سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

یہ تمام خط کہیں بھی کوئی اشارہ تک نہیں کرتے کہ مولوی صاحب کی طرف سے کوئی مضمون بھیجاگیا تھا

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ بیان کرتے ہیں: ’’میں نے حقیقت کے انکشاف کامل کے لئے مولوی عبدالحق صاحب سے خط وکتابت کی اس وقت وہ اورنگ آباد میں تھے انہوں نے مجھے جواب میں لکھا کہ میرے پاس وہ مکتوبات نہیں میں حیدر آباد جاؤں گاتو کوشش کروں گا۔ یہ ان کے جواب کا مفہوم تھا۔ میں نے بمبئی سے (جہاں آجکل یہ مسودہ لکھ رہا ہوں ستمبر ۱۹۳۰ء ) انہیں ایک خط لکھا اور یاددہانی کرائی انہوں نے ازراہ کرم مجھے جوجواب دیا ہے میں اسے یہاں درج کرتا ہوں :

مکتوب مولوی عبدالحق صاحب علیگ

پنجارہ روڈ حیدر آباد دکن

۲۶ ستمبر۱۹۳۰ء

مکرم بندہ تسلیم۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا جن صاحب کے پاس وہ خطوط تھے ان کا انتقال ہو گیا۔ اب ان خطوط کا ملنا محال ہے۔ مولوی چراغ علی مرحوم کے بیٹوں میں کسی کو اس کا ذوق نہیں۔ بہر حال ان خطوط کے ملنے کی کوئی توقع نہیں۔ آپ نے براہین احمدیہ کے سلسلے میں جس اشتہار کے متعلق دریافت فرمایا ہے۔ مجھے مطلق یاد نہیں اور نہ مجھے اب ان چیزوں سے کچھ سروکار ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ان امور میں مَیں آپ کی کوئی مددنہیں کر سکتا۔ (عبدالحق)(حیات احمدؐ جلد دوم مصنفہ عرفانی صاحب ؓ صفحہ ۴۰تا ۴۲)

مولوی عبدالحق کی ’’تحقیق‘‘ کا مکمل متن

یہ تو مولوی صاحب کا ردعمل تھا ۔اب ہم ان مکتوبات کو دیکھتے ہیں جن سے مولوی صاحب نے یہ نتیجہ نکالا ہے اور ہم دیکھیں گے کہ ان مکتوبات سے قطعاً ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسی رائے قائم کی جاسکتی ہے سوائے تعصب اور اعتراض برائے اعتراض کے۔ یا کوئی طفل مکتب یہ رائے قائم کرسکے تو کرسکے کوئی ذی علم اپنے ہوش وحواس میں ایسی رائے قائم نہیں کرسکتا۔

بہرحال مولوی عبدالحق صاحب نے حضرت اقدسؑ کے مکتوبات کو Quoteکرتے ہوئےجو لکھااورجو مکتوبات درج کیے ان کا مکمل متن یہ ہے۔ مولوی صاحب لکھتے ہیں: ’’اس موقع پر یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ جس وقت ہم مولوی صاحب مرحوم کے حالات کی جستجو میں تھے تو ہمیں مولوی صاحب کے کاغذات میں سے چند خطوط مرزا غلام احمد قادیانی (علیہ السلام )مرحوم کے بھی ملے جو انہوں نے مولوی صاحب کو لکھے تھے اور اپنی مشہور اور پُرزور کتاب براہین احمدیہ کی تالیف میں مد د طلب کی تھی۔چنانچہ مرزا صاحب اپنے ایک خط میں کہتے ہیں کہ ’’آپ کا افتخار نامہ محبت آمود … عزورُود لایا اگرچہ پہلے سے مجھ کو بہ نیت الزام خصم اجتماع براہین قطعیہ اثبات نبوت و حقیت قرآن شریف میں ایک عرصہ سے سرگرمی تھی مگر جناب کا ارشاد موجب گرمجوشی و باعث اشتعال شعلہ حمیت اسلام علی صاحبہ السلام ہوا اور موجب ازیاد تقویت و توسیع حوصلہ خیال کیا گیا۔ کہ جب آپ(علیہ السلام) سااولوالعزم صاحب فضیلت دینی و دنیوی تہ دل سے حامی ہو اور تائید دین حق میں دل گرمی کا اظہار فرماوے تو بلا شائبہ ریب اس کو تایید غیبی خیال کرنا چاہئے جزاکم اللہ نعم الجزاء …ماسوائے اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت ہوں ‘‘ ایک دوسرے خط میں تحریر فرماتے ہیں’’ آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ نہ مضمون پہنچااس لئے آج مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ برا ہ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثبات حقانیت فرقان مجید تیار کرکے میرے پاس بھیج دیں۔ اور میں نے بھی ایک کتاب جو دس حصے پر مشتمل ہے تصنیف کی ہے اور نام اس کا براہین احمدیہ علٰے حقانیة کتاب اللہ القرآن والنبوة المحمدیہ رکھا ہے اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے ان کو زیب و زینت بخشوں سو اس امر میں آپ توقف نہ فرماویں اور جہاں تک جلد ہو سکے مجھ کو مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرماویں ‘‘ اس کے بعد پنجاب میں آریوں کے شوروشغب اور عداوت و اسلام کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کیا ہے اور آخر میں لکھا ہے کہ’’دوسری گزارش یہ ہے کہ اگرچہ میں نے ایک جگہ سے وید کا انگریزی ترجمہ بھی طلب کیا ہے اور امید کہ عنقریب آجائے گا اور پنڈت دیانند کی وید بھاش کی کئی جلدیں بھی میرے پاس ہیں اور ان کا ستیاارتھ پرکاش بھی موجود ہے۔لیکن تا ہم آپ کو بھی تکلیف د یتا ہوں کہ آپ کوجواپنی ذاتی تحقیقات سے اعتراض ہنود پر معلوم ہوئے ہوں یا جو وید پر اعتراض ہوتے ہوں ان اعتراضوں کو ضرور ہمراہ دوسرے مضمون اپنے کے بھیج دیں۔

لیکن یہ خیال رہے کہ کتب مسلمہ آریہ سماج کی صرف وید اور منواسمرت ہے اور دوسری کتابوں کو مستند نہیں سمجھتے بلکہ پرانوں وغیرہ کو محض جھوٹی کتابیں سمجھتے ہیں میں اس جستجو میں بھی ہوں کہ علاوہ اثبات نبوت حضرت پیغمبر ﷺ کے ہنود کے وید اور ان کے دین پر بھی سخت سخت اعتراض کئے جائیں کیونکہ اکثر جاہل ایسے بھی ہیں کہ جب تک اپنی کتاب کا نا چیز اور باطل اور خلاف حق ہونا ان کے ذہن نشین نہ ہو تب تک گو کیسی ہی خوبیاں اور دلائل حقانیت قرآن مجید کے ان پر ثابت کئے جائیں اپنے دین کی طرف داری سے باز نہیں آتے اور یہی دل میں کہتے ہیں کہ ہم اسی میں گزارہ کر لیں گے سو میرا ارادہ ہے کہ اس تحقیقات اور آپ کے مضمون کو بطور حاشیہ کے کتاب کے اندردرج کردوں گا۔ ‘‘

ایک اَور خط مورخہ ۱۹؍فروری ۱۸۷۹ء میں تحریر فرماتے ہیں: ’’فرقان مجیدکے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے ثبوت میں آپ کا مدد کرنا باعث ممنونی ہے نہ موجب ناگواری میں نے بھی اسی بارے میں ایک چھوٹا سا رسالہ تالیف کرنا شروع کیا ہے۔ اور خدا کے فضل سے یقین کرتا ہوں کہ عنقریب چھپ کر شائع ہو جائے گا آپ کی اگرمرضی ہو تو وجوہات صداقت قرآن جو آپ کے دل پر القاہوں میرے پاس بھیج دیں تا اسے رسالہ میں حسب موقع اندراج پاجائے یا سفیر ہند میں……لیکن جو براہین (جیسے معجزات وغیرہ )زمانہ گزشتہ سے تعلق رکھتے ہوں ان کا تحریر کرنا ضروری نہیں کہ منقولات مخالف پر حجت قویہ نہیں آسکتیں۔ جو نفس الامر میں خوبی اور عمدگی کتاب اللہ میں پائی جائے یا عندالعقل اس کی ضرورت ہو وہ دکھلانی چاہئے۔ بہر صورت میں اس دن بہت خوش ہوں گا کہ جب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑیگی۔ آپ بمقتضا اس کے کہ الکریم اذاوعد وفا مضمون تحریر فرماویں۔لیکن یہ کوشش کریں کہ کیف مااتفق مجھ کو اس سے اطلاع ہو جائے۔ اور آخر میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ہم کواور آپ کو جلدتر توفیق بخشے کہ منکر کتاب الٰہی کو دندان شکن جواب سے ملزم اور نادم کریں۔ ولا حول ولا قوة الا باللّٰہ‘‘ اس کے بعد ایک دوسرے خط مورخہ ۱۰مئی ۱۸۷۹ء میں تحریر فرماتے ہیں: ’’کتاب(براہین احمدیہ)ڈیڑھ سو جز ہے جس کی لاگت تخمیناً نو سو چالیس روپیہ ہے۔ اور آپ کی تحریر محققانہ ملحق ہو کر اور بھی زیادہ ضخامت ہو جائے گی۔‘‘

ان تحریروں سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم نے مرزا صاحب مرحوم کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے۔ ‘‘(’’اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام‘‘ حصہ اول مقدمہ صفحہ ۲۳تا ۲۶)

یہاں مولوی عبد الحق صاحب کاتجاہل عارفانہ بلکہ تعارف جاہلانہ کہناچاہیے اوراگر مولوی عبدالحق جیسا وقیع ادیب سامنے ہوتو علمی وتحقیقی بددیانتی کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اول تو انہوں نے خط پورے درج نہیں کئے۔ اورجتنے خط بھی درج کیے ایک بچہ بھی انہیں پڑھ کریہ قیاس تو کرسکتاہے کہ حضرت مرزاصاحب مولوی چراغ علی صاحب سے یہ ذکر فرمارہے ہیں کہ وہ اپنامضمون بھیجیں تاکہ وہ اسکو براہین احمدیہ کے حاشیہ یا سفیرہند یا کسی دوسرے رسالہ میں درج کرسکیں۔ لیکن یہ کہاں سے ثابت ہواکہ انہوں نے کچھ بھیج بھی دیاتھااورمولوی صاحب کی یہ علمی بددیانتی ہے جو ادھورے خطوط شائع کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ان تحریروں سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم نے مرزا صاحب مرحوم کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ سارے خطوط پڑھ لیے جائیں کیا ان مذکورہ بالا خطوط میں کہیں بھی یہ ذکر ہے کہ حضرت مرزاصاحب نے یہ لکھا ہو کہ مولوی چراغ علی صاحب ! آپ کا بہت شکریہ!! آپ کا مضمون مل گیا اوربراہین احمدیہ میں اس کو شامل کیاجارہا ہے۔ ان مذکورہ خطوط میں سب سے آخری خط کا مضمون صاف ظاہر ہے کہ براہین کے تخمینہ وغیرہ کی بابت ہے اور اس سے پہلا جو ہمارے موضوع کے متعلق آخری خط ہے اس میں حضرت اقدس یہ فرماتے ہیں: ’’بہر صورت میں اس دن بہت خوش ہوں گا کہ جب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑیگی‘‘۔ تو یہ تمام خط کہیں بھی کوئی اشارہ تک نہیں کرتے کہ مولوی صاحب کی طرف سے کوئی مضمون بھیجاگیا تھا۔ تو مولوی عبدالحق صاحب کا یہ نتیجہ نکالنا کہ’’بعض مضامین سے مدد دی ہے ‘‘ایک شوشہ اورعلمی بددیانتی کے سواکچھ نہیں۔اورایسا الزام اوردعویٰ ہے جس کی تردید اوربطلان خود مولوی صاحب کے پیش کردہ خطوط سے ہی ہورہی ہے۔ کیونکہ :

I: اول تو مولوی صاحب نے تحقیق کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطوط من وعن درج نہیں کیے۔ کیونکہ جو دعویٰ وہ کرنے جارہے تھے وہ ایسا دعویٰ تھا کہ کسی نے ایسا کوئی دعویٰ یا بات نہیں کی تھی۔ اس لئے علمی وتحقیقی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے خطوط کا مکمل متن دینا بہت ضروری تھا۔

II: جب مولوی صاحب سے ان خطوط کی بابت پوچھا گیا تو انہوں نے یہ جواب دے کر پہلو تہی کرلی کہ ’’اب ان خطوط کا ملنا محال ہے۔ مولوی چراغ علی مرحوم کے بیٹوں میں کسی کو اس کا ذوق نہیں۔ بہر حال ان خطوط کے ملنے کی کوئی توقع نہیں۔ آپ نے براہین احمدیہ کے سلسلے میں جس اشتہار کے متعلق دریافت فرمایا ہے۔ مجھے مطلق یاد نہیں اور نہ مجھے اب ان چیزوں سے کچھ سروکار ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ان امور میں میں آپ کی کوئی مددنہیں کر سکتا‘‘

III: حضرت اقدسؑ کی جملہ تصنیفات اوربراہین احمدیہ سب ناقدین اورادیبوں کے سامنے ہیں مولوی چراغ علی صاحب کی تصنیفات بھی موجودہیں۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔کوئی عالم یا ادیب ان کتب کو ملاحظہ کرنے کے بعد خود جائزہ لے سکتاہے۔ حضرت اقدسؑ کا علم کلام ،آپؑ کا طرزِ استدلال ،آپؑ کا اندازِتحریر ایک نرالا اورجداتھا۔آپؑ ایک صاحبِ طرز انشاء پرداز تھے۔بڑے بڑے ادیب اورانشاء پرداز آپ کی تحریروں کے آگے پانی بھرتے نظرآتے ہیں۔ مولوی ابوالکلام آزاد جیسا ادیب اورچوٹی کا نثرنگار آپؑ کے متعلق لکھتاہے : ’’وہ شخص بہت بڑا شخص جس کاقلم سحر تھااورزبان جادو،وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔ جس کی نظر فتنہ اورآواز حشر تھی۔ جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اورجس کی مٹھیاں بجلی کی دوبیٹریاں تھیں …مرزاصاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اورآریوں کے مقابلہ پرظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کرچکاہے۔ اوراس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدروقیمت آج جبکہ وہ اپنا فرض پوراکرچکاہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے …آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیداہو۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ ۵۶۰تا ۵۶۲)

’’کرزن گزٹ‘‘ دہلی کے ایڈیٹر مرزا حیرت دہلوی نے لکھا کہ’’مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا… اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں… اس کا پرزور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے… اس نے ہلاکت کی پیشگوئیوں ، مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہوکر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔‘‘ (اخبار ’’کرزن گزٹ‘‘ دہلی یکم جون ۱۹۰۸ءبحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ ۵۶۵، ۵۶۶) (جاری ہے)

مزید پڑھیں: حضرت مصلح موعود ؓ ۔ نوجوان نسل کے روحانی معلّم

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button