متفرق مضامین

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی وفات پر اخبارات کی ایک جھلک

(ابو حمدانؔ)

یہ بات تو روزِروشن کی طرح واضح تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی کہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے اپنی آمد کی جو دو بنیادی وجوہات بیان فرمائیں کہ خدا سے تعلق اور مخلوق سے محبت، اس پر نہ صرف خود کارفرما رہے بلکہ اپنی جماعت کواور تمام مسلمانوں کو اسی بابت اپنی تقریروں، تحریروں ، مباحثات اور دیگر مواقع پر باربار یاددہانی کرواتے رہے،اور نہ صرف ہندوستان اور ایشیا بلکہ دنیا کے کناروں تک نہ صرف آپ کا پیغام پہنچا بلکہ آپ کی وفات پر شش جہت سے اخبارات کی جھلکیوں اور مضامین سے اس کے وسیع پھیلاؤ کی تصدیق بھی میسر آگئی

روز اوّل سے خدا تعالیٰ کی اپنی مخلوق سے متعلق یہ سنت ہے کہ جو انسان اس دنیا میں آتا ہے اس کی واپسی بھی لازم ہے، گرچہ کتنا ہی محبوب خدا اورمخلوق کے لیے بہترین انسان کیوں نہ ہو۔ تاہم کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو ما ینفع الناس کی مصداق ہوتی ہیں اور جو خداتعالیٰ کی مخلوق کے لیے انتہائی درد اور تکلیف کا احساس رکھتی ہیں۔ اور عوام الناس کی فلاح وبہبود کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ چنانچہ ایسے وجودوں کی وفات پر ایک انتہائی بڑا خلا پیدا ہوتا ہے ، جس کے رفو کے لیے بسا اوقات عرصہ لگ جاتا ہے۔یہ ہستیاں ایسی قریبی اور پیاری ہوتی ہیں کہ جن کے جانے کا اول تو یقین ہی نہیں ہوپاتا کہ آیا یہ بھی کبھی داغ مفارقت دے سکتی ہیں؟ انسان چاہتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے بھی اس کیفیت کو قبول کرنے سےاحتراز کرتا رہتا ہے کہ اے کاش! فلاں شخص کے بارے میں انتقال کی خبر غلط ثابت ہو۔

مذہبی دنیا میں بھی کچھ یہی بلکہ اس سے بھی شدت کا حال دیکھنے کوملتا ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال تو ہمارے سامنے محبوب خدا رسول ﷺ کی وفات پر حضرت عمرؓ کا دیوانہ وار تلوار ہاتھ میں لیے حقیقت کو وقتی طور پر تسلیم کرنے میں تردّد کرنا ، وہیں حضرت حسان بن ثابتؓ کا انتہائی درد اور عقیدت سے بھرپور شعر

كُنتَ السَّوادَ لِنَاظِريْ فَعَمِيَ عَلَيكَ النَّاظِرُ

مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ

کہ اے (محمدﷺ)! تُو تو میری آنکھ کی پتلی تھا، اور آج (تیری وفات سے ) میری آنکھ اندھی ہوچکی ہے۔ اب تیرے بعد خواہ کوئی مرے ، مجھے تو فقط تیری موت اور بچھڑنے کا خدشہ تھا۔اور پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ يَاأَنَسُ! أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ۔ ترجمہ: اے انس! کیا تمہارے دلوں نے یہ گوارا کر لیا کہ تم رسول اللہ ﷺ (کے جسدِ مبارک) پر مٹی ڈالو؟ الغرض عقیدت، محبت، سلوک اور اطاعت کے جذبات سے سرشار متوالوں کے لیے کسی بھی ایسے محبوب کی جدائی ہمیشہ گراں ہی گزری ہے۔

قارئین! اس کیفیت کا اندازہ کسی قریبی رشتہ دار کی وفات کے موقع پر بخوبی سمجھ آسکتاہےکہ جہاں یکدم ایسے لگتاہے کہ دنیا ہی بدل گئی۔ وہی گھر اور چوبارے جو کبھی پُررونق ہواکرتے تھے اب انہی کو دیکھ کر دل اداس ہوا جاتا ہے۔ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کا دن بھی کچھ ایسی ہی کیفیات لیے ہوئے تھا۔ لاہور شہر کے اندرون میں شاہ عالم مارکیٹ کے قریب برانڈرتھ روڈ پر واقع احمدیہ بلڈنگ (لاہور ریلوے اسٹیشن سے کچھ فاصلہ پر معروف سڑک برانڈرتھ روڈ پرواقع تین گلیوں کی عمارات پر مشتمل علاقہ کا نام احمدیہ بلڈنگ ہے۔اس علاقہ کی زمین کی ملکیت ارائیں کمبوہ قوم کےایک سرکردہ شخص چودھری اللہ یار کی تھی جوجماعت احمدیہ لاہور کےایک بزرگ چودھری ظہور احمد صاحب کےوالد تھے۔حضرت خواجہ کمال الدین صاحب اور حضرت ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے ۱۹۰۶ء میں ان سے زمین لیز پر لی۔) (ماخوذ از حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ کےلاہورمیں آخری قیام اوروفات کےمختصر حالات از ناصر احمد بی۔اے/ایل۔ایل۔بی) میں خدا کا ایک بطلِ جلیل اور جری پہلوان اپنے محبوب خالق کے دربار میں حاضری کے لیے تیار ہے۔ اس تیاری سے متعلق خود خداتعالیٰ کی طرف سے پے در پے ہونے والے الہامات نے بھی آپؑ کی توجہ اس بابت مبذول کروائی۔ چنانچہ ان الہامات اور اشارات کا سلسلہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء سے شروع ہوتاہے جب آپ تبدیلی آب وہوا کی غرض سے لاہور کے سفرکاارادہ فرماتے ہیں۔ صبح ۴بجے آپ کو فارسی مصرعہ الہام ہوتا ہے کہ ’مباش ایمن ازبازی روزگار‘ (یہ فارسی شاعر سعدی کے شعر کادوسرا مصرعہ ہے جس کا مطلب ہے ’’اپنے آپ کو گردش زمانہ سےامن میں نہ سمجھنا‘‘ اسی کا پہلا مصرعہ بعدازاں الہام ہوا۔) اگلے روز ۲۷؍اپریل ۱۹۰۸ء کو حضورؑ حضرت اماں جان کے ہمراہ لاہور تشریف لےجاتے ہیں اور مذکورہ بالا احمدیہ بلڈنگ میں ہی موجود خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر قیام فرماتے ہیں۔(کچھ عرصہ بعد حضوراقدس اہل خانہ کے ہمراہ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں منتقل ہوگئےتھے۔) اس دوران آپؑ کے لمبے قیام کے سبب حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اور حضرت محمد احسن امروہی صاحبؓ بھی لاہور آجاتے ہیں۔ نیز اخبار ’بدر‘ کا دفتر بھی عارضی طور پر لاہور ہی منتقل ہوجاتاہے۔

تاریخ احمدیت کی ورق گردانی سے پتا لگتاہے کہ ’’سفر لاہور سے پیشتر ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ الہام اطلاع ہو چکی تھی کہ یہ سفر سفر آخرت کا پیش خیمہ ثابت ہونے والا ہے ۔ لاہور میں ۱۹؍مئی ۱۹۰۸ء کو الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ کا الہام نازل ہوا … ۱۷؍مئی ۱۹۰۸ء کو مکن تکیہ بر عمر نا پائدار (یہ فارسی شاعر سعدی کے شعر کا پہلا مصرعہ ہے جس کا مطلب ہے ’’ختم ہونے والی عمر پر بھروسہ مت کرنا‘‘ گویا اس شعر کا دوسرا مصرعہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء جبکہ پہلا مصرعہ ۱۷؍مئی۱۹۰۸ء کو الہام ہوا۔) کا الہام ہوا جس میں صاف طور پر وفات کی خبر تھی ۔ اس کے بعد ۲۰؍مئی کو جبکہ حضرت اقدس ’’پیغام صلح‘‘ کی تصنیف میں مصروف تھے آخری الہام ہوا کہ الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ وَالْمَوْتُ قَرِيبٌ یعنی کوچ کا وقت آگیا ہے ہاں کوچ کا وقت آگیا ہے اور موت قریب ہے۔ یہ الہام اپنے اندر کسی تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تھا لیکن سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دانستہ اس کی کوئی تشریح نہیں فرمائی تاہم ہر سمجھدار شخص سمجھتا تھا کہ اب وقت مقدر سر پر آگیا ہے۔ اس پر ایک دن حضرت ام المومنینؓ نے گھبرا کر حضرت مسیح موعودؑ سے کہا کہ اب قادیان واپس چلیں۔ حضور نے فرمایا اب تو ہم اس وقت جائیں گے جب خدا لے جائے گا۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ ۵۳۹)

مرض کی کیفیت اور شدت

لاہور آنے سے قبل حضورؑ مسلسل تصنیف کے کام میں مگن رہے، چشمۂ معرفت جیسی عدیم المثال کتاب جو مئی ۱۹۰۸ء کےاوائل میں ہی شائع ہوئی تھی۔ اسی دماغی محنت کےباعث آپ کے اعصاب پر بہرحال کافی اثر معلوم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ لاہور آنے کے بعد بھی یہ سلسلہ تھم نہ سکا، اور تھمتا بھی کیسے کہ ایک فانی فی اللہ کو اپنی مخلوق کا درد ہی اتنا تھا کہ یہاں آتےہی مختلف مکاتب فکر علماء سے ملاقات تو کہیں ہندو مسلم تعلقات استوار کرنے کے لیے کوشاں۔ اسی بابت آپؑ نے ۳۱؍مئی۱۹۰۸ء بروز اتوار ایک عام تقریر کا بھی انتظام کرنے کی ہدایت فرمائی جس کی تیاری کے لیے اپنا لیکچر لکھنا شروع بھی کردیا تھا۔ جو بعدازاں آپ کی وفات کے بعد ’پیغام صلح‘ کے نام سے شائع ہوا۔

۲۵؍مئی۱۹۰۸ء کی شام حسب معمول حضرت اقدسؑ بمع حضرت اماں جانؓ سیر کو تشریف لےگئے۔ اصحاب کے بقول آپؑ کا چہرہ اداس اداس معلوم ہورہا تھا۔ کسی نے سبب پوچھا تو آپؑ نے فرمایا ’ہاں میری حالت اس ماں کی طرح ہے جس کا بچہ ابھی چھوٹا ہواوراپنے تئیں سنبھال نہ سکتا ہو اوروہ اسےچھوڑکررخصت ہورہی ہو‘ (مجدد اعظم از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب جلد ۲ صفحہ ۱۲۰۵) سیر سے واپس آنے کے بعد حضورؑ کی طبیعت کچھ بہتر نہ تھی۔ ہاضمہ بھی متأثر ہوگیاتھا۔ ڈاکٹر محمد حسین صاحب نے دوائی بناکربھجوائی مگر افاقہ نہ ہوا۔ رات گئے طبیعت مزید خراب ہوتی چلی گئی۔ حضرت مولوی نورالدینؓ نے بھی مقوّی ادویات دے کر سنبھالنے کی کوشش کی البتہ رات دیر کو پھر طبیعت خراب ہوگئی اور ایک بڑے دست کےباعث نبض بالکل ہی رک سی گئی۔

۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو علی الصبح سے ہی حضورؑ کی طبیعت بوجہ اسہال انتہائی ضعف میں تھی۔ بار بار اسہال سے آہستہ آہستہ کمزوری بڑھتی چلی جارہی تھی۔حالت نزع میں آپ کا سانس کھنچ کھنچ کر آرہا تھا… تھوڑی دیر غرغرہ کا سلسلہ جاری رہا اور ہرآن سانس کے درمیان کا وقفہ لمبا ہو تا گیا حتی کہ قریباً ساڑھے دس بجے دو ایک دفعہ لمبے سانس آئے ۔ روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ (تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحہ ۵۳۹) اس وقت حضورؑ کے پاس مذکورہ بالا احباب کے علاوہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب بھی موجود تھے۔ نیز بیماری کی شدت میں پرنسپل میڈکل کالج لاہور (موجودہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج) ڈاکٹر سدرلینڈ (تفصیلی ذکر آخر پر) کو بھی بلوایا گیا۔البتہ تقدیر غالب آگئی۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

قارئین! حضور اقدسؑ کی بیماری، وفات ، میت کی بذریعہ ریل گاڑی بٹالہ روانگی اور پھر قادیان جنازہ ہونے تک الغرض تمام امور اخبارات و رسائل کا بھی موضوع بنے رہے۔ چنانچہ یہ مضمون دراصل انہی اخبارات کی خبروں، تجزیوں اور آراء پر مشتمل ہے جو اس دور کے پریس نے حضور اقدسؑ کی وفات پر شائع کیے۔

اخبارات کے تأثرات

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی وفات پر ہندوستان کے مقامی اخبارات کے علاوہ عالمی اخبارات نے بھی خبریں شائع کیں جن کو دیکھ کر ایک عمومی تأثر جونظر آتا ہے ان میں تین قسم کے رویے واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں ۔ اوّل:ایسے اخبارات جو تمام تر اثرات(influences) سے مبرا ہوکر دیانتداری کے ساتھ حقیقت بیان کرنے سےنہ جھجکتے تھے۔ دوم: ایسے اخبارات جو کلیۃً منفی پراپیگنڈا اور رجحانات کو فروغ دیتے تھے اور اخلاق سوز تحریرات کو شائع کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ ہونے دیتے تھے۔ سوم: کچھ ایسے بھی اخبارات تھے جو مذکورہ بالا دونوں اقسام کو ساتھ لےکرچلتے تھے۔ کبھی ان کی تحریرات میں انتہائی مثبت اور تعمیری تحریرات ہوتی تھیں، البتہ کبھی یہ بھی دیگر اخبارات کی مانند منفی خیالات کو ترویج دینے کا باعث بنتے تھے۔ چنانچہ حضورؑ سے متعلق لکھنے والے اکثر اخبارات میں اس قسم کے اخبار شامل تھے جو ایک طرف تو حضورؑ کی لیاقت اور علمیت کی تعریف کرتے تھے جبکہ ساتھ ہی دوسرے طبقے کی خوشنودی کے لیے یا اُس audience کے لیے کبھی کہیں آپؑ پر اعتراضات تو کہیں آپؑ کےدعاوی پر حاشیے چڑھانے لگ جاتے تھے۔

اگرچہ ان تحریرات سے حضورؑ کی ذات اقدس یا مشن پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا البتہ ان سے یہ گمان ضرور ہوتا ہے کہ آج کل کے میڈیا کی جانبدارانہ صحافت(Biased Reporting)اس دور میں بھی بہرصورت موجود تھی ۔قارئین کے علم میں یہاں یہ بات بھی لانا مناسب ہو گا کہ اُس دور میں سوشل میڈیا تو نہیں ہوتا تھا اور اخبارات ہی صرف معلومات کا ایک واحد ذریعہ ہوا کرتے تھے جو ۲۴ گھنٹے یا بسا اوقات ۳۶گھنٹوں بعد پہنچاکرتےتھے۔

(Geoffrey Clarke, The Post Office of India and Its Story (London: John Lane the Bodley Head; New York: John Lane Company, 1921).98)

جن کے ذریعے سے ہی پورے معاشرے میں کوئی مثبت یا منفی تاثر(Public Opinion) پروان چڑھتا تھا اور عموماً یہ تأثرات زائل ہونے میں وقت لیتے تھے جس کی تصدیق و تکذیب دیگر حوالہ جات اور لٹریچر کی مدد سے بآسانی کی جاسکتی ہے۔خاص طور پر مذہبی دنیا میں ایسے امکانات کی موجودگی انتہائی قریب ہواکرتی ہے۔ چنانچہ ایک مصنف لکھتا ہے کہ:

While newspapers are essential for shaping public opinion, it is important to note that they might not provide the complete picture (Raghuvendra Tanwar, “Reporting the Partition of Punjab 1947: Press, Public and Other Opinions” (2006)) until checked with other sources. Depending only on newspapers can be risky because they might hide more than they reveal. In societies with lower literacy, like in rural areas of India, false information spread quickly through word of mouth or traditional communication channels, especially within religious networks. (Chandrika Kaul, “At the Stroke of the Midnight Hour: Lord Mountbatten and the British media at Indian independence,” The Round Table 97, no. 398 (2008))

یعنی اخبارات بلاشبہ رائے قائم کرنے میں انتہائی اہم کردار اداکرتے ہیں لیکن یہ امر بھی زیر غور رہے کہ محض اخبارات پر اکتفا کرنے سے پوری تصویر سامنے نہیں آتی۔ لہذا ان اخبارات کی خبر یا تجزیے کو کسی اور مأخذ کےذریعہ کراس چیک کرنا بھی از بس ضروری ہے اور محض اخبارات پر اکتفاکرنا کسی بھی امر سے متعلق نامکمل اور غیر مستند آراء کےقائم کرنے کا سبب بن سکتاہے۔

بہرحال مذکورہ بالا تفصیل کے بعد آئیے !اب ہم حضرت اقدسؑ کی وفات پر مختلف اخبارات کا شائع کردہ مواد یکھتے ہیں۔

اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ ۲۸؍مئی۱۹۰۸ء

لاہور سے چھپنے والے معروف اینگلو انڈین اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ (Civil and Military Gazette)نے حضورؑ کی وفات پر ایک تفصیلی خبر شائع کی۔ اس اخبار کا حضور اقدسؑ نے اپنی تصنیفات میں بارہا ذکر فرمایا ہے۔ (حضورؑ نے کہیں سول تحریر کیا ہے اور کسی جگہ سول ملٹری کے نام سے ذکر کیا ہے۔) چنانچہ حضورؑ کی وفات پر اخبار ہذا نے آپ کا مکمل نام مرزا غلام احمد خان درج کیا [بعض اوقات “خان” سے مراد “رئیس” لیا جاتا تھا اس لیے ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہاں مرزا غلام احمد خان آف قادیان سےمراد مرزا غلام احمد ’’رئیس قادیان‘‘ ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔]اور شائع کیا کہ مرزا غلام احمد خان صاحب ساکن قادیان ضلع گورداسپور گذشتہ منگل کو ۶۹برس کی عمرمیں انتقال فرماگئے ہیں۔آپ ایک مشہور و معروف اسلامی واعظ اور سلسلہ احمدیہ کے بانی تھے ۔ان کے پیروکاروں کی تعداد تقریباً ۲۰ہزار بتائی جاتی ہے…مرزا صاحب، جن کا بہت احترام کیا جاتا تھا، کئی برس قبل سرکاری ملازمت میں تھے لیکن مذہبی و تعلیمی کاموں کے لیے خود کو مکمل طور پر وقف کرنے کی خاطر ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ خود ایک زمیندار اور جاگیردار ہونے کے ناطے مرزا صاحب نے اپنے ہم مذہب لوگوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے قانون کی بالادستی پر زور دیا۔ وہ امن کے مشن پر لاہور آئے تھے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی و اتحاد کو فروغ دینے کے لیے ایک سوسائٹی کے قیام کا انتظام کر رہے تھے۔ اپنی وفات سے چند روز قبل انہوں نے لاہور کے کئی معزز ہندو حضرات سے ملاقات کی تاکہ اپنے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں ان کا تعاون حاصل کریں۔ ان کا جسدِ خاکی قادیان لے جایا گیا، جو اس فرقے کا صدر مقام ہے جس کے وہ بانی اور سربراہ تھے، اور تجہیز و تکفین کی رسومات وہیں ادا کی جائیں گی۔‘‘

اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ ۹؍جون ۱۹۰۸ء

اسی طرح پھر یہی اخبار (سول ملٹری گزٹ )ریویو آف ریلیجنز میں چھپنے والے طاعون سے متعلق مضمون اور حضورؑ کی طاعون سے متعلق پیشگوئی انی احافظ کل من فی الدار سے متعلق رائے دیتا ہوا لکھتا ہے کہ ’مرزا غلام احمد کی حالیہ وفات نے ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کے تازہ شمارے کو…خاص اہمیت دے دی ہے۔ طاعون سے بچاؤ کے ٹیکے پر ایک مضمون مرحوم مرزا صاحب کی شخصیت میں پائی جانے والی عجیب خصوصیات کے امتزاج کی ایک واضح مثال ہے۔ مضمون کا لہجہ پوری طرح وفادارانہ ہے اور حکومتی اقدامات کوسراہنے نیز ٹیکہ لگوانے کی پرزور تائید کرتا ہے، جس کی افادیت کو یہ بمبئی کے محکمۂ جراثیمیات سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے ثابت کرتا ہے۔ مضمون کے اختتام پر مرزا صاحب کی تحریر کا ایک اقتباس درج ہے، جس میں وہ اپنے پیروکاروں کو ٹیکہ لگوانے کی سختی سے تلقین کرتے ہیں۔ نیز اپنے متعلق ایک دلچسپ امر کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ ’’جہاں تک میرےٹیکہ کرانے کاتعلق ہے، تو نہایت ادب سے حکومت کو مطلع کرتا ہوں کہ اگر حکمِ الٰہی مجھے ٹیکہ کرانے سے نہ روکتا تو میں اس حکومت کی یہ ہمدردانہ پیشکش ہرگز نہ ٹھکراتا بلکہ اس سے فائدہ اٹھانے والا پہلا شخص ہوتا‘‘۔مزید وہ اس کی یہ وضاحت کرتے ہیں کہ انہیں آسمان سے الہام ہوا تھا کہ وہ خود اور ان کے گھر کی چار دیواری میں رہنے والے تمام افراد طاعون سے خاص طور پر محفوظ رکھے جائیں گے، اور اس لیے انہوں نے ٹیکہ نہیں لگوایا کیونکہ اس صورت میں الہام کی سچائی مخفی ہو جاتی۔‘

ٹریبیون ۲۸؍مئی ۱۹۰۸ء

اخبار ٹریبیون نے ۲۸؍مئی ۱۹۰۸ء کو حضور کی وفات پر بعنوان ’’The Late Mirza Ghulam Ahmad‘‘ ایک مختصر خبر دی کہ ’منگل کے روز صبح ۱۰ بج کر ۲۶ منٹ پر معروف عالمِ دین اور فرقۂ احمدیہ کے بانی و پیشوا مرزا غلام احمد کا لاہور میں ڈاکٹر محمد حسین کے مکان پر انتقال ہو گیا، جہاں وہ تقریباً ایک ماہ سے مقیم تھے۔ ہم تفصیلی نوٹ بعد میں شائع کریں گے۔‘

پائیونیر (الہٰ آباد) جون ۱۹۰۸ء

دیگر اینگلو انڈین اخبارات کی طرح پائیونیر اخبار نے بھی حضرت اقدسؑ کی وفات پر ایک تفصیلی تبصرہ شائع کیا۔یہی خبر پھر سری لنکا سے چھپنے والے اخبار The Times of Ceylonنے بھی پائیونیر کے ریفرنس سے ہی اپنی ۳جون ۱۹۰۸کی اشاعت میں شائع کی۔

Hufvudstadsbladet۔۲۸؍جون ۱۹۰۸ء

فن لینڈ کے شہر ہیلسنکی سے نکلنے والے سویڈش زبان کے ایک اخبار میں بھی حضورؑ کی وفات سے متعلق تفصیلی خبر شائع ہوئی جس کا ترجمہ پیش ہے۔خبر کا عنوان ’’ہندوستان میں ایک مدعیٔ مسیحا: مرزا غلام احمد خان‘‘ تھا۔

’لاہور میں حال ہی میں مرزا غلام احمد خان انتقال کر گئے، جو احمدیہ جماعت کے بانی اور خود کو ’’مہدی‘‘ و ’’مسیح‘‘ کہلوانے کے دعویدار تھے۔ لاہور میں ان کی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ مرزا غلام احمد کا دعویٰ تھا کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تاکہ یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں پیدا ہونے والی تحریفات کو دور کر کے اصل دین کی تبلیغ کریں۔ وہ ہندوستان میں پیدا ہوئے، جبکہ ان کا خاندان سمرقند سے ہجرت کر کے پنجاب آیا تھا۔ کچھ عرصہ سرکاری ملازمت کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے کر خود کو مکمل طور پر مذہبی تبلیغ کے لیے وقف کر دیا۔ انہوں نے اپنے نظریات کی وضاحت کے لیے متعدد کتابیں اور رسائل تصنیف کیے۔ وہ دو اخبارات بھی شائع کرتے تھے، جن میں سے ایک انگریزی زبان میں تھا۔ یہ امر انہیں قدیم مذہبی بانیوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام فلسطین میں صلیب پر وفات نہیں پائے بلکہ زندہ اتارے گئے، بعد ازاں مشرق کا سفر کرتے ہوئے کشمیر کے دارالحکومت سری نگر پہنچے اور وہیں وفات پائی۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ کے مسیحا تھے جبکہ وہ خود حضرت محمد ﷺ کے مسیحا ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت انہیں جھوٹا مدعی قرار دیتی ہے، تاہم ان کے پیروکاروں کی تعداد ۷۰ سے ۸۰ ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ صرف لاہور میں ان کے ماننے والوں کی تعداد تقریباً ۱۰ ہزار تھی۔ ان سے پیشگوئیاں اور کرامات بھی منسوب کی جاتی تھیں۔ مرزا غلام احمد کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذہین شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ ان سے ملنے والے انگریز حکام انہیں قابلِ احترام قرار دیتے تھے۔ امن پسند رویے اور شہری قوانین کی پابندی کی تلقین کے باعث حکام نے انہیں آزادانہ تبلیغ کی اجازت دے رکھی تھی۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ۷۰ برس تھی۔ ‘

یہی مضمون پھر معمولی فرق کے ساتھ دیگر سویڈش اخبارات میں بھی شائع ہوا۔ مثلاً امریکہ سے سویڈش زبان میں چھپنے والے اخبار ROCKFORDS-POSTENمیں ۳ جولائی ۱۹۰۸ء کو۔

Berkeley Daily Gazette ۲۵؍جنوری۱۹۰۹ء

امریکی ریاست کیلیفورنیا ہی سے شائع ہونے والے ایک اوراخبار نے بھی حضور علیہ السلام کی وفات کے قریباً ایک سال بعد ایک تفصیلی نوٹ میں بعنوان ’’احمد کی سالگرہ‘‘ لکھا کہ ’ہندوستان کے جدید مذہبی راہنماؤں میں شمار ہونے والے مرزا غلام احمد ۷۲ سال قبل پنجاب میں پیدا ہوئے۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے برصغیر میں احمدیہ جماعت کی بنیاد رکھی، جسے بعد ازاں انگلینڈ اور امریکہ میں روحانیت اور تصوف کے دلدادہ افراد میں بھی پیروکار ملے۔ مرزا صاحب مسیحِ موعود ہونے کے مدعی تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں۔ وہ وسیع المطالعہ شخص تھے اور ایک رسالہ بھی شائع کرتے تھے جس میں وہ اسلام کا دفاع کرتے اور ہندوستان میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیوں پر کڑی تنقید کرتے تھے۔ کچھ سال قبل وہ امریکیوں میں اس وقت مشہور ہوئے جب انہوں نے صیہون سٹی کے بانی جان الیگزینڈر ڈوئی کو مباہلے کا چیلنج دیا۔ دونوں نے دعا کی کہ جھوٹا مدعی پہلے وفات پا جائے۔ مرزا غلام احمد نے پیشگوئی کی تھی کہ ڈوئی ذلت آمیز انجام سے دوچار ہوگا۔ جب ڈوئی اپنے خاندان اور حامیوں سے محروم ہو کر ویرانی کی حالت میں انتقال کر گیا، تو مرزا صاحب کے پیروکاروں نے اسے ان کی پیشگوئی کی تکمیل قرار دیا۔ مرزا غلام احمد امن اور رواداری کے داعی تھے۔ وفات سے چند روز قبل وہ لاہور میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی مفاہمت کے فروغ کے لیے ایک انجمن کے قیام کے سلسلے میں مصروف تھے۔‘

پھر تقریباً یہی مضمون کچھ معمولی فرق سے ریاست میسی سیپی سے شائع ہونے والے Hattiesburg نامی اخبار میں شائع ہوا۔

The Colac Herald۔ ۲۱؍اگست۱۹۰۸ء

وکٹوریہ (آسٹریلیا) سے چھپنے والے اخبارThe Colac Herald نے ۲۱؍اگست ۱۹۰۸ء کو شائع کیا کہ ۲۸؍مئی کو لاہور میں مرزا غلام احمد خان انتقال کر گئے۔ وہ پورے ہندوستان میں احمدیہ فرقے کے بانی کے طور پر جانے جاتے تھے اور اپنے پیروکاروں کے نزدیک مہدی اور مسیحا ہونے کے دعویدار تھے۔ ۷۰ سالہ مرزا غلام احمد کا تعلق ضلع گورداسپور کے گاؤں قادیان سے تھا اور وہ وہاں کے جاگیردار تھے۔ خاندانی روایت کے مطابق ان کا نسب مغل تھا اور ان کے آباءو اجداد بابر کے عہد میں سمرقند سے پنجاب آکر آباد ہوئے۔ ابتدائی زندگی میں وہ سرکاری ملازمت سے منسلک رہے، تاہم بعد میں استعفیٰ دے دیا…

اسی طرح سڈنی کے مضافات سے شائع ہونے والے اخبار The Braidwood Dispatchنے بھی ۲۶؍اگست ۱۹۰۸ء کی اشاعت میں اسی خبر کو دوبارہ شائع کیا۔دیگر اخبار ات جن میں یہ خبر شائع ہوئی ان میں مغربی آسٹریلیا کے کچھ اخبارات جیسے کہ The Northam Advertiser۔ ۲۸ستمبر۱۹۰۸ء، The Southern Argus۔ ۱۸؍دسمبر۱۹۰۸ء اور West Gippsland Gazetteیکم اگست ۱۹۰۸ءبھی شامل ہے۔

پیسہ اخبار /۳۰مئی ۱۹۰۸ء

لاہور سے تعلق رکھنے والے منشی مولوی محبوب عالم کی ایڈیٹرشپ میں نکلنے والے پیسہ اخبار لاہور کا بھی حضورؑ کی تحریرات میں کثرت سے ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ اس اخبار نے ۳۰مئی۱۹۰۸ء کو حضورؑ کی وفات پر تصویری خاکے کے ساتھ شائع کیا کہ

مرزا غلام احمد صاحب قا دیانی جو اپنے آپ کو مسیح موعود کرشن قادیانی کا اوتار اور چودھویں صدی کا مجدد کہتے تھے اور الہامات اوروحی کانزول اپنے اوپر ہونا بتاتے تھے ان کا انتقال لاہور میں ۲۶مئی کوہوگیا ان کے ضروری حالات کاخلاصہ ذیل ہے: مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے بزرگ فارسی الاصل تھے اور سمر قند سے ہندوستان آکرقصبہ قادیان میں جوضلع گورداسپور میں ہے آبادہوئے تھے۔ مرزاغلام احمدصاحب ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۷ء میں پیدا ہوئے۔۱۷-۱۸سال کی عمر میں عربی اور طب کی کتب درسیہ کی تعلیم ختم کرلی تھی۔ مطالعہ کتب کا ہمیشہ شوق رہا ،شروع ہی سے نیک اور پرہیزگار مشہور تھے۔ ۳۴ سال کی عمر میں آپ کے والدکاانتقال ہوا اور اسی زمانہ سے انہوں نے یہ دعوےٰ شروع کردیا کہ مجھےالہام ہوتاہےجس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کو اپنے والد کے انتقال کا معلوم پہلے ہی سے (شایدخواب میں دیکھ کر) ہوگیا تھا۔ چھوٹی ہی عمر سے اسلام کی تائید اورمخالف مذاہب کی تردید کاشوق تھا۔ ۱۸۸۰ء سے تصانیف کا سلسلہ شروع ہوا۔ براہین احمدیہ کےجواب کےلئے دس ہزار روپے کےانعام کااعلان کیا۔ تیرھویں صدی کےآخر میں یہ دعوےٰ کیا کہ میں اس صدی کامجدد ہوں۔ ۱۸۸۹ء سے بیعت کاسلسلہ جاری کیا۔ مرزاصاحب کےمریدوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ بتائی جاتی ہے۔ چند ہفتے سے مرزاصاحب لاہور میں اپنی بیوی کےعلاج کی غرض سے مقیم تھے۔ مگر ۲۵کی شب کو کسی وقت خود علیل ہوئے اور ۲۶مئی ۱۹۰۸ء کودن کے دس ۱۰ بجے انتقال ہوگیا۔ عام افواہ یہ ہے کہ انہیں ہیضہ ہواتھا۔مگر ان کے مریدین کابیان ہےکہ درد گردہ کی شکایت تھی…جنازہ کی نماز ان کےمرید خواجہ کمال الدین صاحب بی ۔ایل -ایل -بی کےمکان پر ہوئی۔ جنازہ قادیان گیا…اس امر کا بھی دلچسپی سے انتظارکیاجارہاہےکہ مرزاصاحب کاجانشین کون ہوتا ہے۔ سناگیاہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے بشیر احمدکواپناجانشین مقررکردیا تھا۔

پیسہ اخبار ۶؍جون ۱۹۰۸ء

پھر اسی طرح ۶؍جون کی اشاعت میں پیسہ اخبار لاہور نے ایک اور تفصیلی مضمون شائع کیا۔چنانچہ لکھتا ہے کہ ’مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان نے جو مجدد اورمہدی موعود اورمسیح موعود اور کرشن جی کا اوتار وغیرہ ہونےکےمدعی تھے۔ اور ساتھ نبوت کے دعویدار تھے۔ افسوس ہے کہ ۲۶مئی کو۱۰بجے صبح کےلاہور میں جہاں وہ علاج یا تبدیل آب وہوا کے لئے اپنےمریدوں کےہاں مقیم تھے۔بعارضہ ہیضہ یا بقول دیگر درد گردہ انتقال کیا۔ مرنا ہرشخص کے لئے لازمی ہے لیکن مرزاغلام احمد صاحب چونکہ مدعی رسالت تھے۔ اس لئے ان کی موت کیا ان کے مریدوں اور کیا ان کےمخالفوں دونوں کی نظر میں ایک اہم واقعہ ہے…مرزا صاحب کی زندگی کےحالات کا خلاصہ گزشتہ اشاعت (۳۰مئی۱۹۰۸ء کےپیسہ اخبار میں۔ناقل)میں درج ہوچکا ہے…‘

برسبیل تذکرہ!: پیسہ اخبار کی اسی ۶؍جون کی اشاعت میں خواجہ کمال الدین صاحب کی طرف سے بھجوائی گئی ایک تحریر بھی بعنوان ’’جناب مرزا صاحب کا جانشین‘‘ شامل اشاعت ہے جس سے واشگاف معلوم ہوتاہے کہ خلافت علی منھاج النبوۃ پر تمام عمائدین لاہوری بھی رضامند و متفق علیہ تھے۔ چنانچہ درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں: …حاجی حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب احمدیوں اور معتمدین صدر انجمن احمدیہ کی اتفاق رائے سے آپ کے خلیفہ منتخب کئےگئےاورتقریباً بارہ صد احمدیوں نے جواوس وقت قادیان میں موجود تھے قبل دفن حضرت مرزاصاحب آپ کی بیعت کی۔ آپ کا نیازمند خواجہ کمال الدین سیکرٹری صدرانجمن احمدیہ قادیان۔

اسی مناسبت سے بعض تحریرات ٹریبیون اخبار ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء ، ٹائمز آف انڈیا یکم جون ۱۹۰۸ء ، پاؤنیر اخبار ۲ جون ۱۹۰۸ء اور امرتابازار پتریکا نے یکم جون ۱۹۰۸ء میں بھی شائع ہوئی تھی۔

کشمیری میگزین۔ جون ۱۹۰۸ء

لاہور سے نکلنے والے محمد دین فوقؔ کے رسالہ کشمیری میگزین نے جون ۱۹۰۸ء کی اشاعت میں شائع کیا کہ ’’افسوس ہے کہ مرزاغلام احمد صاحب رئیس قادیان بانئے فرقہ احمدیہ ومدعئے مسیحیت و مہدویت وغیرہ نے ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۲۶ھ مطابق ۲۶مئی۱۹۰۸ء بروز منگل بوقت ½10 بجے صبح بمقام لاہور احمدیہ بلڈنگس میں بقول بعض درد گردہ اور باعتبار افواہ ہیضہ سے انتقال کیا۔ جنازہ اسی دن شام کو قادیاں لے گئے جہاں ۲۷مئی کوسہ پہر کےوقت وہ کمال علم وفضل کاپتلا جسے تین لاکھ مسلمان احمدی مسیح موعود اورمہدی معہود تسلیم کرتےتھے قادیاں کےبہشتی مقبرے میں سپرد خاک کیاگیا۔ قادیاں کےایک عظیم جلسہ میں کل احمدی قوم نےحکیم مولوی نورالدین صاحب کوبطور خلیفۃ المسیح منتخب اورقبول کیا اوران کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔

امرتا بازارپتریکا۔ ۲۹؍مئی۱۹۰۸ء

کلکتہ سے نکلنے والے معروف انگریزی اخبار امرتا بازارپتریکا نے ۲۹مئی۱۹۰۸ء کو ایک تفصیلی نوٹ شائع کیا کہ ’لاہور سے ہمارے نامہ نگار نے مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کی افسوسناک خبر دی ہے۔ وہ جدید دور میں پنجاب کی شاید سب سے نمایاں شخصیت تھے۔ ان کا تعلق ایک قدیم ترکی، یعنی وسطی ایشیائی،( نہ کہ اصل ترک)، خاندان سے تھا جسے مغل دورِ حکومت میں وسیع اختیارات اور مراعات حاصل تھیں۔ وراثت میں انہیں گورداسپور کے قریب واقع گاؤں قادیان میں ایک چھوٹی سی جاگیر ملی…بچپن ہی سے ان کا میلان مذہبی مطالعے اور غور و فکر کی طرف تھا، اور بالغ ہونے سے قبل ہی وہ مذہبی مباحثوں میں جید مولویوں کا مقابلہ کرنے لگے تھے۔ ان کے ساتھی انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے، البتہ چندلوگ ان سے ایک پراسرار خوف محسوس کرتے تھے… وہ سنجیدگی سے اپنے رفقا سے فرشتہ جبرائیل کی آمد اور خداوند تعالیٰ کی جانب سے اسلام کے باہم متصادم فرقوں کو متحد کرنے کا مشن سونپے جانے کا ذکر کرتے تھے۔ جوانی میں خاندان کے اصرار پر انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی، لیکن نوکری کی پابندیاں ان کی طبیعت سے مطابقت نہ رکھتی تھیں۔ چنانچہ وہ جلد ہی ملازمت ترک کر کے گوشہ نشین ہو گئے اور اپنا تمام وقت اور توانائی روحانی ریاضت کے لیے وقف کر دی۔ رفتہ رفتہ چند عقیدت مند شاگرد ان کے گرد جمع ہوتےچلے گئے …انیسویں صدی کی آٹھویں دہائی کے اوائل میں انہوں نے پے در پے پیشگوئیاں جاری کر کے زبردست سنسنی پیدا کی۔ کبھی کسی مشنری کی موت، کبھی کسی آفت اور کبھی وبا پھیلنے کی پیشین گوئی کرتے۔ ان کے بعض سابقہ اعلانات سچ ثابت ہوئے تو ان کے پیروکاروں کی خوشی اور فخر کی انتہا نہ رہی۔ گزشتہ ۱۰ یا ۱۲برس کے دوران وہ اپنے گاؤں سے باہر جب بھی نکلے، عقیدت مندوں کا ایک بڑا ہجوم ان کے ہمراہ رہا۔ چند سال قبل انہوں نے لاہور کا دورہ کیا اور دریا کے کنارے خیمہ زن ہو کر وعظ کیا۔ ان کے خطبات کو ہر فرقے اور مسلک کے ہزاروں افراد نے سنا۔ وہ قادیان میں ’’امیری‘‘ نہیں بلکہ ’’فقیری‘‘ طرز پر سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور روزانہ سینکڑوں غریبوں کو کھانا کھلاتے تھے…ان کے نظریات ایک انگریزی اور ایک اردو جریدے کے ذریعے شائع ہوتے ہیں، اور پرجوش مبلغین کا ایک گروہ ان کی تبلیغ کرتا ہے۔ ان کے صاحبزادے (صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحبؔ) پنجاب میں تحصیلدار کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس وقت پنجاب کے ہر گوشے میں ان کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے کم نہیں ہو سکتی۔ ان میں ہر طبقے کے افراد شامل ہیں: جید علما، بااثر زمیندار، تعلیم یافتہ پیشہ ور اور دولت مند تاجر۔ وفات کے وقت ان کی عمر ساٹھ برس سے متجاوز تھی۔‘

قارئین کرام! خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورۃ یٰس میں فرمایا: یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ۔مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۔ (یٰس: ۲۹) یعنی وائے حسرت بندوں پر ! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ خدا تعالیٰ کےصادق نبی تھے اور ضرور تھا کہ باقی انبیاء کی طرح آپؑ سے بھی ہنسی ٹھٹھا کیا جاتا تاکہ دنیاوی مخالفت والی شرط سے بھی آپؑ صادق ٹھہرائے جاتے۔ سو آپؑ کی زندگی میں تو آپ کے مخالفین نے مخالفت میں کچھ کسر نہ چھوڑی اور یہ خیال کیا کہ شاید وہ اپنے منہ کی پھونکوں سے خدا کے نور کو بجھا دیں گےلیکن ناکام ہوئے اور جب حضورؑ کی وفات ہوئی تو اپنی مخالفانہ روش کو نہ چھوڑا اور ایک دوسرے سے بڑھ کر بد زبانی میں اور ہنسی ٹھٹھے میں ایسے حصہ لیا گویا کہ اصل نیکی ہی یہ ہے۔اگرچہ یہ تمام باتیں ایک سچے احمدی کے دل کو زخمی کرتی ہیں اور تکلیف دیتی ہیں لیکن یہ امر بھی واضح رہےکہ سچے نبی کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس کی مخالفت کی جاتی ہے سو اس طرز پر حضورؑ کی سچائی بھی ثابت ہورہی ہےاور آج دنیا بھی دیکھ رہی کہ حضورؑ کے مخالفین کو خدا تعالیٰ نے کیا دیا اور حضورؑ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا ملا۔

وطن اخبار لاہور

وطن اخبار لاہور نے ۲۹مئی۱۹۰۸ء کی اشاعت میں حضورؑ کی وفات سے متعلق دو کالمی خبر شائع کی، ملاحظہ ہو: كل من عليها فان افسوس ہے کہ چودھویں صدی کے مہدی اور مسیح موعود ہونے کے مدعی کرشن قادیانی اور اپنے حلقۂ اثر میں امام الزّمان بلکہ نبی اور مجموعہ انبیاء و او تاران نبی والے مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان ۲۶ یوم سہ شنبہ کو بوقت ۱۱بجے دن کے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔آپ نے شہر لاہور میں وفات پائی۔ عام افواہ ہے کہ وبائے ہیضہ نے کام تمام کیا۔ اور مریدان خاص کا بیان ہے کہ درد گردہ اور اسہال سے یہ حادثہ جانکاہ واقع ہوا۔ مرزا صاحب ایک ماہ کے عرصے سے وارد لاہور تھے ۔اپنی حرم صاحبہ کا معالجہ کرا رہے تھے…مرزا صاحب کو در دگردہ یا اسہال جو مرض بھی لاحق ہوا۔ دو بجے شب کو اوس کا آغاز ہوا اور گیارہ بجے دن تک اون کی روح جسم عنصری سے مفارقت کر گئی ۔ خواجہ کمال الدین صاحب کی کو ٹھی ہی میں فوت ہوئےاوروہیں غسل و کفن دیکر مریدان خاص کی ایک جماعت نے جو تقریباً ڈیڑھ سو آدمی ہوں گے۔ تین بجے دن کو نماز جنازہ پڑھی اور پانچ بجے لاش قادیان کو روانہ ہوئی۔

پھر اخبار ہٰذا حضور کی وفات پر معاندین ومخالفین کی جانب سے ہونے والی غیراخلاقی حرکات وسکنات کا احوال بیان کرتے ہوئے بعنوان ’’جنازہ کی تضحیک‘‘ لکھتا ہے کہ مرض کی خبر نہایت تیزی کے ساتھ مشہور ہو گئی تھی۔ اور فرودگا ہ کے قریب عوام کا کثیر مجمع تضحیک کے طور پروا ویلا کر رہا تھا۔ یہ مجمع جہال ،اخلاق و تہذیب کے جامہ سے عاری ایک روسیاہ شخص کو چار پائی پر ڈالے ہوئے تھا ۔کچھ نقلی ہندو بنے تھے، بعض عیسائی اور چند مرزائی اور باہم لڑرہے تھے۔ ہندو کہتے یہ کرشن ہے اسے جلائیں گے، عیسائی کہتے تھے یہ مسیح ہے ہم اسے صلیب پر چڑھائیں گے ۔ اور مرزائی امام الزمان کے غم میں سینہ کوبی کرتے تھے ۔ مرزا صاحب کے اصلی مریدوں کو واقعی سخت صدمہ پہنچا۔ اور۳۱مئی کو مرزا صاحب کا موعودہ عام و عظ بھی افسوس ہے کہ اس مرگ ناگہانی کے ہاتھوں قبر میں دفن ہو گیا۔ عوام کی شرارت سے خطرہ محسوس کرکے پولیس کی مدد منگالی گئی تو مجمع منتشر ہوا ۔ شام کو علمائے اسلام کا پھر و عظ ہوا ۔ جس کے حالات آئندہ پرچے میں دیئے جائیں گے۔

پیغام صلح …ایک ضروری نوٹ!

قارئین! وطن اخبار لاہور نے ۲۹مئی۱۹۰۸ء کی اشاعت میں حضورؑ کی وفات سے متعلق دو کالمی خبر شائع کی، اخبار نے ایک جملہ استعمال کیا کہ ’’۳۱مئی کو مرزا صاحب کا موعودہ عام و عظ بھی افسوس ہے کہ اس مرگ ناگہانی کے ہاتھوں قبر میں دفن ہو گیا۔‘‘ دراصل یہ اشارہ پیغام صلح والے مضمون کی طرف تھا کہ گویا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد آپؑ کا موعود ہ وعظ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ چنانچہ اس امر کی وضاحت کرنا بھی ضروری ہے بلکہ دیگر اخبارات کی شہادت سے بیان کرتاچلوں کہ یہ موعودہ وعظ بھرپور طور پر ہوا۔ بلکہ حضرت خواجہ کمال الدین صاحب نے یہ مضمون ۲۱؍جون ۱۹۰۸ء کو پنجاب یونیورسٹی ہال میں ہزاروں کےمجمع میں پڑھ کرسنایا۔ بعض اخبارات نے مضمون سے پہلے اور بعض نے مضمون پڑھے جانے کے بعد اس کی خبر شائع کی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو ٹریبیون ۲۰؍جون ۱۹۰۸ء، امرتابازارپتریکا ۲۲؍جون۱۹۰۸ء، اسی طرح سول ملٹری گزٹ ۲۴؍جون۱۹۰۸ء کے مطابق سامعین میں ۴۰۰۰ ہندو اورمسلمان تھے۔ اخبار اس خبر کےابتدائیہ میں بعنوان The Message of Peaceلکھتا ہے کہ

The Lecture in Urdu entitled The Message of Peace written by late Mirza Ghulam Ahmad Quadiani, a couple of days before his death was read by Khwaja Kamal-ud-Din…

اسی طرح الٰہ آباد ہندوستان سے شائع ہونے والے رسالہ The Indian Peopleکی ۸اکتوبر ۱۹۰۸ء کی اشاعت میں حضورؑ کے پیغام صلح والے مضمون کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ ’مسلمانوں کا پیغام صلح‘ کےعنوان کےتحت لکھتے ہیں کہ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا (ترک) خلیفہ کا آئینی حکومت کے اصولوں کی طرف اچانک رجوع ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوستانی قومیت کے مقصد کے لیے ہندوؤں سے متحد ہونے پر آمادہ کرے گا؟ اس کا کوئی حتمی جواب ابھی نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن ہوا کا رخ بتانے والی ایک معمولی مگر اہم علامت مرحوم مرزا غلام احمد کا ’’پیغامِ صلح‘‘ ہے، جو مسیحِ موعود اور مہدی ہونے کے مدعی تھے۔ یہ پیغام ۲۱ جون کو لاہور کے یونیورسٹی ہال میں ۵,۰۰۰ مسلمانوں اور ہندوؤں کے ایک اجتماع میں پڑھ کر سنایا گیا۔ مذکورہ ’’مسیح و مہدی‘‘، جن کا انتقال یہ پیغام تحریر کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد ہوا، ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد کی ایک تحریک کے رہنما تھے جسے احمدیہ تحریک کہا جاتا ہے۔ یہ تحریک گزشتہ اٹھارہ برس سے جاری ہے۔ یہ تشدد کے طریقوں کی تردید کرتی ہے… ہندوستان کے مختلف حصوں میں اس کے ۴۰,۰۰۰ ارکان ہیں، جو غیر مسلموں کے خلاف جہاد کے عقیدے سے انکار (یہ دراصل خونی مہدی کے نظریہ سےمتعلق ہے) کی وجہ سے راسخ العقیدہ مسلمانوں سے الگ سمجھے جاتے ہیں۔ ’’پیغامِ صلح‘‘، جو ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کے جولائی کے شمارے میں مکمل شائع ہوا ہے، کئی لحاظ سے ایک قابلِ ذکر دستاویز ہے۔ ممکن ہے اس کی کوئی سیاسی اہمیت نہ ہو، لیکن (ترک)سلطان کے آئینی خیالات اور مذہبی مساوات کے اصولوں کی طرف اچانک تبدیلی کے پیشِ نظر، یہ صلح کا پیغام ایسے سنہری پُل کا کردار اداکرسکتاہے جس کے ذریعے ہندوستانی مسلمان آئینی ہم آہنگی پیداکرسکیں۔ ’’پیغامِ صلح‘‘ کا آغاز تمام ہندوستانیوں کے اتحاد کے اقرار سے ہوتا ہے: ’’میرے عزیز ہم وطنو! ہم سب، خواہ ہندو ہوں یا مسلمان، سینکڑوں اختلافات کے باوجود اس بات پر متفق ہیں کہ ہم ایک ایسے خدا پر ایمان رکھتے ہیں جو اس کائنات کا خالق اور پروردگار ہے۔ مزید برآں، ہمارا مشترکہ مقصد صرف اس لیے نہیں کہ ہم سب انسان ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ایک ہی ملک کے باشندے ہونے کے ناطے ہم حقیقتاً ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں۔‘‘ اس میں اسلام کا یہ خاص امتیاز بیان کیا گیا ہے کہ قرآن نے دیگر تمام انبیاء کی الہامی حیثیت کو تسلیم کیا ہے: ’’اے ایمان والو! کہو: ہم تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، بعض کو مان کر بعض کا انکار نہیں کرتے۔‘‘ چنانچہ یہ قرآن اور ویدوں کے ماننے والوں کے درمیان، خصوصاً مشترکہ عمل کے لیے، ایک مشترکہ بنیاد فراہم کرتا ہے۔

پورا پیغام ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے ایک پُر زور اپیل ہے کہ وہ اپنے اختلافات بالائے طاق رکھیں، دلوں سے عداوت اور نفرت کو دور کریں، اور ہم آہنگی و دوستی کے ساتھ تعاون کریں۔ پیغام کا خلاصہ درج ذیل عبارت میں ہے: ’’میرے دوستو! میں آپ کو ایسے نازک وقت میں امن کی دعوت دیتا ہوں جب دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے ساتھ صلح اور مفاہمت کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا پر بہت سی آزمائشیں اور آفتیں آئی ہیں۔ زلزلوں، قحط اور وباؤں نے تباہی مچا دی ہے، اور خدائے تعالیٰ نے مجھے یہ بھی مطلع کیا ہے کہ اگر لوگ اپنے برے اعمال سے توبہ نہیں کرتے اور بد اعمالیاں ترک نہیں کرتے تو ہماری دنیا پر اس سے بھی زیادہ ہولناک آفات نازل ہوں گی، اور ایک مصیبت ختم نہ ہوگی کہ دوسری آ جائے گی۔ آخر کار لوگ سخت پریشانی میں مبتلا ہوں گے اور پوچھنے لگیں گے کہ کیا ہونے والا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے مصائب کی شدت سے دیوانے ہو جائیں گے۔ بھائیو، ان دنوں کے آنے سے پہلے اپنی فکر کرو، اور ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں متحد ہو جانا چاہیے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ ایسی زیادتی کر رہا ہے جو اتحاد میں رکاوٹ ہے تو اسے فوراً وہ ظلم چھوڑ دینا چاہیے، ورنہ وہ دونوں کے درمیان عداوت اور نفرت کا مکمل ذمہ دار ہوگا۔‘‘

تمام انبیاء کے مساوی الہامی حق کی بنیاد پر مذہبی اتحاد کی اپنی خواہش کے خلوص کو ثابت کرنے کے لیے، ’’پیغمبرِ صلح‘‘ نے یہ منفرد پیشکش کی: ’’اگر مکمل امن کے قیام کے لیے ہندو حضرات اور آریہ سماجی ہمارے مقدس نبی ﷺ کو خدا کا سچا نبی تسلیم کرنے اور ان کا انکار و توہین ترک کرنے پر آمادہ ہوں، تو میں پہلا شخص ہوں گا جو اس معاہدے پر دستخط کروں گا کہ ہم، احمدیہ جماعت کے ارکان، ہمیشہ ویدوں اور رشیوں پر انتہائی احترام کے ساتھ ایمان لاتے رہیں گے، اور معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں ہندوؤں کو تین لاکھ روپے بطورِ جرمانہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ اگر ہندو مخلصانہ طور پر اس امن کے خواہش مند ہیں تو انہیں بھی ایسا ہی معاہدہ کرنا چاہیے۔‘‘

آخر پر تأثر دیتے ہوئے اخبار ہذا اس امید کا اظہار کرتا ہے کہ ’’پیغامِ صلح‘‘ کی یہ عملی صورت شاید کوئی ردِعمل پیدا کرے۔ لیکن اگر قسطنطنیہ کے زلزلے سے ہندوستان میں ہمدردانہ ارتعاش پیدا ہو سکتا ہے، تو مسیح مہدی موعود کی یہ پُرجلال تنبیہات بھی اپنا اثر دکھا سکتی ہیں۔

چرچ مشن سوسائٹی ریکارڈ جو بالخصوص دنیا بھرمیں موجود عیسائی مشنزکی کارروائیوں اور رپورٹس پر مشتمل ہوتے ہیں، اپنے اکتوبر۱۹۰۸ء کے The Church Missionary Review میں لکھتے ہیں: …یقیناً اسلام میں فرقوں کی اتنی کثرت ممکن نہیں، کیونکہ قرآنِ مجید کو، کم از کم نظریاتی طور پر، وحی کا واحد اور مکمل ریکارڈ مانا جاتا ہے۔ اس کے باوجود مقامی اولیاء، یہاں تک کہ مسلمانوں میں بھی، وفات کے بعد ایسے اعزازات پاتے ہیں جو تقریباً الوہیت کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں، اور زندگی میں بھی انہیں مقدس ہستیوں کے طور پر عظیم شہرت حاصل ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ ایسے فرقوں کے بانی بن جاتے ہیں جو مردم شماری رپورٹ میں ذکر کے قابل سمجھے جاتے ہیں۔ اس کی مثال رائے بریلی کے سید احمد شہید ہیں جنہوں نے ہندوستان میں وہابی تحریک متعارف کرائی…سر سید احمد خان، K.C.S.I، ایک بالکل مختلف قسم کے رہنما تھے…تیسری اور پھر بالکل مختلف قسم کی قیادت مرحوم مرزا غلام احمد نے پیش کی، جنہیں عام طور پر ضلع گورداسپور کے قصبہ قادیان کا ’’مرزا‘‘ کہا جاتا ہے… بعد میں وہ ایک الگ فرقے کے رہنما بن گئے، جو کئی لحاظ سے راسخ العقیدہ مسلمانوں کے لیے سخت ناگوار تھا۔ تاہم اس کے باوجود چند سال قبل امرتسر میں ہونے والے ایک عوامی مناظرے میں وہ اسلام کے مدافع کے طور پر سامنے آئے۔ ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ اس مناظرے میں ڈاکٹر مارٹن کلارک اور اسسٹنٹ کمشنر مسٹر عبداللہ آتھم مسیحیت کی نمائندگی کر رہے تھے۔…غلام احمد کے پیروکار خاص طور پر متحدہ صوبہ جات اور پنجاب میں تھے، جبکہ سندھ میں بھی ان کے کچھ ماننے والے موجود تھے۔ جنوب میں ان کی تعداد بہت کم تھی۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا دعویٰ تھا۔ نہ صرف مہدی، بلکہ مسیحا بھی۔ سیاسی طور پر ان کا جہاد کے نظریے سے انکار بھی اہم تھا، حالانکہ یہ محض ذاتی حالات کا اثر کہاں تک تھا یہ کہنا مشکل ہے۔ ان کا آخری عوامی اعلان امن کا …پیغام تھا، ہندوؤں سے خطاب۔ اگر وہ محمد کو خدا کے سچے نبی کے طور پر قبول کرتے ہیں، اور ان کا انکار کرنا اور ان کی توہین کرنا چھوڑ دیتے ہیں، تو وہ اور اس کے پیروکار ویدوں پر یقین جاری رکھنے کے معاہدے پر عمل کرنے میں ناکام رہنے کی صورت میں خود کو تین لاکھ روپے کے جرمانے کے تحت پابند کریں گے اور ویدوں اور رشیوں کے بارے میں انتہائی احترام کے ساتھ بات کریں گے۔…یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا مستقبل کی مردم شماری کی رپورٹوں میں قادیانی رہنما کے نام کا ذکر کرنے کا موقع ملتا ہے، اور کب تک!

قارئین! مذکورہ بالا اشاعت کے آخر پر جلی الفاظ دراصل عیسائی مشن کا خداکےاس فرستادے سے متعلق ایک تفاخرانہ دعویٰ یا خواہش معلوم ہوتی تھی کہ گویا یہ جماعت ناپید ہوجائے گی، البتہ خدا کی شان دیکھتے ہیں کہ ٹھیک ۱۰سال بعداسی ادارے کے آفیشل ریکارڈ سے ایک مضمون بعنوان The Foreign Field: Recent News and Letters from the Missions منظرعام پرآتاہے جس میں مغربی ہندوستان کی تبلیغی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ سے متعلق اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے (ہمیں) ہندوستان میں بےحد مشکلات کا سامنا ہے…کوئی پندرہ سال پہلے، کہا جاتا تھا کہ ان کے پیروکاروں کی تعداد تقریباً پچاس ہزار تھی، اور اب یہ تعداد غالباً کہیں زیادہ ہے کیونکہ وہ ہرجگہ پائے جاتےہیں۔

…which is giving much trouble in India… some fifteen years ago, there were said to be about fifty thousand of his followers, and this number is probably much greater now, for they are to be found everywhere… (The Foreign Field: Recent News and Letters, The C.M.S. Gleaner (London: Church Missionary House), September 2, 1918, 123.)

اخبار کرزن گزٹ ۲؍جون ۱۹۰۸ء کو حضورؑ کی لیاقت وقابلیت سے متعلق لکھتاہے: مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جواس نے آریاؤں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔ اس نے مناظرےکابالکل رنگ بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کردی نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ ایک محقق ہونےکے ہم اس بات کا اعتراف کرتےہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریا اور بڑے سے بڑے پادری کی مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا…اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارےپنجاب میں بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والانہیں ہے…

اسی اشاعت میں آپ کی وفات سے متعلق ایک نیا انکشاف کیا جاتا ہے کہ ’’سناگیا ہے کہ کچھ عرصے تک کسی خاص مصلحت سے ان کے احبا ب نےان کا مرنامشہور نہیں کیا۔جس وقت ڈاکیہ منی آرڈر لےکر آیا،اس وقت مرزاصاحب انتقال کرچکےتھے مگران کے کسی مرید نےجوغالباً اس کام پر مقرر ہوگا دستخط کرکے منی آرڈر وصول کرلئے…مرزاصاحب کے دستخط ملائے گئے تو معلوم ہوادستخط کسی غیرکےہیں…تفتیش ہونےپریہ راز کھلا کہ مرزاصاحب انتقال کرچکے ہیں…جب یہ بھید کھلا تو لاہور میں ایک تہلکا مچ گیا اور ایسی حالت میں جوکچھ اس مرحوم کی مخالفت کی گئی وہ متانت اورانسانیت کےدرجہ سے گزری ہوئی تھی۔‘‘

حرف آخر

قارئین! تاریخی شواہد سے یہ امر بھی بخوبی واضح ہوتا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کی وفات کے بعد مخالفین نے اشتعال انگیزی، تمسخر اور دل آزاری کا سلسلہ فوری طور پر شروع کردیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے حضورؑ کی وفات کے متعلق یہ تاثر پھیلایا گیا کہ گویا آپؑ کسی وبائی بیماری یا ہیضے کا شکار ہوئے ہیں، تاکہ عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا جاسکے اور جنازے و تدفین کے انتظامات میں مشکلات کھڑی ہوں۔ یہ امر خاص طور پر اس لیے بھی اہم تھا کہ اُس وقت برصغیر حالیہ طاعون اور متعدی امراض کی شدید لہروں سے گزر رہا تھا اور حکومت کی جانب سے Contagious Diseases اور Disease Regulations پوری سختی سے نافذ تھے۔ ان قوانین کے تحت مشتبہ وبائی اموات کے اجساد کی نقل و حرکت، خصوصاً ریل کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانے پر کڑی نگرانی رکھی جاتی تھی۔ چنانچہ اگر واقعی کوئی وبائی یا متعدی مرض لاحق ہوتا تو حکومتی سطح پر لاش کو لاہور سے قادیان منتقل کرنے کی اجازت ملنا نہایت دشوار بلکہ تقریباً ناممکن امر تھا، اور وفات بھی کوئی عام اور گمنام وفات نہیں بلکہ ایسی وفات جس کی خبر پوری دنیا کےاخبارات کی زینت بن جاتی ہے۔

مزیدبرآں اسی ماحول میں بعض مخالفین نے ایک مصنوعی جنازہ ترتیب دے کر احمدیہ بلڈنگ کے اطراف جلوس نکالا اور ’’ہائے ہائے مرزا‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے ماحول کو مزید کشیدہ بنانے کی کوشش کی۔ حالات اس قدر اشتعال انگیز ہوگئے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو بھی مداخلت کرنا پڑی تاکہ کسی ممکنہ تصادم یا بدامنی کو روکا جاسکے۔ اس تمام واقعہ سے اُس دور کے مذہبی تنازعات کی شدت، عوامی اشتعال انگیزی اور اخباری و عوامی پراپیگنڈے کے رجحانات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، جہاں مذہبی اختلاف اکثر سڑکوں، جلوسوں اور عوامی نعروں کی شکل اختیار کرلیتا تھا۔

یہ صورتحال جماعتِ احمدیہ کے افراد کے لیے یقیناً نہایت صدمہ انگیز رہی ہوگی، کیونکہ جس ہستی سے وہ محروم ہوئے تھے وہ سراپا شفقت، خدمتِ انسانیت اور عشقِ رسولﷺ کا پیکر تھی۔ مزید برآں، اس پورے منظرنامے میں سیرتِ نبویﷺ کی ایک جھلک بھی نمایاں محسوس ہوتی ہے کہ جس طرح ابتدائی دورِاسلام میں مخالفینِ رسول ﷺ نے مکہ کی گلیوں اور بازاروں میں تمسخر، آوازہ کشی اور اشتعال انگیزی کا راستہ اپنایا تھا، اسی نوعیت کی مخالفت یہاں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ یوں حضرت اقدسؑ کی وفات کے بعد کے یہ واقعات محض ایک مذہبی شخصیت کی وفات کا بیان نہیں بلکہ محکوم ہندوستان (Colonial India)کے مذہبی، سماجی، طبی اور سیاسی تناؤ کی عکاسی بھی کرتے ہیں، جہاں بیماری، افواہ، مذہبی رقابت اور ریاستی قوانین آپس میں گہرے طور پر جڑے ہوئے تھے۔ چنانچہ اسی تناظر میں ہمیں مذکورہ بالا حوالہ جات سے اس ماحول کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ البتہ یہ بات تو روزِروشن کی طرح واضح تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی کہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے اپنی آمد کی جو دو بنیادی وجوہات بیان فرمائیں کہ خدا سے تعلق اور مخلوق سے محبت، اس پر نہ صرف خود کارفرما رہے بلکہ اپنی جماعت کواور تمام مسلمانوں کو اسی بابت اپنی تقریروں، تحریروں ، مباحثات اور دیگر مواقع پر باربار یاددہانی کرواتے رہے،اور نہ صرف ہندوستان اور ایشیا بلکہ دنیا کے کناروں تک نہ صرف آپ کا پیغام پہنچا بلکہ آپ کی وفات پر شش جہت سے اخبارات کی جھلکیوں اور مضامین سے اس کے وسیع پھیلاؤ کی تصدیق بھی میسر آگئی۔آخر پر اپنی انہی تحریرات سے متعلق آپؑ کے ایک ارشاد پر ختم کرتاہوں: ’’میرے پیارے دوستو! میں آپ کویقین دلاتاہوں کہ مجھے خداتعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لیے بخشاہے اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان وعرفان کے لیے مجھے عطا کی گئی ہے۔اس معرفت کی آپ کواورآپ کی ذُرّیّت کو نہایت ضرورت ہے۔سومیں اس لئے مستعد کھڑاہوں کہ…جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے ان علوم اوربرکات کو ایشیاء اوریورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جوخداتعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلدسوم صفحہ۵۱۶)

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button