امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ کی خاتون میئر کی ملاقات
ایک جرمن شہری یا کسی بھی یورپ کے ملک کا شہری ہونے کی حیثیت سے ہم ملک سے محبّت کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ایمان کا حصّہ ہے کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنے وطن کی محبّت انسان کے ایمان کا حصّہ ہے تو چونکہ ہم اس ملک میں آباد ہیں ، توہم اس ملک سے محبّت کرتے ہیں اور ہم ملک کی بہتری کے لیے اپنی کوشش کرتے ہیں
مورخہ ۲۰؍ اپریل۲۰۲۶ء ، بروزپیر، امام جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ کی خاتون میئر محترمہStefanie Jansen کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں حضورِ انور کے دفتر میں منعقد ہوئی۔ موصوفہ نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے جرمنی سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔
[قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ یہ شہر جرمنی کےصوبہ Baden-Württemberg میں دریائے Neckarکے کنارے واقع ہے۔ یہ شہر اپنی قدیم یونیورسٹی Heidelberg University کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔جو جرمنی کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کا مشہور قلعہ Heidelberg Castle سیاحوں کی بڑی توجہ کا مرکز ہے، جو شہر کی پہاڑی پر واقع ہے اور دریائےNeckarکے خوبصورت نظارے پیش کرتا ہے۔ ہائیڈل برگ اپنی علمی، ثقافتی اور سیاحتی اہمیت کی وجہ سےعلم کا شہر بھی کہلاتا ہے۔]دورانِ ملاقات موصوفہ نے مسلمان دشمنی اور نسل پرستی کا مقابلہ کرنے میں اپنے کردار کے متعلق بات کی اور ان معاملات کے حوالے سے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں راہنمائی کی درخواست کی۔
اس پر حضورِ انور نے مسلمانوں اور بالخصوص احمدی مسلمانوں کے بنیادی موقف یعنی امن، محبت اور وطن سے وفاداری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے اور مسلمانوں میں جہاں تک ہم احمدی مسلمانوں کا تعلق ہے، تو ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلق پر یقین رکھتے ہیں اور ہم یہ مانتے ہیں کہ ملک کا شہری ہونے کی حیثیت سے ہم پر فرض ہے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ ملک کی خدمت کریں اور چونکہ ہمارے ذہن میں یہ تصور قائم ہے اور چونکہ ہمارے دل میں یہ عزم قائم ہے تو ہم ملک کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔
مزید برآں حضورِ انور نے مسلمانوں کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مکالمے اور براہِ راست رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے ان مسلمانوں کی طرف سے جو باعمل مسلمان ہیں ، یورپ کے خلاف جذبات دل میں رکھنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے، یہی پیغام ہے کہ محض بے بنیاد سوچ پر کوئی تصوّر قائم کرنے کی بجائے آپ کو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے اور مسلمانوں کے ساتھ مکالمہ کرنا چاہیے اور مسلمانوں کے ساتھ ملاقاتیں کرنی چاہئیں اور ہم خود کو بطور نمونہ پیش کر سکتے ہیں تا کہ آپ صحیح رنگ میں سمجھ سکیں کہ ہمارا نظریہ کیا ہے، ملک کی محبّت کے متعلق ہمارے جذبات کیا ہیں اور ہم کس طرح ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
اس ضمن میں حضورِ انور نے وطن سے محبّت کو اسلامی تعلیمات اور ایمان کا حصّہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اور ایک جرمن شہری یا کسی بھی یورپی ملک کا شہری ہونے کی حیثیت سے ہم ملک سے محبّت کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ایمان کا حصّہ ہے کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنے وطن کی محبّت انسان کے ایمان کا حصّہ ہے تو چونکہ ہم اس ملک میں آباد ہیں ، توہم اس ملک سے محبّت کرتے ہیں اور ہم ملک کی بہتری کے لیے اپنی کوشش کرتے ہیں۔
مزید برآں حضورِ انور نے غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے اس اَمر پر زور دیا کہ اگر یہ پیغام ہر ایک تک پہنچایا جائے تو مَیں نہیں سمجھتا کہ ہمارے متعلق کوئی شک ہونا چاہیے۔
بعد ازاں حضورِ انور نے امن، تعاون اور بین المذاہب و بین الثقافتی ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی توجہ دلائی۔اس تناظرمیں حضورِ انور نے موجودہ عالمی حالات اور سیاسی دباؤ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے انصاف کے فقدان کے بنیادی مسئلے پر روشنی ڈالی کہ تو یہ موجودہ حالات ہیں اور ان حالات میں بظاہر سمجھا جاتا ہے کہ آپ دوسروں کی مدد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہی وہ خوف ہے، جو آپ کے چانسلر اور دیگر سیاستدانوں کو ہے کہ اگر وہ اسرائیل یا امریکہ یا کسی اور کے حق میں بات نہیں کریں گے، تو وہ زندہ نہیں رہیں گے۔ لیکن اب انہیں اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ وہ ٹرمپ کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں اور وہ اسرائیل کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔
اسی طرح حضورِ انور نے اصل حل انصاف اور سچائی پر مبنی نظام نہ کہ مفاداتی سیاست میں مضمر قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے چانسلر اور کچھ دوسرے سیاستدانوں کے کچھ حالیہ بیانات آئے ہیں کہ ان کے مظالم کو روکا جانا چاہیے، خواہ وہ ایران میں یا فلسطین میں یا لبنان میں یا کہیں اَور ہوں۔ تو بہرحال صرف نسل پرستی کے خلاف ہی آواز اُٹھانی ضروری نہیں بلکہ آپ کو سیاستدانوں اور عوام النّاس کو بھی یہ شعو دینا ہو گا کہ انہیں ایمانداری سے کام کرنا چاہیےاور معاشرے میں انصاف قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
آخر میں حضور انورِ نے ایک مرتبہ پھر انصاف کی غیرمعمولی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعادہ فرمایا کہ انصاف کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے، یہ تمام تنازعات کیوں ہورہے ہیں، کیونکہ انصاف نہیں ہے۔ ہر معاشرے، ہر تنظیم اور ہر حکومت کے اپنے ذاتی مفادات ہیں۔ پس بہت بڑے کام ہیں جو کرنے والے ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر موصوفہ میئر کو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔



