بنیادی مسائل کے جوابات

بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۳)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭… كُنْتُ كَنْزًا مَخْفِيًّا فَأَحْبَبْتُ أنْ أُعْرَفْ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِأُعْرَفَ زیادہ تر علماء اس حدیث کو موضوع اور ضعیف قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام بھی ہوا ہے۔ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث بھی درست ہے؟

٭… عمرہ کرنے کا اصل مقصد کیا ہے۔نیز طواف کرنا، صفاو مروہ کے درمیان چلنا اور حجر اسود کی کیااہمیت ہے؟

٭… ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں اپنی کلاس فیلو کو تبلیغ کرنے،نیز کچھ عربی الفاظ کے بارے میں بعض سوال بھجوائے

٭… قسمت، میت کو دفنانے،اللہ تعالیٰ کے انسان کو امتحان میں ڈالنے، شیطان کے وجود، وقف نو کی تحریک اور اس میں شامل بچوں، نیز قرآن کریم کی تلاوت کے بارے میں متفرق امور کی بابت استفسارات

سوال: آسٹریلیا سے ایک دوست نے حدیث’’ كُنْتُ كَنْزًا مَخْفِيًّا فَأَحْبَبْتُ أنْ أُعْرَفْ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِأُعْرَفَ‘‘ کے بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ زیادہ تر علماء اس حدیث کو موضوع اور ضعیف قرار دیتے ہیں۔ لیکن ان الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام بھی ہوا ہے۔ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث بھی درست ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۴؍فروری ۲۰۲۴ء میں اس سوال کے بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:

جواب: پہلی بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احادیث کے مستند ہونے کے لیے یہ معیار مقرر فرمایا ہے کہ جو حدیث قرآن کریم، آنحضورﷺ کی سنت اور مستند احادیث کے معارض و مخالف نہ ہووہ صحیح حدیث ہے۔چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں: ’’ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اگر کوئی حدیث معارض اور مخالف قرآن اور سنت نہ ہو تو خواہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اُس پر وہ عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اُس کو ترجیح دیں۔‘‘ (ریویو بر مباحثہ بٹالوی وچکڑالوی، روحانی خزائن جلد۱۹صفحہ۲۱۲)

اسی طرح فرمایا:’’کتاب و سنت کے حجج شرعیہ ہونے میں میرا یہ مذہب ہے کہ کتاب اللہ مقدم اور امام ہے۔ جس امر میں احادیث نبویہ کے معانی جو کئے جاتے ہیں کتاب اللہ کے مخالف واقع نہ ہوں تووہ معانی بطور حجت شرعیہ کے قبول کئے جائیں گے لیکن جو معانی نصوص بینہ قرآنیہ سے مخالف واقع ہوں گے ان معنوں کو ہم ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ بلکہ جہاں تک ہمارے لیے ممکن ہوگا ہم اس حدیث کے ایسے معانی کریں گے جوکتاب اللہ کی نص بیّن سے موافق و مطابق ہوں اور اگر ہم کوئی ایسی حدیث پائیں گے جو مخالف نص قرآن کریم ہوگی اور کسی صورت سے ہم اس کی تاویل کرنے پر قادر نہیں ہوسکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قرار دیں گےکیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤۡمِنُوۡنَ۔(الجاثیہ:۷) یعنی تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔‘‘ (الحق مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴صفحہ۱۲،۱۱)

پس آپ نے جس حدیث کا ذکرکیا ہے وہ نہ تو قرآن و سنت کے مخالف ہے اور نہ ہمیں اس کی کوئی تاویل کرنے کی ضرورت ہے بلکہ وہ اپنے ظاہری و باطنی معانی کے لحاظ سے احادیث صحیحہ کے معیار کے عین مطابق ہے اس لیے اسے موضوع یا ضعیف قرار دینا درست نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ بعض مشہور و معروف احادیث مستند کتب احادیث میں مذکور نہیں ہیں لیکن اپنے مطلب اور مفہوم کے اعتبار سے ان میں کسی قسم کی عدم صحت کی کوئی بات موجود نہیں، وہ بھی صحیح حدیث کے درجہ پر ہی ہوتی ہیں۔ جیسا کہ لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ والی مشہور حدیث ہے۔ چنانچہ اس حدیث کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کیا یہ درست حدیث ہے؟ جس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا: ’’یہ حدیث بلحاظ قواعد صحت روایت صحاح میں نہیں ہے لیکن مطلب اور مفہوم کے لحاظ سے یہ حدیث صحیح ہے۔‘‘(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ۔ صفحہ ۱۳۰، زیرعنوان حدیث لولاک)

تیسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو بعض اوقات قرآن کریم کی بعض آیات اور احادیث کے بعض الفاظ میں بھی الہام کرتا ہے، چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ’’كُنْتُ كَنْزًا مَخْفِيًّا فَأحْبَبْتُ أنْ أُعْرَفْ‘‘یعنی میں ایک خزانہ پوشیدہ تھا سو میں نے چاہا کہ شناخت کیا جاؤں۔ (براہین احمدیہ حصہ چہارم،روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۱۱)

پس یہ چیز اس حدیث کے رسول اللہ ﷺ کے کلام ہونے کی مضبوط دلیل ہے کہ آنحضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر اس حدیث قدسی کو بیان فرمایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے غلام صادق کی طرف بھی انہی الفاظ میں الہام فرمایا۔

سوال: ماریشس سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ عمرہ کرنے کا اصل مقصد کیا ہے۔نیز طواف کرنا، صفاو مروہ کے درمیان چلنا اور حجر اسود کی کیااہمیت ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۵؍فروری ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور نے فرمایا:

جواب: عمرہ بھی دیگر اسلامی عبادتوں خصوصاً حج کی طرح کی ایک عبادت ہے، جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔(البقرہ:۱۹۷) اور آنحضور ﷺ نے اپنی سنت سے اسے جاری فرمایا ہے۔ احادیث میں عمرہ کی بہت زیادہ اہمیت وفضیلت بیان ہوئی ہے۔ حج سال میں صرف ایک مرتبہ مخصوص مہینہ اور مخصوص ایام میں ہو سکتا ہے، جبکہ عمرہ کے لیے کوئی وقت معین نہیں، ایام حج کے علاوہ یہ سال میں کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔

باقی جہاں تک خانہ کعبہ کے طواف کرنے، صفاو مروہ کے درمیان سعی کرنے اور حجر اسود کو چومنے کا تعلق ہے تو جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ سب چیزیں ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت کرتے ہیں اور جن پر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی خود عمل کر کے دکھایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے رسول ﷺکی سنت کے تابع ان عبادات کو بجالانا یقیناً مورد اجرو ثواب ہے۔ چنانچہ ایک موقع پر حضرت عمرؓ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور پھر اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایامیں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے جو کسی کو نقصان یا نفع نہیں پہنچا سکتا ہے۔ اگر میں نے آنحضور ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تمہیں بوسہ نہ دیتا۔ (بخاری کتاب الحج بَاب مَا ذُكِرَ فِي الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ)

پس یہ تمام عبادات ہم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے تابع بجا لاتے ہیں، جس سے ہماری غرض اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حج کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے آستانہ کو بوسہ دیتی ہے۔ ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لیے ایک نمونہ دیا گیا ہے اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور یہ حجر اسود میرے آستانہ کا پتھر ہے اور ایسا حکم اس لیے دیا کہ تا انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محبت کو ظاہر کرے سو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر اُس گھر کے گرد گھومتے ہیں ایسی صورتیں بنا کر کہ گویا خدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں۔ زینت دور کر دیتے ہیں سرمنڈوا دیتے ہیں اور مجذوبوں کی شکل بنا کر اس کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور اس پتھر کو خدا کے آستانہ کا پتھر تصور کر کے بوسہ دیتے ہیں اور یہ جسمانی ولولہ روحانی تپش اور محبت کو پیدا کر دیتا ہے اور جسم اس گھر کے گرد طواف کرتا ہے اور سنگ آستانہ کو چومتا ہے اور روح اُس وقت محبوب حقیقی کے گرد طواف کرتا ہے اور اس کے روحانی آستانہ کو چومتا ہے اور اس طریق میں کوئی شرک نہیں ایک دوست ایک دوست جانی کا خط پا کر بھی اُس کو چومتا ہے کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ حجر اسودسے مرادیں مانگتا ہے بلکہ صرف خدا کا قراردادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھا جاتا ہے وبس۔ جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ زمین کے لیے نہیں ایسا ہی ہم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں مگر وہ بوسہ اس پتھر کے لیے نہیں پتھر تو پتھر ہے جو نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان مگر اُس محبوب کےہاتھ کا ہے جس نے اُس کو اپنے آستانہ کا نمونہ ٹھیرایا۔‘‘(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۰۱،۱۰۰)

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں اپنی کلاس فیلو کو تبلیغ کرنے،نیز کچھ عربی الفاظ کے بارے میں بعض سوال بھجوائے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۶؍فروری ۲۰۲۴ء میں ان سوالوں کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: آپ کے اپنی کلاس فیلو عورت کو تبلیغ کرنے کے معاملہ کا تو جواب یہ ہے کہ اگر آپ تبلیغ کا کام نیک نیت اور صاف ارادہ کے ساتھ پردہ کے اسلامی حکم کی پابندی کرتے ہوئے کر رہے ہیں تو آپ مرد و خواتین کسی کو بھی پیغام حق پہنچائیں، اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔

باقی آپ نے لکھا ہے کہ آپ تفسیر القرآن لکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی کوشش میں برکت ڈالے، آپ کے ذہن کو جلا بخشے اور آپ کے روحانی علم کو بڑھائے۔لفظ اَلْآخِرَةِ کے بارے میں آپ نے جو لکھا ہے کہ اس کا مطلب صرف اُخروی زندگی ہے اور آنے والی موعود گھڑی اس کا مطلب نہیں ہوسکتا تو یہ بات درست نہیں۔ کیونکہ تشریح اور تفسیر میں تو ایک لفظ کے کئی کئی معانی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کسی لفظ کے صرف ایک ہی معنی پر حصر کر دینا درست نہیں جبکہ دوسرے معانی کسی قرآنی تعلیم یا سنت رسولﷺ کے مخالف و معارض نہ ہوں۔

پس وَبِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ (البقرہ:۵)کے دونوں معانی ہی درست ہیں۔ یعنی یہ کہ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ اور یہ بھی کہ ’’اورآئندہ ہونے والی (موعود باتوں) پر( بھی) یقین رکھتے ہیں۔‘‘

دوسرے معنوں یعنی ’’آئندہ ہونے والی (موعود باتوں) پر( بھی ) یقین رکھتے ہیں۔‘‘ کی صورت میں اس مضمون کا تعلق سورۃ الجمعہ میں بیان آنحضورﷺ کی دوسری بعثت کے ساتھ بنے گا کہ سچے اور کامل مومن وہ ہیں جو آنحضور ﷺ کی اس دوسری بعثت پر بھی اسی طرح ایمان لاتے ہیں، جس طرح حضورﷺ کی پہلی بعثت پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیونکہ سورۃ الجمعہ کی ان آیات کے نزول پر صحابہ رسول ﷺ کے سوال کرنے پر کہ یہ آخرین کون ہیں؟ آپؐ نےحضرت سَلمان فارسیؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کرفرمایا: لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ (صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن بَاب قَوْلُهُ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ) یعنی اگر ایمان ثریا تک بھی اٹھ گیا توان (یعنی حضرت سلمان فارسیؓ کی قوم)میں سے ایک یا ایک سے زیادہ لوگ اسے واپس لے آئیں گے۔ اس میں دراصل مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلام کی آمد اور آپ کے بعد جاری ہونے والی خلافت کی خبر دی گئی ہے۔ اور اس مسیح و مہدی پر ایمان لانے کی حضور ﷺ نے اس شدت سے تاکید فرمائی کہ فرمایا: فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن بَاب خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ) یعنی جب تم اسے دیکھو تو اس کی بیعت کرنا خواہ تمہیں برف کے پہاڑوں سے گھنٹوں کے بل چل کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا خلیفہ مہدی ہے۔

علاوہ ازیں قرآن کریم میں اَلْآخِرَةِ کا لفظ آئندہ آنے والی گھڑی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ آنحضورﷺ کو بشارت دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَلۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی۔ (الضحیٰ:۵)یعنی تیری ہر پیچھے آنے والی گھڑی پہلی سے بہترہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’آیت شریفہ میں پیغمبرﷺ کی یوماً فَیوماً سَاعَۃً بَعْدَ سَاعَۃٍ ہرآن لا انتہاء ترقیات کا ذکر ہے۔ ہر اگلا قدم آپ کا پچھلے قدم سے بڑھ کر رہا۔ امت کے جس قدر حسنات ہیں۔ جس قدر درود شریف دنیا میں آپؐ پر پڑھا جا رہا ہے، کسی دوسرے بانی مذہب کے لیے اس قدر دعائیں نہیں کی جاتیں۔ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلّم۔‘‘(ضمیمہ اخبار بدر قادیان، ۸اگست ۱۹۱۲ء۔حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ ۴۰۵)

سوال: یوکے سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں قسمت، میت کو دفنانے،اللہ تعالیٰ کے انسان کو امتحان میں ڈالنے، شیطان کے وجود، وقف نو کی تحریک اور اس میں شامل بچوں، نیز قرآن کریم کی تلاوت کے بارے میں متفرق امور کی بابت استفسارات کیے ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۸؍فروری ۲۰۲۴ء میں ان استفسارات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: قسمت سے اگر تو آپ کی مراد یہ ہے جس طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کی قسمت ہی بُری تھی، اس لیے ایسا ہوگیا، تو اسلام میں اس طرح کی قسمت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اسلام نیک اعمال بجالانے اور نیک نیت رکھنے پر زور دیتا ہے۔ کیونکہ انسان کے عمل سے ہی اسے اچھا یا بُرا پھل ملتا ہے۔ اچھے کام کا اچھا اور بُرے کام کا بُرا نتیجہ نکلتا ہے اور انسان کو نقصان پہنچتاہے۔ اس میں قسمت کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک شخص کوئی کام کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس نے سب کچھ اچھا کیا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو کہیں نہ کہیں اس سے کچھ کمی رہ گئی ہوتی ہے یا اس سے کوئی نہ کوئی غلطی ہو گئی ہوتی ہے، اس لیے اس کے کام کا اس کی خواہش کے مطابق نتیجہ نہیں نکلتا۔ ہاں اگر کوئی شخص پوری کوشش کرے اور دعا بھی کرے، اس کے باوجود اسے کسی کام میں کامیابی نہیں ہوتی تو اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلحت چھپی ہوتی ہے، جو اس وقت اسے کامیابی نہیں ملتی۔ ہو سکتا ہے کہ اُس وقت اُس کے اِس کام کا ہوجانا اُس کے لیے کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہو، جس سے اللہ تعالیٰ اسے دعا کی برکت سے بچا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مضمون کو قرآن کریم میں اس طرح بیان فرماتا ہے کہ’’ بعید نہیں کہ تم ایک چیز ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔ اور ممکن ہے کہ ایک چیز تم پسند کرو لیکن وہ تمہارے لیے شرانگیز ہو۔ اور اللہ جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔‘‘(البقرہ:۲۱۷)اس لیے ایک مومن کا کام ہے کہ نیک ارادہ اور پوری محنت کے ساتھ کام کرنے کے بعد نتیجہ کا معاملہ خدا تعالیٰ کی ذات پر چھوڑ دے۔

انسان کی میت کو دفنانے یا جلانے کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ میت کی آخری رسومات کے بارے میں دنیا کے مختلف مذاہب اور مختلف معاشروں میں الگ الگ طریق رائج ہیں۔ اور یہ تمام طریق ہی میت کو احترام دینے کے لیے ہیں۔ خواہ کوئی اسے جلائے، دفن کرے یا چرند پرند کو کھلائے۔ البتہ اسلام نے اس بارے میں جس طریق کو اختیار کرنے کا حکم دیا وہ فطرت کے زیادہ قریب اور ایک قدرتی طریق ہے اور قرآن کریم نے حضرت آدم کے بیٹوں کا واقعہ بیان کر کے(المائدہ:۳۲) ہمیں بتایا کہ قدرتی طریق یہی ہے کہ میت کو زمین میں دفن کیا جائے۔ کیونکہ انسان مٹی سے پیدا ہوا اور مٹی میں ہی اسے دفن کر دیا جائے۔

انسانوں پر مشکل آنے کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب ہے کہ کچھ مصائب تو انسان کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے اس پر آتے ہیں اور کچھ مصائب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر اس کی آزمائش کے طور پر آتے ہیں اور یہ مصائب بالکل اسی طرح کے ہوتے ہیں جس طرح دنیا میں ہم ایک امتحان پاس کرکے اگلے درجہ میں ترقی کرتے ہیں۔ اگر ہم امتحان کی تکلیف نہ اٹھائیں تو اگلے درجہ میں ترقی نہیں پا سکتے۔ یہ دنیوی آزمائشیں اللہ تعالیٰ کے پیاروں پر سب سے زیادہ آتی ہیں۔چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سے انبیاء پر سب سے زیادہ آزمائشیں آتی ہیں پھر رتبہ کے مطابق درجہ بدرجہ باقی لوگوں پر آزمائش آتی ہے۔ (سنن ترمذی کتاب الزھد بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْبَلَاءِ)حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو حضور ﷺ سے زیادہ تکلیف میں مبتلا نہیں دیکھا۔(صحیح بخاری کتاب المرضی بَاب شِدَّةِ الْمَرَضِ)

اصل میں دنیوی تکالیف اور آزمائشوں میں بہت سی الٰہی حکمتیں مخفی ہوتی ہیں، جن تک بعض اوقات انسانی عقل کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ پس انسان کو صبر اور دعا کے ساتھ ان کو برداشت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’بعض وقت مصلحت الہٰی یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مراد حاصل نہیں ہوتی۔ طرح طرح کے آفات، بلائیں، بیماریاں اور نامرادیاں لاحق حال ہوتی ہیں مگر ان سے گھبرانا نہ چاہیے۔‘‘(ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۲۳۔ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

شیطان کے وجود کے بارے میں آپ کے سوال کا جواب ہے کہ شیطان کا وجود بھی انسان کے لیے اس دنیا کے امتحانات میں سے ایک امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس کے لیے نیکی(فرشتوں والے ) اور بدی(شیطان والے) راستے کھول کھول کر بیان کر دیے ہیں اور پھر انسان کو اختیار دے دیا کہ وہ جس راستہ پر چلے گا، اس کے کام کا نتیجہ اسی کے مطابق نکلے گا۔ نیکی کرے گا تو ثواب ملے گا اور گناہ کرے گا تو اس کی سزا ملے گی۔

وقف نو کے بارے میں آ پ کے سوالات کا جواب یہ ہے کہ اس تحریک میں بچوں کو پیدائش سے پہلے پیش کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اس تحریک کی بنیاد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان حضرت مریمؑ کی والدہ کی قربانی پر رکھی تھی اور حضرت مریم ؑکی والدہ نے انہیں ان کی پیدائش سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور وقف کیا تھا۔ اس لیے اس تحریک میں پیش کیے جانے والے بچوں کو بھی ان کے والدین ان کی پیدائش سے پہلے وقف کرتے ہیں۔ اور چونکہ ان کے والدین نے ان بچوں کو ان کی پیدائش اور ان کے ہوش سنبھالنے سے پہلے وقف کیا ہوتا ہے، جس میں والدین کی مرضی تو شامل ہوتی ہے لیکن ان بچوں کی اپنی مرضی شامل نہیں ہوتی اس لیے جب یہ بچے عقل اور شعور کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ اب وہ بتائیں کہ انہوں نے اس وقف کو جاری رکھنا ہے یا نہیں۔ پہلے ان کے والدین نے انہیں وقف کیا تھا اب وہ خود بتائیں کہ ان کی کیا مرضی ہے؟ اس لیے بڑے ہونے پر ان سے دوبارہ اس وقف کے بارہ میں پوچھا جاتا ہے۔

صرف وقف نو کی تحریک میں شامل ہو جانے سے بچے خاص نہیں ہو جاتے۔ان میں اور دوسرے بچوں میں کوئی فرق نہیں، جو فرق کرتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔ اسی لیے میں نے کئی مرتبہ والدین کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے بچوں میں فرق نہ کیا کریں۔ اسی طرح وقف نو بچوں کو بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ وہ دوسرے بچوں سے سپیشل نہیں ہیں۔ ہاں جو بچے اچھے کام کرتے ہیں وہ بہرحال ان اچھے کاموں کی وجہ سے خاص ہوجاتے ہیں۔ آپ اگر وقف نو میں نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں۔ پڑھ کر اور کچھ بن کر خود وقف کر سکتی ہیں اور اچھے کام کر کے وقف نو والوں سے آگے بڑھ سکتی ہیں۔

آپ نے پوچھا ہے کہ میں کن خطوط کو ترجیح دیتا ہوں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں تو ہر خط کو ہی ترجیح دیتا ہوں جو مجھے لکھا جاتا ہے، خواہ وہ کسی بھی زبان میں ہو۔ انگریزی یا اردو کی بات نہیں، مجھے تو دنیا کی کئی زبانوں میں لوگ خط لکھتے ہیں۔ اور میں ان سب خطوط کو ترجیح دیتا اور ان کے جواب بھی دیتا ہوں۔

قرآن مجید جس زبان میں نازل ہوا ہے، اس میں اس کی پہلے تلاوت کرنی چاہیے۔ پھر انگریزی، اردو یا جو آپ کی زبان ہے اس میں اس کا ترجمہ پڑھنا چاہیے۔ عربی الفاظ کی تلاوت، تلاوت کہلاتی ہے، ترجمہ تلاوت نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر۱۱۲)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button