امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ممبرات لجنہ اماء اللہ و ناصرات الاحمدیہ فن لینڈ کے ایک وفد کی ملاقات
ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف ایک دن دعا کر لینا کافی ہے۔ ہر شخص کو اپنی روزانہ کی پنج وقتہ نمازوں میں یا جب بھی آپ کی تقاریب ہو رہی ہوں، خود بھی دعا کرنی چاہیے، یہاں تک کہ کل بھی مَیں نے اپنے خطبہ جمعہ میں کہا تھا کہ ہمیں دعا کرنی چاہیے۔ ہمیں مسلمان دنیا کے لیے دعا کرنی چاہیے، دنیا کے امن کے لیے دعا کرنی چاہیے اوراحمدیوں کی بہتری کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ تو اس طرح سے آپ میری دعا میں شامل ہو سکتی ہیں۔ جب آپ آمین کہتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے خود کو میری دعا میں شامل کر لیا ہے
مورخہ ٢٨؍ مارچ ۲۰۲۶ء ، بروز ہفتہ، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ فِن لینڈ کی لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ پر مشتمل پینتیس (۳۵) رکنی ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے فِن لینڈ سے اسلام آباد(ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
بعدازاں تمام شاملین مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔
مزیدبرآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک بچی نے ذکر کیا کہ اس کے والدین اسے سوشل میڈیا یا میسجنگ ایپس استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتےاور اسے موسیقی سننے سے بھی منع کرتے ہیں۔اس معاملے میں اس نے حضرت امیر المومنین سے راہنمائی طلب کی۔
اس پر حضورِ انور نے انتہائی پُر شفقت انداز میں والدین کی ان ہدایات کو بچوں کی بھلائی کے لیے بہترقرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ماں باپ بہت اچھا کرتے ہیں ۔اب تو گورنمنٹ نے بھی پابندی لگا دی ہے، آسٹریلیا میں بھی انہوں نے سوشل میڈیا پر جانے پر پابندی اور بچوں کے لیے سکرین ٹائم لگا دیا ہے۔
حضورِ انور نے وقت کے ضیاع سے بچنے اور اسے بہترین انداز میں استعمال کرنے کے مفید ذرائع کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے میوزک سننا اور واٹس ایپ پر سہیلیوں سے chat کرنا وقت ضائع کرنا ہے۔ تم نے اگر کچھ کرنا ہے تو ایم ٹی اے پر اچھے پروگرام آتے ہیں، وہ تم دیکھا کرو۔ بچوں کے اچھے پروگرام ہوتے ہیں ، وہ دیکھا کرو، ڈاکومنٹری کوئی ہوتی ہے تو وہ دیکھا کرو۔ کتابیں پڑھا کرو۔ قرآن پڑھا کرو۔ پانچ نمازیں پڑھا کرو۔ تمہیں سہیلیوں سے chat کرنے، واٹس ایپ پر وقت ضائع کرنے اور میوزک سننے کا وقت ہی نہیں ملے گا۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس اَمر کا اعادہ فرمایا کہ یہ ماں باپ تمہارے لیے اچھا کر رہے ہیں جو کر رہے ہیں، اس لیے تم سہیلیوں کو نہ دیکھو۔ تم سہیلیوں کے سامنے بجائے ان کے پیچھے چلنے کے خود example بنو۔
ایک بچی نے سوال کیا کہ ہمارے لیے روزانہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا کیوں ضروری ہے اور ہمیں اس کا کیا فائدہ ہے؟
اس پر حضورِانور نے قرآن کریم کی فضیلت و برکات کو واضح کرتے ہوئے اس کی تلاوت کی اہمیت کو یوں اُجاگر فرمایا کہ ایک تو یہ ہے کہ قرآنِ کریم اللہ میاں کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کتاب نازل کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اس کو پڑھو تو مَیں تمہیں برکتیں اور انعام دوں گا، تم پر فضل کروں گا اور تمہیں نیکیاں،اچھے کام کرنے کی توفیق دوں گا۔ بُرے کام سے یہ روکتا ہے اور انسان کو صاف کرتا ہے۔ تلاوت سے ایک تو ، جن کو مطلب نہیں آتا ، ان بچوں کو اتنا ہی فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کوبُرے کاموں سے بچا کے رکھے گا۔
حضورِانور کے دریافت فرمانے پر بچی نے عرض کیا کہ وہ نو سال کی ہے۔یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے قرآن کریم کی پہلی اور آخری تین سورتوں کا ترجمہ پڑھنے اور سیکھنے اور ان میں فرمودہ نصائح پر عمل کرنے کی بابت تلقین فرمائی کہ اب تم تھوڑا تھوڑا کر کے، جو پہلی سورت سورۂ فاتحہ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ہے، اس کا ترجمہ پڑھو اور سیکھو۔ پھر جو آخری تین سورتیں قُلۡ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اور قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ اور قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ہیں، ان کا بھی ترجمہ پڑھو اور سیکھو۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت ساری باتوں کی نصیحت کی گئی ہے، ان پر عمل کرو۔
پھر حضورِانور نے قرآنِ شریف میں بیان فرمودہ اَوامرو نَواہی کی بابت بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں بہت سارے حکم دیے ہوئے ہیں، بہت ساری باتیں بتائی ہیں کہ یہ اچھی باتیں ہیں اور یہ بُری باتیں ہیں۔ اچھی باتیں کرو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ reward دے گا ۔ بُری باتیں کرو گے تو تمہیں سزا ملے گی۔ تو قرآنِ شریف سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ کیا اچھی باتیں ہیں اور کیا بُری باتیں ہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِانور نے تلاوتِ قرآن کریم کرنے، اس کا ترجمہ سیکھنے اور اس سے حاصل ہونے والی تفہیم کے ذریعےغیر معمولی برکات کی جانب توجہ دلائی کہ جب انسان تلاوت کرتا ہے تو جس طرح جس طرح تم بڑی ہوتی جاؤ گی، عمر بڑھتی جائے گی، تو تم اس کا ترجمہ بھی سیکھو۔ پھر تمہیں پتا لگے گا کہ قرآن میں کیا لکھا ہوا ہے اور اس سے تمہیں فائدہ ہوگا۔ اور جب تک تمہیں ترجمہ نہیں آتا، اس وقت تک اللہ تعالیٰ ویسے ہی اس کی برکت ایسی ہے کہ تمہیں فائدہ دیتا رہے گا۔ اب سورۂ فاتحہ تم روزانہ پانچ نماوں میں پڑھتی ہو، اس کا ترجمہ یاد کرو، تو تمہیں پتا لگ جائے گا کہ اس میں کتنی برکتیں ہیں۔
ایک ناصرہ نے عرض کیا کہ وہ سکول میں لمبی قمیض اور سکارف پہنتی ہے، لیکن اس کی کلاس فیلوز اس کے کپڑوں کی وجہ سے مذاق اُڑاتی ہیں اور اس سے دُور رہتی ہیں۔پیارے حضور! اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست ہے کہ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِانور نے ناصرہ سے اس کی عمر دریافت فرمائی تو اس نے عرض کیا کہ وہ نو سال کی ہے۔
پھر حضور انور نے مزید دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے سکول یونیفارم میں لمبی قمیض allowہے؟تو ناصرہ نے عرض کیا کہ سکول کا یونیفارم نہیں ہے۔ یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے موزوں لباس کی بابت عملی ہدایات سے نوازا کہ تم قمیض ایسی پہنا کرو کہ جو تمہارے گھٹنوں تک ہو۔ اور ٹائٹس پہن لیا کرو۔ شلوار نہ پہنا کرو بلکہ ٹائٹس پہن لیا کرو۔ وہ تم پہن کے جا سکتی ہو۔ اور گھٹنوں تک قمیض ہو۔پھر کوئی تمہارا مذاق نہیں اُڑائے گا۔
حضورِانور نے دوسروں کے ردّعمل سے اعتماد کے ساتھ نمٹنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کہو کہ یہ میرا لباس ہے۔ اس میں تمہیں کوئیcomplexنہیں ہونا چاہیے۔ کہو کہ تم نے اپنا لباس پہنا ہوا ہے، تمہیں وہ اچھا لگتا ہے اور مَیں نے یہ پہنا ہے، کیونکہ مجھے یہ اچھا لگتا ہے۔ تو لوگوں کو مذاق اُڑانے کی عادت ہے۔ان سے کہو کہ ہمارے ہاں تو یہی رواج ہے کہ ہم اپنی پسند کے کپڑے پہنتے ہیں، مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا، مجھے امّاں ابّا نے یہ نہیں کہا کہ تم نے ضرور لمبی قمیض پہننی ہے۔
بعدازاں حضورِانور نے اس تاکید کا اعادہ فرمایا کہ ہاں! گھٹنوں تک قمیض ہونی چاہیے، گھٹنوں تک تمہاری قمیض ہو تو وہی کافی ہے اور ٹائٹس بھی پہنی ہوں تو ٹھیک ہے۔ ضروری نہیں شلوار پہنو یا سکول میں ٹراؤزر پہن کے بھی جا سکتی ہو ۔ تو تمہیں کوئی نہیں چھیڑے گا کہ جب تم نے ٹراؤزر پہنا ہوگا یا گھٹنوں تک قمیض پہنی ہوگی تو کون چھیڑے گا؟
مزید برآں حضورِ انور نےاحساس کمتری سے احتراز برتتے ہوئے خود اعتمادی کے ساتھ لباس کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم رہنے اور اچھی دوستیاں بنانے کی بابت توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ بتاؤ کہ یہ میرا لباس ہے اور تم نے جو لباس پہنا ہوا ہے ، مَیں تمہارے پر اعتراض نہیں کرتی، تم اپنی مرضی سے پہنتی ہو۔تو مجھے بھی اپنی مرضی سے پہننے دو۔ اور ان کی باتیں سُن کے ہنس کے ٹال دیا کرو ۔اور جو ان میں سے کچھ اچھی اچھی لڑکیاں ہیں، ان کو اپنی دوست بناؤ۔ اچھی لڑکیاں بھی ہوں گی۔ ساری بُری مذاق اُڑانے والی تو نہیں ہوتیں۔ جو اچھی ایک دو ہوں، ان کو اپنا دوست بناؤ۔ وہ پھر تمہارے لیے خود ہی ان کوجواب دے دیں گی۔
جواب کے آخر میں حضور انور نے احمدی مسلمان ہونے کے ناطے ایمان اور عقیدے کی روشنی میں مضبوط عزم و ہمت کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہcomplexکی ضرورت نہیں۔ احمدی کو مضبوط ہونا چاہیے۔ تم احمدی ہو، اللہ میاں پر یقین ہے، تم مانتی ہو کہ مسلمان سچے ہیں ، اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اللہ تعالیٰ اچھی باتیں پسند کرتا ہے، تو مَیں اس لیے یہ کام کرتی ہوں، اس لیے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
ایک بچی نے معصومانہ انداز میں دریافت کیا کہ پیارے حضور! کیا ہم جاندار چیزوں اور کارٹون کیریکٹرز کی sketchingکر سکتے ہیں یا اسلام میں یہ منع ہے؟
اس پر حضورِانور نے اصولی راہنمائی عطا فرمائی کہ انسانوں کے علاوہ باقی جس کی مرضی sketchingکرو۔ آدمیوں کی نہیں کر سکتے۔ تم اپنی سہیلی اگر تمہارے ساتھ بیٹھی ہے، تو اس کی تصویر نہ بناؤ، پتا نہیں کہ تم اس کو distort کرکے اس کی شکل بگاڑ کے کیا بنا دو گی۔ پھر اس کو غصّہ چڑھے گا اور وہ لڑے گی۔ پھر تم کہو گی کہ میرے سے لڑتی کیوں ہے۔
حضور انور نے انتہائی بصیرت افروز انداز میں انسانی شکلیں نہ بنانے میں حکمت کو واضح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اس لیے اللہ میاں کہتا ہے کہ انسانوں کی شکلیں نہ بناؤ، تم صحیح طرح بنا نہیں سکتے، ہاں! تصویر کھینچ لی ہے تو وہ ٹھیک ہے۔ تصویر جو کیمرے سے ہوتی ہے، اس میں بڑیdetailمیں سارے فیچر آ جاتے ہیں، لیکن ہاتھ سے بناتے ہوئے بہت ساری چیزیں رہ جاتی ہیں۔ اس لیے انسانوں کی شکلیں نہیں بنانی چاہئیں۔
مزید برآں حضورِانور نے جانوروں اور مناظر کی sketchingکرنے اور انسانی تصویر میں احتیاط برتنے کی بابت توجہ دلائی کہ باقی جانوروں کی یا سینریوں کی sketchingبنا سکتے ہو، پینٹنگ کرو، اچھی بات ہے اور کوئی ہرج نہیں۔ شیر بناؤ، ہاتھی بناؤ، چیتا بناؤ۔ ویسے خیال میں تم نے اگر کسی انسان کی کوئی تصویر بنانی ہے، تو بناؤ، لیکن پھر اس کی صحیح طرح پکچر ہونی چاہیے۔تو کوشش یہی کرو کہ ایسے لوگوں کی تصویریں نہ بناؤ جو تمہارے سے بعد میں لڑیں۔
ایک سکول کی طالبہ نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ ہمارے سکول کی اسلام کلاس میں اُستانی بعض اوقات غلط عقائد پڑھاتی ہیں، جیسے کہ یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر شادی کے وقت چھ سال تھی۔ جب ہم امتحان میں صحیح اسلامی عقیدہ لکھتے ہیں تو وہ ہمارے نمبر بھی کاٹ لیتی ہیں۔ نیزراہنمائی کی درخواست کی کہ ایسے حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِانورنے دریافت فرمایا کہ تمہیں پڑھانے والے مسلمان ہیں؟
اثبات میں جواب سماعت فرمانےکے بعد حضورِ انور نے آنحضرتؐ کے بعد کسی نبی کے نہ آنے کے اعتراض کے تناظر میں ایک حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں اُستاد سے مدلّل اور مؤدبانہ انداز میں استفسار کرنے کی بابت راہنمائی عطا فرمائی کہ پہلے کلاس میں کہا کرو کہ جو آپ پڑھا رہے ہیں، یہ تو غلط پڑھا رہے ہیں۔ کلاس میں جب پڑھا رہے ہوتے ہیں، تو ہاتھ کھڑا کرو کہ مَیں نے سوال کرنا ہے کہ جو مسیح موعود آئے گا تو اس کی نسبت چار دفعہ ایک حدیث میں نَبِیُّ اللّٰهِ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ کہو یہ حدیث ہے، اگر ہم آپ کی بات مانیں ، تو اس کا پھر کیا مطلب ہے؟ کلاس میں سوال کرو تو ٹیچر آپ ہی جواب دے گا یا کہہ دے گا کہ تم چُپ کر جاؤ، تم مجھے مرزائی، قادیانی یا احمدی لگتی ہو۔ یہی کہتے ہیں، وہ پاکستانی غیر احمدی ہیں، انہیں پتا ہے۔ ان سے کہو کہ ان حدیثوں کا مطلب مجھے بتا دیں تو پھر مَیں آپ کی بات مان لیتی ہوں۔
حضورِ انور نے اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کم عمری میں شادی سے متعلق اعتراض کے ضمن میں بھی درست موقف پیش کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی کہو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر عیسائی اسلام مخالف لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عمر چھ سال تھی، کہو کہ ہم تو کہتے ہیں کہ تیرہ، چودہ سال کی عمر تھی، جب اُس زمانے میں اس عمر میں لڑکیوں کی شادیاں ہوتی تھیں اور لڑکی نے خود بھی شادی کی اور اس کے ماں باپ نے بھی شادی کروائی۔ تو یہ نہیں تھا کہ ان کی کوئی زبردستی شادی ہو گئی۔
اسی طرح حضورِ انور نے اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی تحریک فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس کے بارے میں سیرت خاتم النبیین ؐمیں بھی پڑھو، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی لکھا ہوا ہے، وہ لجنہ نکال کے دے دیں۔ اس پر مَیں نے ایک جواب بھی دیا ہوا ہے، شاید الحکم میں چھپ بھی گیا ہوگا، وہ بھی نکال کے وہاں سے لو۔
مزید برآں حضورِ انور نے دین پر ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے عہد کو نبھانے، ہمیشہ سچائی کو اپنانے، اور حق بات کہنے کی پاداش میں ہر قسم کے نتائج کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کےپختہ عزم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ان سے کہو کہ تاریخ تو یہ کہتی ہے۔ آپ ہمیں غلط پڑھاتے ہیں۔ باقی اگر اس بات پر تمہیں حقیقت بیان کرنے سے فیل کرتے ہیں تو فیل ہو جاؤ، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک مضمون میں ہی فیل کرتے ہیں۔ اپنے دین پر قائم رہو۔ دین کو دنیا پر مقدّم رکھوں گی کا عہد کرتی ہو تو پھر دین کا مقدّم رکھنا تو یہی ہے کہ جو صحیح بات ہے وہ کہو۔ جھوٹ نہیں بولوں گی، تو جھوٹ نہیں بولنا تو پھر صحیح بات تو یہی ہے اور اگر جھوٹ بولنا ہےتو پھرجو مرضی کرو۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے حق بات پر سوال اُٹھانے کا اعادہ فرماتے ہوئے ناانصافی کی صورت میں بالاانتظامیہ کو آگاہ کرنے کی بابت تاکیدفرمائی کہ باقی کلاس میں ان سے سوال کرو، پھر دیکھو کہ کیا کہتے ہیں، اور اگر وہ سختی کرے گا تو ہیڈ ٹیچر کو بتانا کہ یہ غلط باتیں کرتا ہے۔ مَیں نے سوال کیا ، تومجھے جواب دینے کے بجائے یہ ڈانٹتا ہے یا ڈانٹتی ہے ، جو بھی ٹیچر ہے۔
ایک لجنہ ممبر نے دریافت کیا کہ اگر کسی ملک میں جنگ چھڑ جائے تو کیا مسلمانوں کو ہجرت کرنی چاہیے اور اس کے لیے کون سے ممالک زیادہ محفوظ ہوں گے؟
اس پر حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ کیا آپ کو دنیا میں کوئی ایسا ملک نظر آتا ہے جو محفوظ ہے؟
پھر حضورِ انور نے موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں جنگ کے منڈلاتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر حفاظت کے امکانات اور ہجرت کے حوالے سے تفصیلی راہنمائی عطا فرمائی کہ تمام مسلمان ممالک یہاں تک کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی جنگ کے خطرے کی زدّ میں ہیں، ان پر ایران کی طرف سے حملے ہو رہے ہیں، ایران پر اسرائیل کی طر ف سے حملے ہو رہے ہیں۔پھر ترکی اور پاکستان اور بہت سے دوسرے مسلمان ممالک کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ اس لیے آپ یہ نہیں کہہ سکتیں کہ مسلمان ممالک محفوظ ہیں۔ البتہ افریقہ کے کچھ ممالک ایسے ہیں کہ جو محفوظ ہیں یاجو کسی حدّ تک دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ محفوظ ہیں۔ اگر آپ چاہیں اور آپ کو جنگ کا بہت زیادہ ڈر ہو تو آپ ان ممالک کی طرف ہجرت کر سکتی ہیں۔ حتٰی کہ فِن لینڈ کی سرحد بھی روس سے ملتی ہے۔ جنگ کا خطرہ تو خود آپ پر یعنی فِن لینڈ پر بھی منڈلا رہا ہے۔ اگر فِن لینڈ محفوظ نہیں ، برطانیہ محفوظ نہیں، یورپ محفوظ نہیں اور مسلمان ممالک بھی محفوظ نہیں، تو آپ کہاں جائیں گی؟
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دعا کو واحد ذریعۂ حفاظت قرار دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ اس لیے بس اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو محفوظ رکھے اور یہی واحد حل ہے۔
ایک اور لجنہ ممبر نے راہنمائی کی درخواست کی کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہفتے میں ایک بار خاص طور پر دنیا میں قیامِ امن اور مصائب کے ختم ہونے کے حوالے سے آپ کے پیچھے دعا کرنے کا کوئی باقاعدہ عالمی جماعتی انتظام قائم ہو سکے؟
اس پر حضورِ انور نے واضح فرمایا کہ دورانِ جلسہ مَیں دعا کرواتا ہوں اور دنیا بھر کی تقریباً تمام جماعتیں میرے پیچھے دعا کر رہی ہوتی ہیں، ہم باقاعدہ نماز ادا نہیں کر سکتے، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ میرے سامنے کون کھڑا ہو گا اور میرے پیچھے کون کھڑا ہو گا۔
حضورِ انور نے جلسہ اور دیگر تقاریب میں دعا کی اہمیت اور بنیادی مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے، دعا کے ذریعے دنیا کی بہتری اور امن و سلامتی کی بابت توجہ دلائی کہ اس لیےواحد حل یہی ہے کہ ہم صرف ہاتھ اُٹھا کر دعا کر سکتے ہیں۔ اور ایسی دعا ہم جلسہ کے دوران اور بہت سی دیگر تقاریب کے دوران کرتے ہیں اور دنیا بھر سے کثیر تعداد میں لوگ میرے پیچھے دعا کرتے رہے ہیں۔ اس میں مَیں ہمیشہ یہ ذکر کرتا ہوں کہ ہمیں دنیا کی بہتری کےلیے، دنیا کے امن کےلیے اور دنیا کی سلامتی کے لیے دعا کرنی چاہیے اور ہم شیطان کے شر ّسے بچنے کےلیے اللہ کی مدد کے طلبگار ہوتے ہیں۔ تو اسی طرح ہم دعا کرتے رہے ہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے خلیفۂ وقت کی دعاؤں میں شمولیت کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے، محض ایک دن کی دعا کو ناکافی قرار دیا اور روزانہ نمازوں میں دعاؤں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف ایک دن دعا کر لینا کافی ہے۔ ہر شخص کو اپنی روزانہ کی پنج وقتہ نمازوں میں یا جب بھی آپ کی تقاریب ہو رہی ہوں، خود بھی دعا کرنی چاہیے، یہاں تک کہ کل بھی مَیں نے اپنے خطبہ جمعہ میں کہا تھا کہ ہمیں دعا کرنی چاہیے۔ ہمیں مسلمان دنیا کے لیے دعا کرنی چاہیے، دنیا کے امن کے لیے دعا کرنی چاہیے اور احمدیوں کی بہتری کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ تو اس طرح سے آپ میری دعا میں شامل ہو سکتی ہیں۔ جب آپ آمین کہتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے خود کو میری دعا میں شامل کر لیا ہے۔ اگر آپ آمین کہہ کر میری دعا کا حصّہ بن رہی ہیں تو یہ کافی ہے اور اس کے علاوہ اصل بات یہ ہے کہ آپ اپنی روزانہ کی نمازوں میں دعا کریں۔
ایک لجنہ ممبر نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ کچھ غیر احمدی بہنوں کے ساتھ ہمارا اچھا تعلق قائم ہوجاتا ہے اور جب بھی مذہب خاص طور پر اسلام کی تعلیمات پر گفتگو ہوتی ہے، تو وہ اکثر باتوں سے اتفاق کا اظہار کرتی ہیں ، لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ان کا رجحان مذہب کی طرف نہیں ہے۔ نیز اس حوالے سے راہنمائی کی درخواست کہ ایسی صورتحال میں مؤثر انداز میں تبلیغ کیسے کی جائے تاکہ ان کا دل اسلام احمدیت کی طرف مائل ہو؟
اس پر حضورِ انور نے اچھے تعلقات قائم کرنے، دوستی پیدا کرنے اور اسلام کی حقیقی تعلیم کے عملی نمونہ کے ذریعے مؤثر اثر ڈالنے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ اپنا نمونہ دکھائیں، اچھے تعلقات قائم ہوتے ہیں، تو دوستی پیدا کریں اور اسلام کی اصل تعلیم کا نمونہ آپ ہر ایک کو دکھا رہی ہوں گی تو وہی کافی ہے۔
حضورِ انور نے تبلیغ کی اصل روح کے تحت ذاتی عملی نمونے پیش کرنے اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات و ثمرات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تبلیغ کیا ہے؟ تبلیغ یہی ہے کہ اپنا نمونہ دکھاؤ اور یہ بتاؤ کہ یہ اسلام کی تعلیم ہے اور جب وہ دیکھیں گی کہ آپ لوگ اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کر رہی ہیں تو چاہے وہ غیر مسلم ہوں یا غیر احمدی مسلمان ہوں ، سب آپ کے نمونے دیکھیں گی، آپ کی اچھائیاں دیکھیں گی ، تو آپ کے قریب آئیں گی اور آہستہ آہستہ پھر اس کا اثر ہوگا اور وہ سمجھیں گی کہ یہ لوگ صحیح راستے پر ہیں ، ان کے پیچھے چلنا چاہیے اوران کے ساتھ رہنا چاہیےیا کم از کم مخالفت ختم کریں گی۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے تبلیغ کے سلسلے میں انسانی کوشش اور اَمرِ الٰہی کے کردار کے باہمی تعلق کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہدایت فرماتا ہے کہ تمہارا کام تبلیغ کرنا ہے۔ہدایت دینا، کسی کو صحیح راستے پر لے کے آنا اوراحمدیت قبول کروانا ، یہ اللہ تعالیٰ کام ہے، یہ آپ کا کام نہیں۔ لیکن ہر احمدی کو یہ چاہیے کہ اپنا نمونہ ایسا دکھائے کہ لوگوں کو پتا لگ جائے کہ اسلام کا صحیح عملی نمونہ اور مثال احمدی ہیں۔ یہی آپ کے لیےکافی ہے، یہی تبلیغ ہے، یہ نہیں ہے کہ ہم نے اتنی بیعتیںکرا لیں۔ بیعتوں کا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے لوگوں کے دلوں میں ڈالنا ہے، تب اللہ تعالیٰ جب دیکھے گا کہ کوئی سعید فطرت ہے، نیک فطر ت ہے، تو اس کے دل میں ڈالے گا کہ وہ احمدیت کو قبول کر لے۔ نہیں تو نہیں ۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو ازراہِ شفقت اپنے محبوب آقا کے دستِ مبارک سے قلم بطورِ تبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔
٭…٭…٭




