نائیجیریا میں سالانہ علمی کانفرنس (النَّدوۃ) کا انعقاد
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال جامعہ احمدیہ نائیجیریا میں سالانہ علمی کانفرنس (النَّدوۃ) دو روزہ تعلیمی پروگرام کی صورت میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس علمی کانفرنس کا بنیادی مقصد اسلامی تعلیمات کی صحیح تفہیم اور حضرت مسیح موعودؑ کے عالمی مشن کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ امسال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پروگرام مورخہ ۲۲و۲۳؍مارچ ۲۰۲۶ء کو منعقد ہوا۔ پروگرام میں جماعت احمدیہ نائیجیریا کے مبلغین، طلبہ جامعہ احمدیہ اور دیگر معزز مہمانان نے شرکت کی۔

پہلا دن: کانفرنس کے پہلے دن اجلاس کی صدارت مکرم الحاج عبدالحمید عبدالعزیز صاحب نے کی۔ اس اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم و ترجمہ اور قصیدہ سے ہوا۔ بعدازاں مولوی خلیل الرحمٰن ناصر صاحب نے ’’حضرت مسیح موعودؑ -حَکم و عدل اور فقہ اسلامی‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا۔ آپ نے فقہ کی تاریخی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی ابتدائی بنیادوں اور بعد ازاں زوال کے دور کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

بعد ازاں ایک Interactive اجلاس منعقد ہوا جس میں میزبانی کے فرائض مکرم عبدالرزاق اتوکی صاحب نے سرانجام دیے۔ اسی طرح مکرم مولوی نوراللہ لامینہ صاحب، مولوی ٹی او شوبویدی صاحب اور مکرم مولوی یوسف عبدالخالق صاحب پینل میں شامل تھے۔ اس اجلاس میں ’’نائیجیریا میں اسلام کی اصلاح: مذہبی منظرنامے پر جماعت احمدیہ کے انقلابی اثرات‘‘ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس اجلاس کا اختتام سوال و جواب کی نشست سے ہوا جس میں طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔

شام کے وقت حضرت حضرت مسیح موعودؑ کی حیات مبارکہ پر ایک معلوماتی کوئز مقابلہ منعقد ہوا جس میں ہر کلاس سے چار طلبہ نے شرکت کی۔ سوالات کتاب ’’لائف آف احمد‘‘ ازمولانا عبد الرحیم درد صاحبؓ پر مبنی تھے۔
دوسرا دن: کانفرنس کے دوسرے اور آخری دن اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور قصیدے سے ہوا۔
مکرم عدنان طاہر صاحب مبلغ انچارج جماعت احمدیہ نائیجیریا نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ افتتاحی کلمات میں آپ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں حضرت مسیح موعودؑ کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مزید یہ کہ کانفرنس سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب ہم ان تعلیمات کو نہ صرف سنیں بلکہ انہیں اپنی زندگیوں میں نافذ بھی کریں۔
اس اجلاس کا پہلا لیکچر مکرم طارق محمود صاحب استاد جامعہ احمدیہ نائیجیریا نے بعنوان ’’الٰہی نشانیاں اور عالمی اثرات: حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں‘‘ جبکہ دوسرا لیکچر مکرم قاسم اویکولا صاحب نے ’’حَکَمٌ عَدْلٌ: عصر حاضر میں اس کی عملی و عالمی اہمیت‘‘ کے موضوع پر دیا۔
مختلف معزز مہمانوں، بشمول صدر مجلس انصاراللہ نائیجیریا اور صدر مجلس خدام الاحمدیہ نائیجیریا کے نمائندہ اور مکرم رانا محمد اکرم صاحب مبلغ سلسلہ الورین نائیجیریا نے اپنے تاثرات پیش کیے اور کانفرنس کی علمی و تربیتی اہمیت کو سراہا۔
کانفرنس میں دیگر نمایاں شخصیات بھی شریک ہوئیں جن میں صدر لجنہ اماء اللہ، ڈائریکٹر آف اسٹڈیز (MITC)، احمدیہ سائنس کالج ایلارو کے پرنسپل، اساتذہ اور مقامی جماعت کے چند اراکین شامل ہیں۔
یہ دو روزہ کانفرنس اجتماعی دعا کے ساتھ اپنے بابرکت اختتام کو پہنچی۔ اس میں ۸۵؍افراد نے شرکت کی۔
(رپورٹ : سید اطہر محمود۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل )




