خبرنامہ (اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… حج ۲۰۲۶ء اس سال ایران جنگ اور خلیجی کشیدگی کے سائے میں ادا کیا جا رہا ہے، جہاں تقریباً ۱۵؍لاکھ عازمین مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود سیکیورٹی خدشات برقرار ہیں اور سعودی عرب نے ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ امریکہ، جرمنی اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے سفری انتباہات جاری کیے، تاہم بیشتر مسلم ممالک نے حج آپریشن جاری رکھا۔ ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے حج کو براہ راست نشانہ بنانے کا امکان کم ہے۔ دوسری جانب جنگی صورتحال، مہنگائی اور فضائی اخراجات میں اضافے کے باعث اس سال حج کے اخراجات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔
٭… سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ حج ۲۰۲۶ء کے دوران عازمین کے تحفظ کے لیے جامع دفاعی اور فضائی سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق مسجد الحرام اور مقدس مقامات منیٰ، مزدلفہ اور میدان عرفات کے گرد سخت فضائی نگرانی اور مضبوط دفاعی حصار قائم کیا گیا ہے۔ سعودی فضائی دفاعی فورسز کو مکمل طور پر متحرک رکھا گیا ہے جبکہ وزارتِ دفاع نے دفاعی نظام کی تنصیبات کی ویڈیو بھی جاری کی۔ یہ اقدامات خطے میں موجود جنگی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں حجاج کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
٭… کنیسٹ نے یروشلم کی مشہور دیوار گریہ سے متعلق ایک متنازعہ بل ابتدائی طور پر منظور کر لیا ہے، جس کے تحت اس مقدس مقام کے مذہبی اختیارات آرتھوڈوکس یہودی چیف ربی کے دفتر کو منتقل کیے جا سکیں گے۔ ناقدین کے مطابق اس قانون سے مردوں اور خواتین کے مشترکہ عبادتی اجتماعات پر پابندی لگ سکتی ہے، جبکہ مذہبی ضوابط کی خلاف ورزی کو “مذہبی توہین” قرار دے کر سات سال تک قید کی سزا بھی دی جا سکے گی۔ ترقی پسند اور ریفارم یہودی حلقوں نے اس بل کو مذہبی آزادی اور صنفی مساوات کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مقدس مقام کے روایتی مذہبی تشخص کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
٭… ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران میں امریکہ سمیت کسی بھی اہم بین الاقوامی معاہدے یا پالیسی فیصلے کے لیے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری ضروری ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق فیصلے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے دائرہ کار میں کیے جاتے ہیں۔ پزشکیان کے مطابق داخلی اختلافات یا ایسے بیانات جو معاشرے میں تقسیم پیدا کریں، دشمن کے مفادات کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور کسی نئے معاہدے کے امکانات پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
٭… ایران میں خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ مستقبل میں امریکہ یا کسی اَور فریق کے ساتھ ممکنہ معاہدہ ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں رہے گی۔ بحری راستوں کے استعمال، ٹرانزٹ کے اوقات اور میری ٹائم لائسنسوں کے اجرا کا اختیار صرف ایرانی حکام کے پاس ہوگا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ ڈیل کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ بیانات خطے میں توانائی کی ترسیل اور عالمی بحری تجارت سے متعلق جاری سفارتی کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں۔
٭…٭…٭
