جماعت احمدیہ جاپان کی ۴۳ویں مجلس شوریٰ کا انعقاد

۱۹۸۱ء میں جماعت احمدیہ جاپان کے پہلے جلسہ سالانہ کے بعد جاپان میں مجلس شوریٰ کا نظام قائم ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال باقاعدگی سے مجالس شوریٰ کا انعقاد عمل میں آرہا ہے۔
حسب روایت امسال کی مجلس شوریٰ کے ليے موصول ہونے والی تجاویز پر نیشنل مجلس عاملہ جاپان میں غور وخوض کیا گیا۔ موصول شدہ تجاویز میں سے ۲؍تجاویز انتظامی معاملات کے بارے میں ہونے کی وجہ سے ردّ کردی گئیں جبکہ ۲؍تجاویز مجلس شوریٰ میں پیش کرنے کی سفارش کی گئی۔
نیشنل مجلس عاملہ کی طرف سے سفارش کردہ تجاویز کو حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے از راہ شفقت منظور فرماتے ہوئے مجلس شوریٰ جاپان کے ایجنڈا کی اجازت مرحمت فرمائی۔

اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان سے حسب پروگرام ۴۳ویں مجلس شوریٰ مورخہ ۵؍اپریل ۲۰۲۶ء بروز اتوار مسجد بیت الاحد میں منعقد ہوئی۔ افتتاحی اجلاس مکرم انیس رئیس صاحب نیشنل صدر ومبلغ انچارج جاپان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم صدر صاحب نے افتتاحی دعا کروائی اور مجلس شوریٰ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ مکرم اسامہ تنویر صاحب نیشنل جنرل سیکرٹری نے مجلس شوریٰ ۲۰۲۵ء کی منظور شدہ تجاویز پر عمل درآمد کی رپورٹ اور امسال کی مجلس شوریٰ کے ایجنڈے میں شامل ۲؍تجاویز مجلس شوریٰ کے سامنے پیش کیں۔ بجٹ آمد و خرچ کے علاوہ مجلس شوریٰ جاپان کے ایجنڈے میں شامل تجاویز درج ذیل تھیں:
تجویز نمبر۱:حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ ۱۲؍دسمبر۲۰۲۵ء میں تبلیغ کے بارے میں راہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:‘‘جماعت احمدیہ کا کام ہے کہ وہ اسلام کا یہ پیغام دنیا کو بتائے۔ ہر ایک جس سے بھی مخالف یا مقابل کے طور پر بات چیت ہواس کو یہ بتائے کہ دین میں محض خشک دلیلیں نہیں بلکہ نصیحت کے مختلف پہلو ہیں جن پر عمل کرنا چاہیے۔ پھر فرمایا کہ جذبات ابھارنے والی باتیں بھی کیا کرو اور موعظہ حسنہ کو بھی شامل رکھا کرو۔’’ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس زریں ارشاد کی روشنی میں جماعت احمدیہ جاپان کو ایک مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے جس میں جاپان کے دیہی علاقوں میں تبلیغ سمیت، جاپان بھر میں اسلام کا پیغام مؤثر رنگ میں پہنچانے کے ليے مناسب لٹریچر کی تیاری اور عملی پروگرام تشکیل دیا جائے۔ وائس آف اسلام کا دوبارہ اجراء کیا جائے۔ نیز مجلس شوریٰ میں غور کیا جائے کہ اس راہنما ارشاد کی روشنی میں کن موضوعات پر نیا لٹریچر تیار کرنا ضروری ہے۔
تجویز نمبر۲:‘‘آجکل جاپان میں دائیں بازوں(Right Wing) کی تحریک کا زور ہے، اس حوالے سے جماعت احمدیہ جاپان کے میڈیا سیل کو منظم کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ سے اسلام کے بارے میں جاپانی زبان میں زیادہ سے زیادہ مواد شیئر کیا جائے۔’’
ایجنڈا مجلس شوریٰ کے سامنے پیش کرنے کے بعد صدر مجلس نے مجلس شوریٰ کی روایات کے مطابق نمائندگان شوریٰ میں سے مکرم حزقیل احمد صاحب مبلغ سلسلہ کو صدر مجلس کی معاونت کے ليے سٹیج پر مدعو کیا۔ مکرم حزقیل احمد صاحب نے دوبارہ مجلس شوریٰ کے ایجنڈے میں شامل تجاویز پڑھ کر سنائیں اور سب کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل شروع ہوا۔ تجویز نمبر ایک کے لیے جو سب کمیٹی بنائی گئی اس کے صدر مکرم حزقیل احمد صاحب مقرر ہوئے، جبکہ سیکرٹری کمیٹی مکرم طلعت محمود احمد صاحب مقرر ہوئے۔ دوسری سب کمیٹی کے صدر مکرم ناصر بشیر خاکی صاحب تھے جبکہ مکرم نابغ محمود صاحب مبلغ سلسلہ سیکرٹری کمیٹی مقرر ہوئے۔
سب کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد دونوں کمیٹیوں کے صدران نے سب کمیٹیوں کے اجلاسات کی جگہ اور وقت کا اعلان کیا۔ ۱۱؍بجکر ۳۵؍منٹ پر پہلا اجلاس اختتام کو پہنچا اور سب کمیٹیوں کی میٹنگز، ظہرانہ اور نمازوں کے وقفہ کا اعلان کیا گیا۔
سب کمیٹیوں کی میٹنگز، نماز ظہر وعصر کی ادائیگی اور کھانے کے بعد مجلس شوریٰ جاپان کے دوسرے اجلاس کی کارروائی کا آغاز سہ پہر تین بجے تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے بعد صدر صاحب نے دعا کروائی۔ نیشنل جنرل سیکرٹری صاحب نے جماعت احمدیہ جاپان کی سالانہ رپورٹ اختصار کے ساتھ پیش کی اور حسب روایت ردّشدہ تجاویز اور ان کی وجوہات پڑھ کر سنائی گئیں۔
اس کے بعد دونوں سب کمیٹیوں کے صدور نے باری باری اپنی رپورٹس پیش کیں۔ ہر دوکمیٹیوں کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد نمائندگان نے اظہار خیال کیا۔ خواتین نمائندگان کو بھی اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔
مکرم صدر صاحب نے نمائندگان کی پیش کی گئی آراء کا محاکمہ کرتے ہوئے ضروری پوائنٹس سب کمیٹیوں کی رپورٹس میں شامل کرکے تمام ممبران شوریٰ سے رائے لی اور تمام سفارشات کو برائے منظوری حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کیے جانے پر اتفاق کیا گیا۔
شوریٰ کے آخری حصہ میں مکرم اسامہ تنویر صاحب نیشنل سیکرٹری مال نے جماعت احمدیہ جاپان کا آئندہ سال آمد وخرچ کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ کے بارے میں نمائندگان شوریٰ کی رائے لی گئی جس کے بعد مجلس شوریٰ نے اسےاپنی سفارشات میں شامل کر لیا۔امسال شوریٰ میں ۴۴؍نمائندگان شامل تھے جبکہ زائرین کی تعداد پانچ تھی۔
(رپورٹ:دانیال داؤد۔ مبلغ سلسلہ جاپان)
