرف توجہ دلاتا ہے اورنیکی ہی انسان کو جنت دلاتی ہے اور سچ کا اصل مقام یہ ہے کہ انسان سچ بولتا چلا جائے یہاں تک کہ خدا کے حضور بھی وہ سچا سمجھا جائے۔
حضورِانور نے فرمایا کہ
آج ہر احمدی کا کام ہے کہ ہم اپنے جائزے لیں کہ ہمارے سچائی کے معیار کیا ہیں اور جو کمزوریاں ہیں انہیں ہم نے دور کرنا ہے۔
خطبے کے اختتام پر حضورِانور نے
محترمہ شاہدہ احمد صاحبہ اہلیہ مرزا نسیم احمد صاحب
کی نمازِ جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا۔ مرحومہ گذشتہ دنوں ۹۱؍سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ موصیہ تھیں اور حضرت مسیح موعودؑ کی نواسی ،حضرت نواب عبداللہ خان صاحبؓ اور حضرت صاحبزادی امة الحفیظ بیگم صاحبہ ؓکی بیٹی تھیں۔حضورِانور نے مرحومہ کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کی۔
٭…٭…٭
