حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ ناروے کے ایک وفد کی ملاقات

اخباروں میں آرٹیکل لکھیں۔ آج کل ویسٹ میں بہت کچھ اسلام کے خلاف لکھا جاتا ہے۔ تو آپ لوگ اخباروں میں آرٹیکل لکھیں کہ اسلام کی اصل تعلیم کیا ہے، کیا خوبصورت تعلیم ہے کہ اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے۔
تم لوگ جو آج کل دنیا میں فساد پیدا کر رہے ہو، اسلام تو اس کے خلاف ہے۔ تو اس طرح یہ بھی ایک جہاد ہے کہ جو آپ کریں گے

مورخہ ۱۹؍ اپریل ۲۰۲۶ء بروزاتوار امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس خدام الاحمدیہ ناروے کے اکانوے(۹۱) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں واقع ایوانِ مسرور میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سےناروے سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔

جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضور انورکی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک خادم نے سوال کیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ  کو اللہ تعالیٰ نے سخت آزمائشوں کے ذریعہ آزمایا، جبکہ اس دَور میں وقفِ نَو بچوں کو بچپن ہی سے ایک عہد کے تحت دین کی خدمت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں راہنمائی کی درخواست ہے کہ ایسی صورت میں ہم وقفِ نَو اپنے اندر وہی صبر، اخلاص اور روحانی قوّت کیسے پیدا کر سکتے ہیں ، جبکہ ہمیں ان جیسی سخت آزمائش کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟

اس پر حضورِ انور نے موجودہ زمانے میں بحیثیت قوم و جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک جیسی سخت آزمائشوں میں نہ ڈالے جانے کے احسان کی بابت توجہ دلائی کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس آزمائش میں نہیں ڈالا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے یہی لکھا ہے کہ صحابہؓ  کو دیکھو کتنی قربانیاں دینی پڑیں اور ان کو جانوں کی قربانیاں دینی پڑیں۔ ان کو بہت زیادہ سخت ظلم برداشت کرنے پڑے اور اس کے بعد پھر جنگیں اگر ہوئیں تو وہاں بھی انہوں نے جان کی قربانیاں دیں اور تم لوگ خوش قسمت ہو کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے وہ جان کی قربانی مجموعی طور پر نہیں لی۔ گواب بھی بعض لوگ دین اور احمدیت کے نام پرشہید ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہوتے ہیں، برکینا فاسو میں ہوئے یا اَور جگہوں پر، تو اِکّا دُکّا تو جان کی قربانیاں ابھی بھی پیش ہوتی ہیں۔ لیکن بحیثیت قوم، بحیثیت جماعت وہ قربانیاں ، جو پہلے ان لوگوں نے دیں وہ ہمیں نہیں دینی پڑ رہیں۔

حضورِ انور نے اس حالت پر شکر ادا کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو دین کی خدمت میں لگانے کی ضرورت پر زور دیا کہ اس لیے اس بات پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنی تمام تر جو صلاحیتیں ہیں، جو پوٹینشل ہیں، جو capabilities ہیں، جو تعلیم ہے، جو علم ہے اور عقل ہے، اس کے ساتھ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم دین کی خدمت کریں اور اس سے اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ تمہیں پھر اس کا بھی اجر دوں گا۔ یہ دیکھو کہ تم پراللہ تعالیٰ کاکتنا احسان ہے، اس کا بھی شکر ادا کرو کہ اللہ تعالیٰ آج فی زمانہ جان کی قربانی نہیں مانگ رہا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سے وقت کی قربانی مانگ رہا ہے۔ ہاں! تم عہد کرتے ہو کہ جان، مال، وقت اور عزّت کوقربان کرنے کے لیے تیار رہیں گے، لیکن عمومی طور پر تو وقت اور مال ہی زیادہ تر اس زمانے میں قربان ہوتا ہے ، ہاں! اگر جان کی ضرورت پیش آئے تو اس کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

پھر حضورِ انور نے دین کا علم حاصل کرنے اور قرآنِ کریم سے راہنمائی لینے کی اہمیت بیان فرمائی کہ اس لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ دین کا علم حاصل کرو ۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا، اس کو پڑھو، اس سے علم حاصل کرو۔ واقفینِ نَو کا یہ کام ہے کہ قرآنِ کریم کو پڑھیں ،اس کا ترجمہ سیکھیں ،اس کی تفسیر پڑھیں، اس کا مطلب پڑھیں، اس میں دیکھیں کہ کون سی باتیں اللہ تعالیٰ نے کرنے کے لیے کہا ہے، ان کو ہم نے کرنا ہے اور کون سی باتوں سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، تو ان سے ہم نے رکنا ہے۔

بعدازاں حضورِ انور نے عبادت، خصوصاً پنج وقتہ نماز کی پابندی کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایاکہ پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت سب سے بڑی بات ہے، عبادت کریں، پانچ وقت نمازیں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ یہ نہیں کہ وقفِ نَوہے تو فجر کی نماز پڑھ لی یا کبھی نہ آنکھ کھلی تو نہ پڑھی۔ تین نمازیں پڑھ لیں یا چار پڑھ لیں۔ یہ نہیں بلکہ پانچ نمازیں پڑھنی ہیں۔ پانچ نمازوں کی عادت ڈالو اور قرآنِ کریم کے حکموں پر عمل کرنے کی عادت ڈالو۔

مزید برآں حضورِ انور نے اس زمانے کے جہاد کو قلم اور تبلیغ کے ذریعہ ادا کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہی اس زمانے کا جہاد ہے اور پھر زمانے کا جہاد قلم کا جہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو علم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام، قرآن اور حدیث کے ذریعے سے دیا ہے، اس کو پھیلاؤ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی لکھا ہے کہ اس زمانے میں قلم کا جہاد ہے، تلوار کا جہاد نہیں ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانے میں جنگ سے واپسی پر آتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف جارہے ہیں اور بڑا جہاد قرآن ِکریم کے ذریعے تبلیغ کا جہاد تھا ۔

اسی طرح حضورِ انور نے ذاتی عملی نمونوں اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے تبلیغ کرنے کے ضمن میں راہنمائی عطا فرمائی کہ تو آپ لوگوں کا کام ہے کہ وہاں اپنے عملی نمونے دکھائیں اور ایک صحیح احمدی مسلمان بن کے دکھائیں اور پھر تبلیغ کریں، اپنے اخلاق سے تبلیغ کریں۔ نیزیاد دلایا کہ پچھلے جمعہ بھی مَیں نے بتایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق اور سچائی تھی، اس کو دیکھ کے لوگ پہلے متاثر ہوئے تھے، اسی طرح آپ لوگ اپنے اخلاق اچھے کریں اور جو اسلام کی حقیقی تعلیم ہے اس کو پھر پیش کریں۔ جب آپ کے اخلاق اچھے ہوں گے تو لوگ آپ کی طرف توجہ کریں گے۔ جب توجہ کریں گے تو اس کے ذریعے سے آپ جہاد کریں۔علاوہ ازیں حضورِ انور نے مغربی پراپیگنڈےکے تدارک کے لیے اخباروں میں اسلام کی خوبصورت اور پُر امن حقیقی تعلیم پر مبنی آرٹیکل لکھنے کی بابت تحریک فرمائی کہ اخباروں میں آرٹیکل لکھیں۔ آج کل ویسٹ میں بہت کچھ اسلام کے خلاف لکھا جاتا ہے۔ تو آپ لوگ اخباروں میں آرٹیکل لکھیں کہ اسلام کی اصل تعلیم کیا ہے، کیا خوبصورت تعلیم ہے کہ اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے۔ تم لوگ جو آج کل دنیا میں فساد پیدا کر رہے ہو، اسلام تو اس کے خلاف ہے۔ تو اس طرح یہ بھی ایک جہاد ہے کہ جو آپ کریں گے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے اس راہ میں پیش آنے والی مخالفتوں کو صبر سے برداشت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہی اس زمانے کا جہاد ہے اور اس سے آپ گزر رہے ہیں، اس میں بعض دفعہ ہو سکتا ہے کہ مخالفتوں کا سامنا بھی کرنا پڑے تو برداشت کرو۔

ایک خادم نے عرض کیا کہ آج کے دَور میں مسلمانوں میں دجّال اور یہاں تک کہ ایک جھوٹے مسیح کی آمد کے متعلق بہت سی گفتگو ہوتی ہے۔بحیثیت احمدی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وساطت سے یہ سمجھتے ہیں کہ دجّال ایک نظام کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ کہ ہم پہلے ہی اس کے دَور میں جی رہے ہیں۔اس حوالے سے راہنمائی کی عاجزانہ درخواست ہے کہ آج ہمیں ایک جھوٹے مسیح کے تصوّر کو کس طرح سمجھنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے قرآنِ کریم کی روشنی میں دجّال اور یاجوج ماجوج کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآنِ کریم میں تو دجّال کا ذکر نہیں، یاجوج ماجوج کا ذکر ہے، جنہوں نے ہر راستے سے حملہ کرنا تھا اور دین کو بگاڑنا تھااور دنیا کے امن کو تباہ کرنا اور تباہی لانا تھی۔ یہ یاجوج ماجوج کا کام تھا۔ اور دین کو بگاڑنا اوردجل سے مختلف تعلیمیں دینا، دجّال کا کام تھا۔آج کل کی بات نہیں، وہ زمانہ تو آج سے سوسال پہلے آ گیا تھا جب اسلام کے خلاف باقاعدہ حملہ ہو رہا تھا اور کئی لاکھ مسلمانوں کو عیسائی بنا لیا تھا یا دجل سے ان کو دین سے ہٹا دیا تھا۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود نے آنا تھا اور وہ آیا ، ہم نے اس کو مان لیا اور آپؑ نے اس کے بارے میں بہت ساری تفصیل سے باتیں بیان کیں۔ زمانہ تو تھا آج سے سو سال پہلے کا کہ جب دین خراب تھا۔

پھر حضورِ انور نے موجودہ زمانے میں دوبارہ انہی حالات کے اُبھرنے اور مسیح موعودؑ کی تعلیم کو پھیلانے کی ضرورت پر زور دیا کہ اب دوبارہ وہی زمانہ آ رہا ہے، تو وہی تعلیم جو مسیح موعودؑ لائے تھے اب اسی کو ہم نے پھیلانا ہے۔یہی دجّال دجل کر رہا ہے کہ لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے۔ مختلف شکلوں میں دجّالی چالیں ہیں، کوئی دنیا داری کی صورت میں آرہی ہے ، کوئی مذہب کی صورت میں آرہی ہے ، کوئی کسی مذہب کی صورت میں آ رہی ہے ، تو اس کا مقابلہ آپ لوگوں نے کرنا ہے۔

اسی طرح حضورِ انور نے دجّال کے بارے میں پھیلنے والی مختلف باتوں کو محض ظاہری گفتگو قرار دیتے ہوئے اصل مفہوم کی وضاحت فرمائی کہ آجکل جو لوگ کہتے ہیں کہ جی! یہ ہے ، وہ ہے ، یہ تو صرف باتیں ہیں۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ آج سے ایک سو سال پہلے دجّال نے اپنی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ نیزاس حوالے سے حضورِ انور نے مزید راہنمائی کے لیے اپنے تحریری مضمون سے استفادے کی بابت توجہ دلائی کہ باقی اس کے بارے میں ایک لمبا تفصیلی مضمون مَیں نے لکھ کے بھیجا ہوا ہے۔ وہ الحکم میں یا الفضل میں شائع ہوجائے گا۔ وہ پڑھ لینا۔

مزید برآں حضورِ انور نے ناروے کے تناظر میں اس موضوع کی کثرتِ بحث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عملی راہنمائی عطافرمائی کہ یہ تمہارے ناروے میں آجکل لگتا ہے کہ دجّال کی باتیں بڑی ہو رہی ہیں۔ لجنہ کو بھی یہی سوال سوجھ رہا ہے۔ تو ناروے والوں کی جو حکومت ہے ، سارے عیسائیت سے تو ہٹ چکے ہوئے ہیں، ان کو کہو کہ دین توتم نے چھوڑ دیا، یہ دجّالی باتیں تم لوگ دین کو بگاڑنے کے لیے کر رہے ہو۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے ہر اس قوّت سے جو اللہ تعالیٰ سے دُوری اور دنیا میں فساد کا باعث بن رہی ہو بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ atheist جو ہیں، وہ بھی ایک قسم کے دجّال ہیں، جو دین سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بھی دجّالی طاقتیں ہیں۔تو اس لیے ان سے بچنے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جس کا رجحان نہیں، وہ دجّال بھی ہے، یاجوج ماجوج بھی ہے۔جو دنیاوی طور پر بھی اس دنیا میں فساد پیدا کر رہا ہے اور دینی طور پر بھی دنیا میں فساد پیدا کر رہا ہے۔

اس مجلس میں پیش کیا جانے والا ایک سوال یہ تھا کہ ہم سے جو پہلے تہذیبیں تھیں ، وہ اپنے عروج پر پہنچ کر ختم ہو گئیں، آپ ہماری تہذیب کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں اور جماعت کا اس میں کیا کردار ہوگا؟

اس پر حضورِ انور نے دنیا کی عمر اور انبیاء کی بعثت کے نظام کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی جو زندگی ہے،حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہےکہ چھ ہزار سال کی زندگی ہوتی ہے ۔ ہمارا آدم ؑجو ہے، اس کی پیدائش کے اتنے دن تھے اور اس میں جو انبیاء آئے وہ مختلف وقتوں میں اصلاح کے لیےآئے اور وہ چلے گئے۔

حضورِ انور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اور خلافت کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اب بھی اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام جو آئے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق دنیا کی اصلاح کے لیے آخری ہزار سال کے لیے مجدّد بنا کے بھیجا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ آپؑ کے بعد خلافت کا نظام شروع ہوجائے گا اور وہ شروع ہو گیا۔

پھر حضورِ انور نے دنیا کے آخری دَور میں دین کے عروج اور بعد ازاں بگاڑ اور قیامت کے مراحل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اب دنیا کی باقی زندگی کے آخری ہزار سال جو گزر رہے ہیں، جب اس کا خاتمہ ہوگا، تو اس میں ایک انتہا پر پہلے دین پہنچ جائے گا ۔ لوگ مانیں گے ، اس کے بعد دوبارہ بگاڑ پیدا ہوگا ، تو پھر قیامت بھی آ جائے گی۔ اب تو قیامت کے آنے کے دن ہیں۔ زوال جو آخری ہونا ہے، وہ قیامت کا ہی ہونا ہے اورجس زمانے میں، آج سے پانچ سو سال بعد یا چھ سو سال بعد یا سات سو سال بعد، ہونا ہے یا جب بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔

اسی طرح حضورِ انور نے دینِ اسلام کے عالمی غلبہ اور اس کے بعد کے حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا کہ لیکن اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ، تو دین کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے، جب تک ساری دنیا میں دینِ اسلام پھیل نہیں جاتا اور جو لوگ رہ جائیں گے،آپؑ نے فرمایا کہ ان کا ذکر اس طرح ہوگا کہ جس طرح چوڑھے چمار ہوتے ہیں۔ بہت ساری scheduled caste ہوتی ہیں، جو ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جن کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ، اس طرح لوگوں کی حیثیت رہ جائے گی اور دین پھیل جائے گا، لیکن پھر دین میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے بگاڑ کے وقت ممکنہ اصلاحی اقدامات اور انجام کی بابت توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت پھر ہو سکتا ہے کہ اس زمانے کا جو بھی خلیفہ ہوگا ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتّباع میں جو آئے گا، ان کی پیروی میں جو آئے گا، وہ پھر سختی بھی کرے۔ لیکن بہرحال اگر بگاڑ اتنا پیدا ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ دنیا کی صف لپیٹ لے گا ، قیامت آ جائے گی تو وہی زوال ہے۔ اسلام کا زوال تو اسی طرح ہے۔ کیونکہ یہ اسلام جو ہے، دنیا کا آخری مذہب ہے ، اس کے بعد دنیا کا خاتمہ ہے اوراب قیامت آنی ہے۔

علاوہ ازیں حضورِ انور نے موجودہ دَور میں نیکی اختیار کرنے اور آئندہ نسلوں کی درست تربیت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے مختلف آفات اور ان سے بچاؤ کا طریق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اب قیامت آنی ہے، اس لیے کوشش کرو کہ نیک رہو اور اپنی اگلی نسلوں میں بھی نیکی کی تلقین کرتے رہو تاکہ ہم اپنے زمانے میں ان آفتوں سے بچ کے رہیں کہ جو ہم پرہو سکتی ہیں ۔سزائیں مختلف وقتوں میں آتی رہتی ہیں، مختلف صورتوں میں آتی رہتی ہیں ، ابھی بھی آتی ہیں۔کبھی زلزلے کی صورت میں ،کبھی کسی طوفان کی صورت میں ، کسی سونامی کی صورت میں ، فلڈز کی صورت میں یا جنگوں کی صورت میں جواب ہو رہی ہیں ۔ ان سے بچنے کا یہی طریقہ ہے کہ ہم نیکیوں پرعمل کریں اور آخر تک اپنی نسلوں کو بھی تلقین کرتے رہے کہ وہ نیکی کریں تاکہ ہم ان آفتوں سے بچ کے رہیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے پیشگوئیوں کی تکمیل، نیکی کی اہمیت اور دین کے قائم رہنے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت اس وقت آئے گی کہ جب بالکل ہی زمانہ بگڑچکا ہوگا، ہمارے زمانے میں زمانہ بگڑے اور وہ نہیں بگڑے گا کہ جب تک یہ ساری پیشگوئیاں پوری نہیں ہو جاتیں، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں۔ آخری زمانے کے متعلق جو پیشگوئیاں مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق رکھتی ہیں، تم لوگ اگر نیک رہو گے، تو ان میں شامل رہو گے۔ نہیں نیکی کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ ایک ایک کر کے بندوں کو تو ختم کرے گا، لیکن دین قائم رہے گا اور دین پر کوئی آفت نہیں آئے گی ۔

ایک خادم نے سوال کیا کہ آج کی دنیا میں جہاں تحقیق بتاتی ہے کہ لوگوں کی توجہ کا دورانیہ بہت کم ہے اور وہ واضح مختصر اور جامع پیغامات پر سب سے بہتر ردِّ عمل ظاہر کرتے ہیں، ہم بحیثیت احمدی مسلمان خاتم النبیین ؐکے عقیدے کو کس طرح مؤثر انداز میں سمجھا سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے عصرِ حاضر کےعملی تقاضوں کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقامِ ختم نبوت کو مختصر مگر مؤثر انداز میں پیش کرنے کی بابت ہدایت فرمائی کہattention spanچھوٹا ہو گیا ،اس لیے مَیں نے کہا کہ جو آپ کی خدام الاحمدیہ ہے، اپنی ویب سائٹ پر یا سوشل میڈیا پر، جماعتی طور پر بھی چھوٹے چھوٹے passages بنائیں کہ prophethood سے کیا مراد ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم seal of the Prophets ہیں، خاتم النبیینؐ ہیں اور آپؐ کی کیا پیشگوئیاں ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے کلپس اس طرح آتے رہیں تو لوگوں کو پتا لگ جائے گا۔ اگر پورا مضمون نہیں پڑھ سکتے تو تین ،چار ، پانچ منٹ تک تو پڑھ ہی لیتے ہیں۔

حضورِ انور نے موجودہ معاشرے میں مخاطبین کے فکری پسِ منظر اور ترجیحات کو سمجھنے کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے بنیادی مسئلے کی نشاندہی فرمائی کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ seal of the Prophets کی بات تو علیحدہ رہی، وہ تواللہ تعالیٰ کو نہیں مانتے، آپ کی ملک کی ۹۰؍ فیصد آبادیatheistہو چکی ہے اور جو کرسچنز ہیں وہ نام کے کرسچنز ہیں ۔ They are not practicing christians ۔تو جب ایسا نہیں ہے تو ان کو اس سے کیا کہ Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم آخری Prophet ہیں کہ نہیں ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ پر ہی ایمان نہیں لاتے، تو جب اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے تو پھر seal of the Prophets والی کیا بات ہے۔

پھر حضورِ انور نے تبلیغ کے مرحلہ وار طریقِ کار کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے بذریعہ سوشل میڈیا پہلے خدا تعالیٰ کے تعارف کی اہمیت کو اُجاگر فرمایا کہ پہلے تو ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کیا ہے۔ Existance of God پربتاؤ۔ جب وہ پتا لگ جائے گی، پھر ان کو بتاؤ کہ اس کے کیا کیا ثبوت ہیں، چھوٹے چھوٹے کلپس سوشل میڈیا پر دیتے رہو۔ passages دیتے رہو۔ نیز اس بات پر زور دیا کہ یہ تو خدام الاحمدیہ کا کام ہے، جماعت کا بھی کام ہے اور ہر ایک کا کام ہے۔وہ جب دیتے رہو گے تو لوگوں کو جن کو interest ہوگا ، تووہ سُن لیں گے اور جن کو interest نہیں تو ان کی اپنی مرضی۔اسی طرح واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو قرآنِ مجید میں فرماتا ہے کہ تم زبردستی دین نہیں پھیلا سکتے۔ ہاں! اگر تمہارے سے کوئی بات کرتا ہےتو پھر اس کو بتاؤ، لیکن اس سے پہلے ان کو بتا دو کہ دین کیا چیز ہے، خدا تعالیٰ کیا چیز ہے، پہلے تو ان کو خدا کی طرف لاؤ۔خدا کی طرف لے آؤ ، دین کی طرف لے آؤ، تو seal of the Prophetsکی بعد میں بات کریں گے۔

بعد ازاں حضورِ انور نے مسلمانوں کے ساتھ گفتگو میں خاتم النبیین ؐکے عقیدہ کو واضح کرنے کا عملی طریق بیان فرمایا کہ ہاں! جو مسلمان ہیں، اگر وہ بات کرتے ہیں تو ان سے کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں ہیں۔ وہاں بھی چھوٹے چھوٹے کلپس دے دو، حدیثیں دو، حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہ تم یہ تو کہو کہ آپؐ خاتم النبیینؐ ہیں لیکن یہ نہ کہو کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اسی طرح جواب کےآخر میں حضورِ انور نے تبلیغی حکمتِ عملی کو مرحلہ وار اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح کی اَور حدیثیں بھی ہیں، تمہارا جو اشاعت یا تبلیغ کا ڈیپارٹمنٹ ہے، وہ نکال کے دیں اور وہ سوشل میڈیا پر تھوڑا تھوڑا ڈالتے رہیں ، تو اس کو لے کے پھر آپ تبلیغ میں مزید elaborateکرتے جائیں ۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ حدیث میں آتا ہے کہ دنیا مومن کےلیے قید خانہ اور کافروں کے لیے جنّت ہے، دوسری طرف قرآنِ کریم میں سورة الرحمٰن کی آیت ۴۷؍ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ [وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ]اور جو بھی اپنے ربّ کے مقام سے ڈرتا ہے اس کےلیے دو جنّتیں ہیں۔پیارے حضور! اس آیت اور حدیث کے باہمی تعلق اور اس میں مذکور دو جنتّوں سے کیا مراد ہے؟

اس پر حضورِ انور نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں حاصل ہونے والی خوشی ہی کودنیا کی حقیقی جنّت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دو جنّتیں ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے لوگ ہیں، وہ اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اتنی خوشی محسوس کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جنّت میں آ گئے۔ پھر حضورِ انور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی مثال کے ذریعے عبادت کی روحانی لذت کو واضح فرمایا کہ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مجھے بہت ساری چیزیں دنیا کی پسند ہیں ،تو ان میں فرمایا: قُرَّةُ عَيْنِي فِی الصَّلوٰۃِکہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔تو نماز اور عبادت میں آپؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی۔ اسی سے آپؐ کو اس دنیا میں جنّت ملتی تھی ۔

حضورِ انور نے روحانی ترقی کے نتیجے میں انسان کو اسی دنیا میں بھی جنّت جیسی کیفیت نصیب ہونے کی بابت وضاحت فرمائی کہ جب اس دنیا میں آپ جنّت کما لیتے ہیں توروحانیت بڑھ جاتی ہے یا اپنے آپ کو نیکی کی طرف مائل کر لیتے ہیں، اس میں جو آپ نے کمالیا ، اس کے بدلے میں پھر آپ کو یہاں بھی اللہ تعالیٰ خوشی دے رہا ہے۔ کیونکہ دنیا کی جو مصروفیات ہیں، دنیا کے جو غلط کام ہیں، ان سے آپ کو نفرت ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کی تلاش میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تلاش میں آپ عبادت کرتے ہیں اور نیکی کے کام کرتے ہیں اس سے آپ کو دلی خوشی پہنچتی ہے۔

مزید برآں حضورِ انور نے جنّت کے پُر معارف حقیقی مفہوم کو اُجاگر کرتے ہوئے انتہائی خوبصورت انداز میں فرمایا کہ جنّت کیا ہے؟ ایک دل کی خوشی ہے۔ جب آپ کوئی نیک کام کریں اور دوسرا آپ کا شکریہ ادا کرے تو آپ اس پر خوش ہوتے ہیں ۔ بس وہ نیکی کی بات جب کرتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے۔ پھر جب آپ نماز پڑھتے ہیں اور آپ کے دل کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے تسکین ہوتی ہے، تو وہ بھی پھر آپ کے لیے روحانی ٹھنڈک کا باعث بنتی ہے ، وہ بھی جنّت مل گئی۔ اور اگلے جہان میں یہ چیزیں آپ کو اس سے بڑی جنّت میں لے کے جائیں گی ، یہ مراد ہے اس سے کہ دو جنّتیں ہیں۔اور مخالف یہ سمجھتا ہے، جو دین کا مخالف ہے یا دین کا نہ ماننے والا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ عبادت کرنے والے کیا مشکل میں پڑے ہوئے ہیں، یہ تو دنیا کے جو شوق ہیں، ان سے کوئی فائدہ ہی نہیں اُٹھا رہے۔ یہ تو اپنے آپ کو دوزخ میں ڈال رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ نہیں! تم غلط سمجھتے ہو ، یہ اپنے آپ کو دوزخ میں نہیں ڈال رہے، بلکہ یہ اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی جنّت بنا رہے ہیں ۔ تم لوگ اپنے لیےدوزخ بنا رہے ہو، گو ظاہری طور پر تم اس دنیا میں سمجھ رہے ہو کہ ہم بہت خوش ہیں، لیکن اگلے جہان میں تمہارےلیے دوزخ ہوگی۔

جواب کےآخر میں حضورِ انور نے حقیقی عرفان کے حصول کے لیےقرآنِ کریم کی مختلف آیات کو ملا کر سمجھنے کی طرف راہنمائی فرمائی کہ اس لیے قرآنِ شریف میں بھی اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ، آخری سورتوں میں کہ جو لوگ اس دنیا میں خوش تھے ، تووہ اگلے جہان میں مایوس ہوں گے، خوش نہیں ہوں گے۔ لیکن جو اس دنیا میں لوگ خوش نہیں تھے، دنیاوی لحاظ سے سمجھا جاتا تھا کہ لوگ خوش نہیں ہیں ، تووہ اگلے جہان میں بہت خوش ہوں گے۔ تو سارے قرآن کو اگر مختلف آیتوں کو ملا کے پڑھو تو ہر ایک کا جواب بیچ میں سے مِل جاتا ہے۔

ایک خادم نے راہنمائی کی درخواست کی کہ آجکل بچوں کو سکولوں اور نرسریوں میں بعض ایسے خیالات سکھائے جاتے ہیں جو بعض اوقات اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوتے ہیں۔ ہم احمدی والدین اپنے بچوں کو ان باتوں سے کیسے بچا سکتے ہیں اور ان کے ایمان اور اخلاق کو کیسے مضبوط رکھ سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے مغربی ممالک کے تعلیمی نظام اور صنفی پالیسیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی جانب توجہ مبذول کروائی کہ اب تو ویسے انہوں نے بعض ملکوں میں قانون پاس کر دیا ہے کہ نرسریوں میں نہیں سکھانا۔ کلاسsix کے بعد یاکلاس seven کے بعد بعض باتیں اوریہgender وغیرہ کی باتیں بھی بتانی ہیں۔ پہلے یہ تھا کہ جو بچہ کہتا ہے وہ مان لو، اب کہتے ہیں کہ جب تکgenderکے معاملے میں بھی، جو اگر بچہ کہہ رہا ہے کہ مَیں لڑکا نہیں لڑکی ہوں یا لڑکی نہیں لڑکا ہوں تو جب تک parents کی بیچ میں رضاشامل نہ ہو، اس وقت تک ایسا نہیں کرنا کہ جب تک وہindependent نہیں ہو جاتا۔

حضورِ انور نے ان خیالات کو دراصل دین سے دُور کرنے والی دجّالی کوششوں کا حصّہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ تو بہرحال یہ خیالات تو ان ملکوں میں ہیں اور یہی دجّالی طاقتیں ہیں، جو دجّال کا سوال کر رہے تھے، یہ بھی دجّال کا ایک حملہ ہے کہ لوگوں کو دین سے اور خدا سے دُور لے جاؤ اور غلط کاموں میں ڈال دو، دنیا داری میں ملوث کر دو اور ان کا دین بالکل ہی نہ رہے اور پھر خدا تعالیٰ سے بھی دُور کر دو۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے والدین کی بنیادی ذمہ داری کی بابت راہنمائی کرتے ہوئے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور اس کے ذریعے ان کی عملی اصلاح اور دین پر قائم رکھنے کی ضرورت و اہمیت پر انتہائی حکیمانہ انداز میں توجہ دلائی کہ تو اس حالت میں ماں باپ کو مَیں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں، خطبوں میں بھی کہہ چکا ہوں، تقریروں میں بھی کہہ چکا ہوں کہ ماں باپ کو چاہیے کہ پھر محنت کریں، بچوں کے ساتھ وقت لگایا کریں، جب بچے سکول سے گھر آتے ہیں، تو ان کے ساتھ بیٹھیں، sittingکریں اور ان سے پوچھیں سکول میں تم نے کیا سیکھا۔اگر وہ ایسی باتیں بتاتے ہیں کہ جو غلط قسم کی باتیں ہیں، اگر کوئی سیکھ کے آیا ہے ، ہفتے میں ایک یا دو کلاسیں ایسی ہوتی ہیں، تو ان کو بتاؤ کہ نہیں! اسلام کی تعلیم یہ کہتی ہے اور اصل چیز یہ ہے کہ تمہیں ابھی اس کی سمجھ نہیں آئے گی اور جب تم بڑے ہو گے تو مزید سمجھ آئے گی۔ لیکن اس وقت تمہیں ہم سمجھا رہے ہیں کہ جو باتیں سکول والے کہتے ہیں ، یہ ساری باتیں صحیح نہیں ہوتیں۔ جو پڑھائی ، علم ، سائنس، جغرافیہ یا ہسٹری یا mathematics کی باتیں ہیں۔ ان کی بات مان لو۔ ان باتوں میں جہاں اخلاق کا سوال آتا ہے ، دین کا سوال آتا ہے، تو وہاں تمہیں اپنے دین پرقائم رہنا چاہیے۔ ان حالات میں پھر والدین کا کام ہے کہ وہ زیادہ محنت کریں۔

مزید برآں حضورِ انور نے بطور متبادل ہوم سکولنگ اور عملی نگرانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اب بعض ملکوں میں امریکہ، کینیڈا وغیرہ میں انہی باتوں کی وجہ سے لوگوں نے ہوم سکولنگ شروع کر دی ہے۔ ایک وقت تک بچوں کو گھر میں پڑھاتے ہیں۔ پرائمری کے بعد جب ہوش آ جاتی ہے تو پھر اس کو اچھی طرح سمجھا کے سکول بھیجتے ہیں ۔

علاوہ ازیں حضورِ انور نے ہوم سکولنگ نہ ہونے کی صورت میں بچوں کو مسلسل وقت دینے اور ان کی اخلاقی تربیت کی بابت تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ تو آپ لوگ بھی اگر ہوم سکولنگ نہیں کر سکتے، تو کم از کم وقت تو دے سکتے ہیں ، آپ کو پتا ہوتا ہے کہ بچے نے آج سکول میں کون کون سے مضمون پڑھنے ہیں، اس کا کیا ٹائم ٹیبل ہے۔ اور جس دن اس قسم کی باتوں والا مضمون ہو، تو اس دن اسے زیادہ وقت دیں ، بیٹھیں اور اس کے ساتھ sitting کریں اور اس کو سمجھائیں کہ دین کیا چیز ہے اور تمہاری ذمہ داری کیا چیز ہے اور ہم کون ہیں؟ کیوں ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے ، کیوں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں سے روکا ہے ، ان میں کیا کیا بُرائی ہے اور ان میں کیا اچھائی ہے۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے حیا کے دائرے میں رہتے ہوئے بچوں سے کھل کر بات کرنے اور ان کے دوست بننےپر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ تو کھل کے بعض دفعہ بات کرنی پڑتی ہے، تو اگر وہ بے حیا ہیں، تو آپ لوگ بے حیا تو نہیں۔ لیکن بہرحال حیا کے دائرے میں رہ کے ان کو سمجھانا پڑے گا۔ بچوں کے دوست بن جائیں تاکہ بچے آپ سے آکے سب کچھ شیئر کریں ۔

شرکاء میں سے ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ سورة التّحریم کی آیت۹؍ میں آخرت کے حوالے سے ہم پڑھتے ہیں کہ وہ کہیں گے اَے ہمارے ربّ !ہمارے لیےہمارے نور کو مکمل کر دے اور ہمیں بخش دے۔پیارے حضور! آخرت میں وہ کامل نور کس طرح ظاہر ہو گا؟

[قارئین کی معلومات کے لیے مذکورہ آیت مع اُردو ترجمہ پیش ہے کہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ تَوۡبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّکَفِّرَ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَیُدۡخِلَکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ یَوۡمَ لَا یُخۡزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۚ نُوۡرُہُمۡ یَسۡعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَبِاَیۡمَانِہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَتۡمِمۡ لَنَا نُوۡرَنَا وَاغۡفِرۡ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف خالص توبہ کرتے ہوئے جھکو۔ بعید نہیں کہ تمہارا ربّ تم سے تمہاری بُرائیاں دورکردے اور تمہیں ایسی جنّتوں میں داخل کرے جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں، جس دن اللہ نبی کو اور ان کو رُسوا نہیں کرے گا جو اس کے ساتھ ایمان لائے۔ ان کا نور ان کے آگے بھی تیزی سے چلے گا اور ان کے دائیں بھی۔ وہ کہیں گے اَے ہمارے ربّ! ہمارے لیے ہمارے نور کو مکمل کردے اور ہمیں بخش دے۔ یقیناً تو ہر چیز پر جسے تُو چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔ ]

اس پر حضورِ انور نے بصیرت افروز انداز میں نور کے مفہوم کو عملی زندگی میں عبادت اور اطاعتِ الٰہی سے جوڑ تے ہوئے واضح فرمایا کہlightکیا ہے؟ ابھی مَیں نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہے اور حکموں پر چلنا وہی صحیح تعلیم ہے ، وہی روشنی ہے جس کو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اور یہی وہ روشنی ہے کہ جو اگلے جہان میں کام آئے گی، جنّت میں بھی لے کے جائے گی اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والی بھی ہوگی، اسی وجہ سے جو تم نیک کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ معاف بھی فرما دے گا۔

حضورِ انور نے بنفسِ نفیس قرآنِ کریم سے مذکورہ آیتِ مبارکہ ملاحظہ فرما کر اس کے پسِ منظر کی وضاحت فرمائی کہ صرف نور والی بات کا چھوٹا سا حصّہ بیان کیا ہے، پہلاحصّہ چھوڑ دیا ہے، وہی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہی کہیں گے کہ ہماری جوlightہے، اس کو پُورا کر دے، یعنی جو ہمارےنیک کام ہیں، ان کو اتنا بڑھا دے کہ وہ ہماری مغفرت کا ذریعہ بن جائیں۔ وہ روشنی ہمیں ان سے مل جائے ۔

پھر حضورِ انور نے پُرمعارف انداز میں نیک اعمال کی صورت میں حقیقی نور کو مومنین کا خاصہ بیان کرتے ہوئے اسے آخرت میں مغفرت اور بخشش کا ذریعہ قرار دیا کہ اگر نیک کام ہی نہیں کر رہے تو روشنی کہاں سے ہونی ہے۔تو اللہ تعالیٰ تو یہ بیان ہی ان لوگوں کے لیے کر رہا ہے کہ جو مومن ہیں، جن میں کوئی منافقت کی ملاوٹ نہیں ہوتی، ان کے لیےlight بتا رہا ہے۔جو مومن ہے اور منافقت جن میں کوئی نہیں ہے، وہ یہ کام کر سکتے ہیں اور وہ lightیہی ہے کہ نیک کام کرنا۔تبھی وہ جنتوں میں داخل ہوں گے جن کی نہریں بہتی ہوں گی۔ نہیں تو منافق تو نہیں داخل ہو سکتے اور نہ کافر ہو سکتے ہیں۔ روشنی وہ نیکیاں ہیں، جو اس زمانے کے عمل ہیں، وہی اگلے جہان میں نہروں کی صورت میں اور انعامات کی صورت میں تمہیں ملیں گے اور وہی روشنی ہے جو تمہاری مغفرت اور بخشش کا ذریعہ بن جائے گا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے کامل مغفرت کے حوالے سےالله تعالیٰ کے بے پایاں فضل کو اُجاگر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اگر کوئی کمیاں رہ بھی گئی ہیں، تو وہ بھی دُور ہو جائیں اور ہماری ان نیکیوں کو بڑھا چڑھا دے گا، تاکہ ہماری مکمل مغفرت کا ذریعہ بن جائیں۔

ایک خادم نے راہنمائی کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا کہ ایک قائد ان خدام کو جو جماعت سے تعلق نہیں رکھتے اور رابطہ کرنے پر جواب بھی نہیں دیتےکیسے فعّال کرسکتا ہے؟

اس پر حضورِ انور نے ایسے خدام کو قریب لانے کے لیے دیگرمطالبات کے بجائے براہِ راست تعلق قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کو ویسے ہی ملتے رہا کرو۔ یہ نہ کہا کرو کہ اچھا چندہ دو، ہم چندہ لینے آ رہے ہیں، یہ نہ کہو کہ اجلاس پر آؤ ، اس کے لیے نہیں بلکہ ویسے تعلق پہلے تو بڑھانے پڑیں گے۔

حضورِ انور نے مضبوط اور باصلاحیت خدام کو اس کام میں شامل کر کے ذاتی دوستی قائم کرنے کی تلقین فرمائی کہ پھر ایسے جو اچھے مضبوط قسم کے خدام ہیں، جن کے اپنے ایمان مضبوط ہیں اور وہ مجلس میںactiveبھی ہیں اور پڑھے لکھے بھی ہیں یا اس قابل ہیں کہ ان سے، آدمی سے دوستی کر سکیں۔ تو جو نہیں آتا ، تو ان سے تعلق پیدا کریں، دوستی پیدا کریں۔ قائد صاحب خود اور عاملہ کے ممبر خود دوستی پیدا کریں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے آغاز میں مقصد بتانے کی بجائے صرف تعلق اور قربت پیدا کرنے کو اصل حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ پہلے ان کو ویسے ہی اپنے قریب لائیں بغیر یہ کہے کہ ہم چندہ لینے آئے ہیں یا تمہیں اجلاس کے لیے اطلاع دینے آئے ہیں یا اجتماع پر کیوں نہیں آتے یا نمازوں پر کیوں نہیں آتے؟ پہلے ان کو قریب تو لاؤ ۔جب وہ قریب آجائیں گے تو پھر بتاؤ کہ ہمارا مقصد کیا ہے۔یہی ایک طریقہ تربیت کا ہے ۔

ایک اَور خادم نے دریافت کیا کہ ہم بحیثیت جماعت کس طرح پُرانی رنجشوں کو بھلا کر خدام کی حیثیت سے مزید متحد ہو سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انور نے انتہائی مشفقانہ اور پُر اثر انداز میں باہمی جھگڑوں اور چھوٹی چھوٹی رنجشوں کی حقیقت اور ان سے بچنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کیوں لڑتے ہو، کیوں grievances پیدا ہوتی ہیں، ہم سمجھیں مومن ہے تو مومن کو تو لڑنا نہیں چاہیے۔ حدیث میں تو آیا ہے کہ ایک بھائی دوسرے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض نہ ہو۔ تمہاری تو مہینوں مہینوں لڑائی رہتی ہے ۔

حضورِ انور نے خاندانی اور ذاتی اختلافات کو بڑھنے سے روکنے کو ضروری قرار دیتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بھائی چارے اور احترام کی اہمیت بیان فرمائی کہ اس نے مجھے یوں کہہ دیا، میرے بھائی کو یہ کہہ دیا میرے باپ کو فلاں کے باپ نے یوں کہہ دیا، تو خاندانوں کی لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ ماں کو فلاں نے کہہ دیا ، اس طرح میری بہن کو لڑکی کی بہن نے یہ کہہ دیا، تو ان رشتوں سے رشتے بناتے چلے جاتے ہو اور لڑائیاں کرتے رہتے ہو، تو لڑائیوں کو avoidکرنا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن بھائی بھائی ہیں اور ایک دوسرے کی عزّت کا خیال رکھیں۔ تو پہلی چیز تو یہ اچھے اخلاق ہوں اور اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبّت کا سلوک کرو اور بھائی بھائی بن کے رہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں فرمایا ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں، آپس میں بھائی بھائی بن کے رہو گے تو ٹھیک ہے، نہیں تو تم لوگوں کا جو زور ہے اور طاقت ہے، وہ ختم ہو جائے گی۔کل کو یہ عیسائی تم پر قبضہ کر لیں گے۔ اس لیے بھائی بھائی بن کے رہو۔ تو رُحَمَآءُ بَیۡنَھُمۡ کہ بھائیوں کا آپس میں رحم ، محبّت کا اور پیار کا سلوک ہوتا ہے ۔

اسی تناظر میں حضورِ انور نے مثبت اور منفی سوچ کے اثرات کو واضح کرتے ہوئے ذہنی رویّے کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی کہ تو اگر یہ خیال پیدا ہو جائے، یہ سوچ پیدا ہو جائے تو ٹھیک ہے ، سوچ کی بات ہی ہے ۔ اگر منفی سوچ ہونی ہے تو لڑائیاں ہی لڑائیاں ہیں، مثبت سوچ ہونی ہے، تو لڑائیاں ختم ہو جاتی ہیں۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے عملی حکمت اور عقل مندی کے ذریعے اختلافات ختم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت سارے لوگ ہوتے ہیں کہ جو لڑائی کو ختم کرتے ہیں۔ بہت سارے سوچ رہے ہوتے ہیں، جو بہانہ بناتے ہیں کہ کس طرح ہم لڑیں۔ بس وہ بہانے بنانے والے چھوڑ دیں جو عقلمند ہیں ان بہانہ بنانے والوں کو کہیں کہ تم یہ نہ کرو۔ عقل کی باتیں کیا کرو، عقل کی باتیں دونوں طرف سے ہونے لگ جائیں، تو بس معاملہ ٹھیک ہو جاتا ہے ۔

ایک سوال حضورِ انور کی خدمت ِ اقدس میں یہ پیش کیا گیا کہ جب زندگی بے معنی لگے تو کیا کرنا چاہیے؟

اس پر حضورِ انور نے اس احساسِ بے معنویت کی بنیادی وجہ دنیا داری میں حد ّسے زیادہ مشغولیت کو قرار دیتے ہوئے ایمان کی روشنی میں زندگی کا بامقصد ہونا بیان فرمایا کہ کیوں بےمعنی ، اس لیے کہ دنیا داری زیادہ آ گئی ہے ، بے معنی کس طرح لگ سکتی ہے کہ جب یہ یقین ہو کہ ایک اللہ ہے ، جب یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ دعاؤں کو سننے والا ہے، جب یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ مشکلات کو دُور کرنے والا ہے، تو پھر زندگی کی بے معنی والی بات ہی کوئی نہیں۔

حضورِ انور نے زندگی میں حقیقی معنی خیزی کے حصول کے لیے تعلق بالله، نمازوں، دعاؤں اور اِستغفار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ پھر تم اللہ سے مانگو کہ اللہ تعالیٰ مَیں تجھے چاہتا ہوں۔ہاں! میری زندگی بے معنی اس وقت ہوگی کہ جب مجھے اللہ تعالیٰ کا خیال نہ رہے۔ اگر انسان پانچ نمازیں پڑھنے والا ہے، اس میں دعائیں کرنے والا ہے، اِستغفار کرنے والا ہے اور ہر چیز کے لیے اللہ کو اپنے سامنے رکھنے والا ہے تو پھر بے معنی زندگی نہیں ہوتی۔دنیا میں پڑ گئے تو زندگی بےمعنی ہو جائے گی۔ بامعنی بنانے کےلیے ضروری ہے کہ اللہ کو تلاش کرو، پانچ نمازوں کی طرف توجہ کرو اور شوق سے غور سے نمازیں پڑھو تو پھر ٹھیک ہو جائے گی، زندگی بے معنی نہیں رہے گی ۔

حضورِ انور نے بے مقصدیت کے نتیجے میں بعض اوقات پیدا ہونے والی خطرناک دنیاوی سوچوں کے حوالے سے متنبّہ کرتے ہوئے ایسی منفی سوچوں سے بچنے کی تلقین فرمائی کہ دنیا چھوڑ دو۔ دنیا کوئی چیز نہیں ہے ۔ یہ دنیا دار جو ہیں، وہ تو پھر اسی طرح ہوتا ہے کہ جب زندگی بے معنی ہو جاتی ہے ، توپھر کہتے ہیں کہ خود کشی کر لو اورمر جاؤ۔ وہ نہیں ہونا چاہیے۔جو اللہ کو جاننے والا ہے وہ خودکشی کی باتیں نہیں کرتا۔

جواب کے آخر میں حضورِ انور نے سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں زندگی بخش پیغام عطا فرماتے ہوئے توجہ دلائی کہ پس! بہت بڑے کام ہیں جو کرنے والے ہیں۔

ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله امریکہ کے ChicagoاورSeattleسے تعلق رکھنے والےاحباب کے ایک وفد کی ملاقات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button