کیوں؟
پیارے بچو! آج کے نئے سوال اور اس کے جواب کے ساتھ حاضر ہیں۔ اور آج کا سوال یہ ہے کہ
ہمیں ہنسی کیوں آتی ہے؟
پیارے بچو! آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب کوئی مزاحیہ بات سنتے ہیں یا کوئی عجیب حرکت دیکھتے ہیں تو ہم اچانک ہنس کیوں پڑتے ہیں؟ کیا یہ صرف خوشی کی علامت ہے یا اس کے پیچھے کوئی سائنسی وجہ بھی ہے؟ تو آئیے اس کا جواب جانتے ہیں۔
پہلی سائنسی وجہ یہ ہے کہ ہنسی ہمارے دماغ کا ایک ردِعمل (reaction) ہے۔ جب ہم کوئی مزاحیہ یا غیرمتوقع (unexpected) چیز دیکھتے یا سنتے ہیں تو ہمارا دماغ فوراً اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس عمل میں دماغ کے مختلف حصے، خاص طور پر جذبات سے متعلق حصہ، متحرک ہو جاتے ہیں اور ہمیں خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اسی خوشی کے اظہار کے طور پر ہم ہنس پڑتے ہیں۔
دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ہنسی ہمارے جسم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ جب ہم ہنستے ہیں تو ہمارے جسم میں اینڈورفنز (Endorphins)نامی کیمیکل خارج ہوتے ہیں۔یہ کیمیکل ہمارے جسم میں بننے والے قدرتی کیمیکلز ہوتے ہیں جو درد کو کم کرنے اور خوشی کا احساس بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔جب ہم ہنستے ہیں، ورزش کرتے ہیں یا کوئی خوشی کا کام کرتے ہیں تو یہ زیادہ مقدار میں خارج ہوتے ہیں ۔ ہمارے ذہنی دباؤ (stress) کو کم کرتے ہیں اور ہمیں سکون اور تازگی محسوس ہوتی ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ ہنسی بہترین دوا ہے۔
اسی طرح ہنسی ہمارے جسم کے پٹھوں کو متحرک کرتی ہے اور دل کی دھڑکن کو بہتر بناتی ہے، جس سے ہماری مجموعی صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ ہنسی کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ جب ہم اپنے دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ ہنستے ہیں تو ہمارے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ ہنسی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور خوشگوار ماحول پیدا کرتی ہے۔
تو بچو! اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہنسی صرف خوشی کا اظہار ہی نہیں بلکہ یہ ہمارے دماغ اور جسم کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ اس لیے ہمیشہ مسکراتے رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کوشش کریں کہ ہر دن میں مسکرانے اور دوسروں کو ہنسانے کا کوئی نہ کوئی موقع ضرور پیدا کریں، کیونکہ خوش رہنا بھی ایک اچھی عادت ہے۔
بچو!آپ کو آج کا سوال اور اِس کا جواب کیسا لگا؟ اگر آپ کے ذہن میں کوئی بھی سوال ہو تو
ہمیں بھجوائیں۔ ان شا ءاللہ ہم آپ کو اُس کا بھی جواب دیں گے۔
آپ کا بھائی۔ نبیل احمد کاشف۔ جرمنی