متفرق مضامین

پاکستان میں گرمی کی شدید لہر، ایران کی جنگ یا موسمیاتی حقیقت؟

مارچ کے آغاز میں پاکستان میں موسم میں اچانک تبدیلی واقع ہوئی، جس کی وجہ سے عوام میں تشویش پھیل گئی۔ لوگ سوال کر رہے تھے کہ اچانک گرمی کیوں بڑھ گئی ہے؟ خاص طور پر جب ایران میں کشیدگی اور ممکنہ جنگ کی خبریں سامنے آئیں۔ سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کرنے لگیں۔ واٹس ایپ گروپس میں پیغامات وائرل ہوئے اور عوامی ذہنوں میں یہ تصور پیدا ہوا کہ شاید ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پاکستان کے موسم پر اثر انداز ہورہی ہے۔

دراصل ایران کی جنگ اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی گرمی کا کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔ یہ افواہیں اور عوامی بےچینی غیر منطقی ہیں۔ سائنس کی توجیح کے مطابق، جنگیں زمین کو گرم نہیں بلکہ عارضی طور پر ٹھنڈا کر سکتی ہیں۔

جنگ اور زمین کا درجہ حرارت

جنگیں اور خاص طور پر ایٹمی یا بڑے پیمانے کی جنگیں، زمین کے درجہ حرارت کو بڑھانے کی بجائے کم کر دیتی ہیں۔ یہ شاید عام ذہن کے لیے حیران کن ہو کیونکہ ہم جنگ کے ساتھ صرف تباہی، دھماکوں اور حرارت کو جوڑتے ہیں۔ لیکن بڑے شہروں میں آگ لگنے سے پیدا ہونے والا کالا دھواں اور کاربن فضا کی بالائی تہوں تک پہنچ جاتا ہے، جو سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے۔

اس نظریے کو سائنسدان “نیوکلیئر ونٹر” (Nuclear Winter) کہتے ہیں۔ اگر ایٹمی جنگ ہو جائے تو سورج کی روشنی برسوں تک دھویں کی وجہ سے زمین تک پہنچ نہیں پائے گی اور درجہ حرارت منفی میں چلا جائے گا۔ اس دوران زمین عارضی طور پر منجمد ہو سکتی ہے اور عالمی موسمیاتی نظام شدید متاثر ہونے کا احتمال ہوگا۔ لہٰذا یہ نظریہ کہ جنگیں زمین کو گرم کرتی ہیں، سائنسی طور پر غلط ہے۔

پاکستان میں موجودہ گرمی کی لہر کی حقیقت

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر پاکستان میں اچانک گرمی کیوں بڑھ گئی؟ اس کے تین بنیادی عوامل قرار دیے جاسکتے ہیں:

۱۔ ہیٹ ڈوم (Heat Dome): پاکستان کے اوپر ایک ہائی پریشر سسٹم قائم ہو گیا ہے جو گرم ہوا کو زمین کے قریب قید کر لیتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہنڈیا پر ڈھکن رکھ دیا جائے؛ حرارت اندر پھنس جاتی ہے اور گرمی شدید محسوس ہوتی ہے۔

۲۔ ایل نینو (El Niño): بحر الکاہل میں پانی کی سطح گرم ہونے سے پوری دنیا کے موسم میں تبدیلی آ رہی ہے، اور اس کا براہِ راست اثر جنوبی ایشیا پر پڑ رہا ہے۔ ایل نینو کے اثرات کی وجہ سے گرمی اور خشک ہوا پاکستان میں داخل ہو رہی ہے، جو گرمی کی لہر کو شدید بنا رہی ہے۔

۳۔ جٹس اینڈونڈز (Jets and Winds) کی تبدیلی: فضا میں چلنے والی تیز ہواؤں کا رخ تبدیل ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ایران اور عرب ممالک کی خشک اور گرم ہوائیں پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں۔ یہ قدرتی ہوا کا سفر ہے، میزائل یا جنگ کا نتیجہ نہیں۔

افواہوں اور حقیقت میں فرق

جنگیں یقینی طور پر انسانیت اور ماحول کے لیے خطرناک ہیں، لیکن موجودہ گرمی کی لہر پاکستان کے موسمی نظام اور موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

عوام میں گردش کرتی افواہوں اور فرضی تصورات نے اصل مسئلے کو دھندلا دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ میزائلوں یا جنگ کے دھماکے پاکستان کے آسمان سے گرمی پیدا کر رہے ہیں لیکن سائنسی طور پر یہ بالکل درست نہیں ہے۔ اصل وجہ ہمارے موسمیاتی نظام میں تبدیلی اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہے، جسے کلائمیٹ چینج (Climate Change) کہا جاتا ہے۔

اگر ہم موجودہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی لہر کے خطرات پر توجہ نہ دیں تو نتائج جنگ سے بھی زیادہ تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ درختوں کی کمی، زمین کی گرمائش، پانی کی کمی اور فضائی آلودگی مستقبل میں پاکستان اور دنیا کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔

اس لیے مشورہ یہ ہے کہ قانون اور سماجی نظام کے مسائل کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ پر توجہ دی جائے۔ شجرکاری، پانی کے وسائل کا بہتر استعمال اور گرین انرجی کے منصوبے موسمیاتی مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر آج ہم زمین اور اس کے ماحول کی حفاظت نہیں کریں گے تو کل ہمیں حالات کسی بھی جنگ سے زیادہ خطرناک لگ سکتے ہیں۔

پس پاکستان میں بڑھتی گرمی کا ایران کی جنگ یا میزائل حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔ جنگیں زمین کو عارضی طور پر ٹھنڈا کر سکتی ہیں لیکن موجودہ گرمی کی لہر موسمیاتی تبدیلیوں، ہیٹ ڈوم، ایل نینو اور ہوا کے قدرتی راستوں کی وجہ سے ہے۔

افواہوں اور غیرمصدقہ اطلاعات سے گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ سائنسی حقائق اور محکمہ موسمیات کے ڈیٹا پر توجہ دینی چاہیے۔ ماحولیاتی تحفظ، شجرکاری اور موسم کے تحفظ کے اقدامات مستقبل میں انسانی زندگی اور زمین کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

پس پاکستان میں گرمی کی اصل وجہ انسانی اور قدرتی عوامل ہیں، جنگ نہیں، اور ہمیں اپنی توجہ موسمیاتی تحفظ اور ماحولیات کی بہتری پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

(ابو الفارس محمود)

مزید پڑھیں: روزہ کے طبی فوائد، عمومی مسائل اور ان کا حل

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button