خلافت سے جڑ کر رہنا ہی اصل چیز ہے
حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
دنیا میں بسنے والا ہر احمدی چاہے وہ کسی قوم یا ملک سے تعلق رکھتا ہے اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کے ساتھ جو خلافت علی منہاج النبوۃ کا سلسلہ شروع ہونا تھا اس سے جُڑ کر رہنا اس کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ مَیں ان لوگ کی بات نہیں کر رہا جو شروع میں علیحدہ ہو گئے اور ان کی اب حیثیت بھی کوئی نہیں۔ جو جماعت احمدیہ کی اکثریت ہے، وہ جماعت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقام و مرتبہ کو سمجھتی ہے وہ بہر حال اس بات کا ادراک رکھتی ہے کہ خلافت سے جڑ کر رہنا ہی اصل چیز ہے۔ اسی سے جماعت کی اکائی ہے۔ اسی سے جماعت کی ترقی ہے۔ اسی سے دشمنان احمدیت اور اسلام کے حملوں کے جواب کی طاقت ہم میں پیدا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اب اسلام کی اس نشأۃ ثانیہ میں خلافت کے نظام سے وابستہ ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صرف زبانی ایمان کا اعلان اللہ تعالیٰ کے فضل حاصل کرنے والا نہیں بنا دیتا بلکہ آیت استخلاف میں جہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں میں خلافت کا وعدہ فرمایا ہے، ان کے خوف کو امن میں بدلنے کی خوشخبری دی ہے،خلافت سے وابستہ رہنے والوں کو تمکنت عطا فرمانے کا اعلان فرمایا ہے وہاں ان انعامات کا صرف ان لوگوں کو مورد ٹھہرایا ہے جو عبادتوں اور دعاؤں کی طرف توجہ دینے والے ہوں اور اس مقصد کے لئے قربانیاں کرنے والے ہوں کہ خدا کی توحید دنیا میں قائم کرنی ہے۔پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہ کہنے والے تو بہت سے ہوں گے لیکن حقیقی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہنے والے وہی ہیں جو ہر حالت میں صرف خدا تعالیٰ کی طرف دیکھتے ہیں۔ غیر اللہ کی طرف اُن کی نظر نہیں ہوتی۔ پس ہر یوم خلافت جو ہم مناتے ہیں، ہمیں اپنی دعاؤں اور عبادتوں اور توحید پر قائم رہنے اور توحید کو پھیلانے کے معیاروں کو ماپنے کی طرف توجہ دلانے والا ہونا چاہئے۔ ورنہ اگر یہ نہیں، اگر ہمارے معیار اللہ تعالیٰ سے تعلق میں پہلے سے بلند نہیں ہو رہے تو جلسے، تقریریں، علمی باتیں اور خوشیاں منانا کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ پس اس روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دعاؤں کی طرف ہماری توجہ ہو گی، توحید کی حقیقت کو سمجھنے کی طرف ہماری نظر ہو گی تو ہم میں سے ہر ایک ان فضلوں کا وارث بنے گا جس کا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدہ فرمایا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 30؍ مئی 2014ء بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 20؍ جون 2014ء صفحہ 5-6)
مزید پڑھیں: عاجزی و انکساری کی روشنی میں آنحضورﷺ کے اخلاقِ فاضلہ کا دل آویز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۲؍مئی ۲۰۲۶ء




