احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
یہ ہے مولوی عبد الحق کی تحقیق نگاری یا درست لفظوں میں مغالطہ آفرینی۔ مولوی عبد الحق کی یہ تحقیق یقیناً درست ہوتی اور داد کے قابل بھی اگر ۱۸۶۷ء کا سال ۱۸۸۴ء کے بعد آتا
باب سیزدہم:براہین احمدیہ پرہونے والے عمومی اعتراضات اور اُن کے جواب
۱۔ براہین احمدیہ میں دوسروں نے اعانت کی جیسے مولوی چراغ علی صاحب
۲۔ براہین احمدیہ کے خریداروں سے قیمت پیشگی لی لیکن نہ کتاب دی نہ قیمت واپس کی۔
۳۔ ۵۰جلدوں کاوعدہ کیالیکن پورانہ کیاصرف پانچ جلدیں شائع ہوئیں۔
براہین احمدیہ کے متعلق اہم تفصیلات کا بیان ہورہاہے۔ اب یہاں ہم ختم کرنے سے پہلے ان دوتین باتوں کا ذکر کرنابھی ضروری سمجھتے ہیں جوبطوراعتراض کے عموماً کی جاتی ہیں۔ اور یہ اصل میں براہین احمدیہ کی شہرت اورعظمت کے حسداور جلن کے دکھ کوکم کرنے کاایک بہانہ اور حیلہ ہے۔ ایک تو یہ اعتراض کیاجاتارہا جو تب سے لے کر اب تک کیاجاتاہے بلکہ دہرایاجاتاہے اوروہ یہ کہ براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں شائع کرنے کا وعدہ کیاگیاتھا لیکن صرف پانچ شائع کی گئیں اور ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ لوگوں سے پچاس جلدوں کے نام سے جو پیسہ اکٹھا کیاگیا وہ حضورؑ نعوذباللہ کھاگئے وغیرہ اور ایک صاحب نے یہ شوشہ چھوڑاکہ براہین احمدیہ میں علمی اورتحقیقی اعانت دراصل مولوی چراغ علی صاحب کی ہے۔اور، اَورکچھ نہ بن آیا تو براہین احمدیہ سے حیات مسیح کاعقیدہ بطوراعتراض پیش کردیا کہ اس کتاب میں تومسیح کی حیات کاذکرہے اور اب وفات مسیح کاذکرکردیا وغیرہ وغیرہ۔ ان باتوں کاجواب ان صفحات میں پیش کیاجائے گا۔
کیابراہین احمدیہ کی تصنیف میں کسی چراغ علی کی اعانت شامل تھی؟
مولوی چراغ علی صاحب اعظم یارجنگ[۱۸۴۴-۱۸۹۵ء] نے ۱۸۸۳ء میں ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب انگریزی میں تھی اوراس کانام تھا
‘‘The Proposed Political, Legal and Social Reforms in the Ottoman Empire and Other Mohammadan States’’
۱۹۱۱ء میں ’’اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام‘‘کے نام سے اس کا اردو ترجمہ شائع ہوا۔ مترجم مولوی عبد الحق صاحب بی۔اے علیگ نے اس کا ایک مقدمہ بھی لکھا۔ اس مقدمہ میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض مکتوبات کا خلاصہ دے کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ’’مولوی صاحب مرحوم نے مرزا صاحب مرحوم کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی۔ ‘‘ (اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام،اول مقدمہ صفحہ ۲۵، ۲۶)
بس اس مولوی کا یہ لکھناتھا کہ اس کے بعد پھر ہروہ شخص جو خود کتنابھی بڑا عالم یا محقق اپنے آپ کو کیوں نہ کہتاہو وہ بھی یہی جُھوٹھا کھاتارہا اوراسی’’علمی تحقیق ‘‘کو کارِثواب سمجھتے ہوئے اپنی کتابوں میں درج کرتا رہا۔ کبھی نہیں سوچاکہ وہ خود بھی کوئی تحقیق کررہا ہے یا نہیں اوران کے’’مبلغ علم‘‘کا یہ حال ہے کہ اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ مولوی عبدالحق کی اس موشگافی کے فوراً بعد ہی جب اس کی زندگی میں اس کی تردید بھی ہوناشروع ہوگئی تواس تردید کا بھی تو کوئی جواب دو۔یہ توفیق توبرصغیر کے کسی عالم کو آج تک نہیں ہوسکی کہ وہ پوری دیانتداری کے ساتھ اورمنصفانہ تحقیق کے ساتھ حضرت اقدس علیہ السلام کی تحریرات یا آپؑ کی ذات پر کوئی جرح کرسکے۔ ہمیشہ ایک دوسرے کی کاسہ لیسی کرتے چلے آئے اورجہاں سے بھی کوئی بھی اعتراض حضرت اقدسؑ کی ذات کے متعلق ملاتو فوراً شیرِمادر کی طرح لپکے اوراس کوآگے چلادیا۔اور اس کی کچھ سیاہی سے ورق سیاہ کیے اور باقی سے اپنے منہ کے ساتھ ساتھ اپنا نامۂ اعمال بھی سیاہ کرڈالا۔
اسی قبیل کے ایک اورعالم اورمولوی ابوالحسن ندوی صاحب بھی ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’مرزاصاحب نے ملک کے دوسرے اہل علم اوراہل نظر حضرات اور مصنفین سے بھی کتاب کے موضوع کے سلسلہ میں خط وکتابت کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے خیالات اورمضامین بھیجیں جن سے اس کتاب کی تصنیف میں مدد لی جائے۔جن لوگوں نے ان کی اس دعوت کو قبول کیا ان میں مولوی چراغ علی صاحب بھی تھے۔ جو سرسید کی بزم علمی کے ایک اہم رکن تھے۔ مرزا صاحب نے ان کے مضامین وتحقیقات کو بھی کتاب میں شامل کیا۔‘‘(’’قادیانیت‘‘ صفحہ۳۹،۳۸،مصنفہ ابوالحسن ندوی مجلس نشریات اسلام کراچی)
لیکن مولوی ابوالحسن ندوی صاحب نے کسی جگہ کوئی نشاندہی نہیں کی کہ براہین احمدیہ ہمارے پاس موجودہے کس مقام اورباب اورفصل سے ثابت ہواکہ یہ مولوی چراغ علی صاحب کا مضمون ہے۔ انہوں نے تومولوی عبدالحق صاحب کے حوالے کو ہی بغیر کسی جرح وتحقیق کے آگے چلادیا۔
اورجہاں تک مولوی عبدالحق صاحب کاتعلق ہے ان کو مذہب سے یا علوم دینیہ سے کتنا لگاؤہے اور مذہبی علوم میں وہ کتنی دسترس رکھتے ہیں یہ ایک سوالیہ نشان بہرحال ہے اس میں کوئی شک نہیں ادبی دنیامیں اوراردوادب کے حوالے سے ان کاایک نام ہے اورایک مقام ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مولوی عبدالحق صاحب بعض اوقات ایسی ایسی حرکات بھی کرجاتے تھے کہ ان کے اپنے بھی جو کہ ساری زندگی ان کے ساتھ اخلاص ووفا کے ساتھ رہے وہ بھی انگشت بدنداں ہوجاتے کہ یہ کیاہوا۔وہ اس طرح کےعلمی اورقلمی شوشے چھوڑتے رہتے تھے اوربعد میں آنے والے ان کی اس طرح کی ’’ادبی اورعلمی تحقیقات‘‘ کی تردید کرنے میں لگے رہتے۔ یا ان کی اس قسم کی حرکت پر حیران وسرگرداں رہتے۔
ان کی ایک اس قسم کی حرکت جو ان کے اس مزاج کی عکاس ہے حمیدہ اخترحسین رائے پوری نے بیان کی ہے۔جوان کی خودنوشت ’’ہم سفر‘‘ صفحہ ۲۳۲، ۲۳۸ اور ’’نایاب ہیں ہم‘‘ کے صفحہ ۵۹-۶۲ پرملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ گوکہ وہ ان کی ’’اخلاقی زیادتی‘‘ کے زمرے میں بیان کی گئی ہے۔ البتہ یہ پتہ چلتاہے کہ جوبھی ان کوقریب سے جانتے ہیں وہ مولوی صاحب کی اس تلوّن مزاجی سے آگاہ بھی ہیں اور شاکی بھی۔
اورجہاں تک مولوی عبدالحق صاحب کی کتابوں کے مقدمات اور علمی تحقیق کاتعلق ہے تو وہ خلاف عقل و حقائق ایسی موشگافیاں چھوڑنے کے جیسے عادی تھے کہ جس کا سرہوتا نہ پیر۔ حقائق کی بجائے فسانہ طرازی زیادہ ہوتی۔ ابھی چند روز ہوئے ایک کتاب کامطالعہ کررہاتھا کہ اچانک اس میں بھی انہیں مولوی صاحب کی تحقیق وتدبرکا رونا رویا جارہا تھا۔ اور سمجھ نہیں آتی تھی کہ مولوی صاحب کی اس عالمانہ تاریخ دانی پر داددی جائے یا داددینے سے پہلے…روؤں دل کویاپیٹوں جگر کومیں…
ذرا ملاحظہ فرمائیے۔پروفیسرامجدعلی شاکرصاحب ہیں جنہوں نے دوقومی نظریہ پر تاریخی تحقیق پرمبنی ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں ایک جگہ انہوں نے درج ذیل عنوان کے ساتھ جولکھاہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتاہے اور قارئین کواندازہ ہوجائے گا کہ محترم مولوی عبدالحق صاحب کی تاریخ وتحقیق میں بےسروپا موشگافیاں چھوڑنا ان کی عادت ہے۔یوں لگتاہے کہ جیسے وہ یونہی شغل فرمارہے ہوں۔ اور تاریخی حقائق اور تحقیقی مسائل سے بے نیازہوکرکوئی بات کردینا جیسے بقول غالب…
بے نیازی تیری عادت ہی سہی
بہرحال پروفیسرصاحب کی تحریرملاحظہ ہو:
’’ سرسید کے بارے میں عبد الحق کی افسانہ طرازی
مولوی عبد الحق نے سرسید احمد خاں پر لکھتے ہوئے تاریخ کو اپنے انداز میں ترتیب دینے کی کوشش کی ہے۔ان کے نتائج فکر کسی عملی تحقیق پر تو خیر کیا مبنی ہوتے ، کسی غلط فہمی یا تسامح پر مبنی بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے جان بوجھ کر غلط فہمی پیدا کرنے کی کاوش کی ہے۔ گویا ان کی مغالطہ آفرینی کو ان کی افسانہ طرازی کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سرسید کے بارے میں دادِ تحقیق دیتے ہوئے لکھا: ’’ان اقوال سے ظاہر ہے کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے کس قدر حامی تھے۔ تقریر و تحریر میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے بوئے تعصب آتی ہو یا ہندوؤں کی دل آزاری کا باعث ہو۔ لیکن جب ہندوؤں کی طرف سے سرکاری دفتروں اور مدارس سے اردو کے خارج کرنے کی تحریک ہوئی تو سرسید کے دل کو بڑی ٹھیس لگی اور بہت صدمہ ہوا۔مولانا حالی لکھتے ہیں کہ ’’پہلا موقع تھا جب کہ مجھے یقین ہوگیا کہ اب ہندو مسلمانوں کا بطور ایک قوم کے ساتھ چلنا اور دونوں کو ملا کر سب کے لئے ساتھ ساتھ کوشش کرنا محال ہے۔‘‘ (مولوی عبد الحق ،سرسید احمد خاں ،حالات و افکار،صفحہ ۶۴)
یہ ہے مولوی عبد الحق کی تحقیق نگاری یا درست لفظوں میں مغالطہ آفرینی۔ مولوی عبد الحق کی یہ تحقیق یقیناً درست ہوتی اور داد کے قابل بھی اگر ۱۸۶۷ء کا سال ۱۸۸۴ء کے بعد آتا۔ مولوی عبد الحق نے ان اقوال کا ضمیر جن اقوال کی طرف منسوب کیا ہے وہ اقوال ۱۸۸۴ء کے ہیں۔ یہ وہ اقوال ہیں جو ۱۸۸۴ء میں دورۂ پنجاب کے موقع پر پیش کیے گئے۔ اب رہا لیکن کے بعد کے معاملات ، جن کا تعلق مدراس کے اردو ہندی تنازعہ سے ہے۔ یہ ۱۸۶۷ء کے معاملات ہیں۔ یہ بات ایک ادنیٰ طالب علم بھی سمجھ سکتا ہے کہ مابعد کے اقوال ماقبل کے اقوال کے ناسخ ہوتے ہیں۔ارتقاء ماضی سے مستقبل میں ہوتا ہے نہ کہ مستقبل سے ماضی میں۔ یہ رجعت قہقہری یعنی الٹی جست تاریخ نویسوں کے ہاں کہیں نظر نہیں آتی۔ صرف عبدالحق ہی ایسا کر سکتے تھے۔آخر بابائے اردو تھے۔ضیاء الدین لاہوری لکھتے ہیں: ’’مولوی عبد الحق نے متحدہ قومیت کے حق میں سرسید کے بیانات سے جو اقتباسات درج کئے ہیں وہ ان کے ۱۸۸۴ء کے دورۂ پنجاب کے دوران کی گئی تقریروں سے لئے گئے ہیں۔ اور اس کا حوالہ ……آخر میں بھی درج کیا ہے۔ انہوں نے’’لیکن‘‘ سے جو فقرہ شروع کیا ہے اس سے قارئین کو بالواسطہ طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اردو ہندی نزاع کا واقعہ اس کے بعد پیش آیا اور اس صدمے سے سرسید نے گویا سابقہ خیالات ترک کر دیے۔ وہ (عبد الحق)اچھی طرح جانتے تھے کہ نزاع کا مذکور ہ واقعہ سرسید کی درج بالا تقریروں سے سترہ برس قبل (۱۸۶۷ء میں)پیش آیا۔ جب موصوف نے سرسید کے حوالے سے ۱۸۶۷ء میں دوقومی نظریے کی بنیاد ڈال دی تو پھر متحدہ قومیت کے حق میں سرسید کے ۱۸۸۴ء کے خیالات کس کھاتے میں جاتے ہیں ؟‘‘ (ضیاءالدین لاہوری، آثارسرسید،صفحہ۱۲۷ ،۱۲۸) (دوقومی نظریہ ایک تاریخی جائزہ از پروفیسر امجد علی شاکر صفحہ۵۱-۵۲ مطبوعہ جمعیہ پبلیکیشنز لاہور)
اورجہاں تک ان کے کتابوں کے مقدمات اور ان کی علمی تحقیق کا تعلق ہے توایک اور رائے ملاحظہ فرمائیے۔ جو انہیں کے ایک مداح نے لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : ’’…اوریہ بھی خیال کوئی زیادہ غلط نہیں کہ انہوں نے زیادہ تر مقدموں میں جس تحقیقی زاویۂ نظر کو پیش کیا ہے وہ اپنی ساری افادیت کے باوجود ایسے نہیں جن سے اکثر کی تردید ہوچکی ہے یاایسے انکشافات پر مبنی ہیں جن کی چھان پھٹک جتنی چاہیے تھی نہیں کی گئی یا ان کی بعض جگہ تکرار کی گئی ہے……‘‘ (’’مولوی عبدالحق کے علمی وادبی کارناموں پر مجموعی نظر‘‘ مضمون بعنوان مولوی عبدالحق سے بابائے اردوتک،مصنفہ شمیم احمد مطبوعہ روزنامہ امروزلاہور مورخہ ۱۷؍ اگست ۱۹۷۵ءبحوالہ براہین احمدیہ اور مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ ’’اعظم الکلام … ‘‘ از عاصم جمالی صاحب صفحہ ۶)
اوریہ بالکل درست بات ہے کم ازکم ان کی کتاب اعظم الکلام کے مقدمہ کی حد تک تو سوفیصد درست بات ہے کیونکہ اس مقدمہ کی تردید ایسے ٹھوس حقائق اوردلائل کے ساتھ کی جاتی رہی ہے اورکی جاتی رہے گی کہ جس سے یہ عیاں ہوجاتاہے کہ یہ ساری تحقیق ایک بدظنی یا لاعلمی اور جہالت کے سواکچھ بھی نہیں ہے۔
اوردلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایک تردید اورتنقید کرنے والے نے تو ان کی زندگی میں رابطہ بھی کیااورجب اس کے متعلق، ان خطوں کی بابت استفسار کیا جو ادھورے اوربغیرسیاق وسباق کے انہوں نے درج کرکے ایک انتہائی بھونڈا نتیجہ نکالا تھا تو بڑی لاپرواہی سے یہ کہہ کر جان چھڑالی کہ میرے پاس وہ خط نہیں ہیں۔
(جاری ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا بچپن



