امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے طلبہ پرمشتمل ایک وفد کی ملاقات
سب سے بڑا ڈسپلن کا نظام جو اسلام میں ہے، یہی ہے کہ پانچ وقت کی نمازیں ادا کر لو، اور جب انسان disciplined ہو جاتا ہے تو اس کو خدا کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے اور بندوں کے حقوق کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔روحانیت بھی بہتر ہوتی ہے اور یہ دنیا جو آجکل دین سے دُور ہے، خدا سے دُور ہے ، اس لیے کوئی خوف نہیں نہ رہا۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے ۔ہر وقت دماغ میں یہ رکھو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے
مورخہ۱۸؍اپریل۲۰۲۶ء بروز ہفتہ امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جرمنی کے خدام اور طلبہ پر مشتمل ایک وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایوانِ مسرور میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے جرمنی سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انور کی خدمت میں مختلف نوعیت کے متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ اگر حکومت کی طرف سے مردوں کو ایک لحاظ سے مجبور کیا جائے کہ جنگ کی حالت میں ملک کا دفاع کریں، مگر وہ جنگیں ملک یا حکومت کی ماضی کی غلطیوں کا نتیجہ ہوں تو ہم خدام کو کیا کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے ملکی قانون اور وفاداری کے تقاضے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ جب تک اس ملک میں رہ رہے ہیںتو اس ملک کے قانون اور اس سے وفا اور اس سے تعلق کا تقاضا ہے کہ اگر تولازمی سروس ہے تواس میں شامل ہوں، نہیں تو ملک چھوڑ کے چلے جائیں۔ دو ہی حل ہیں۔
حضورِ انور نے موجودہ جنگوں کی اصل وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ جو جنگیں دنیا میں ہو رہی ہیں، وہ کون ساکسی مقصد کے لیے ہو رہی ہیں۔ صرف لالچ اور دوسرے کے وسائل اورresources پر قبضہ کرنا اور اس کو نیچے رکھنا ہے۔ یہی امریکہ کی پالیسی ہے۔یہی اسرائیل کی پالیسی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپناarea بڑھائیں ۔ انہوں نے لبنان کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب کہتے ہیں کہ سیز فائر ہو گئی، تو چھوڑیں گے تو نہیں۔
پھر حضورِ انور نے مختلف ممالک کی مثالوں سے اس لالچ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح اور بعض ملک ہیں، Golan Heights وغیرہ بعض جگہیں ہیں جو انہوں نے قبضے کرنے ہیں، کر لیے ہیں۔ سیریا کے کچھ علاقے ہیں اور جورڈن کے کچھ علاقے ہیں۔ تو یہ لالچ ہے جس کی وجہ سے ساری جنگیں ہو رہی ہیں اور ٹرمپ صاحب جو امریکہ کے ہیں وہ ایران کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ یورینیم ہے ،تیل ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مل جائے تو بس ٹھیک ہے۔ پھر جو مرضی کرو۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہGolan Heights (گولان ہائٹس) مشرقِ وسطیٰ میں واقع ایک بلند سطحِ مرتفع ہے، جو بنیادی طور پر شام کے جنوب مغربی حصّے میں موجود ہے، یہ علاقہ اپنی سٹریٹیجک اہمیت، پانی کے ذخائر اور زرعی زمینوں کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔۱۹۶۷ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل نے اس کے زیادہ تر حصّے پر قبضہ کر لیا تھا، بعد ازاں ۱۹۸۱ء میں اسے اپنے زیرِ انتظام علاقہ قرار دینے کا اعلان کیا، تاہم اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔یہ خطّہ طویل عرصے سے شام اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا حصّہ ہے اور اپنی جغرافیائی و عسکری اہمیت کے باعث خطّے کی سیاست میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔]
بعدازاں حضورِ انور نے اسی تناظر میں دیگر خطّوں میں جاری جنگوں کے پسِ منظر کوبھی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دوسرے اسلامی ملکوں میں، سوڈان میں، صومالیہ میں یادوسری جگہوں پر جو جنگیں ہو رہی ہیں، کونگو میں یا روانڈا میں، یہ ساری کیا جنگیں ہیں؟یہ سارے vested interests ہیںان کے لیے ہیں۔ ان کا کوئی مقصد تو ہے نہیں، یا دوسرے کے وسائل پرقبضہ کرنا ہے۔
اسی طرح حضورِ انور نے خوبصورت قرآنی تعلیم کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے قرآنِ شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دوسروں کے وسائل کو لالچ کی نظر سے نہ دیکھو ۔اپنے اندر نظر رکھو۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے بطورِ شہری ملکی دفاع کے فرض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ماضی سے سبق سیکھنے اور جنگ کے خلاف شعور بیدار کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ان ملکوں میں اگر رہ رہے ہو تو یہی ہے کہ یا تویہاں سے چھوڑ کےکہیں اور چلے جاؤ یا اگر لازمی سروس ہوتی ہے تو کرو۔ لیکن کوشش یہ کرو کہ ان کو سمجھاؤ کہ یہ جنگیں جو ہیں ان کا فائدہ کوئی نہیں ۔ یہ دنیا کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم میں بھی یہی ہوا تھا اور دوسری میں بھی یہی ہوا تھا، انصاف تو ہے نہیں۔
ایک خادم نے راہنمائی کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نظامِ نَو کے بارے میں جو وصیّت اور تحریکِ جدید کا ذکر فرمایاہے، کیا اس کا آغاز اس جنگ کے عروج کے بعد ہوگا؟
اس پر حضورِ انور نے نظامِ نو اور تحریکِ جدید کی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ نظامِ نَو جو ہے دنیا کا ایک اقتصادی معاشی نظام ہے۔ اس میں آپؓ نے کیپیٹلزم ، سوشلزم اور دوسرے وسائل کا بھی ذکر کیا ہوا ہے۔ اور تحریکِ جدید کے بارے میں کہا کہ یہ وصیّت کے نظام کا اِرہاص ہے، اس سے پہلے آنے والا نظام ہے تاکہ قربانیوں کی عادت پڑجائے۔
[قارئین کی معلومات کے لیے تحریر کیا جاتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ۲۷؍دسمبر ۱۹۴۲ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر’’نظامِ نو کی تعمیر ‘‘کے عنوان سے ایک بصیرت افروز اور تاریخی خطاب ارشاد فرمایا تھا۔ اس خطاب میں آپؓ نے اہم سیاسی و دنیاوی تحریکات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے ان کے بنیادی نقائص کی نشاندہی فرمائی۔ یہ معرکہ آراء خطاب’’نظامِ نو ‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہو کر زینتِ طباعت بن چکا ہے جس سے قارئین استفادہ کر سکتے ہیں۔اس میں آپؓ نے غرباء کی فلاح و بہبود کے حوالے سے یہودیت، عیسائیت اور ہندو مت کی پیش کردہ تجاویز کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ اختتام پر آپؓ نے اسلام کی جامع اور بے مثال تعلیم کو بیان کرتے ہوئے ایک ایسے نئے عالمی نظام کا نقشہ پیش فرمایا جو نہایت دلکش، عملی اور مؤثر تھا۔
اسی تناظر میں آپؓ نے نظامِ وصیت اور تحریکِ جدید جیسی عظیم الشان اور مبارک الٰہی تحریکات کے مستقبل کا تذکرہ بھی فرمایا تھا۔]
حضورِ انور نے مالی قربانیوں کی ترتیب اور تدریج کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مالی قربانیوں کی عادت پڑے گی تو لوگوں کو پھر وصیّت کی طرف بھی رجحان پیدا ہوگا۔ تحریکِ جدید میں تو تھوڑی مالی قربانی ہے۔ وصیّت میں آپ ایک بٹہ دس، ایک بٹہ آٹھ، ایک بٹہ سات یا ایک بٹہ تین تک جا سکتے ہیں۔ تو یہ چھوٹی قربانیاں دینے کے بعد پھر انسان کو شوق پیدا ہوتا ہے کہ بڑی قربانی بھی دوں، تو اس لیے تحریکِ جدید سے ایک قربانی کی عادت پڑے گی ، اس لیے نظامِ نَو میں شامل ہوں۔
پھر حضورِ انور نے نظامِ وصیّت کی وسعت اور اس کے مقاصدِ عالیہ کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ اور وصیّت کا نظام جو ہےوہ بیواؤں اور یتیموں کا خیال رکھنےاوراسلام کی اشاعت کرنے والا نظام ہے۔ تو بڑا وسیع اور بڑا مضبوط نظام ہے۔
بعدازاں حضورِ انور نے جنگ کے ساتھ اس نظام کے تعلق کی نفی کرتے ہوئے اس کے جامع تصوّر پر روشنی ڈالی کہ اب یہ کہنا کہ جی !جنگ کے بعد شروع ہوگا یا جنگ سے پہلے شروع ہوگا غلط ہے۔ مَیں تو پچھلے بیس سال سے کہہ رہا ہوں کہ وصیّتیں کرو ۔ اس وقت کوئی جنگوں کا امکان تو نہیں تھا ۔ گو! مَیں کہا کرتا تھا کہ جنگیں ہو جانی ہیں۔تو اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ تو آپ کے ایمان پرمنحصر ہے کہ ایک احمدی کا کتنا ایمان ہے ۔اگر اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لیے مانا ہے کہ آپؑ کے مشن کو پُورا کرے، تو آپؑ کامشن کیا تھا، آپؑ نے یہی فرمایاہے کہ دو ہی باتیں ہیں۔ایک بندے کو خدا تعالیٰ کے قریب لانا۔ ایک بندوں کے حقوق ادا کرنا ۔اور نظام وصیّت دونوں کام کر رہا ہوتا ہے۔
مزید برآں حضورِ انور نے نظام وصیّت کے عملی فوائد اور خدماتِ انسانیت کے پہلو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مالی نظام سے آپ تبلیغ کے نظام کو بہتر کر سکتے ہیں۔ لٹریچر کے انتظام کو بہتر کر سکتے ہیں۔ مبلغین بھیج سکتے ہیں اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے سکول کھول سکتے ہیں، ہسپتال کھول سکتے ہیں اور دوسرے ایسے جماعتی پراجیکٹ شروع کر سکتے ہیں کہ جس سے خدمتِ انسانیت ہو۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس نظام کے نفاذ کا مدار ایمان اور بعد از جنگ اس کےممکنہ غیر معمولی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تو یہ وصیّت کا نظام تو بڑا وسیع نظام ہے۔ اس کا نہ جنگ سے پہلے کا تعلق ہے، نہ بعد کاتعلق ہے۔ اس کا آپ کے ایمان سے تعلق ہے کہ کتنا آپ کاایمان بڑھا ہے۔ جتنا ایمان بڑھے گا، اتنا ہی وہ جلدی رائج ہو جائے گا۔ ہاں! جنگ کے بعد جو دنیا ٹوٹ پھوٹ جائے گی اس وقت اگر یہ نظام قائم ہوگا اور جو لوگ بچیں گے اور ان کے وسائل بھی ہوں گے تو وہ پھر اس نظام کے تحت آ کے دنیا کو reconstructکریں گے۔
حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں ایک پیش کیا جانے والا سوال یہ تھا کہ اسلامی نقطۂ نظر سے کسی نسلی، مذہبی یا نظریاتی گروہ کے لیے کسی موجودہ ریاست سے علیحدگی اختیار کرنا کب جائز ہوتا ہے؟
اس پر حضورِ انور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ سے عملی راہنمائی حاصل کرنےکی بابت توجہ دلائی کہ اسلامی نقطۂ نظر میں ہماری مثال تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔آپ مکّہ میں تیرہ سال رہے، سختیاں برداشت کرتے رہے۔ وہاں جو کفّارِمکّہ تھے، وہ مذہبی طور پر بھی نقصان پہنچاتے رہے اور نسلی لحاظ سے بھی ان کا جو معیار تھا وہ بہت گرا ہوا تھا، غلام بناتے تھے ، لوگوں کو پکڑ کے لاتے تھے اور غلاموں کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ نظریاتی طور پر بھی، عقائد کے لحاظ سے بھی اسلام کا اور ان کے عقائد کا فرق تھا، وہ۳۶۰؍ بُتّوں کی پوجا کرنے والے تھے اورآپؐ خدائے واحد کو ماننے والے تھے۔ تو وہ ساری مثالیں ہونے کے باوجود آپؐ نے ان کے خلاف وہاں جہاد نہیں کیا۔
حضورِ انور نے ہجرت کے الٰہی حکم اور اس کے مرحلہ وار نفاذ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اور جب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ہجرت کر جاؤ ، تو تب آپؐ نے ہجرت کی۔ اس سے پہلے آپؐ نے اپنے لوگوں کو حبشہ بھیجا اور ہجرت کرنے کے لیے کہا۔ اس کے بعد خود ہجرت نہیں کی، کہا کہ اللہ تعالیٰ کا مجھے حکم نہیں ۔پھر جب وقت آیا تو خود بھی ہجرت کر لی کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔
پھر حضورِ انور نے موجودہ دَور میں ہجرت کے فیصلے کے اصول اور اس سے متعلق ذمہ داری کو واضح کرتےہوئے ارشاد فرمایا کہ تو نبی ؐکو تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اب ہجرت کا وقت ہے ۔ ہمارے لیے تو یہی ہے کہ جیسے پہلے مَیں نے ان کو بات کی ہے کہ جب ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں تو پھر یہ آپ خود سوچیں کہ کب ہم نے ہجرت کر کے کسی ایسی جگہ جانا ہے کہ جہاں امن ہو، نسلی امتیاز نہ ہو اور مذہبی آزادی ہو۔
بعدازاں حضورِ انور نے عملی مثال کے ذریعے ہجرت کے حقیقی مقصد کی یاددہانی کرواتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان سے آپ ہجرت کر کے آئے۔ آپ لوگوں کے سامنے مثال ہے کہ کس لیےآئے۔ گو یہاں آ کے بھول گئے کہ ہم کس لیے آئے تھے۔ آئے تو اس لیے تھے کہ مذہبی آزادی نہیں تھی، اذان نہیں دے سکتے تھے، سلام نہیں کہہ سکتے تھے ، کلمہ نہیں پڑھ سکتے تھے، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ نہیں کہہ سکتے تھے اورنمازیں نہیں پڑھ سکتے تھے۔اس لیےآپ نے کہا کہ مذہبی آزادی کے لیے ہم ہجرت کر جائیں۔تو ہجرت کرکے یورپ میں بھی آئے، امریکہ بھی آئے، دوسرے ملکوں میں گئے، لیکن یہاں آ کے بھول گئے اور دنیا میں ڈوب گئے۔ اس مقصد کو بھول گئے جس کے لیے آئے تھے۔ نہ اللہ یاد رہا اور نہ رسول یاد رہا۔ بس دنیا داری یاد رہ گئی ۔
اسی طرح حضورِ انور نے اس طرزِ عمل کے نتائج اور اللہ تعالیٰ کے سلوک کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تو اگر یہی کچھ کرنا ہے تو پھر آپ سے اللہ تعالیٰ کیا سلوک کرے گا؟ پہلے تو بتاؤ کہ جس مقصد کے لیےآئے تھے وہ مقصد پُورا کر دیا۔ اگر نہیں کیا تو پھر اللہ سے اُمیدبھی نہ رکھو کہ آپ سے وہ کوئی بہتری کا سلوک کرے۔ ہاں! اگر جو لوگ اس مقصد کو پُورا کررہے ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ پھر بہتری کا سلوک بھی کرتا ہے۔ ان کو بہت رِیوارڈ بھی دیتا ہے اور مِل بھی رہا ہے۔
مزید برآں حضورِ انور نے ہجرت کے جواز اور اس کے قرآنی اصول کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تو مذہبی آزادی کے لیے توآپ نے یہ صورت اختیار کی کہ کب وہ جائز ہوگا، اس وقت جائز ہوگا، جب پابندیاں لگیں اور آپ لوگوں نے وہاں سے ہجرت کی ۔ کچھ لوگ ہجرت نہیں کر سکے۔ قرآنِ شریف میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے کیوں تسلیم کیا، ہجرت کر جاتے، اگر تمہیں خوف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہجرت کے وسائل نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو ہجرت کی پابندی ہے، کچھ وسائل نہیں ہیں اور بالکل پابند ہو گئے ہیں کہ ہجرت نہیں کر سکتے ان کوتو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا۔ لیکن اگر وسائل ہیں اور تم لوگ ہجرت کر سکتے ہو تو کرو تاکہ مذہبی آزادی حاصل ہو۔
اس کے بعد حضورِ انور نے نسلی و نظریاتی مسائل اور موجودہ عالمی حالات کا تناظر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نسلی امتیاز ہے یا نظریاتی نقطہ یا عقائد کا سوال ہے، عقائد اور مذہب میں ایک ہی بات آ جاتی ہے۔نظریہ تو نہیں ہے کہ کیپیٹلزم اور اس کا سوال ہے۔ یہاں تو سیکولر سٹیٹس ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فی الحال مذہب کی آزادی ہے۔ لیکن اس وقت تک آزادی یہ لوگ بھی دیں گے کہ جب تک ان کے اپنے interest متاثر نہ ہو رہے ہوں۔ جب وہ متاثر ہوں گے تو یہاں بھی آپ کے ساتھ وہی سلوک ہوگا۔ پھر آپ کہیں گے کہ چلو افریقہ چلو یا کہیں اَور ملک میں چلے جاؤ، Far East میں چلے جاؤ۔
حضورِ انور نے موجودہ دنیا میں عمومی فساد کے پھیلاؤ اور ہجرت کی عملی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ جب انسان پر ایسے حالات آ جاتے ہیں کہ بہت تنگی ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ پھر تم ہجرت کر جاؤ اور پھر وہاں دیکھنا پڑے گا کہ دنیا میں اب کون سی جگہ ہے کہ جہاں ہجرت کر کے جاؤ، ہر جگہ فساد ہی فساد ہے، ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ والا حساب ہے۔ دنیا میں ہر جگہ فساد پھیلا ہوا ہے۔
جواب کےآخر میں حضورِ انور نے موجودہ حالات میں احمدی کے اصل فرض اور حکمتِ عملی کی بابت راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ ان حالات میں تو احمدی کا صرف یہ کام ہے کہ مردِ میدان بنو اور ایک جوش کے ساتھ دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف لاؤ اور دنیا میں انقلاب پیدا کرو۔ بجائے یہ کہو کہ ہم ہجرت کر جائیں ۔ہجرت کے حوالے سے تو سارے ملکوں کا ایک حال ہو گیا ہے۔ نہ اسلامی ملک محفوظ رہا ہے، نہ عیسائی ملک رہا ہے، نہ یورپ رہا ہے، نہ افریقہ رہا ہے ،نہ امریکہ رہا ہے۔ کہاں جاؤ گے؟ یہی دنیا ہے۔ اس میں رہنا پڑے گا اور یہیں اپنے آپ کوadjustکرنا پڑے گا۔ نیز اس بات پر زور دیا کہ ہمارے پاس ایک ہی دنیا ہے۔ تو اب یہی ہےکہ ہم دنیا کو اللہ کے قریب لائیں۔ ہجرت تو اب آپ نے اس مقصد کے لیےکر لی ، اس ہجرت کے مقصد کو پورا کر لیں، تو ابھی بھی آپ کچھ کر سکتے ہیں۔
ایک خادم نے عرض کیا کہ جرمنی میں اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کے حوالے سے یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ ہمارے سیاستدان اور میڈیا اسرائیلی حکومت کی antisemitismکے ڈر کی وجہ سے بالکل بھی کوئی تنقید نہیں کرتے۔اس لحاظ سے ہمیں تبلیغ کرتے ہوئے کیسے پیش آنا چاہیے۔جب جرمنی کے اتحادیوں کی بات ہو تو جرمن حکومت خاموش رہتی ہے اور جب مخالف حکومتیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کریں، تو نا انصافی سے پیش آتے ہیں۔ کس طرح ہم ان لوگوں کو سمجھا سکتے ہیں کہ یہ انصاف سے کام لیں؟
اس پر حضورِ انور نے تبلیغ کے عقلمندانہ اور عملی طریقِ کار کے بارے میں راہنمائی عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا کو بتاؤ کہ یہ فلسطین میں جو ہوا ، وہ ظلم ہوا، اس کا antisemitismسے کوئی تعلق نہیں۔
حضورِ انور نے خود یہودی حلقوں کے اندر سے آنے والی آوازوں کو بطورِ دلیل استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی کہ پھر حوالے تلاش کرو۔بہت سارے لوگ ہیں، امریکن یہودی ہیں، یورپ کے یہودی ہیں، اسرائیل کے اندر even اب یہودی ہیں کہ جو کہتے ہیں کہ ہم نے ظلم کیا ہے ۔ ان کے حوالے دیکھو۔ کہو کہ یہ یہودی کہتے ہیں تو اب بتاؤ کہ اس کا کیا حل ہے۔
پھر حضورِ انور نے مؤثر تبلیغ اور طرزِ استدلال کے لیےغیروں کے سامنے انہی کے حوالہ جات پیش کرنے کی غرض سے تحقیق اور محنت سے ایسے مواد کی تلاش اور اسے جمع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تبلیغ کا طریقہ ہوتا ہے ۔ تو ان کے اپنے لوگ جو بول رہے ہیںانہی کو استعمال کرو۔ بجائے یہ کہنے کے کہ ہم یہ کہتے ہیں یاقرآن یہ کہتا ہےتو وہ کہیں گے کہ قرآن کو تو ہم مانتے ہی نہیں ، نہ یہ مانتے ہیں کہ اسلام کیا کہتا ہے، وہ تو ویسے ہی اسلام کے خلاف ہیں ۔ تو ان کے لیے پھر ان کے اپنے لوگوں کے چہرے دکھاؤ ۔ حضورِ انور نے ہدایت فرمائی کہ وہ حوالے تلاش کرو۔ہم نے وہ بہت سارے تلاش کیے ہیں، تم لوگ بھی کرو۔ محنت کرو ، خبریں پڑھا کرو اور جاکے لوگوں کے سوشل میڈیا بھی دیکھا کرو۔ صدر صاحب ایک سوشل میڈیا کا سیل بنائیں ۔ جتنے یہ دنیا کے دنیا دار لوگ ہیں ،جو فلسطین کے اُوپر یا اسرائیل کے اُوپر یا یورپ کے اُوپر یا امریکہ کے اُوپر اپنے comments دیتے ہیں، یہ مواداکٹھا کریں ۔اور مواد اکٹھا کر کے تو پھر انہی کے ہتھیار ان پر استعمال کرو ، ان کے حوالے دو کہ ہم نہیں یہ کہتے، تمہارے لوگ یہ کہتے ہیں۔
بعدازاں حضورِ انور نے جرمن معاشرے کے اندر موجود مختلف آراء کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اور یہ نہیں ہے کہ جرمن قوم کو پتا نہیں ہے۔ چانسلر صاحب جو مرضی کہتے رہیں۔ سیاستدان جو مرضی کہتے رہیں۔ لیکن جرمن قوم میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو اسرائیل کے خلاف کھل کے بولتے ہیں،ان کو antisemitismکا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ تو آپ لوگوں کو کیوں خطرہ ہے۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اصل حکمت ِعملی یعنی عوامی سطح پر کام کرنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے تلقین فرمائی کہ آپ نے لوگوں میں جانا ہے۔masses کوmove کر دو ،جب عوامmove ہو جائیں گےتو خود بخود انقلاب لے آئیں گے۔ خود بخود رائے بدل جائے گی۔ اس لیے عوام میں جاؤ ۔سیاستدانوں کی بڑی بڑی باتیں چھلانگیں مارتے ہوئے کہ یوں کر دیں گے وُوں کر دیں، وہاں تم لوگ جاتے کیوں ہو، grassroots پر کام کرو۔
ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ موجودہ عالمی حالات کے پیشِ نظر ہماری نسل کو بچوں کی تربیت میں کن پہلوؤں پر خاص توجہ دینی چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے استفہامیہ انداز میں فرمایا کہ اگر نارمل حالات ہوتے تو کیا توجہ دیتے؟
سائل کی جانب سے نماز پر دھیان دینے اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے کی وضاحت پر حضورِ انور نے تربیت کے مستقل اور بنیادی مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اور اسلام کی تعلیم پر عمل کرنا۔تو وہ اب بھی یہی ہے۔ دو مقصد ہیں اور ہمیشہ یاد رکھو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو مقصد مَیں نے ابھی بیان کیے ہیں کہ اللہ کے قریب لانا اور بندوں کی خدمت کرنا۔ بس یہ دو مقصد ہیں کہ جن میں تربیت کرنی ہے۔
حضورِ انور نےبچوں کی تربیت کا آغاز والدین کے ذاتی عمل سے وابستہ ہونے کی بابت توجہ دلائی کہ تربیت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک آپ لوگوں کے اپنے رویّے ٹھیک نہیں ہوں گے۔ اگر بیوی سے لڑائی کر رہے ہیں اور رشتہ داروں سے لڑائی کر رہے ہو ، بھائیوں سے لڑائی کر رہے ہو، اپنے اِدھر اُدھر فراڈ کر رہے ہو، ٹیکس چوری کررہے ہو، تو بچوں کی کیا تربیت کرو گے؟پس اپنی اصلاح کر لو تو بچوں کی تربیت آپ ہی ہو جائے گی۔ مقصد دو ہی ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول سے تعلق اور بندوں کے حق کی ادائیگی۔ یہ تربیت اگر دماغوں میں ڈال دو تو اسی میں اعلیٰ اخلاق آ جاتے ہیں۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے حقوق الله اور حقوق العباد کی تعلیم کے جامع اور اخلاقی پہلو کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ خلیفہ رابع رحمہ الله نے ایک دفعہ پانچ بنیادی اخلاق کے بارے میں خطبہ دیا تھا۔ اگر انسان سوچے تو وہ پانچ بنیادی اخلاق اسی میں آ جاتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان کر دیے۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرّابع رحمہ الله نے مورخہ۲۴؍ نومبر ۱۹۸۹ء کو مسجد فضل لندن برطانیہ میں پانچ بنیادی اخلاق پر عمل کرنے کی تحریک فرمائی تھی، جن میں سچ کی عادت، نرم اور پاک زبان کا استعمال، وسعتِ حوصلہ، غریب کی ہمدردی اور دکھ دُور کرنا اور مضبوط عزم و ہمت شامل ہیں۔ نیز ارشاد فرمایا تھا کہ یہ وہ پانچ بنیادی اخلاق ہیں، جو مَیں سمجھتا ہوں کہ ہماری تنظیموں کو خصوصیت کے ساتھ اپنے تربیتی پروگرام میں پیشِ نظر رکھنے چاہئیں، ان پر اگر وہ اپنے سارے منصوبوں کی بنا ڈال دیں اور سب سے زیادہ توجہ ان اخلاق کی طرف کریں تو مَیں سمجھتا ہوں کہ اس کا فائدہ آئندہ سو سال ہی نہیں بلکہ سینکڑوں سال تک بنی نوع انسان کو پہنچتا رہے گا۔ کیونکہ آج کی جماعت احمد یہ اگر ان پانچ اخلاق پر قائم ہو جائے اور مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجائے اور ان کی اولادوں کے متعلق بھی یہ یقین ہو جائے کہ یہ بھی آئندہ انہی اخلاق کی نگران اور محافظ بنی رہیں گی اور ان اخلاق کی روشنی دوسروں تک پھیلاتی رہیں گی اور پہنچاتی رہیں گی، تو پھر مَیں یقین رکھتا ہوں کہ ہم امن کی حالت میں اپنی جان دے سکتے ہیں، سکون کے ساتھ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر سکتے ہیں اور یقین رکھ سکتے ہیں کہ جو عظیم الشان کام ہمارے سپرد کیے تھے ہم نے جہاں تک ہمیں توفیق ملی ان کو سر انجام دیا۔]ایک خادم نے سوال کیا کہ جب آپ آجکل کے نوجوانوں کو دیکھتے ہیں تو آپ کے خیال میں اس دَور کی سب سے خطرناک روحانی بیماری کون سی ہے اور ہمیں اس سے محفوظ رہنے کے لیے آپ کیا نسخہ عطا فرماتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے تاریخی تناظر میں روحانی زوال کے کسی ایک دَور تک محدود ہونے کی نفی کرتے ہوئے ہر دَور میں مختلف شکلوں میں اس کے ظاہر ہونے کی بابت فرمایا کہ سب سے زیادہ جو زوال تھا اور بُری حالت تھی وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھی، جو ہر طرف شرک پھیلا ہوا تھا۔ عیسائیت میں بھی، یہودیت میں بھی اور اس کے علاوہ دنیا میں بھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم لے کے آئے۔اس لیے آجکل کے حالات ، کل کے حالات کا سوال نہیں، اس کے بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ایک ہزار سال کا زمانہ گزرا۔ پہلے تین سو سال کے علاوہ زوال کا زمانہ تھا۔ پھر مسیح موعودؑ نے آنا تھا، مسیح موعودؑ آئے تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ دنیا دوبارہ انتہائی گراوٹ میں جا چکی ہے۔
حضورِ انور نے اصل روحانی بیماری کی نشاندہی کرتے ہوئے اخلاقی گرواٹ کے نتیجے میں جنم لینے والی بُرائیوں کی بابت بیان فرمایا کہ اس لیے ابھی مَیں وہی جو باتیں کر رہا ہوں ، وہی تمہارے سوال کا جواب بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کو بھول گئے، اپنے حقوق ادا کرنے بھول گئے اور جو خدا تعالیٰ کو بھول جائے تو روحانی بیماری بڑھتی ہے ۔اور جب روحانی بیماری بڑھتی ہے تو اخلاقی لحاظ سے بھی زوال آ جاتا ہے۔اخلاقی طور پر انسان نیچے گر جاتا ہے اور اس کے کوئیmoralsنہیں رہتے اور جب وہ نہیں رہتے تو فراڈ ہے، چوری ہے ، جھوٹ ہے ، اس قسم کی باتیں پھر ہونے لگ جاتی ہیں۔
پھر حضورِ انور نے خود احتسابی اور عبادت کی روح کے مطابق پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ فرمایا کہ آجکل یا کل پرسوں کی بات کوئی نہیں ہے۔ اس لیے خود اپنے جائزے لو کہ دنیا میں کتنی اخلاقی بُرائیاں پیدا ہو چکی ہیں ۔خدا تعالیٰ سے لوگ کتنا دُور ہو چکے ہیں ۔آپ لوگ یہاں بیٹھے ہیں، اپنا جائزہ لیں کہ کیا آپ لوگ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں؟ پڑھتے ہیں، تو دو منٹ میں اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ اکبر! کر کے سلام پھیر کے چھٹی کر دی ہے یا واقعی سجدے میں اور رکوع میں دعا کرتے ہیں۔ فرض نمازوں کے علاوہ دو نفل بھی پڑھ لیتے ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ کیا کیا فرائض ہیں؟ آپؐ نے بتایا کہ یہ یہ فرائض ہیں۔ اس نے کہا کہ مَیں ان فرائض کے علاوہ کچھ نہیں کروں گا ۔ مَیں نفل نہیں ادا کروں گا۔ تو جب اُٹھ کے چلا گیا تو آپؐ نے صحابہؓ کو فرمایا کہ اگر یہ ان فرائض کو بھی ادا کر دے تو یہ جنّت میں چلا جائے گا۔پہلے جائزہ لیں۔فجر پروقت پر اُٹھیں۔ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء پر نماز ادا کی۔ یہ تو اپنا انسان کا ڈسپلن ہو جاتا ہے ۔
اسی طرح حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کی نگرانی کے ہمہ وقت شعور کو حقیقی روحانی حفاظت کا بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تو سب سے بڑا ڈسپلن کا نظام جو اسلام میں ہے، یہی ہے کہ پانچ وقت کی نمازیں ادا کر لو، اور جب انسان disciplined ہو جاتا ہے تو اس کو خدا کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے اور بندوں کے حقوق کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔روحانیت بھی بہتر ہوتی ہے اور یہ دنیا جو آجکل دین سے دُور ہے، خدا سے دُور ہے ، اس لیے کوئی خوف نہیں نہ رہا۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے ۔ہر وقت دماغ میں یہ رکھو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔
جواب کےآخر میں حضورِ انور نے سی سی ٹی وی کیمرے کی مثال سے مسلسل نگرانی کے احساس کو سمجھاتے ہوئے روحانی بیماریوں کے اصل علاج کی بابت راہنمائی عطا فرماتے ہوئے یاد دلایا کہ مَیں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ یہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں، تو بعض لوگ اُلٹی حرکتیں نہیں کرتے کہ کیمرے میں ریکارڈ ہو جائے گا اور سکرین پر کوئی دیکھ نہ لے۔ پھر حضورِ انور نے دستِ مبارک سے نشاندہی کرتے ہوئے سمجھایا کہ تو اللہ تعالیٰ جس کی اُوپر سے لے کر نیچے تک ہر وقت اس کی نگرانی ہے اور دیکھ رہا ہے۔ اس کو تو کسی ایک angleپر سی سی ٹی وی کی ضرورت نہیں ہے۔اس کا تو ہرangleپر سی سی ٹی وی لگا ہوا ہےجو اللہ کو خبریں پہنچا رہا ہے۔ تو اگر یہ دماغ میں سوچ لو تو روحانی بیماریاں نہیں آتیںاور دنیا نے یہی روحانی بیماریاں پیدا کی ہوئی ہیں ۔ شراب ہے، زنا ہے، غلط دوستیاں ہیں ، لڑکیوں کے ساتھ دوستیاں ہیں یا اور لڑکوں کے ساتھ غلط کام ہیں یا دوسری بُرائیاں ہیں ، چوری ہے ،چکاری ہے، بہت ساری چیزیں ہیں۔ تو اخلاقی بُرائیاں ہیں، ساری بُرائیاں جو ہیں، اگر یہ پتا لگ جائے کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے تو وہ بُرائیاں انسان نہ کرے۔ تو ان بُرائیوں کو ان ملکوں میں رہ کے، بلکہ اب تو پاکستان اور مسلمان ملکوں کا بھی یہ حال ہو گیا ہے کہ اخلاقی بُرائیاں بے انتہا ہو چکی ہوئی ہیں، تو جب ان اخلاقی برائیوں کو ٹھیک کر لو گے تو روحانی بیماریاں بھی دُور ہو جائیں گی اور وہ اس وقت ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ہو کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ نسخہ یہی ہے۔
ایک خادم نےعرض کیاکہ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ نے متنبّہ فرمایا تھا کہ اسلام مخالف قوتیں مکّہ اور مدینہ کو فتح کرنے کی کوشش کریں گی۔اس حوالے سے مزیدراہنمائی کی عاجزانہ درخوست ہے۔
اس پر حضورِ انور نے فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ وہ تو ان کی کوشش ہے کہ وہ مکّے اور مدینے میں پہنچیں۔حضورِ انور نےحضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کے خطبات کے پس منظر کو واضح فرمایا کہ خلیفہ رابعؒ کے خطبات کا ایک تسلسل تھا ، وہ خطبوں کی ایک سیریز تھی، گلف کرائسز پر خطبے تھے۔ اس کااُردو نام خلیج کا بحران ہے اور اگر اُردو نہیں پڑھنی آتی تو گلف کرائسز انگلش میں ہے ۔ وہ سات دس خطبات ہیں، اس میں جو عراق میں جنگ ہوئی تھی، اس کے اُوپر انہوں نے خطبے دیے تھے اور آخر میں یہ بھی کہا تھا کہ یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں خلیجی جنگ کے ہولناک اور تباہ کن حالات کے تناظر میں خطباتِ جمعہ کا ایک بصیرت افروز سلسلہ ارشاد فرمایاتھا۔ ان خطبات میں نہ صرف اس جنگ کے سیاسی اور اخلاقی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی، بلکہ عالمی نظام کے بدلتے ہوئے نقشے اور مستقبل کے عالمی چیلنجز کی طرف بھی توجہ دلائی گئی۔بعد ازاں ان خطبات کو’’خلیج کا بحران اور نظامِ جہانِ نو‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع کیا گیا، جس کا انگریزی ترجمہ “The Gulf Crisis and The New World Order” کے نام سے بھی موجود ہے۔
یہ اہم اور فکرانگیز کتاب جماعت احمدیہ کی ویب سائٹ الاسلام پر مطالعہ کے لیے دستیاب ہے جو قارئین کے لیے عالمی سیاست، امن اور انصاف کے موضوع پر ایک قیمتی فکری راہنمائی فراہم کرتی ہے۔]
پھر حضورِ انور نے مومنین کی حفاظت کے الٰہی وعدے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لوگ تم پر مسلّط نہیں ہوں گے۔ مطلب جو احمدی مخلص احمدی ہیں، جماعت کے ساتھ تعلق ہے یاحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو پُورا کرنے کےلیے لگے ہوئے ہیں، اسلام کی صحیح تعلیم پرعمل کر رہے ہیں، ان پران کا اثر نہیں ہوگا، نہ اسلام پر اس کا اثر ہوگا۔
اسی طرح حضورِ انور نے حقیقی مومنین کے تحفظ، الٰہی نصرت کےدائمی وعدے اور اس کے تسلسل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا جہاں تک تعلق ہے کہ یہ کوئی چیزوں کو بگاڑ دیں یا آپؐ کے نعوذ باللہ! مزار وغیرہ پر کچھ کریں، تو مَیں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نےجو قرآنِ شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے: یَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِکہ ہم تمہیں لوگوں سے بچائیں گے۔ وہ آپؐ کی وفات کے بعد بھی چل رہا ہے۔ یہ آپؐ کے وصال کے بعد بھی ہے۔اور جو صحیح حقیقی طور پر آنحضرتؐ کی تعلیم پر عمل کرنے والے مسلمان ہوں گے ان کو اللہ تعالیٰ بچائے گا اور مدینہ اور مکّہ کو ان شاء اللہ تعالیٰ بچائے گا۔
بعدازاں حضورِ انور نے اس قسم کی مذموم کوششوں کے مقابلے میں روحانی حکمتِ عملی بیان کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کے عملی کردار پر روشنی ڈالی کہ ہاں! گو کوشش ان کی یہی ہوگی اور جماعت احمدیہ کا بھی یہ کردار ہے کہ اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے ایک تو دعاؤں کے ذریعے سے کام لے۔قرآنِ شریف میں اسرائیل کے آبادی کے بارے میں سورۃ بنی اسرائیل میں پہلے رکوع میں یا سورت انبیاء میں ایک آیت میں جو پیشگوئی ہے اس کا بھی خلاصہ یہی ہے کہ جب یہ لوگ زیادتی کرتے رہیں گے۔ ایک دفعہ، دو دفعہ نکالے جائیں گے۔وہاں سے یہ دو دفعہ نکالے گئے، تیسری دفعہ زیادتی کریں گےتو پھر نکالے جائیں گے ۔پھر دوبارہ آباد نہیں ہوں گے۔ لیکن نکالے کس طرح جائیں گے، وہ جنگوں سے یا ہتھیاروں سے نہیں نکالے جائیں گےبلکہ وہ دعاؤں سے نکالے جائیں گے۔تو اس میں احمدیوں کاکردار یہ ہے کہ دعائیں کریں اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کریں، اپنی روحانیت کو بڑھائیں۔پہلے بھی مَیں بیان کر چکا ہوں۔
جواب کے آخر میں موخر الذکر تناظر میں حضورِ انور نے اصل بنیاد اور مرکزِ توجہ کو واضح کرتے ہوئے اس اَمر پر زور دیا کہ اور اگر یہ حالت ہوگی تو ان شاء اللہ تعالیٰ آپ لوگ وہ کردار ادا کرنے والے ہوں گے کہ اپنے زمانے میں وہ زمانہ دیکھیں گے کہ جب اسلام کا بول بالا ہوگا، تو وہی بات کہ آ کے یہاں تان ٹوٹتی ہے کہ اللہ سے تعلق ہو۔ ہمارا سارا جو محور ہے، جوaxis ہے، وہ یہی اللہ ہے ۔ اس کے گرد گھومتے رہو تو سب کچھ مِل جائے گا۔
ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ بطور طالبِ علم اور عام زندگی میں ہم توکّل کو عملی طور پر کیسے اپنائیں ، خاص طور پر مشکل فیصلوں میں ہمیں کیسے پتا چلے کہ ہم نے صحیح راستہ چنا ہے یا نہیں؟
اس پر حضورِ انور نے اصولی راہنمائی عطا فرمائی کہ آپ کو الہام تو ہوتے نہیں۔ نہ ضروری ہے کہ خوابیں آئیں۔
حضورِ انور نے فیصلہ کرنے کی بابت استخارے کی حقیقت اور اس کے بنیادی مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک فیصلہ کرتے ہیں ، اس کےلیے استخارہ کریں، استخارے کا مطلب اللہ تعالیٰ سے خیر مانگنا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے مانگنا کہ اے اللہ! اگر یہ کام میرے لیے بہتر ہے تو اس میں میرے لیے آسانیاں پیدا کر دے اور سہولتیں پیدا کر دے اور اگر یہ کام میرے لیے بہتر نہیں ہے تو اس میں میرے لیے روک ڈال دے اور میرے دل میں انقباض پیدا کر دے۔تو اگر دل کو تسلّی ہو جاتی ہے، اس کام کو کرنے کی طرف شوق پیدا ہوتا ہے توپھر اللہ پر توکّل کرو اور اس کام کو انجام دو پھر اللہ تعالیٰ اس کے بہتر نتائج نکالے گا۔اور اگر دعا کرنے کے بعد دل کی تسلّی نہیں ہوتی، روزانہ دو نفل پڑھ کر، کم از کم چالیس دن دعا کرنے کے بعد تسلّی نہیں ہوتی پھر اس کو چھوڑ دو۔پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، جو میرے لیے بہتر ہے ، وہ مجھےکرنے کی توفیق دے۔
مزید برآں حضورِ انور نے کیریئر کے انتخاب میں راہنمائی، دعا اور توکّل کے بنیادی اُمور کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ایک چیز میں دلچسپی ہے، بعض دفعہ آدمی کے پاس دو تین آپشن ہوتی ہیں، مجھے جو لکھتے ہیں کہ یہ دو چار آپشن ہیں ۔ اب ہماری دلچسپی ان ساروں میں ہے اور ہم فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ کیا کریں تو آپ بتا دیں کہ کیا کریں۔ تو جو سمجھتا ہوں کہ لوگ مشورہ لینے میں واقعی سنجیدہ ہیں اور جو مَیں کہوں گا اس پر عمل کر بھی لیں گے، صرف خط لکھ کے خانہ پوری نہیں کر رہے ۔ تو ان کو مَیں کہہ دیتا ہوں کہ اچھا !پھر یہ فیلڈ لے لو۔یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ۔اور وہ لے لیتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو کامیابی بھی مل جاتی ہے۔ اسی طرح حضورِ انور نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ باقی! یہ خود بھی آپ لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں، دعا کر کے اللہ سے مانگیں کہ اگر یہ میری دلچسپی کا مضمون ہے، یہ کیریئر ہے، مَیں نے اپنانا ہے، اس میں اگر میرے لیے بہتر ہے تو اس میں آسانی پیدا کر اور اگر نہیں بہتر تو روک ڈال دے اور مجھے کسی اَور طرف راہنمائی کر دے اور پھر اللہ تعالیٰ دل میں ہی دوسری طرف جانے کا خیال ڈال دیتا ہے اور پھر توکّل کرتے ہوئے اس کو اختیار کر لو۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس بات پر زور دیا کہ یہی توکّل ہے، نیز اوّل الذکر فرمودہ نصیحت کا اعادہ کرتے ہوئےفرمایا کہ باقی! اس بات کو رہنے دو کہ تمہیں کوئی خواب آئے گی یا الہام ہو گا۔ کچھ نہیں ہوگا۔ابھی تمہاری الہامی کیفیت بہت دُور ہے ۔
ایک خادم نے راہنمائی کی درخواست کی کہ روحانی نقطۂ نگاہ سے ہمارے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا کس قدر اہمیت رکھتا ہے؟
اس پر حضورِ انور نے علم حاصل کرنے کی مسلسل اور عمر بھر جاری رہنے والی بنیادی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ روحانی نقطہ ٔنگاہ سے علم حاصل کرنا تو اچھی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ علم حاصل کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرو۔ جب بچے ہو، اس وقت سے لے کے اپنی قبر تک، حدیث میں آیا ہے ۔ تو قبر تک علم حاصل کرنے کا حکم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی کو ہمیشہ علم حاصل کرتے رہنا چاہیے۔
حضورِ انور نے علم کی حقیقی روح کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اور عالِم ، علم حاصل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے پسند کیا ہے۔ لیکن اگر وہ علم کسی بڑائی یا تکبّر کی وجہ بن رہا ہے تو وہ علم نہیں، وہ جہالت ہے۔اس لیے علم حاصل کرو اور علم حاصل کر کے اپنے اندر عاجزی پیدا کرو اور جب عاجزی پیدا ہوگی تو وہ علم جو ہے ، وہ فائدہ مند بھی ہوگا۔ اس علم کو دوسروں کو بتاؤ گے بھی، تو عاجزانہ رنگ میں بتاؤ گے، تاکہ جو تم نے فائدہ اُٹھایا ہے، اس سے لوگ بھی فائدہ اُٹھا سکیں۔تو ایسا علم حاصل کرنا انسان کی اپنی اخلاقی اقدار کو بھی بہتر کرتا ہے اور اخلاقی قدریں جب بہتر ہوتی ہیںتو انسان میں اللہ تعالیٰ کا خوف بھی پیدا ہوتا ہے۔
مزید برآں جواب کے آخر میں حضورِ انور نے علم، روحانیت میں اضافے اور دعا کے باہمی تعلق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پھر مَیں نے پہلے بتایا ہے کہ روحانیت اور یہ چیزیں آپس میں ملتی ہیں۔ ان کا تعلق ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔ اور پھر انسان دعا کرے گا کہ اللہ تعالیٰ میرے علم کو اور بڑھائے تاکہ مَیں خود بھی اس سے فائدہ اُٹھاؤں اور انسانیت کو بھی فائدہ پہنچاؤں۔اسی سے روحانیت بھی بڑھتی ہے۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔
٭…٭…٭




