خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری جنگ کے بارے میں کہا ہے کہ ایران کو مکمل شکست ہوچکی ہے اور اب تہران امریکہ کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ میڈیا ایران کی شکست کو رپورٹ نہیں کر رہا اور ایران اپنی عسکری کارروائیوں کے باوجود مکمل طور پر ہار چکا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایسی کسی ڈیل کو قبول نہیں کریں گے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران اور اسرائیل و امریکہ کی فوجی کارروائیاں خطے میں جاری ہیں اور کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
٭…٭…جرمن فلسفی اور ماہر عمرانیات ژُرگن ہابرماس ۹۶؍برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ ۱۸؍جون ۱۹۲۹ء کو ڈسلڈورف، جرمنی میں پیدا ہوئے۔ ان کے انتقال کی اطلاع زُوہرکامپ پبلشرز نے برلن سے دی۔ ہابرماس کو عہد حاضر کے سب سے اثرورسوخ رکھنے والے جرمن فلسفیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے دور میں یورپ کے فکری منظرنامے پر گہرا اثر رکھتے تھے۔ وہ فرینکفرٹ سکول یا کریٹیکل تھیوری سکول کی دوسری نسل کے نمایاں فلسفی تھے اور جرمنی کی مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھاتے رہے۔ ان کے نظریات نے یورپی معاشرتی و سیاسی مباحثوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ۱۹۸۱ء میں ان کی سب سے معروف تصنیفThe Theory of Communicative Action شائع ہوئی۔ ہابرماس نے اپنے فلسفے میں تاریخ، مؤثر حقیقت اور ریپبلکن نظریات پر زور دیا اور انہیں یورپ میں جمہوری اصولوں کے فروغ میں ایک نمایاں مفکر کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
٭…شمالی کوریا نے بحیرہ جاپان کی جانب تقریباً دس بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جن کا فاصلہ تقریباً ۳۵۰؍کلومیٹر تھا۔ یہ کارروائی جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران کی گئی، جنہیں پیونگ یانگ نے “انتہائی خوفناک نتائج” کی دھمکی کے طور پر قرار دیا تھا۔ شمالی کوریا نے امن کی تازہ کوششوں کو “دھوکا دہی” قرار دیا اور اپنی بحریہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔ جنوبی کوریا اور جاپان نے تصدیق کی کہ میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر سمندر میں گرے اورجنوبی کوریا نے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ممکنہ ملاقات کے امکانات پر بات کی، جبکہ پیونگ یانگ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بھی غیر قانونی جارحیت قرار دے چکا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا نے یہ تجربات عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے کیے اورممکنہ طور پر یہ جوہری کمانڈ، کنٹرول اور ڈیلیوری سسٹمز کی صلاحیت ظاہر کرنے کی بھی کوشش ہیں تاکہ دشمن کو پیغام دیا جا سکے کہ اس کی بحری قوت پر حملہ ناقابل قبول نقصان کا سبب بنے گا۔
٭…قطر کی وزارت داخلہ نے ایران کے جوابی میزائل حملوں کے تناظر میں ملک کے کلیدی علاقوں سے جزوی عوامی انخلا کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام حفاظتی حکمت عملی کے تحت لیا گیا تاکہ شہریوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ دوحہ کے مشیرب علاقے میں مقامی رہائشیوں کو موبائل پیغامات کے ذریعے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔اگرچہ خلیجی ریاستوں نے خود ایران پر حملے نہیں کیے، ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں خلیج میں امریکی عسکری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
٭…امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خطّے میں ایک اور جنگی بحری جہاز اور بڑی تعداد میں فوجیوں کو بھیج رہی ہے، جبکہ سی این این نے بتایا کہ اس میں دوہزار پانچ سو میرینز پر مشتمل سپیشل ملٹری یونٹ اور amphibious جنگی جہاز شامل ہیں۔ امریکہ پہلے ہی ایک سے زائد طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کر چکا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ جلد ہی آبنائے ہرمز میں تجارتی تیل برداری کرنے والے جہازوں کی حفاظت کرے گی تاکہ بندش کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں خلل کو روکا جا سکے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ اضافی تعیناتی ایران پر براہِ راست حملے کے لیے نہیں بلکہ خطّے میں امن و استحکام اور عالمی توانائی کی حفاظت کے لیے ہے۔
٭…فلسطینی تنظیم حماس نے تہران میں ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں خلیج فارس کے ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔ خلیل الحیہ کے مطابق ایران کو دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن اسے خلیجی ریاستوں پر حملوں سے احتراز کرنا چاہیے۔ حماس نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ ایران جنگ کو فوری طور پر روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔
٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی ان ممالک کی اپنی ذمہ داری ہے، تاہم امریکہ تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں ایران کو فوجی اور معاشی طور پر مکمل شکست قرار دیا اور کہا کہ ایران ابھی تک امریکی شرائط قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی مبینہ موت کی افواہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنا ہے، لیکن تصدیق نہیں۔ ایران کے خارگ جزیرے پر امریکی حملوں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ زیادہ تر حصہ تباہ کر دیا گیا اورضرورت پڑنے پر مزید کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔
٭…٭…٭




