اللہ تعالیٰ ہی حقیقی رازق ہے
ایک مومن کا کام ہے کہ ان بُرائیوں سے بچے، تبھی وہ ان لوگوں کے زُمرہ میں شمار ہو گا جو تقویٰ پر قدم مارنے والے ہیں اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ بھی اپنی جناب سے پھر ایسے ایسے ذریعوں سے ضروریات پورا کرنے کے سامان پیدا فرماتا ہے کہ انسان خود حیران ہوجاتا ہے کہ یہ کیسے ہوا؟مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا (الطلاق :3)کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’باریک سے باریک گناہ جو ہے اسے خداتعالیٰ سے ڈر کر جو چھوڑے گا خداتعالیٰ ہر ایک مشکل سے اسے نجات دے گا۔ یہ اس لئے کہا کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں، ہم تو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر ایسی مشکلات آپڑتی ہیں کہ پھر کرنا پڑ جاتا ہے۔ خداتعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ اُسے ہر مشکل سے بچا لے گا‘‘۔ (البدرجلد 2نمبر12 مورخہ10؍اپریل1903ء صفحہ92)
جو اقتباس مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پڑھا ہے اس حوالے سے اُن لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو اِن مغربی ملکوں میں سوشل ہیلپ (Social Help) لیتے ہیں۔ مختلف ملکوں میں اس مدد کے جو بھی نام ہیں، یہ حکومت کی طرف سے ملنے والی مدد ہے جو یا بیروزگاروں کو ملتی ہے یا کم آمدنی والوں کو تاکہ کم از کم اس معیار تک پہنچ جائیں جو حکومت کے نزدیک شریفانہ طور پر زندگی گزارنے کے لئے ر وزمرہ ضروریات پورا کرنے کا معیار ہے۔ مغربی حکومتیں، بعض ان میں سے بڑے کھلے دل کے ساتھ یہ مدد دیتی ہیں اور برطانیہ کی حکومت بھی اس بارے میں قابل تعریف ہے شہریوں کی بڑی مدد کرتے ہیں۔ لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض لوگ جو چھوٹا موٹا کاروبار بھی کرتے ہیں یا ایسی ملازمت کرتے ہیں جو پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی یا ٹیکسی وغیرہ کا کام کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی حکومت کو غلط معلومات دے کر اس سے مدد بھی لیتے ہیں۔ یا مکان بھی خریدا ہوا ہے لیکن حکومت سے مکان کا کرایہ بھی لیتے ہیں۔ تو یہ بات تقویٰ سے بعید ہے۔ اس طرح کرکے وہ دوہرے بلکہ کئی قسم کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ ایک تو حکومت کو صحیح آمد نہ بتا کر حکومت کا ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ پھر نہ صرف یہ ٹیکس کی چوری ہے بلکہ دوسروں کے اُس ٹیکس کو بھی کھا رہے ہوتے ہیں جو دوسرے لوگ حکومت کے معاملات چلانے اور شہریوں کو سہولتیں مہیا کرنے کے لئے حکومت کو دیتے ہیں۔ پھر جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں جو بذات خود شرک کے برابر ہے، تقویٰ تو دُور کی بات ہے۔ پس اگر ہم میں ایسے چند ایک بھی ہوں تووہ نہ صرف اپنے آپ کو اللہ سے دُور کر رہے ہوتے ہیں بلکہ جماعت کو بھی بدنام کرنے والے بن رہے ہوتے ہیں اور جماعت کا جو وقار حکومتی اداروں اور لوگوں میں ہے اس کو کم کرنے والے بن رہے ہوتے ہیں۔
(خطبہ جمعہ ۱۳؍ جون ۲۰۰۸ء ، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۶ جولائی ۲۰۰۸ء)
مزید پڑھیں: غضِّ بصر سے کام لو، اپنی نظروں کو نیچا رکھو



