نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۸؍اپریل ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم ملک غلام یونس صاحب ابن مکرم ملک محمد خان صاحب (مانچسٹر ویسٹ۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم ملک غلام یونس صاحب ابن مکرم ملک محمد خان صاحب (مانچسٹر ویسٹ۔ یوکے)
۵؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۸۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق حویلی مجوکہ ضلع خوشاب سے تھا اور ۲۰۱۰ء میں یوکے آئے۔ آپ نے ملازمت کے سلسلے میں لمبا عرصہ لیبیا میں گزارا اور پندرہ سال تک نائب امیر جماعت احمدیہ لیبیا کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم پابند صوم و صلوٰۃ اور پر جوش داعی الی اللہ تھے۔ پاکستان میں اپنی جماعت کے سیکرٹری جائیداد رہے اور لوکل مسجد کی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ آپ لوکل سطح پر میڈیکل کیمپس بھی لگاتے تھے اور تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
ا۔مکرم چودھری ناصر احمد صاحب ابن مکرم میاں ناظر دین صاحب (ربوہ)
۱۳؍ستمبر ۲۰۲۳ء کو ۹۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم کے والد گاؤں بگول نزد قادیان سے ہجرت کرکے قادیان آکر آباد ہوئے۔ ۱۹۴۷ء میں قافلہ کے ساتھ لاہور آئے اورپھر ربوہ منتقل ہوگئے۔مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند اورخلافت کے شیدائی تھے۔ آپ کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ طویل عرصے تک محلہ دارالبرکات ربوہ کے سیکرٹری دعوت الی اللہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو کئی بیعتیں کروانے کا بھی موقع ملا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹے، پانچ بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
۲۔مکرم ادریس سی صاحب (سابق صدر جماعت سکا سو Sikasso۔مالی)
۱۲؍فروری ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم جماعت سکا سو کے اوّلین ممبران میں سے تھے۔ جماعت احمدیہ سے ان کا تعارف خدام الاحمدیہ کے ایک وقار عمل کے ذریعہ ہوا جہاں خدام شہر کے ایک حصے کی صفائی میں مصروف تھے۔ اس عملی نمونے نے مرحوم کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ جس کے بعد آپ نے جماعت احمدیہ کے متعلق با قاعدہ تحقیق شروع کی،لٹریچر کا تفصیلی مطالعہ کیا اور ریڈیو احمد یہ باقاعدگی سے سننا شروع کیااوردعا اور تحقیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو مئی ۲۰۱۳ء میں بیعت کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔ بیعت کے بعد مرحوم نے غیر معمولی اخلاص و وفا اور اطاعت کا نمونہ دکھایا۔ جماعتی نظام کو نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور نئے شامل ہونے والوں کی تربیت اور راہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مرحوم نمازوں کے پابند، تہجد گزار، دعا گو،نرم گفتار، خلافت کے سچے شیدائی اورجماعتی خدمت کا غیر معمولی جذبہ رکھنے والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔با قاعدگی سے خطبات جمعہ سنتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔ چندوں میں بڑے باقاعدہ اور ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ جماعت سکاسو کی مسجد کی تعمیر میں بڑی مالی قربانی کی بھی توفیق پائی۔مرحوم نے لوکل جماعت میں زعیم انصار اللہ اور صدر جماعت جبکہ نیشنل لیول پر بطور محاسب اور سیکرٹری تربیت خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم پیشہ کے اعتبار سے ایک قابل اور دیانتدار سکول ٹیچر تھے۔اس کے ساتھ ساتھ علم طب میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔ جبکہ سینکڑوں افراد نے ان سے طب کی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل کی اور فائدہ اٹھایا۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ۶ بیٹے اور ۶ بیٹیاں شامل ہیں۔
۳۔مکرمہ نیلو فر ذکریا صاحبہ اہلیہ مکرم ذکر یا اسماعیل صاحب مرحوم (ایڈ منٹن۔کینیڈا )
۱۰؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۸۶سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت سید ارادت حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (آف صوبہ بہار، انڈیا) کی پڑ نواسی اور مکرم ڈاکٹر سید شہاب احمد صاحب (مولف بہار کے اصحاب احمد) کی بھانجی تھیں۔ مرحومہ پنج وقتہ نمازوں کی پاپند، خلافت کی شیدائی، چندوں میں باقاعدہ، بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ کو پاکستان اور کینیڈا میں جماعتی خدمت کی بھی توفیق ملی۔ لجنہ اماء اللہ ایڈمنٹن میں بطور سیکرٹری صنعت و دستکاری اور محاسبہ مال خدمت کی توفیق پاتی رہیں۔ افراد جماعت اور بہت سے غیر از جماعت افراد اور کینیڈا میں نئے آنے والوں کی مختلف رنگ میں مدد کرنے کے علاوہ کئی خاندانوں کی شادیوں پر بھی مالی معاونت کرتی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی، دوبیٹے اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ کے سب بچے کسی نہ کسی رنگ میں جماعتی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۴۔مکرمہ مریم صدیقہ صاحبہ اہلیہ مکرم مرزا نصیر احمد صاحب (ربوہ )
۱۱؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۷۸سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ پنجوقتہ نمازوں اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، صابرو شاکرہ، چندوں میں باقاعدہ، ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ گہری عقیدت کا تعلق تھا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم ناصر محمود صاحب (کارکن مرزا شریف احمد فاؤنڈیشن۔ یوکے) اور مکرم شاہد نصیر صاحب (کارپینٹر۔یوکے) کی والدہ تھیں۔
۵۔مکرم لقمان احمد شیخ صاحب ابن مکرم شیخ ناصر احمد صاحب شہید (بریڈ فورڈ ایسٹ۔ کینیڈا )
۱۳؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۵۱سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے والد مکرم شیخ ناصر احمد صاحب کو اوکاڑہ میں ۱۸؍ستمبر ۱۹۸۳ء کو عید الاضحی کے روز دشمنانِ احمدیت نے خنجر کے وار کر کے شہید کر دیا تھا۔ مرحوم کو پاکستان اور کینیڈا میں جماعتی خدمت کی توفیق ملی۔ آپ نے ضلع اوکاڑہ میں طویل عرصہ بطور سیکر ٹری ضیافت، سیکرٹری جائیداد اور کینیڈا آنے کے بعد بریڈ فورڈ ایسٹ میں بطور سیکرٹری ضیافت اور جلسہ سالانہ کینیڈا پر نائب ناظم ضیافت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، خوش مزاج، ملنسار، ہرایک سے خندہ پیشانی سے پیش آنے والے،خدمت خلق کے جذبہ سے سر شار، بڑے نیک اور مخلص انسان تھے۔ افراد جماعت اور غیر از جماعت کی بلا امتیاز مالی مدد کرنے میں کوشاں رہتے۔ لازمی اور طوعی چندوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ خلافت کے ساتھ بے پناہ محبت اور عشق تھا۔ خلیفہ وقت کی ہر آواز اور حکم پر لبیک کہنے والے تھے۔ اپنے اخلاق اور عملی نمونے سے غیر احمدی ملنے والوں پر بھی بہت نیک اثر چھوڑا۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں والدہ اور اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے، تین بھائی اورایک ہمشیرہ شامل ہیں۔
۶۔مکرمہ سلیمہ بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم فضل قادر صاحب (جرمنی)
۱۳؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۸۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، با قاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی، بڑی سادہ مزاج، مہمان نواز اور خلافت سے گہرا تعلق رکھنے والی ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کا بے حد خیال رکھتی تھیں۔ آپ کو اللہ کے فضل سے عمرہ اور حج کرنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی۔ مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔آپ کو ۱۸سال کی عمر میں نظام وصیت میں شمولیت کی توفیق ملی۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم مولانا فضل الٰہی صاحب مرحوم (مبلغ سلسلہ سیر الیون) کی بڑی ہمشیرہ تھیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین




